ایک مرد قلندر: حکیم سید احمد خاں
طارق شاہین کے شعر میں تحریف کے لیے معذرت!
آپ سید میاں سے ملیے گا
آدمی کیا ہے ایک قلندر ہے
حکیم سید احمد خاں کو دیکھیے تو جسم کوئی بھاری بھرکم نہیں، بچشم ظاہر اوسط ڈیل ڈول کے عام سے فرد معلوم ہوتے ہیں، مگر اس جثے میں بلا کی تو انانی ہے جو ہر وقت انہیں متحرک رکھتی ہے۔ زیب و زینت اور خورد و نوش کے تکلفات سے بے نیاز ہیں، شاید ان کاموں کے لیے فرصت نہیں ہے یا مصروفیت اس کا موقع نہیں دیتی ہے۔ باریش چہرہ مذہبی مزاج کی عکاسی کرتا ہے، کشادہ پیشانی ذہانت کی مظہر ہے، جس کا استعمال وہ صرف تعمیری کاموں میں کرتے ہیں۔ سید صاحب کے کاموں کو دیکھ کر کسی لحیم و شحیم اور بھاری بھرکم جثے والے کا گمان ہوتا ہے، لیکن معاملہ برعکس ہے کہ قد کاٹھی کے تو معمولی ہیں، لیکن کام ان کے بڑے ہیں۔
سید صاحب کی شخصیت قلندرانہ اوصاف سے عبارت ہے، وہ دماغ میں یونانی طب اور اردو زبان کا سودا رکھتے ہیں، یہی ان کا عشق اور مقصد حیات ہیں، ان سے ان کا رشتہ جنون کی حد تک ہے، جنہیں اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ یونانی طب اور اردو سے ان کی شیفتگی کچھ ایسی ہے کہ ساری تگ کا یہ محور بن گئے ہیں اور علاق دنیا سے انہیں بے نیاز کر دیا ہے۔
ترے جنوں کا خدا سلسلہ درا ذکرے!
حکیم سید احمد کی ولادت یکم جون 1962 کو اترپردیش کے ضلع خلیل آباد کی تحصیل جھکہی میں ہوئی، پہلے خلیل آباد ضلع بستی کا قصبہ ہوا کرتا تھا، اب یہ ضلع بن گیا ہے۔ سید احمد خاں کے والد حاجی علی رضا خاں ایک متوسط زمیندار تھے، ان کا شمار جھکہی کے معززین میں تھا، وہ سرکاری کوٹہ کے نگراں تھے اس لیے کوٹہ دار کے نام سے مشہور تھے، علی رضا خاں 1982 میں حج کو گئے اور وہیں وفات پا گئے، جنت البقیع میں مدفون ہیں۔
حاجی علی رضا خاں کے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، بڑے بیٹے مظہر الدین خاں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، وہ معروف مجاہد آزادی قاضی محمد عدیل عباسی سے متاثر تھے ان کے ایما پر گورنمنٹ ملازمت چھوڑ کر مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کو مقصد زندگی بنا لیا تھا، ان کے توسط سے کئی تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آیا، دوسرے بیٹے تفضل حسین خاں ٹھیکیدار تھے انہوں نے سلطان پور میں خان ٹمبر کے نام سے ایک فرم کی بنیاد ڈالی، تیسرے بیٹے صلاح الدین خاں گورنمنٹ ٹھیکیدار تھے، چوتھے بیٹے جلال الدین خاں بھی ٹھیکیدار تھے وہ فیض آباد میں ٹھیکیداری کرتے تھے، پانچویں بیٹے حکیم سید احمد خاں ہوئے انہوں نے طبی حلقے میں شہرت و ناموری حاصل کی، سید احمد سے چھوٹے ایک بھائی خورشید احمد خاں ہیں انہوں نے ٹھیکیداری کو ذریعۂ معاش بنایا، سید احمد کی ایک بڑی بہن اختر النسا اور ایک چھوٹی بہن فخر النسا ہیں، سید احمد نسبی طور پر یوسف زئی پٹھان ہیں اس لیے نام کے ساتھ خان کا لاحقہ لگاتے ہیں۔
