آغا سراج درانی کو ”سندھی سرٹیفکیٹ“ کی ضرورت نہیں
ہم اپنے بچپن سے سنتے اور پڑھتے آرہے ہیں کہ سندھ امن کی دھرتی ہے، سندھ کی سرزمین پیار اور محبت کا محور ہے، سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے، سندھ دھرتی ہر کسی کو اپنی آغوش میں باآسانی سے سما دیتی ہے، کافی حد تک یہ باتیں درست بھی ہیں لیکن شاید جیسے جیسے دنیا ترقی کرتی جا رہی ہے لوگوں میں عدم برداشت کا عنصر بھی بڑھتا جا رہا ہے، لوگ صرف باتوں کی حد تک ہی ایک دوسرے سے لگاؤ رکھنے لگے ہیں اور جب ان باتوں پر عملی مظاہرہ کرنے کا وقت آتا ہے تو ہمیں معاشرے میں بہت بڑی تقسیم نظر آتی ہے۔
جس کی حالیہ مثال کچھ روز قبل سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ایک ہوٹل پر نوجوان بلال کاکا کے قتل کا واقعہ ہے، اس واقعے کو گہرائی سے دیکھا اور پرکھا جائے تو ہمیں یہ ایک ذاتی جھگڑا نظر آئے گا، مگر جس طرح اس کو ایک نسلی تنازعے کی طرف دھکیلا گیا وہ انتہائی پریشان کن بات ہے۔ ہم کسی طرح بھی ایک انسان کے قتل کو جائز یا درست اقدام قرار قرار نہیں دیتے، بالکل جو ہوا غلط ہوا لیکن اس کے پس منظر میں ہونے والے واقعات اور وجوہات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
حیدرآباد واقعے کو لے کر سندھ میں جو لسانی فسادات کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کو سوشل میڈیا پر سندھ پرستی، سندھی ہونے یا نہ ہونے کی جو سندے تقسیم کی گئی اس عمل نے ہمارے معاشرے میں نفرت کا ایک ایسا بیج بویا ہے جس کو شاید سالوں تک کوئی کاٹ نہیں سکتا۔ ایک منظم طریقے سے ہزاروں سالوں سے سندھ میں بسنے والے لوگوں سے سندھی ہونے کا سرٹیفکیٹ مانگا گیا اور یہاں تک فتوے دیے گئے کہ بیشک آپ سندھ میں ایک صدی سے بس رہے ہیں، لیکن ہیں تو آپ غیر سندھی (پٹھان) آپ واپس افغانستان چلے جائے۔
یہ بات سمجھنے والی ہے ہر پشتون افغانی نہیں ہوتا اور ہر پشتون سندھی دشمن نہیں۔ حیدرآباد واقعے کی آڑ میں جس طرح اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف ایک منظم طریقے سے مہم چلائی جا رہی ہے اور ان کو مختلف لقب دیے جا رہے ہیں وہ انتہائی شرمناک عمل ہے۔ آغا سراج درانی ایک صدی سے سندھ کے ڈسٹرکٹ شکارپور کے تحصیل گڑھی یاسین میں مقیم ہے، ان کے بڑوں نے جب گڑھی یاسین میں قیام کیا تو وہ علاقہ غیر آباد تھا اور اس سارے علاقے کی زمین انہوں نے خرید کی اور پھر ایک شہر آباد کیا، لیکن وہاں کسی پشتون کو آباد نہیں کیا، آباد ہونے والے وہ ہی مقامی لوگ تھے، جس میں سندھی زبان بولنے والے آ جاتے ہیں۔
آج بھی پورے شہر کی آبادی آغا سراج درانی کے ابائی ملکیت کی زمین پر رہتی ہے اور کوئی بھی شہری اس کا کرایہ ادا نہیں کرتا، اگر آپ گڑھی یاسین شہر چلے جائے اور وہاں کے مکینوں سے پوچھے تو وہ آغا سراج درانی کے خاندان کو کسی مسیحا سے کم نہیں سمجھتے، پورے شہر کے واسی بغیر کرایہ دیے اپنے گھروں میں رہتے ہیں، گڑھی یاسین شہر کی مین بازار کے دکاندار اس مہنگائی والے دور میں بھی دکان کا کرایہ تین سے پانچ سو روپے ماہانہ ادا کرتے ہیں، صرف یہ نہیں ابھی بھی آس پاس کے دیہاتوں سے لوگ جب گڑھی یاسین شہر کا رخ کرتے ہیں تو وہ سیدھا کوٹ درانی جاتے ہیں اور پھر اپنا گھر بنانے کی مفت زمین لے کر جاتے ہیں۔
آغا سراج درانی کے دادا آغا شمس الدین خان درانی پاکستان بننے سے قبل ممبئی کی قانون ساز اسمبلی کی ممبر رہ چکے ہیں، بطور اسپیکر آغا بدرالدین خان درانی نے قرارداد پاکستان پر اپنے خون سے انگریزوں کے لئے پیغام لکھا کہ ہم اپنے وطن کے لئے خون دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے، آغا سراج درانی کے والد مغربی پاکستان اسمبلی کے ممبر رہے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر بھی رہے۔ ان کے بعد آغا سراج درانی پچھلے پچاس سالوں سے سیاست سے وابستہ ہیں، صرف سندھ نہیں ملکی سیاست میں ان کی سیاسی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے، شہید بے نظیر بھٹو کے قریب ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے، کئی ادوار میں وہ منسٹر رہ چکے ہیں، اس دوران انہوں نے صرف گڑھی یاسین یا شکارپور نہیں بلکہ پورے سندھ میں ہزاروں سندھی نوجوانوں کو نوکریاں دیں، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آغا سراج درانی نے تعصب کی بنیاد یا پھر پشتون اور سندھی دیکھ کر نوکریاں بانٹی، اس وقت گڑھی یاسین شہر کے ہر ایک گھر میں ایک سرکاری ملازم موجود ہیں کہیں تو ایک گھر میں تین تین افراد کو بھی نوکریاں دی گئیں، کیا یہ سب کچھ سندھ اور سندھی دشمن کر سکتا ہے۔
آغا سراج درانی ہمیشہ سندھ کی تقسیم کے خلاف رہے ہیں، اس کا ایک ثبوت سندھ اسمبلی کی وہ کارروائی ہے جس میں قومی اسمبلی میں مزید صوبوں کی گونج کے خلاف سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی اور اپوزیشن کی جماعتوں نے اسپیکر آغا سراج درانی کی ڈوائس کا گھیراؤ کر لیا، اس دوران آغا سراج درانی نے اپوزیشن کی جماعتوں سے مخاطب ہو کر کہا ہم کبھی بھی سندھ کی تقسیم برداشت نہیں کریں گے، دھرتی کا ایک ایک بچہ کٹ جائے گا اپنی دھرتی ماں کو تقسیم کرنے نہیں دے گا۔
بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی آغا سراج درانی نے یہ بھی کہا میرے خلاف جتنا چاہے احتجاج کر لیں لیکن میرے ہوتے ہیں سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کرنے دوں گا۔ سندھ اسمبلی جیسے فورم پر آغا سراج درانی کا سندھ دھرتی کی تقسیم کے خلاف دو ٹوک موقف کیا کوئی سندھ دشمن دے سکتا ہے۔ منفی پروپیگنڈہ کرنے والے کم سے کم سندھ اسمبلی کی وہ کارروائی ہی دیکھ لیں ان کو لگ پتہ جائے گا کہ ہر پشتون سندھ دشمن نہیں اور درانی خاندان تو نہ صرف خود کو سندھی کہتا ہے پر اپنے گھروں میں بھی سندھی زبان بولتے ہیں۔
آغا سراج درانی مختلف ادوار میں سندھ میں غیرقانونی طور پر مقیم افغانیوں کے خلاف بیان دیتے رہیں ہیں اور ان کے متعلق ان کا واضح موقف ہے کہ افغانیوں کو اپنے وطن افغانستان بھیجا جائے، انہوں نے کبھی بھی افغانیوں کی حمایت نہیں کی، لیکن پختون پاکستانی ہیں، وہ صرف سندھ میں نہیں، پنجاب، خیبر پختونخوا ، بلوچستان اور ملک کے دیگر شہروں میں مقیم ہے، جتنا ایک سندھی، بلوچ، پنجابی کا پورے پاکستان پر حق ہے اتنا حق پختون کا بھی ہے۔
درانی جیسے محب وطن اور سندھ دوست خاندان کو غداری کے لقب دینا اور سندھ دھرتی کا دشمن کہنے والے کسی طرح بھی سندھ کے محسن نہیں ہے، ایسا لگ رہا ہے وہ لوگ ایک ایسی سازش کا حصہ بن رہے ہیں جس کا مقصد سندھ میں لسانی فساد کروا کر دھرتی کے ٹکڑے کرنا ہے، آغا سراج درانی بھی بار بار اس بات پر اصرار کر چکے ہیں کہ جو لوگ ان سے سیاسی مقابلہ نہیں کر سکتے وہ لوگ ایسی حرکتیں کر رہے ہیں اور ایسی سازش میں غیر مقبول قومپرست رہنما ہیں، جو اب پختون، سندھی کا منجن بیچ رہے ہیں۔ میرا نہیں خیال آغا سراج درانی کو سندھ کا بیٹا ہونے، سندھی ہونے کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے، وہ اپنے عمل سے ایک بار نہیں ہزار بار ثابت کرچکے ہیں کہ وہ سندھی ہے اور سندھ کے سچے سپوت ہیں، جو اپنی دھرتی ماں کے لئے اپنی جان قربان کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔





