اور لڑکی میں جن آ گیا (1)


خیر کچھ اور زیادہ تو نہ ہوا لیکن آمنہ بی بی کی اس نوکرانی نے جاکر خبر دی کہ آج دونوں نے ناشتہ بھی مل کر کیا ہے۔ آمنہ بی بی نے سوچا ہو نہ ہو دونوں مل کر اس کے خلاف کوئی سازش کر رہی ہوں۔ عنایت بیگم کے بارے میں تو وہ جانتی تھی کہ چودھری کئی سالوں سے اس کے کمرے کا رخ نہیں کر رہا لیکن ہو سکتا ہے اسی حسد میں عنایت بیگم سوتن کی بجائے سانپ بن جائے۔ پھر رجو تو ابھی بالکل تازہ ہے۔ اور مرد اس مقام پر آسانی سے پھسل سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے چودھری اس کے بدن کے نشیب و فراز میں بہک جائے اور آمنہ بی بی پر ہونے والی عنایات میں کمی کرنے پر تل جائے۔

رجو نے بھی معاملے کی نزاکت کو سمجھ کر کمر کس لی تھی۔ عنایت بیگم کی مقرر کردہ خادماؤں کی بدولت اب سارا دن اس کی خوب خدمت کی جاتی۔ اچھا مساج، ضرورت سے بھی زیادہ سونا، نہانا دھونا، کھانا پینا اور بس آرام۔ دن میں اس کا یہی معمول تھا۔ رات کو وہ چودھری کے سامنے آتے ہی بے باک ہو جاتی، منصوبہ کے مطابق بار بار اسے بستر کی دعوت دیتی، کبھی چھیڑتی کبھی اکساتی، بلکہ کبھی کبھی تو اس کی مردانگی کو للکارتی بھی۔

چودھری جو عنایت بیگم اور رجو کے پروگرام سے لا علم تھا، ہر رات بستر میں اپنی سی کوشش کرتا۔ بار بار ہمت جمع کر کے اپنی مردانگی کا بھرم رکھنے کی سعئی کرتا۔ روز ایک بار حکیم کے پاس جاتا۔ اس کے باوجود اسے تمام راستے بند ہوتے نظر آ رہے تھے۔ تنگ آ کر اس نے طے کیا کہ وہ کبھی کبھی کسی دوسرے کمرے میں سو جایا کرے۔ مگر جب پہلی بار ہی اس نے ایسی کوشش کی، تو رجو نے پہلے تو کافی انتظار کیا لیکن آخر میں ملازم کے ہاتھ اسے بلوا بھیجا۔

ساتھ میں یہ بھی پیغام دیا کہ اگر وہ آپ نہیں آئے گا تو وہ خود اس کے پاس چلی جایا کرے گی۔ چنانچہ چودھری کو بادل نخواستہ آنا ہی پڑا۔ یوں سات راتوں تک یہ سلسلہ کسی نہ کسی طرح چلتا رہا مگر آٹھویں رات جب رجو نے اسے تیسری بار اکسایا تو اس کے اعصاب جواب دے چکے تھے۔ جادو ٹونے اور تعویز گنڈے پر بھی اسے یقین تھا۔ سو اب اسے یہ بھی شک ہو گیا تھا کہ رجو کوئی عام لڑکی نہیں ہے۔ اگر یہ کوئی جادو ٹونا نہیں جانتی تو ضرور اس پر کسی جن بھوت کا سایہ ہے جو اسے ایسی حرکات پر مجبور کرتا ہے۔ چنانچہ اس نے رجو سے پوچھا

”یہ تو پکی بات ہے کہ تم کوئی عام لڑکی نہیں ہو۔ اب سچ سچ بتاؤ تم کون ہو؟“ ۔

رجو تو پہلے ہی اس موقع کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے ہمت جمع کی اور فوراً ایک بھاری مردانہ آواز میں کہ جس کی وہ کئی دنوں سے مشق کر رہی تھی اسے جواب دیا

”میں ایک جن ہوں اور اس لڑکی کے جسم میں رہتا ہوں۔ میرا نام ہے جنڈل گھمباٹا۔ یہ جو کچھ بھی کرتی ہے وہ دراصل میں کرتا ہوں۔ اس کے جسم میں جو طاقت اور طلب ہے وہ اصل میں میری ہی طاقت اور طلب ہے۔ اور پوچھو کیا پوچھنا ہے؟“ ۔

”جنڈل گھمباٹا! تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ تم چاہتے کیا ہو آخر؟“ چودھری نے ڈری ہوئی آواز میں پوچھا

رجو اسی مردانہ آواز میں اور بھی رعب سے بولی ”یہ لڑکی اب میری ہے صرف میری۔ تم اسے طلاق دے دو۔ ورنہ میں یونہی تمہیں تنگ کرتا رہوں گا۔

چودھری فوراً راضی ہو گیا ”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، میں صبح ہی اسے طلاق دے دوں گا“ ۔

رجو کے اندر کا جن بولا ”لیکن خیال رہے اب یہ لڑکی اکیلی نہیں ہے۔ اب میں بھی اس کے جسم میں رہتا ہوں۔ اس لئے ہماری ضرورتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ لہٰذا ان بارہ ایکڑ زمین سے اب ہمارا گزارا نہیں ہو گا جو تم نے شادی کرتے وقت اس کے نام کی تھی۔ تمہیں طلاق کے ساتھ تیرہ ایکڑ زمین اور بھی دینی پڑے گی“ ۔

”نہیں نہیں، اور زمین نہیں ملے گی۔ مین نے پہلے ہی غلطی کی جو بارہ ایکڑ اس کے نام لگا دیے۔ تم نے طلاق کا کہا ہے وہ میں دینے کو تیار ہوں۔ اس کو جو زیور پہنائے ہیں اور بہت سے قیمتی کپڑے بنوا کر دیے ہیں، میں وہ بھی واپس نہیں مانگوں گا“ چودھری نے پوری ہمت سے جواب دیا۔

رجو کے اندر کا جن پھر بولا ”تو ٹھیک ہے، میں تمہاری ہر بیوی اور ہر اس عورت کے جسم میں گھس جایا کروں گا، تم جس کے پاس جایا کرو گے اور تمہارا یہی حال کیا کروں گا جو میں اب کر رہا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ لڑکی بھی سب کو بتائے گی کہ تم جنسی طور پر ایک جوان لڑکی کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ اسی لئے تم نے اسے طلاق دی ہے“ ۔

چودھری، سیاست کے داؤ پیچ کا ماہر مگر توہم پرستی میں اتنا گڑا ہوا تھا کہ اس موقع پر ذرا بھی استقامت کا مظاہرہ نہ کر سکا۔ اس نے دو منٹ سے زیادہ نہیں سوچا اور اپنی طرف سے ”جنڈل گھمباٹا“ نام کے جن کو جواب دیا

”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، میں تیار ہوں۔ میں تیار ہوں۔ میں کل صبح ہے دونوں کام کر دوں گا۔ اب میں جاؤں؟ میں دوسرے کمرے میں سونا چاہتا ہوں“ ۔

”رجو والے جن نے کہا“ جاؤ! لیکن خیال رکھنا اگر تم نے وعدہ خلافی کی، یا کوئی ہیرا پھیری کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ”۔

”نہیں نہیں، تمہیں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ میں کل ہی یہ سارے کام کر دوں گا“ اور وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔

دوسرے دن چودھری ڈیرے پر نہیں گیا۔ حویلی میں عجیب ہلچل مچی ہوئی تھی۔ کیونکہ آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ چودھری حویلی میں موجود ہو اور صبح گھڑ سواری کرتا ہوا ڈیرے تک نہ جائے۔

نہا دھو کر چودھری نے کچھ ٹیلی فون کیے اور پھر آمنہ بی بی کے پاس جا پہنچا۔ اس کے ٹیلیفونوں سے ہی یہ بات پوری حویلی میں پھیل گئی تھی کہ چودھری رجو کو طلاق دینے والا ہے۔ چنانچہ آمنہ بی بی نے بھی پہلا سوال اسی ضمن میں کیا۔

”مجھے غلط بتایا گیا تھا آمنہ! وہ لڑکی ابھی بہت چھوٹی ہے۔ بہت بچپنا ہے اس میں“ ۔ چودھری نے جواب دیا
”میں نے آپ کو پہلے ہی سمجھایا تھا لیکن اب آپ میری سنتے ہی کہاں ہیں؟“ ۔

”تمہاری ہی تو سنتا ہوں۔ اور کس کی سنتا ہوں یہاں پوری حویلی میں؟ آج بھی دیکھو اس فیصلے کے بعد سب سے پہلے تمہارے پاس ہی آیا ہوں۔ تم صرف میری بیوی نہیں ہو، میری محبوبہ بھی ہو، میری دوست بھی ہو“ ۔

”پورے نو دن کے بعد آپ نے ادھر کا رخ کیا ہے آج اور ابھی بھی پتہ نہیں شام کو پھر کہیں شہر کی طرف نکل جائیں“ ۔

”شہر تو خیر آج جانا ہی ہے۔ بہت ضروری کام پڑے ہیں وہاں۔ لیکن میں کل ہی لوٹ آؤں گا، اور آؤں گا سیدھا تمہارے پاس“ ۔

”میں تو ہمیشہ آپ کی بات کا یقین کر لیتی ہوں۔ یہ اور بات کہ آپ ہمیشہ ہی دھوکا دے جاتے ہیں۔ آپ کو احساس ہی نہیں رہتا کہ میں آپ کے بغیر کتنی اکیلی ہو جاتی ہوں یہاں۔ خدا نے ابھی تک کوئی بچہ بھی تو نہیں دیا، ورنہ میں اسی کے ساتھ مصروف ہو جاتی“ ۔

”وہ بھی ہو جائے گا میری جان۔ جب بھی خدا کو منظور ہو گا وہ بھی ہو جائے گا“ ۔

آمنہ بی بی سے اظہار محبت کی تجدید کر کے چودھری مردانہ حصے کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں عنایت بیگم سے آمنا سامنا ہو گیا۔ وہ تو سارے حالات جانتی تھی مگر پھر بھی معصوم بن کر بولی

”کیا بات ہے میرے پیارے چودھری صاحب؟ آج کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں“ ۔
”نہیں، پریشانی کی تو کوئی بات نہیں ہے“ ۔
”بات تو ہے! اور آپ کی ہر پریشانی کی خبر مجھے مل جاتی ہے۔ آپ چاہے سالوں تک میری خبر نہ لیں“ ۔

”تمہیں کیا ہوا ہے؟ ساری حویلی کی مالکن ہو تم۔ تمہاری اجازت کے بغیر یہاں کا پتا تک نہیں ہلتا۔ نہ پیسے کی کوئی کمی ہے نہ عیش آرام کی۔ بچیوں کی پڑھائیاں بھی تمہاری مرضی کے مطابق ہو رہی ہیں۔ اور کیا چاہیے تمہیں؟“ ۔

”جسے میں چاہتی ہوں، وہ بھی مجھے چاہے۔ یہی چاہتی ہوں میں بس“ ۔

”جو کچھ بھی تمہیں زیادہ سے زیادہ مل سکتا ہے وہ تمہیں مل رہا ہے۔ جس کام کا وقت گزر چکا ہے اسے بھول جاؤ“ ۔

”مسئلہ تو یہی ہے کہ میرا وقت ہی نہیں گزرتا“ ۔
”اچھا اچھا! ابھی میں ذرا جلدی میں ہوں۔ کام نمٹا کر ملتا ہوں تمہیں بھی“ ۔
”کام تو آپ نے نمٹا دیا ہے چودھری صاحب! اب تو بس کاغذی کارروائی رہ گئی ہے“ ۔
”تمہیں کیسے معلوم؟“ ۔

”آپ سے پیار کرتی ہوں نا! تو آپ کی ہر خبر رکھتی ہوں میں۔ چاہے میری راتوں کی نیندیں حرام ہوں یا دن کا چین“ ۔

”میں نے کہا نا! میں کام سے فارغ ہو کر ملتا ہوں تمہیں“ ۔
اور چودھری اس سے جان چھڑا کر نکل گیا

ادھر رجو کے گھر والوں کو طلاق کی خبر ملی تو وہاں رونا دھونا شروع ہو گیا۔ چودھری نے انہیں بلا کر رجو سے ملوایا اور یہ بات بھی

صاف کرائی کہ طلاق وہ رجو کی خواہش پر دے رہا ہے۔ یہ سن کر رجو کے والدین اور رشتہ دار اسے کوسنے لگے تو وہ بولی ”آپ یہ رونا دھونا اب بند کر دیں۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ میرے مطالبے پر ہی ہو رہا ہے۔ آپ لوگ بس وکیلوں کے آنے کا انتظار کریں۔ تمام معاملات کے کاغذ مکمل ہو کر ان پر دستخط ہو جاتے ہیں تو آ کر مجھے لے جائیں۔ باقی باتیں میں گھر واپس آ کر بتاؤں گی“ ۔

دوپہر تک وکیل، پٹواری اور گرد اور سب وہاں پہنچ چکے تھے۔ چودھری نے علاقے کے کئی معززین کو گواہ بنوا کر کاغذات تیار کرائے۔ وہ ابھی تک جنڈل گھمباٹا کے خوف میں مبتلا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی کسر باقی رہ جائے اور اسے بعد میں بھگتنا پڑے۔ کاغذات لے کر رجو اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ باپ کے گھر لوٹ آئی۔ وہ سب ابھی بھی بہت پریشان تھے لیکن رجو پوری طرح مطمئن تھی۔

اپنے باپ کی وفات سے لے کر اب تک، چودھری حاکم اپنے علاقے کی ایسی بیسیوں لڑکیوں کو اپنے بستر کی زینت بنا چکا تھا۔ کسی کے لواحقین کو ڈرا دھمکا کر، کسی کو لالچ دے کر اور کسی کے ساتھ دونوں حربے استعمال کر کے وہ اپنا یہ کام سرانجام دیتا چلا آیا تھا۔ دوسرے زمینداروں یا نسبتاً طاقتور گھرانوں میں اگر اسے کوئی لڑکی پسند آتی تو وہاں نکاح کا حربہ استعمال کرتا تھا۔ لیکن نکاح میں آئی ہوئی لڑکی بھی اکثر کچھ عرصہ استعمال ہونے کے بعد ، حویلی کا فالتو سامان ہو کر رہ جاتی۔ ایسی صورت میں وہ بے چاری مجبور ہو کر خود ہی طلاق کا مطالبہ کر دیتی۔ چودھری اس کے وارثوں سے بات کرتا، کوئی صلح صفائی والا انداز اپناتا اور اسے طلاق دے دیتا۔

اگر کسی کمی کی کوئی لڑکی اسے پسند آ جاتی اور لڑکی کے وارث نہ خوف کھاتے نہ لالچ کا شکار ہوتے تو چودھری کے کارندے لڑکی کو اٹھا لے جاتے۔ وارث مزاحمت کرتے تو چودھری ان پر چوری، ڈاکے اور ارادۂ قتل وغیرہ کے مقدمات بنوا کر انہیں جیل بھجوا دیتا۔ ڈر، خوف، لالچ یا کسی بھی اور طرح سے چودھری کے بستر تک لائی گئیں ایسی لڑکیاں سالوں تک حویلی میں ایک قیدی کی سی زندگی گزارتیں۔ اگر وہاں سے رہائی پا بھی لیتیں تو واپس باپ یا بھائی کے گھر میں پڑی سڑتی رہتیں۔

رجو پہلی لڑکی تھی جو ایک کھیت مزدور کی بیٹی ہونے کے باوجود عزت سے بیاہ کر لائی گئی اور باعزت طریقے سے ہی طلاق دے کر رخصت بھی کی گئی۔ علاقے کے لوگوں کو بے شک وجہ تو معلوم نہیں تھی کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا، مگر وہ اسے چودھری کی پہلی بڑی شکست ضرور گردان رہے تھے۔

خود چودھری یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ ایک بڑی مصیبت سے بچ گیا ہے۔ وہ رجو کو بھیجنے کے بعد شہر چلا گیا۔ وہاں اس کے بہت سے کام رکے ہوئے تھے۔ وہ ان میں مصروف ہو گیا اور یہ سوچ کر مطمئن بھی کہ اب رجو والا معاملہ نمٹ گیا ہے۔ جنڈل گھمباٹا اب اسے کبھی تنگ نہیں کرے گا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک کہانی ضرور یہاں ختم ہو گئی ہے، لیکن یہیں سے ایک اور قصے کا آغاز ہو رہا ہے، جو ممکن ہے خود اس کا انجام ثابت ہو۔

{لیکن وہ انجام ہوا یا نہیں؟ اور ہوا تو کیا ہوا؟ قارئین کرام وہ اس افسانے کے دوسرے اور آخری حصے میں ملاحظہ کیجئیے گا}۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4