سید احمد خاں نے ابتدائی تعلیم خیر انٹر کالج سے حاصل کی، یہ بستی کا مشہور تعلیمی ادارہ ہے، یہاں کے سیکڑوں فارغین نے مقتدر عہدوں پر فائز ہو کر کالج کے نام کو روشن کیا ہے، سید احمد کی شخصیت بھی اس ادارہ کے نیک ناموں میں شمار کیے جانے کے لائق ہے، 1977 میں یہاں سے انٹر پاس کر کے بستی کے کسان ڈگری کالج سے 1980 میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد یونانی طب کی تعلیم کے لیے راجستھان یونانی میڈیکل کالج جے پور میں داخلہ لیا اور 1985۔
86 میں بی یو ایم ایس کی سند حاصل کی، جب حکیم سید احمد خاں نے اس کالج میں داخلہ لیا تھا یہ نیا نیا وجود میں آیا تھا اس لیے منظوری، الحاق اور امتحانات کے نظم و نسق سے متعلق کئی طرح کے مسائل سے دوچار تھا، ان سے نمٹنے کے لیے طلبہ نے ’راجستھان یونانی گریجویٹ ایسوسی ایشن‘ تشکیل کی تھی، سید احمد خاں بھی اس تحریک کا حصہ تھے، اس طرح انہوں نے طالب علمی کے زمانہ ہی میں تحریک کا مزاج پا لیا، یہ اسی زمانہ کا واقعہ ہے کہ اطبا کا ایک حلقہ آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس سے بیزار ہو کر ایک نئے پلیٹ فارم کی تشکیل کرنا چاہ رہا تھا، اس میں آٹھ ریاستوں کے اطبا کی شمولیت ضروری تھی، اس وقت حکیم سید احمد خاں نے راجستھان سے نمائندگی کی تھی، 9 اگست 1990 کوایک رجسٹرڈ تنظیم کی حیثیت سے آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کا قیام عمل میں آیا، اس کی تاسیس اور آبیاری کرنے والوں میں پروفیسر حکیم سید اشتیاق احمد، حکیم صیانت اللہ امروہوی، پروفیسر حکیم عطاء الرحمان جعفری، حکیم شمس ال آفاق، سابق ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر عزیز اللہ اعظمی (ڈاکٹر اے یو اعظمی) حکیم محمد محترم عثمانی (شمع کمپنی کے کمرشل منیجر) ، حکیم اخلاق احمد، حکیم ارتضیٰ کریم میرٹھی، حکیم رام لعل ماہر، حکیم الطاف احمد اعظمی، حکیم عبد المبین خاں، حکیم احمد رسول، حکیم علاء الدین، حکیم صابر رضا ادیبؔ، حکیم عبد الحسیب، حکیم وسیم اختر، محمد الیاس دہلوی (شمع دواخانہ) ، مفتی محمد طاہر وغیرہ کے اسما قابل ذکر ہیں، لیکن اس وقت یہ تنظیم جو کچھ بھی ہے سید احمد خاں کی مرہون منت ہے، اب وہی اس کے روح رواں ہیں اور تنہا اس بزم کو سجائے ہوئے ہیں، اس تنظیم میں ان کے اثر و رسوخ کا دور 2010 سے شروع ہوا جب وہ اس کے جنرل سکریٹری بنے۔ تعلیم سے فارغ ہوتے ہی آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی رکنیت حاصل کر کے سید احمد خاں طبی تحریک کے علم بردار بن گئے، تب سے ان کی زندگی یونانی طب کی فلاح و بہبود کے لیے وقف ہے، وہ یونانی طب کے ایسے رضاکار ہیں جنہیں ’فدائین‘ کہا جاسکتا ہے، یعنی فن کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے والے۔
سید صاحب کا مزاج تحریکی کاموں کے لیے بڑا مناسب ہے، اس سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اپنے مزاج کی مناسبت سے انہوں نے تنظیمی اور تحریکی امور کو میدان عمل بنایا ہے جس کا اولین تقاضا ہے کہ سماج اور معاشرے کو اپنی ذات پر مقدم رکھا جائے، یہ جو ہر سید صاحب میں خوب موجود ہے اور اوائل عمر سے ہے، طالب علمی کے زمانہ میں پڑھائی لکھائی سے جو وقت بچتا وہ طلبہ تنظیم کو آرگنائز کرنے میں گزرتا، اب دلی کے سیلم پور میں ہیں، مگر دلی نوردی کرتے رہتے ہیں اور پوری دلی ان کے قدموں کے نیچے رہتی ہے، کانگریس کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے بیرون دلی مہاراشٹرا، تلنگانہ، بہار، جھارکھنڈ، اترپردیش اور راجستھان کے سفر وہ اس طرح کرتے ہیں جیسے پرانی دلی، اوکھلا اور ذاکر نگر میں گھوم رہے ہوں، ان سفروں میں ان کے ہمراہ ایک چھوٹا بریف کیس ہوتا ہے جس میں بمشکل دو تین جوڑے سفاری سوٹ کی گنجائش ہوتی ہے۔
آل انڈیا یونانی طبی کانگریس قیام کے بعد سے اب تک کئی نشیب و فراز سے گزر چکی ہے، اس پر ایک ایسا دور بھی آیا کہ ”لم یکن شیئاً مذکوراً“ کی مصداق بن گئی تھی، اس وقت اس کی سانسوں کو جاری رکھنے والے سید احمد خاں ہی تھے، اس کے لیے انہیں کوئی جتن کرنے سے گریز نہیں رہا، اس کی وجہ سے انہیں طنز و مزاح کا ہدف بھی بننا پڑا، لیکن ہمت نہیں ہاری اور لوگوں کے حوصلہ شکن رویوں کے باوجود منزل کے لیے عازم سفر رہے اور سب باتوں سے بے نیاز ہو کر بنجارے کی طرح اپنا راگ گاتے رہے، آج اسے خوش الحانی بھلے کہا جا رہا ہو مگر کبھی اس آواز پر لوگوں کو منھ بسورتے دیکھا گیا ہے، دنیا کیا کہہ رہی ہے، سید صاحب کو اس سے غرض نہیں، انہیں کیا کرنا ہے، بس یہ ہدف ان کا مطمح نظر ہوتا ہے، ان کے اسی طرز عمل نے کانگریس کو ملک گیر تنظیم بنا دیا ہے، یہ ان کا تاریخ ساز کارنامہ ہے جس سے مورخ صرف نظر نہیں کر سکتا ہے۔
اس وقت بھی حکیم سید احمد خاں آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے روح رواں ہیں اور کامیاب قیادت کر رہے ہیں، وہ مصلحتوں سے عاری ہیں، مگر کانگریس کے لیے کسی سے بھی مصالحت کرنے میں انا گزیدہ نہیں ہوتے، اسی وجہ سے تعلیم و تحقیق سے جڑی سیکڑوں شخصیات کو وہ کانگریس سے جوڑ سکے ہیں، یہ اچھی بات ہے کہ نوجوان طبیبوں میں کانگریس سے وابستگی بہت پسند کی جا رہی ہے۔
جب سے آل انڈیا یونانی طبی کانگریس سید صاحب کے زیر قیادت آئی ہے اس کے دائرے اور عملی سرگرمیوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تنظیم یونانی طب کی ایک موثر آواز بن کر ابھری ہے، یونانی طب کو درپیش ہر مسئلے میں کانگریس کی آواز سب سے پہلے بلند ہونے والوں میں رہتی ہے، ایک عرصہ سے طبی حلقے کا مطالبہ تھا کہ حکومت کی طرف سے یونانی ڈے کا اعلان ہونا چاہیے، آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے پلیٹ فارم سے حکیم سید احمد خاں نے بھی حکومت کے سامنے کئی بار یہ مانگ دہرائی، طبی تنظیموں کی لمبی کوشش کے بعد وزارت آیوش نے مجدد طب حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش 11 فروری کو یونانی ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا، اس کے تحت 2017 میں پہلا یونانی ڈے منایا گیا تھا۔
غیر حکومتی اداروں میں صرف آل انڈیا یونانی طبی کانگریس پابندی سے یونانی ڈے کا اہتمام کر رہی ہے، اس موقع پر سیمینار اور سمپوزیم کے انعقاد کے ساتھ نمایاں خدمات کے لیے یونانی طب کے اساتذہ، محققین اور معالجین کو اعزازات سے بھی نوازتی ہے، راقم بھی آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے ذریعہ علمی و تحقیقی کاموں کے لیے علامہ حکیم محمد کبیرالدین ایوارڈ اور ابن سینا انٹرنیشنل ایوارڈ سے سرفراز ہو چکا ہے۔
سید احمد خاں کی خدمات فروغ اردو کے تعلق سے بھی قابل ذکر ہیں، اب تک قومی اور بین الاقوامی سطح پر اردو زبان کی اجتماعی تقریب کا کوئی دن نہیں تھا، سید صاحب کی مساعی کو بنظر استحسان دیکھنا چاہیے کہ وہ دو دہائیوں سے اردو ڈے کا اہتمام کر رہے ہیں اور علامہ اقبال کے یوم پیدائش 9 نومبر کو اردو ڈے کے طور پر منانے کی روایت شروع کرنے والوں میں ان کا نام سر فہرست ہے۔ میں نے ان کے بارے میں قومی اردو کونسل کے بین الاقوامی جریدہ ماہنامہ اردو دنیا میں ’عالمی یوم اردو یادگار مجلہ‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا ”گو کہ سید احمد خاں پیشے سے طبیب ہیں اور طب کی بقا و فروغ کے لیے جد و جہد ان کی زندگی کا اہم مشن ہے، مگر اردو کی ترویج و اشاعت میں ان کی جو خدمات ہیں وہ اردو سے پیشہ ورانہ وابستگی رکھنے والے کسی فرد سے کم ہرگز نہیں ہیں، سید احمد خاں اردو ڈے کی تیاری میں پورے سال لگے رہتے ہیں، اس موقع پرایک یادگاری مجلہ بھی شائع کرتے ہیں، گزشتہ کئی برسوں کے مجلے میرے مطالعہ میں رہے ہیں، ان مجلوں کے بارے میں اختصار کا شکوہ تو ہو سکتا ہے، لیکن مشمولات اور محتویات کے لحاظ سے بڑے وقیع اور موضوعات کے اعتبار سے بے حد اہم ہوتے ہیں، یہ امتیاز انہیں دستاویزی حیثیت عطا کر دیتا ہے۔
اردو ڈے کے انعقاد کا جتنا اہتمام حکیم سید احمد خاں کے یہاں ہے اس کی مثال اردو والوں کے یہاں بھی نہیں ملتی، 1997 سے سید صاحب پابندی سے اردو ڈے منا رہے ہیں، 2000 سے وہ ’عالمی یوم اردو یادگار مجلہ‘ کے نام سے سوینیر بھی شائع کر رہے ہیں، پہلا یادگاری مجلہ معروف مجاہد آزادی قاضی محمد عدیل عباسی کے نام موسوم تھا یہ سلسلہ اتنا با برکت ہوا کہ گزشتہ اکیس برسوں سے جاری ہے“ ۔
5جون 2017 کو اہلیہ (محترمہ صالحہ خاتون) کی رحلت کا سانحہ سید احمد خاں کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا، اس جانکاہ حادثہ کے بعد خود کو جس طرح سنبھالا وہ کوئی مضبوط اعصاب والا ہی کر سکتا ہے، نصف بہتر کی جدائی کا غم یوں بھی نڈھال کردینے والا ہوتا ہے، اگررفیق حیات زندگی کے ایسے موڑ پر داغ مفارقت دے جائے کہ کاروبار ہستی ناتمام پڑے ہوں تو یہ سانحہ مزید تکلیف دہ ہوجاتا ہے، سید احمد خاں کی اہلیہ نے ایسے وقت میں جدائی کا غم دیا کہ بچیاں ابھی چھوٹی تھیں اور ان کی تعلیم تربیت اور خانہ آبادی کے کام باقی تھے، تینوں بیٹیاں ڈاکٹر رحمت جہاں، ڈاکٹر نزہت جہاں اور عصمت جہاں ابھی زیر تعلیم ہیں، ماں کے بغیر بیٹیوں کی پرورش انتہائی مشکل کام ہے، اب یہ مرحلہ سید صاحب کو تنہا عبور کرنا ہے، اس لیے کہ کسی اولاد نرینہ کا سہارا نہیں ہے۔ اہلیہ حیات تھیں تو ساری گھریلو ذمہ داریاں کندھوں پر لے کر سید صاحب کو فارغ کر رکھا تھا۔
حکیم سید احمد خاں نے 28 دسمبر 1992 کو بحیثیت ریسرچ اسسٹنٹ لکھنؤ سے ملازمتی کیریر کا آغاز کیا تھا، وہ بتاتے ہیں کہ سی سی آر یو ایم سے ان کی وابستگی میں سابق ممبر پارلیمان ڈاکٹر اے یو اعظمی (ڈاکٹر عزیز اللہ اعظمی) اور حکیم شمس ال آفاق کا اہم رول رہا ہے، ان کے توسط سے وہ آر کے مکھی کی ڈائرکٹر شپ کے زمانہ میں کونسل کی ملازمت سے وابستہ ہوئے تھے، دراصل ان بزرگوں سے سید صاحب کی شناسائی آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی معرفت ہوئی تھی۔
31 مئی 2022 کو مدت ملازمت پوری کر کے وہ ڈپٹی ڈائرکٹر کے منصب سے سبکدوش ہوگیے، ان کی ملازمت کا دورانیہ تقریباً تیس برس کا رہا، کونسل سے ان کی رخصتی پر بڑے تزک و احتشام سے وداعی تقریبوں کا اہتمام ہوا تھا، سبک دوشی سے تین روز پہلے 27 مئی کوسی سی آر یو ایم کے ڈائرکٹر جنرل پروفیسر عاصم علی خاں، اسسٹنٹ ڈائرکٹر ( انتظامی امور) مسٹرکے کے سپرا اور ایڈائزر یونانی حکیم مختار احمد قاسمی نے دہلی کے صفدر جنگ ہسپتال پہنچ کر بحسن و خوبی مدت ملازمت کی تکمیل پر نیک خواہشات پیش کیں، پھر 30 مئی 2022 کو سی سی آر یوایم ہیڈکوارٹر اور ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوکھلا، نئی دہلی کی طرف سے ہوٹل ریور ویو میں ایک پر وقار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا، اس میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر راحت علی خاں، سنٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن کے سابق صدر ڈاکٹر راشد اللہ خاں اور اوکھلا انسٹی ٹیوٹ کے دیگر افسرز نے شریک ہو کر نیک جذبات کا اظہار کیا۔
سی سی آریوایم کی ملازمت سے سید احمد خاں کی سبک دوشی پر ماہر اقبالیات پر فیسر عبد الحق، معروف اسلامی اسکالر پدم شری پروفیسر اختر الواسع اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاذ پروفیسر شہپر رسول وغیرہ نے نیک خواہشات پیش کیں۔ اس موقع پر سید احمد خاں کے اعزاز میں دہلی کے معززین کی طرف سے ایک نشست منعقد کی گئی، جس میں سابق ڈپٹی ایڈوائزر یونانی حکیم شمس ال آفاق، سی سی آر یو ایم کے سابق ڈپٹی ڈائرکٹر حکیم خورشید احمد شفقت اعظمی، ریڈیو جرمنی کے نامہ نگار جاوید اختر، اردو بک ریویو کے ایڈیٹر محمد عارف اقبال، ڈاکٹر عبید اللہ بیگ، ماسٹر مقصود احمد، حکیم عطاء الرحمان اجملی، ندیم عارف اور محمد عمران قنوجی وغیرہ نے یونانی طب اور اردو زبان کے فروغ کے تعلق سے سید احمد خاں کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔
شاعری جذبات کے اظہار اور خیالات کی ترسیل کا موثر وسیلہ ہے، یہ شاعری کا بڑا کمال ہے کہ محض چند اشعار میں لمبی چوڑی باتوں کو نہایت عمدگی سے پیش کیا جاسکتا ہے، حکیم سید احمد خاں کے سلسلے میں اردو زبان و ادب اور طب کے حلقوں کی طرف سے بڑے پیمانہ پر اظہار جذبات ہوا ہے، اس موقع پر کئی لوگوں نے منظوم خیالات بھی پیش کیے ہیں، عبد الغفار دانشؔ نے ایک نظم میں بڑی خوب صورت عکس بندی کی ہے اور حکیم سید احمد خاں کے اوصاف و کمالات اور طبی و لسانی خدمات کا فنکارانہ احاطہ کیا ہے، ان اشعار کے مطالعہ سے قارئین کو سید احمد خاں کی مزاجی، اخلاقی اور علمی و فنی خوبیوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی، اس خیال سے عبد الغفار دانشؔ کے کلام کو نقل کیا جا رہا ہے :
عاجز و منکسر، برد بار و حلیم خوش نظر، خوش بیاں اور ذہین و متین
ذات باری نے یک جا کیا خاک میں نام رکھا گیا سید احمد حکیم
گل کھلائے ہیں خوش رنگ کلمات کے خیر کی کرنیں پھوٹیں تری ذات سے
مرد غازی ہے تو طب کے میدان کا تو نوازا گیا سات سوغات سے
اس طرح سے سنوارا رخ و بال کو تونے اردو زباں کے خد و خال کو
یوم اردو کی تحریک تجھ سے چلی تونے زندہ کیا پھر سے اقبال ؔ کو
تو ہے نباض دوراں طبیب و حکیم دوش پر تیرے باد صبا اور نسیم
تیرے اخلاص کی، تیرے ایثار کی ہر طرف روشنی، ہر طرف ہے شمیم
بے غرض، بے ریا تیرا ہر کام ہے جد و جہد و عمل تیرا پیغام ہے
شائق فکر و دانش ؔکا مرجع ہے تو تجھ پہ اللہ کا یہ بھی انعام ہے
کسی فرد کی سبک دوشی کے بارے میں سن کر عام طور پر ذہنوں میں ازکار رفتگی کا تصور آتا ہے، شاید یہ درست ہو، لیکن ایک خاص طبقے کے لیے ملازمت کی تکمیل زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، یہ بھی سچ ہے کہ ایسے لوگ استثنا کے زمرے میں آتے ہیں، حکیم سید احمد خاں کا شمار بھی مستثنیات میں ہے۔
سبک دوشی اکثر لوگوں کے لیے اعصاب شکن مرحلہ ہوتا ہے، غالباً یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صرف ملازمت تک محدود ہوتے ہیں، اس کے سوا کرنے کو ان کے پاس کوئی دوسرا کام نہیں ہوتا ہے، مگر جو ذہنوں میں عزائم رکھتے ہیں وہ تازہ حوصلے کے ساتھ زندگی کے نئے دور سے محظوظ ہونے کے منصوبے بناتے ہیں اور فرصت کے ان لمحات کو عزائم پورا کرنے کا اچھا وقت خیال کرتے ہیں۔ سید احمد خاں نے اردو اور یونانی طب کے فروغ کو مقصد حیات بنا رکھا ہے، ملازمت کے دوران کبھی مصلحتوں اور اندیشوں کی شکل میں یا ملازمتی حدود قیود کی صورت میں جو رکاوٹیں آ رہی تھیں، ان بندشوں سے اب آزادی محسوس کر رہے ہیں اور کھل کر اپنے منصوبوں پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں، دعا ہے کہ ان کے عزائم کے بال و پر ہمیشہ توانا رہیں!


