دعا زہرا کی قسمت کا خالق کون
تقریباً 8 ہفتوں سے مسلسل ایک کمسن لڑکی کی کہانی ٹی وی سکرین سے ہوتی ہوئی سوشل میڈیا پر اور اب زبان زد عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ لڑکی اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر کسی لڑکے کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اور پسند کی شادی کرنا چاہتی ہے مگر یہ بظاہر کم سن اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کے متقابل نا تجربہ کار لگتی ہے۔ دعا کراچی میں اپنے والدین کے گھر سے اچانک غائب ہو جانے کے بعد لاہور کے ظہیر احمد کے ساتھ نکاح کا انکشاف کرتی ہے اور والدین کی جانب سے پیروی کرنے پر یہ معاملہ مزید الجھ جاتا ہے۔
لڑکے کو اغوا کے مقدمے میں ملوث کر کے پولیس گرفتار کر لیتی ہے اور دعا کو دارالامان بھجوانے کا حکم دیتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کمسن لڑکی کی جانب سے اتنا جارحانہ قدم اور معاشرتی اقدار کی پرواہ کیے بغیر خود کو پورے ملک کی توجہ کا مرکز بنانا کس درجے کی تجربیت پسندی ہے یہ کہنا بہت مشکل ہے۔ مگر یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ان کی فولادی قوت ارادی کے پشت پر ایسی کون سی طاقت ہے جو انھیں اتنی دلیری سے یہ سب کرنے پر آمادہ کر رہی ہے۔
اس عمر میں زیادہ تر نوجوان نسل کو کیریئر یا تعلیم کی پرواہ ہو تو وہ سمجھ آتی ہے مگر معاشرتی حدود کے آخری مدار پر پہنچ کر اپنے والدین کی عزت کے مخالف اقدامات کرنا یا تو فاتر العقل انسان کا کارنامہ ہو سکتا ہے یا حقیقی معنوں میں قدرت کا کوئی کرشمہ ہے جو آنے والے دو رکی ایک بھیانک تصویر پیش کر رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دعا کے کردار کو دیگر ہم عمر لڑکیوں کے لیے مثال بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
لیکن اگر کوئی قابل شکوہ بات ہے تو وہ سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی کج ادائی ہے۔ ظفر عباس، اقرار الحسن اور کراچی میں دیگر تنظیمیں جو اثر و رسوخ رکھتی ہیں ان کی جانب سے اس معاملے پر لڑکی کو اپروچ کر کے معاملے میں اعتدال پیدا کرنے کا کوئی منظر نہ دیکھا گیا ہے نہ سنا گیا ہے۔ سوشل میڈیا انفلوینسرز اور انسانی حقوق کی با اثر شخصیات بھی محو تماشا ہیں یہ بات قابل رنج ہے۔
اگر تو اس کے والدین کے تعلقات اس لڑکی کے ساتھ ٹھیک نہیں تھے، لڑکی کو اپنے والدین کا رویہ پسند نہیں ہے یا وہ آزادی چاہتی ہے اور اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہے تو یہ اس کا بنیادی حق ہے۔ لیکن اس حق کی ادائیگی وہ ریاست کے ذمہ داری سمجھ کر ریاستی طاقت کو والدین کے کمزور جذبات کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے تو پھر اس کا میڈیا پر اپنے معاملے میں اپنی زندگی کی الجھنیں نشریات کا حصہ بنوانا لمحۂ فکریہ ہے۔
خدا جانے والدین کا کیا موقف ہے وہ ”پیرنٹنگ فیلیئر“ کو تسلیم کر رہے ہیں یا محض جذبات کے بہاؤ میں جو ہو رہا ہے ہونے دے رہے ہیں۔ یقیناً وہ کہیں نہ کہیں لڑکی سے بات چیت اور کونسلنگ اور محبت کا سلسلہ بنانے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دعا کو ان کی عزت اور جن معاشرتی اقدار کی وہ قدر کرتے ہیں کوئی فکر نہیں رہی۔
زندگی میں کامیابی کے ہر معرکے کے لیے تعلیم بنیادی ضرورت ہے۔ اگر دعا کی قوت ارادی کے پیچھے کوئی ایسی نا پختہ امید ہے جو اسے ٹک ٹاک کو بطور کریئر اپنا مستقبل مستحکم کرنے یا یوٹیوب وی لاگنگ کے ذریعے دنیا بھر گھومنے کا خواب دکھا رہی ہے تو یہ دیگر افراد جو اس معاملے کے مشاہدے سے سیکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے افسوس ناک بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کے ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے سے محض تھوڑے سے فالوورز کی بدولت پی آر پیکجز کا حصول ممکن ہو جاتا ہے خواتین کے لیے یہ مواقع زیادہ ہیں۔
بطور خواتین پبلک فگر بن جانے سے عوام آپ کے لباس سے لے کر آپ کی خوبصورتی تک کا خیال بھرپور والدینیت کے تحت رکھتی ہے۔ اس طرح کوئی بھی لڑکی یا کمسن لڑکا بہت جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ اس سے روایتی تعلیمات، سکول کالجز، یونیورسٹیز کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ شارٹ ٹرم چارم اس قدر پر کشش ہو سکتا ہے کے شادی شدہ جوڑوں میں بھی دراڑ پیدا کر سکتا ہے۔ مگر اس کیریئر کے انتخاب کے لیے آپ کو کوئی رسمی تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔
آپ کو فطری طور پر ادائیں اور جلوے دکھانا آ جاتا ہے۔ اور باقی کام آرٹیفیشل انٹیلیجینس مغربی روایات پر مبنی عدم مطابقت رکھنے والے آئیڈیاز سجیسٹ کر کے کر دیتی ہے۔ پی آر پیکجز رک جائیں تو اداؤں میں پسینہ اور کہیں تو خون پسینہ بھی ایک ہو جاتا ہے۔ پھر کہیں جا کے فنکارانہ امیج پر قرار رکھنا ممکن ہو پاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قومی سطح پر شہرت یافتہ سماجی کارکنان اور انفلوینسرز ایسے مسائل کو براہ راست مخاطب کیوں نہیں کر پا رہے۔
درجنوں موٹی ویشنل سپیکرز کے ہوتے ہوئے بھی یہ کیوں نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارا معاشرہ خاندانی روایات اور طور طریقوں کو فروغ دینے کی بنیاد پر قائم ہے۔ بڑوں سے بد تمیزی کرنا، اپنے خاندان والوں کے انسانی رویوں کے رد عمل میں غصے کا شدید اظہار کرنا، اونچی آواز میں بے جا ہنسنا اور خاوند یا بیوی کے ہوتے ہوئے پسندیدگی کا عنصر کہیں اور تلاش کرنا ایسی جدوجہد ہے جس کی سمت درست نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے لڑکا یا لڑکی کوئی بھی خاندانی اقدار پر حملہ آور ہونے کا مرتکب ہو سکتے ہیں یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ خصوصاً لوئر مڈل کلاس، یا مڈل کلاس خاندانوں میں پیسے کی فراوانی تو نہیں ہوتی ہاں ان میں خاندانی اقدار کو بہت ترجیح دی جاتی ہے اور بہت قدر کی جاتی ہے ادب لحاظ اور ان اقدار کی پاسداری کی جانے پر ۔
ایسے نوجوان بچے اور بچیاں جن کے پاس بنیادی رسمی تعلیم نہیں ہے اور وہ خطرناک حد تک پر اعتماد اور آزاد خیال ہیں ان کے لیے حکومتی سطح پر مقبول نمائندوں کو آگے آنا ہو گا اور ایسے مسائل کو باقاعدہ طور پر زیر گفتگو لانا ہو گا۔ دعا اب عدالت کے حکم کے مطابق دارالامان میں رہے گی جہاں وہ کسی سرکاری، نیم سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کی تحویل میں ہوگی اور شاید وہ سب کچھ نہیں کر پائے گی جو وہ اپنے والدین کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر کے کر سکتی تھی۔
اس کی یہ قسمت جس کی بھی تخلیق کردہ ہے یہ جاننا اتنا اہم نہیں ظاہر ہے حالات و واقعات بہت دیر تک بنتے رہتے ہیں اور پھر کہیں جا کر کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے۔ مگر یہ جاننا ضروری ہے کہ دعا اور ظہیر جیسے نظریہ حیات کے حامل اور کتنے نوجوان لڑکے لڑکیاں ہیں جنھیں تعلیم اور فہم و فراست کے ذریعے، معاشرتی اقدار کو ٹھیس پہنچانے والے اوتار بننے سے روکا جا سکتا ہے۔


