اور لڑکی میں جن آ گیا (1)


ہے تو آپ دیکھیں گے، چار دن حویلی میں اچھی خوراک ملے گی اور ساتھ میں چھوٹی چودھرانی ہونے کا نشہ، چند دنوں میں ہی ماس چڑھنے لگے گا اس کے پنڈے پر۔ معاف کیجئیے گا، اب وہ ہماری چھوٹی چودھرانی ہے تو مجھے بھی بات ذرا دھیان سے کرنی چاہیے ”۔

شرفو کا لہجہ معذرت خواہانہ تھا۔

”نہیں نہیں، تم بات کرو۔ ابھی تو وہ میرے بستر تک آئی ہے۔ جب دل میں بھی آ جائے گی تو اسے چھوٹی چودھرانی کا درجہ بھی دے دوں گا“ ۔

”آپ مائی باپ ہیں سرکار! جو حکم دیں گے میں ویسے ہی کروں گا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ دو چار دنوں میں ہی آپ اس سے بہت بہت خوش ہو جائیں گے“ ۔

”اچھا اچھا! دیکھ لیتے ہیں یہ دو چار دن بھی۔ لیکن اگر میں سواد لینے کی بجائے بد مزہ ہوا تو سمجھو تمہاری خیر نہیں۔ اب تم جاؤ“ ۔

شرفو اٹھ کر باہر جانے لگا تو چودھری نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ پیسے نکالے اور شرفو کی طرف بڑھا دیے۔ شرفو نے وہ بغیر گنے ہی جیب میں ڈال لئے اور چودھری کو دعائیں دیتا ہوا باہر نکل گیا۔

چودھری نے بعد میں ایک ڈرائیور کو بلایا اور پجارو میں بیٹھ کر ایک قریبی شہر میں اپنے خاص حکیم کو ملنے چلا گیا۔

ادھر حویلی میں عنایت بیگم کے حکم کے مطابق خادماؤں نے، جو مساج کرنے کی ماہر تھیں، رجو کے پورے بدن کا اچھی طرح مساج کیا، اسے نہلایا دھلایا اور اچھا سا ناشتہ کرا کے سلا دیا۔ رجو بھی رات کو بہت بے آرام رہی تھی۔ مساج اور غسل سے سکون ملا تو وہ بھی گہری نیند سو گئی۔

عنایت بیگم کے پاس تو خیر اب کئی سالوں سے واحد تفریح ہی یہی رہ گئی تھی کہ طرح طرح کی خوشبودار کریموں اور تیلوں سے اچھا سا مساج کرائے۔ پنڈلیوں سے لے کر اوپر تک ٹانگیں دبوائے، کاندھوں کی مالش کرائے اور گہری نیند سوئے۔ اس لئے اس کے پاس مساج کے لئے استعمال ہونے والے اعلیٰ درجے کے مہک دار تیل اور بدن کو آرام پہنچانے والی نادر قسم کی ولائتی کریموں کی اچھی خاصی ورائٹی موجود تھی۔ انہی میں سے اس نے آج کچھ رجو کے استعمال کے لئے بھی دے دی تھیں اور اپنے ذاتی نوکر کو کچھ نئی خرید لانے کے لئے بھی بھیج دیا تھا۔

رجو کی نیند کے دوران بھی سارا دن، دو خادمائیں اس کے کمرے میں موجود رہیں، مبادا وہ کسی وجہ سے جاگ جائے اور اسے کوئی ضرورت ہو۔ سہ پہر کے بعد جب رجو کی آنکھ کھلی تو فوراً عنایت بیگم کو خبر دی گئی۔ رجو اب کافی بہتر محسوس کر رہی تھی، اس لئے عنایت بیگم کے بلانے پر اس کے کمرے میں چلی گئی۔ شام کی چائے بھی دونوں نے وہیں مل کر پی اور رات کا کھانا بھی اکٹھے ہی کھایا۔ اس دوران باتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں لگتا تھا کہ عنایت بیگم اس کی رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دے رہی تھی۔

عنایت بیگم کی ہدایت کے مطابق، رات کو چودھری کے آنے سے پہلے، ضرورت کی ہر چیز رجو کے کمرے میں رکھ دی گئی۔ تمام خادماؤں کو بھی حکم تھا کہ جب تک طلب نہ کیا جائے وہ اس کے کمرے میں نہ جائیں۔

چودھری کو اس کے حکیم نے ایک نئی اور اعلیٰ دوائی دی جو خاص اسی کے لئے بنائی گئی تھی۔ اسے بنانے میں اچھا خاصا خرچہ آیا تھا۔ حکیم نے ایک خوراک تو چودھری کو اسی وقت کھلا دی اور کچھ پرہیز بھی بتائے، لیکن حکیم کے منع کرنے کے باوجود بھی چودھری نے راستے میں تھوڑی سی شراب پی لی تھی۔ اس لئے جب حویلی میں داخل ہوا تووہ ہلکے سے سرور میں بھی تھا۔ پھر جب وہ رجو والے بیڈ روم میں داخل ہوا تو وہ ہکا بکا ہی رہ گیا۔

رجو ویڈیو پر ایسے پنجابی ڈانس دیکھ رہی تھی جنہیں آسان الفاظ میں واہیات بھی کہا جا سکتا تھا۔ جبکہ خود اس نے ایک سرخ رنگ کی نائٹی کے سوا کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا۔ چودھری جو حکیم کی گولی بھی کھا کر آیا تھا اور تھوڑی سی شراب بھی پی ہوئی تھی، جب اس کی نظر رجو کے جسم کے اتار چڑھاؤ پر پڑی تو وہ یک دم جوش میں آ گیا۔ مگر اس نے کوشش کر کے خود کو قابو کیا اور ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے رجو سے بولا ”تم نے کپڑے کیوں اتارے ہوئے ہیں؟“ ۔

”کل آپ نے ازار بند اتنی زور سے کھینچا تھا میرا، مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ پھر بڑی چودھرانی صاحبہ نے بھی سمجھایا کہ رات کو آپ کے آنے سے پہلے مجھے یہی کچھ پہننا چاہیے۔ یہ بھی مجھے انہوں نے ہی دی ہے“ ۔ رجو نے نہایت معصومیت سے جواب دیا۔

”اچھا عنیتی نے دی ہے تجھے یہ نائٹی؟ اور یہ ڈانس کی ویڈیو، یہ کس نے دی ہے؟“ ۔

”ان کا مجھے نہیں پتہ۔ میں نے تو بس یہ، اس کا بٹن دبایا تو یہ ڈانس چلنے شروع ہو گئے۔ میں اکیلی بیٹھی تھی آرام سے دیکھتی رہی۔ آپ کہتے ہیں تو بند کر دیتی ہوں“ رجو کے لہجے میں بناوٹ کا شائبہ تک نہ تھا۔

چودھری نے دروازے کی کنڈی چڑھائی، اپنے کپڑے اتارے اور بستر میں گھستا ہوا بولا
”چل آ جا پھر ادھر۔ اب تو ازار بند بھی نہیں کھینچنا پڑے گا“ ۔
رجو بغیر کوئی ردعمل دیے وہاں سے اٹھی، پہلے واش روم گئی اور پھر چودھری کے پہلو میں آ کر لیٹ گئی۔

چودھری کے دماغ اور بدن میں جتنی وحشت بھری ہوئی تھی وہ اس نے رجو کے جسم پر نکالی اور بستر پر دراز ہو گیا۔

حکیم کی نئی گولی، اوپر سے شراب، چودھری نے رجو کا بہت برا حال کیا تھا۔ لیکن اب ایک منصوبہ بھی تھا کہ جس پر رجو نے عمل کرنا تھا۔ اس لئے اس نے ہمت کر کے چودھری کی طرف رخ کیا اور اس کے سینے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی ”اب تو مجھے بھی سب اچھا لگنے لگا تھا اور آپ ابھی سے لیٹ بھی گئے؟“ ۔

