پانچ جولائی۔ سیاہ دن رات


گزشتہ روز پی ٹی آئی کے ایک سابق وفاقی وزیر نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کے نظام حکومت کو غیر موثر اور ناقص قرار دیا، گویا انہوں نے آئین کو ہی غیر موثر قرار دے دیا ہے، فواد چودھری نے جس قدر سیاسی جماعتوں کے ساتھ وفاء کی ہے اس کا اس نظام یا دستور پاکستان سے کوئی تعلق نہ ہے نہ کبھی ہو گا۔ انہوں نے موقع محل دیکھے بغیر اپنے منہ کی چاشنی سے قوم کو آگاہ کر دیا ہے کہ چونکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان غیر یقینی صورتحال اور بداعتمادی ہے اس لئے اب افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے انتخابات کے عمل کو یقینی بنائے۔

ہماری سیاسی تاریخ میں 5 جولائی ایک ناقابل فراموش دن ہے، ملک میں انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کی بنا پر سیاسی انتشار، بے چینی، امن وامان کے مسائل، معاشی صورتحال کا ابتر ہونا، ہڑتال، جلسے، جلوس، گرفتاریاں، تشدد، آنسو گیس، گولی، گویا سبھی کچھ چلایا گیا اور و جہ صرف ناقابل قبول انتخابی نتائج تھے۔ ضد ہر دو فریقین میں تھی، تمام غیر رسمی طور طریقے پس پشت ڈالے جا چکے تھے اور حد یہ تھی کہ سعودی عرب، کویت، لیبیا، متحدہ عرب امارات، ایران اور دیگر کئی ممالک صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے متحرک تھے۔

کرنل قذافی ذاتی طور پر مصالحت کروانے کو تیار تھے، سعودی سفیر ریاض الخطیب بہت ہی زیادہ پریشان اور متحرک تھے، بالآخر پی این اے اور حکومت کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ وزیراعظم بھٹو، وفاقی وزراء عبدالحفیظ پیرزادہ، کوثر نیازی اور اپوزیشن کی جانب سے مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد اور نوابزادہ نصراللہ خان مرحومین پر مشتمل مذاکراتی ٹیم نہ چاہتے ہوئے بھی ایک معاہدہ پر متفق ہو گئے تھے۔ حکومت ساکھ کھو چکی تھی مگر جنرل ضیاءالحق کے ارادے کچھ اور تھے انہوں نے مارشل لاء نافذ کیا اور آج ملک کی جو صورتحال ہے اس کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

قومی اتحاد کے پاس کوئی بابر اعوان جیسا ذہین و فطین قابل اور مفکر قانون دان تو نہ تھا مگر جناب محمود علی قصوری، ایس ایم ظفر، بیرسٹر ظہور الحق، خالد اسحاق، عامر رضا اے خان، ایم انور با ر اے لائی، مرزا عبدالغفور، نسیم فاروقی، سید احد یوسف، رانا عبدالرحیم اور اسماعیل چودھری جیسے قدر آور قانون دان قانونی نکات پر رہنمائی کر رہے تھے۔ ٹیلی فون ٹیپ کرنا، انتخابی عملہ کی تعیناتی، آزادانہ، منصفانہ، غیر جانبدارانہ انتخابات اور چیف الیکشن کمشنر کو مزید اختیارات وغیرہ دینا مسودہ مذاکرات میں شامل تھا۔

قومی اتحاد کی تحریک اوائل میں تو انتخابی نتائج کے خلاف ایجی ٹیشن تھی مگر پھر تبدیل ہو گئی اور تحریک نظام مصطفی بن گئی، مسجد و منبر قومی اتحاد کے پاس تھے، کاروباری طبقہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ امریکی سازش اور بازاروں میں ڈالروں کی خریدوفروخت کی بات بڑی شد و مد کے ساتھ کی جا رہی تھی پاکستان اس وقت ایٹمی قوت بن نہ سکا تھا اس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش ہو رہی تھی۔ بھٹو امریکہ کے لئے ناقابل قبول تھا مگر بھٹو صاحب ریفرنڈم کروا کے خود کو وزیراعظم کنفرم کروانا چاہتے تھے ہر دو کام نہ ہو سکے، بعض حلقوں کی طرف سے ائر مارشل اصغر خان پر غیر ملکی فنڈز لینے کی بات بھی کی گئی مگر کوئی مقدمہ دائر نہ ہوسکا، بھٹو ریفرنڈم کے لئے آئین میں ترمیم کروا رہے تھے مگر بے سود تھا۔

ایک طالبعلم رہنماء کے طور پر میں بھٹو کا حامی نہ تھا بلکہ احتجاجی تحریک کے ہراول دستہ میں شریک تھا، مجھے یہ احساس کئی برس بعد ہوا کہ ہم کھلونا بنے ہوئے تھے۔ ضیاءالحق اپنے اقتدار کے لئے مذہب کا ہر کارڈ کھیل رہا تھا اور میرے نزدیک اس نے بھٹو اور پیپلز پارٹی کے بعد سب سے زیادہ نقصان جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے پاکستان کو پہنچایا، تینوں جرائم ناقابل معافی ہیں کیونکہ پورا معاشرہ محبت، رواداری، بھائی چارہ کی بجائے نفرت، تشدد، شدت پسندی اور عدم تحمل و برداشت کا شکار ہو کر رہ گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی غیر سیاسی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جسٹس حلیم کو اس کا سربراہ بنایا اور مشیروں میں شریعت کالج دمشق کے پروفیسر شیخ محمد مصطفی الزرقا، مدینہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر معروف الدوالبی، پیرس سے ڈاکٹر محمد حمید اللہ (ہر باشعور پاکستانی ان سے واقف ہے ) جامع الازہر کے ایک سکالر لیبیا کے ایک عالم دین، قم یونیورسٹی کے ایک سکالر جبکہ باقاعدہ ارکان میں مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا جمال میاں فرنگی محلی، مولانا غلام مرشد، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ کے سید اظہر حسین زیدی، نصیر الاجتہادی، مولانا حنیف ندوی، ڈاکٹر پروین شوکت، مسٹر غلام فاروق، مولانا سید ابو الاعلی مودودی، مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی کے نام تجویز کیے تھے۔

سیاسی عدم اعتماد کی بناء پر ہر دو فریق ایک دوسرے پر شک کر رہے تھے۔ پی این اے کے اندر اتفاق رائے نہیں تھا بعض صرف بھٹو کا استعفیٰ مانگ رہے تھے۔ بعض رہنماء مارشل لا لگوانا چاہتے تھے۔ ادھر سعودی سفیر ریاض الخطیب شاہ خالد مرحوم کو پل پل کی خبر سے آگاہ رکھ رہے تھے۔ وہ مسائل جو سلجھ رہے تھے پھر الجھنا شروع ہو گئے۔ یہ کام ایسے ہی نہیں ہوا کرتے، تب میڈیا بہت محدود تھا اور سب کچھ چھپا لیا جاتا تھا۔

پی ٹی آئی کی اکثریت کا کمال یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کو نہ سمجھنا چاہتے ہیں نہ پڑھ کر سبق سیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ شخصیت جو اپنے سیاسی مخالفین کی صرف کردار کشی کرتی رہی۔ ہاتھ ملانے اور مذاکرات کرنے کو تیار نہ ہو، عدم برداشت اور تحمل کی شدید کمی ہو اور کوئی گارنٹی بھی دینے والا نہ ہو تو بات آگے کیسے بڑھے گی؟

محترم فواد چودھری اگر جلتی پر تیل ڈالنا چھوڑ دیں تو ممکن ہے کوئی بات پھر آگے بڑھ سکے ورنہ فوج کا کام نہیں کہ وہ حکومت برخاست کرے اور انتخابات کروائے۔ فوج مارشل لاء کے ذریعہ حکومت ختم کیا کرتی تھی، اب اس کا کوئی ایک فیصد بھی امکان نہیں مگر 5 جولائی 1977 کو بھی صرف وزیراعظم ہی اسمبلی برخاست کر سکتا تھا مگر موجودہ وزیراعظم یہ کام اکیلا نہیں کر سکتا وہ اتحادی ہے اور اتحاد مشورے سے ہوتا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ملک کی معاشی اور اقتصادی صورتحال کو بہتر کیا جائے۔ شیڈو کیبنٹ اپنا کام کرے، متبادل تجاویز دیں ناکہ ملک میں انارکی کی صورتحال پیدا کریں، ہاں اب یہ محسوس ہو رہا ہے کہ روش نہ بدلی تو مقدمات کی بھرمار ہونے والی ہے مگر اب گرفتاری بعد میں اور تفتیش پہلے ہوگی۔ واضح کردوں کہ فوج نہیں سیاسی حکومت ہی انتخابات کروائے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عظیم چوہدری

عظیم چوہدری پچھلے بیالیس سالوں سے صحافت اور سیاست میں بیک وقت مصروف عمل ہیں ان سے رابطہ ma.chaudhary@hotmail.com پر کیا جاسکتا ہے

azeem-chaudhary has 12 posts and counting.See all posts by azeem-chaudhary

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments