اور لڑکی میں جن آ گیا (1)


عنایت بیگم کے دل میں گزشتہ شام، رجو کے لئے جو ترس کا جذبہ جاگا تھا، اب اس کی جگہ سخت حسد اور غصے نے لے لی تھی۔ اسے ایک عجیب ذلت کا احساس ہو رہا تھا۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ چودھری حاکم تو نکاح کے بغیر بھی ایسے کام کرتا ہی رہتا ہے۔ مگر وہ شاید اس لئے اسے تکلیف دہ محسوس نہ ہوتے تھے کہ وہ کسی اور جگہ اور اس کی لاعلمی میں کیے جاتے تھے۔ جن میں نہ تو دلہن کو سہاگ رات کے لئے تیار کرنا اس کے فرائض میں شامل تھا اور نا ہی دوسری صبح شب زفاف سے گزری ہوئی لڑکی کا حال دریافت کرنا۔

آخر کار وہ دل پر پتھر رکھ کر اور حویلی کی رسم نبھانے کے لئے رجو کے کمرے میں جا پہنچی۔ جیسا کہ وہ پہلے ہی سے جانتی تھی، چودھری تو وہاں موجود نہیں تھا۔ لیکن رجو؟ وہ کہاں تھی؟ وہ بھی تو کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔ پلنگ پر تو لگتا تھا کمبل کے نیچے بس ایک تکیہ پڑا ہے۔ لیکن جب اس نے کمبل اٹھا کر دیکھا تو تکیہ نہیں تھا بلکہ خود رجو تھی۔ گھٹنے چھاتی سے جوڑے اور سر اپنے گھٹنوں پر ٹکائے، وہ اس طرح لیٹی ہوئی تھی کہ مشکل سے ایک بڑے تکیے جتنی جگہ میں سما گئی تھی۔

عنایت بیگم نے کمبل ہٹایا تو وہ جیسے یک دم ڈر کر اٹھ بیٹھی۔ وہ نہایت سہمی ہوئی تھی۔ چہرہ بالکل زرد ہو رہا تھا۔ درد اور آنسوؤں کی لکیریں اس کی آنکھوں سے پھوٹ کراس کے رخساروں تک پھیلی صاف نظر آ رہی تھیں۔ عنایت بیگم کی نظر اس کی ٹانگوں پر پڑی۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کہیں اوپر سے بہتا ہوا خون رجو کے ٹخنوں تک پہنچ رہا ہے اور کسی لمحے بھی فرش کو سرخ کر دے گا۔

اس نے ایک کرسی پر پڑی سہاگ رات والی سفید چادر اٹھا کر دیکھی۔ اس چادر پر پڑے ہوئے جو خون کے دھبے نظر آ رہے تھے وہ پر دۂ بکارت کی بساط سے کہیں زیادہ تھے۔ اس نے رجو کو گلے سے لگایا، اسے پیار کیا اور پھر بولی

”دیکھو! رشتے میں تم بے شک میری سوتن ہو لیکن عمر میں تو تم میری بڑی بیٹی سے بھی ایک سال چھوٹی ہو۔ کاغذوں میں تمہاری عمر بے شک اٹھارہ سال لکھوا دی گئی ہے پر میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم اصل میں ابھی صرف چودہ سال کی ہو“ ۔

رجو نے عجیب تجسس بھری نظروں سے عنایت بیگم کی طرف دیکھا، جس نے اپنی بات آگے بڑھائی

”مجھے تمہارے سوتن بن جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کیوں؟ یہ ایک علیحدہ داستان ہے۔ ویسے میری ایک اور سوتن اس حویلی میں پہلے سے موجود ہے۔ حویلی سے باہر کتنی ہیں؟ وہ تو شاید خود چودھری کو بھی یاد نہ ہو۔ نا ہی یہ سلسلہ یہاں رک جانے والا ہے۔ اب فیصلہ تمہارے ہاتھوں میں ہے کہ تم اس حویلی کی صرف ایک بے کار اور بے مصرف چودھرانی بن کر رہنا چاہتی ہو یا کسی انسان کی طرح اپنی زندگی بھی جینا چاہتی ہو؟ جینے کی خواہش تو ویسے مجھے بھی ہے لیکن کچھ کرنے کے لئے شاید میرا وقت گزر گیا ہے۔ تمہارے پاس البتہ ابھی موقع ہے۔ اگر تم زندہ رہنے کا ارادہ کر لو تو مجھے بتانا، ہو سکتا ہے میں تمہارے کچھ کام آ سکوں“ ۔

عنایت بیگم کچھ دیر مزید رجو کے ساتھ تنہائی میں بیٹھی باتیں کرتی رہی۔ کچھ اس سے پوچھا، کچھ اسے بتایا، اس کی ڈھارس بندھائی اور پھر جیسے کسی فیصلے پر پہنچنے کے بعد ، خادماؤں کو بلا لیا۔ اور انہیں حکم دیا کہ وہ رجو کو خوب اچھی طرح نہلا دھلا کر اور ناشتہ کرا کے اس کے مکمل آرام کا انتظام کریں۔ اور خود اپنے کمرے میں چلی گئی۔

جیسا کہ پہلے بھی ذکر آ چکا ہے، چودھری حاکم کی عمر تو اب ساٹھ سال سے بھی اوپر تھی لیکن صحت کے لحاظ سے اسے پینتالیس پچاس سے زیادہ کا نہیں کہا جا سکتا تھا۔ وہ اپنی خوراک اور ورزش، دونوں کا بہت خیال رکھتا تھا۔ ٹینس اور گھڑ سواری، دونوں مشاغل کو مناسب وقت دیتا تھا۔

نمبردار تو وہ صرف اپنے گاؤں کا تھا مگر اس کی زمینیں سارے علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں۔ حالانکہ اس کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں تھا مگر اس کی سیاست کا دائرہ کار لاہور اور اسلام آباد تک وسیع تھا۔ دوستوں کے اصرار کے باوجود وہ کسی اور عہدے کی وجہ سے اپنے گاؤں کی نمبرداری چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں تھا۔

لاہور میں اس کا ایک وسیع فارم ہاؤس تھا۔ وہاں ہر محکمے کے چھوٹے بڑے افسران کی آمدورفت رہتی تھی۔ وہ سب لوگ وہاں آتے تو صرف تفریح کے بہانے سے ہی تھے مگر ان شراب، کباب اور شباب کی محفلوں میں کبھی کبھی بڑی بڑی سازشیں بھی ہوتی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے کاروباری معاملات تو خیر آئے دن وہاں نمٹائے جاتے تھے اور انتہائی رازداری کے ساتھ۔

اسلام آباد کی پورے ایک کنال کی کوٹھی صرف خاص خاص ملاقاتوں اور خاص الخاص لوگوں کے استعمال میں انتہائی اہم مواقع پر آتی تھیں۔ بمشکل تمام میٹرک پاس کرنے والے چودھری حاکم کے وہاں تمام ملازم اچھے پڑھے لکھے تھے۔ ہو سکتا ہے ان میں سے ہر ایک کو تھوڑی تھوڑی خبر ہو، مگر یہ تمام انتظامات وہ کیسے سنبھالتا تھا، مکمل طور پر کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ اخراجات کا ایک پہاڑ تھا، جو وہ ہر مہینے سر کرتا تھا، مگر کیسے؟ کسی کو علم نہ تھا۔

گاؤں کی اس وسیع و عریض حویلی میں زنانہ اور مردانہ علیحدہ علیحدہ تھے۔ دوپہر کے بعد ، حکم کے مطابق شرفو نائی اپنے انعام کی امید میں مردانہ والے حصے میں موجود تھا۔ چودھری کے ساتھ رجو کی شادی میں شرفو نائی کا بہت اہم رول تھا۔ یوں بھی شرفو نائی کی زندگی کا دار و مدار چودھری کی چاپلوسی اور اس کی طرف سے ملنے والے انعامات پر ہی تھا۔ انہی انعامات سے ہی اس نے گاؤں میں اچھا خاصا مکان بنا لیا تھا۔

چودھری حاکم جب بھی گاؤں میں موجود ہوتا تو شرفو نائی صبح صبح اس کی خدمت میں پیش ہو جاتا۔ چودھری کی داڑھی میں کنگھی کرنا اور بغاوت پر آمادہ ہر بال کا چن چن کر سر قلم کرنا اسی کی ذمہ داری تھی۔ مونچھوں میں بھی جو بار بار سفید بال اگ آتے تھے، ان کا منہ بھی وہی کالا کرتا تھا۔ علاوہ ازیں چودھری کی نظر میں اپنی اہمیت قائم رکھنے اور کسی نہ کسی شکل میں انعام پانے کے لالچ میں، گاؤں کے اندر کی خبریں بھی شرفو ہی چودھری تک پہنچاتا تھا۔ گاؤں کے بہت سے معاملات میں وہ چودھری کا رازدار بھی تھا۔

”بالے“ کی بیٹی رجو، اب جوان ہو گئی ہے، یہ خبر بھی چودھری کو شرفو نے ہی پہنچائی تھی۔ پھر بات کرنے کا وہ انداز جو صرف شرفو ہی جانتا تھا۔ ”چودھری جی! کیا بتاؤں آپ کو؟ یہ موٹی موٹی آنکھیں ہیں اس کی۔ ٹیڑھی آنکھ سے بھی دیکھ لے تو چنگے بھلے گبھرو کا سینہ چیر کے رکھ دے۔ جوانی ہے کہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ پنڈے پر ہاتھ رکھو تو اتھری گھوڑی کی طرح بدک جاتی ہے۔ آنکھ رک نہیں سکتی اس کے حسن پر“ ۔

چودھری جو اصل میں تو شرفو کی باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سن رہا تھا، بظاہر لاپرواہی سے بولا ”تو روز ہی اس لڑکی کی باتیں لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ ہمیں کیا کرنا ہے اس کی جوانی سے؟ وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہویا پورے گاؤں کو اڑا لے جانے والی آندھی ہو“ ۔

”کرنا تو خیر جو بھی ہے، وہ آپ کو ہی ہے چودھری صاحب۔ یہ کسی ماہتڑ بندے کے بس کا روگ تو ہے نہیں۔ پھر ایسی کبوتری آپ کے ناک کے نیچے سے کوئی اور لے اڑے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ شرفو نے چودھری کی مونچھوں کو آخری بل دیتے ہوئے کہا۔

”تیرا دماغ تو خراب نہیں شرفو؟ بالے کی پوری برادری ہمارے کھیتوں میں مزدوریاں کرتی ہے۔ اور ایکا بھی بہت ہے ان میں، اگر وہ لوگ بگڑ گئے تو ساری زمینداری دھری کی دھری رہ جائے گی“ ۔

”آپ اس علاقے کے سب سے بڑے چودھری ہیں۔ پورے زمانے کی سیاست آپ کے گرد گھومتی ہے۔ ان لوگوں کو گھمانا تو آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہونا چاہیے۔ ویسے سیانے کہتے ہیں، ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اس کی قیمت ہو سکتا ہے ذرا زیادہ دینی پڑے۔ لیکن ایسے نادر ہیرے کو آپ سے پہلے کوئی ہاتھ بھی لگائے تو۔“ ۔ شرفو نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ البتہ چودھری کے دل میں اس نے جو آگ لگانی تھی، وہ لگا چکا تھا۔

”تو خود ہی ذرا ٹوہ لے پھر“ چودھری نے شرفو کو ذمہ داری سونپی
”ذرا مل بیٹھ ان میں۔ کوئی سن گن لے“ ۔
”آپ کا حکم ہے تو اب دیکھیں شرفو کے بھی کام“ ۔ شرفو نے اپنے اوزار سنبھالتے ہوئے چودھری کو تسلی دی۔

شرفو نے چودھری کے دل میں جو آگ لگائی تھی، اس کی پوری منصوبہ بندی وہ پہلے ہی کر چکا تھا۔ اپنے عمل کا آغاز اس نے بالے کی ملاقات سے کیا۔ بالے کو رازدارانہ انداز میں خبر دی کہ چودھری کا دل اس کی بیٹی رجو پر آ گیا ہے۔ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ چودھری اپنے ارادے سے باز آ جائے۔ اس لئے ہمیں مل جل کر کوئی طریقہ سوچنا پڑے گا، ورنہ وہ ظالم تو ہماری بچی کو چیر پھاڑ کر کھا جائے گا اور ہم رونے دھونے کے سوا کچھ کر بھی نہ سکیں گے۔

چودھری کے پاس جا کر شرفو نے ایک بار پھر رجو کے حسن اور اس کی جادو بھری جوانی کا ذکر کر کے اس کی آتش طلب کو بھڑکایا۔ پھر اسے یہ بھی بتایا کہ یہ معاملہ ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، اس لئے کوئی شادی کی طرز کا ڈرامہ کرنا پڑے گا۔ دوسری صورت میں خون خرابے کا بھی اندیشہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اسے بھی آپ سنبھال ہی لیں گے، لیکن جو بدنامی ہو سکتی ہے، اس سے بچ جائیں تو زیادہ اچھا ہے۔

واپس بالے کے پاس جا کر اسے خوش خبری سنائی کہ چودھری کو میں نے منا لیا ہے۔ وہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرے گا بلکہ رجو کے ساتھ باقاعدہ بیاہ رچائے گا۔ یوں تو سمجھ ہماری بیٹی کی وجہ سے تیری بھی لاٹری نکل آئے گی۔ رشتہ داری ہو جائے گی تیری چودھری کے ساتھ۔

ادھر چودھری کو بھی کامیابی کی مبارکباد دی کہ صرف بارہ ایکڑ زمین رجو کے نام لگانے سے کام بن جائے گا۔ پھر جب وہ آپ کی بیوی ہو گی تو اس کی زمین بھی رہے گی تو آپ کے پاس ہی۔ بالا اور اس کی برادری پہلے کی طرح وہاں کام کرتے رہیں گے۔ اپنی شان و شوکت دکھانے اور لوگوں پر رعب ڈالنے کے لئے لڑکی کو ذرا بھاری بھاری زیور ڈال دیجئیے گا۔ واپس تو وہ بھی آپ کے پاس ہی آنے ہیں۔ پھر نکاح کا کیا ہے؟ مولوی بھی آپ کا اور گواہ بھی آپ کے۔ بعد میں ضرورت کے مطابق دیکھ لیجئیے گا جو بھی کرنا ہو۔

یوں ہی کبھی بالے سے کچھ اور کہا، چودھری سے دیگر بیان کیا لیکن شرفو نے یہ رشتہ کرا دیا۔ رجو کے نام بارہ ایکڑ زمین لکھی گئی اور بہت سے بھاری زیورات بھی اسے پہلے سے بھجوا دیے تو بالے کی برادری میں عزت بن گئی۔

چودہ سال کی رجو کو کاغذات میں اٹھارہ سال کی ظاہر کر کے نکاح بھی ہو گیا۔ گاؤں والوں میں سے بھی کسی کی جرات نہ ہوئی کہ کچھ بولے۔

شرفو پہلے بھی، اس سلسلے میں دونوں طرف سے ممکنہ حصہ وصول کر چکا تھا مگر صبح ڈیرے پر تو وہ مزید انعام کی امید میں گیا تھا۔ اب دوپہر کے بعد حویلی میں بھی وہ اسی توقع پر پہنچا تھا۔

چودھری کمرے میں داخل ہوا تو شرفو کے سلام کا جواب بھی نہ دیا اور کچھ دیر چپ چاپ بیٹھا رہا۔ اجازت ملنے کے انتظار میں شرفو بھی کھڑا رہا۔ آخر چودھری نے اسے اشارے سے بیٹھنے کے لئے کہا اور پھر ان الفاظ میں اپنی خاموشی توڑی

”تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے شرفو، بہت بڑا دھوکہ“ ۔

”ایسا نہیں ہو سکتا سرکار! میری چمڑی تو ادھڑ سکتی ہے، لیکن یہ غلام آپ کے ساتھ دھوکہ نہیں کر سکتا“ ۔ شرفو عاجزی کی تصویر بنا ہوا تھا۔

”تم تو اتنی تعریفیں کر رہے تھے لڑکی کے بدن کی۔ وہ تو بالکل سوکھی سڑی سی ہے۔ گوشت تو نام کو بھی نہیں ہے اس کے پنڈے پر۔ پھر رات کو وہ اتنا چیخی اور تڑپی ہے کہ کیا بتاؤں۔ ایک بار تو میں ڈر ہی گیا تھا کہ کہیں اسے کچھ ہو ہی نہ جائے“ ۔

”اتنی جلدی بھول گئے سرکار؟ یہ کنواری لڑکیاں شروع شروع میں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ اس کا تڑپنا تو بنتا ہی ہے۔ پہلی بار کسی مرد کے ہاتھ لگے ہیں اسے۔ اور وہ بھی آپ جیسے مرد کے، جو بڑے بڑے منہ زور گھوڑوں کو لگامیں کھینچ کر پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہونے پر مجبور کر دے۔ دو چار راتیں آپ کی بانہوں میں سوئے گی تو پھر دن کے وقت بھی آپ کو ڈھونڈتی رہا کرے گی“ ۔

اپنی مردانگی کی تعریف سن کر چودھری کا غصہ کسی حد تک کم ہو گیا جسے شرفو نے فوراً بھانپ لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کی چاپلوسی ٹھیک کام کر رہی ہے تو اس نے اپنی بات جاری رکھی۔

”لڑکی بہت کام کی ہے سرکار۔ میں نے اس کی ماں کے بارے میں سن رکھا ہے کہ بہت گرم عورت ہے وہ۔ رات کو مرد جتنی بار مرضی بلائے، تھکتی نہیں ہے۔ بیٹی بھی تو ماں پر جائے گی نا۔ بہت مزے دے گی آپ کو یقین کریں۔ جہاں تک اس کی صحت کا تعلق

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4