چودھری کے دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا ”واہ میری رانی! لگتا ہے ان پنجابی ڈانسوں کا تجھ پر بڑا اثر ہوا ہے“ ۔

”اثر تو جو بھی ہے سب آپ کا ہی ہے۔ ڈانس تو بس ایسے ہی۔“ ۔ رجو نے بات ادھوری چھوڑ دی
”اچھا! تو پھر دس منٹ دے مجھے۔ پھر کرتا ہوں تیرا بندوبست“ چودھری اندر سے کافی خوش تھا۔
دونوں باری باری واش روم گئے اور پھر بیٹھ کر پنجابی ڈانس دیکھنے لگے۔
کوئی پندرہ منٹ کے بعد چودھری نے رجو کو پھر سے بستر میں کھینچ لیا۔
اس بار اس کی وحشت مزید عروج پر تھی اور وقت بھی کافی زیادہ لگا۔

رجو کا تو بہت برا حال ہوا۔ لطف کا احساس تو بے چاری کے بدن میں پہلے بھی نہیں جاگا تھا مگر اس بار اذیت بھی کچھ زیادہ ہی اٹھانا پڑی۔ اس کے باوجود نہ صرف یہ کہ وہ اپنی دردیں ظاہر نہیں کر سکتی تھی الٹا اسے یہ تاثر دینا تھا کہ وہ بہت لطف اندوز ہو رہی ہے۔ چودھری نے آخر میں پوچھ بھی لیا کہ سنا؟ اب ٹھیک ہے یا ابھی اور ضرورت ہے تجھے؟

رجو منہ سے کچھ نہ بولی اور چودھری سے لپٹ کر لیٹ گئی۔ چودھری کا دماغ بھی فخر سے آسمانوں پر اڑنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ دوبارہ سو گیا۔

ویڈیو ابھی چل رہی تھی اور رجو کو نیند بھی نہیں آئی تھی۔ بے شک اس کے بدن کا انگ انگ دکھ رہا تھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور خود کو سنبھالے ویڈیوز دیکھنے لگی۔ ایک بار اسے خیال بھی آیا کہ یہ منصوبہ تو بہت مشکل ہے۔ وہ شاید اتنی تکلیف برداشت نہ کر سکے گی۔ اور کامیابی سے پہلے ہی اس کی ہمت جواب دے جائے گی۔ پھر اس نے سوچا کہ اب ارادہ کر ہی لیا ہے تو ایک بار اپنی برداشت کو پوری طرح استعمال کرنے کی کوشش تو کرے۔ وہ پھر سے چودھری کے پہلو میں لیٹ گئی۔

تقریباً دو اڑھائی گھنٹے کے بعد ، جب تکلیف اور دکھن کے احساس میں کافی کمی آ چکی تھی، اس نے منصوبے کے مطابق چودھری کے بدن کو سہلانا شروع کر دیا۔ یوں تو وہ گہری نیند سو رہا تھا مگر دس پندرہ منٹ کی مسلسل چھیڑ چھاڑ نے اسے بھی جگا دیا۔ نہ صرف جگا دیا بلکہ جوش سے بھی بھر دیا۔

چودھری اب پہلے سے بھی زیادہ خوش تھا اور اسے شرفو کی باتیں بھی یاد آ رہی تھیں۔ اسی لئے وہ جوانی کے احساس سے بھی لطف لے رہا تھا۔ حکیم کی گولی بھی کام دکھا رہی تھی مگر ساتھ ہی ساتھ اس کی ٹانگوں کی ہڈیوں اور گھٹنوں کے جوڑوں نے اپنی بے بسی کا رونا بھی شروع کر دیا تھا۔ آخرکار تو وہ بستر پر ایسے گرا جیسے بہت لمبی دوڑ لگا کر آیا ہو۔ اب رجو کی ہمت بھی جواب دے گئی تھی۔ اس لئے چودھری کے سوتے ہی وہ بھی واش روم گئی اور آ کر تھوڑی دیر بعد ہی سو گئی۔ لیکن چونکہ دن میں خوب سو چکی تھی اس لئے زیادہ دیر نہ سو سکی۔ چودھری اس کے اٹھنے سے پہلے ہی جا چکا تھا۔

ادھر جب آمنہ بی بی کو خبر ملی کہ گزشتہ شام رجو نے کافی وقت عنایت بیگم کے کمرے میں گزارا ہے تو اس کا فکرمند ہونا بھی عین فطری تھا۔ اس نے اپنے اعتماد کی ایک نوکرانی کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ آئندہ سے عنایت بیگم اور رجو کی نقل و حرکت پر نظر رکھے۔ جب بھی دونوں کی پھر سے ملاقات ہو تو جاننے کی کوشش کرے کہ وہ کیا باتیں کرتی ہیں؟

چودھری تو جب بھی گاؤں میں موجود ہوتا تو وہ صبح صبح گھوڑے پر سوار ہو کر ڈیرے پر ضرور پہنچتا تھا۔ وہ جانتا تھا، اس کی ایسی سرگرمیوں کی خبر، گاؤں کے لوگوں کے ذریعے آس پاس کے علاقوں تک بھی پھیلتی تھی۔ شرفو نائی بھی ایسے موقع پر ڈیرے پر ضرور پہنچتا۔ چودھری کی داڑھی مونچھوں کو ضرورت کے مطابق سیدھا رکھتا اور چودھری کی عنایات سے بھی فیض یاب ہوتا رہتا۔

لیکن آج چودھری کے ڈیرے پر آ چکنے کے باوجود شرفو، خود کو ادھر ادھر چھپائے پھر رہا تھا۔ چودھری نے اسے بلا لیا۔ شرفو

نے چودھری کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ وہ خوب ہشاش بشاش ہے۔ مگر کائیاں آدمی تھا کچھ اور پوچھنے کی بجائے بولا ”حضور! آپ کی داڑھی کے دو تین بال ادھر ادھر ہو رہے ہیں، حکم کریں تو ذرا ان کا مزاج درست کر دوں؟“ ۔

”نہیں شرفو! آج نہیں۔ آج ذرا جلدی واپس پہنچنا ہے حویلی“ ۔
”خیریت تو ہے حضور! کیا نیند پوری نہیں ہوئی؟“ ۔

”نہیں نہیں! سب ٹھیک ہے۔ خوب جی بھر کر سویا ہوں رات کو“ ۔ چودھری ابھی اسے اصل بات بتانے سے گریزاں تھا۔

شرفو نے بھی چودھری کی آنکھیں پڑھ لی تھیں، جہاں رت جگے کے لال ڈورے صاف نظر آ رہے تھے۔ پھر بھی بولا

”میرے ساتھ تو الگ ہی معاملہ رہتا ہے سرکار! اتنے سال ہو گئے شادی کو، لیکن اب بھی جب میری جورو، میرے سامنے انگڑائی لیتی ہے تو میرا بھی بدن ٹوٹنے لگتا ہے۔ حالانکہ اب جسم میں وہ جان نہیں رہی۔ آپ تو ماشا اللہ ابھی جوان ہیں۔ بازوؤں کی مچھلیاں مچل مچل کر لشکارے مارتی ہیں۔ آپ کا کیا حال ہوتا ہو گا؟“ ۔

”لیکن صحت کا خیال بھی تو رکھنا پڑتا ہے شرفو، تو تو جانتا ہی ہے، کتنی ذمہ داریاں ہیں میرے سر پر“ ۔
”جی جی بالکل! اور یہ آپ ہی کی ہمت ہے کہ اتنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں“ ۔
شرفو جان گیا کہ چودھری خوش تو ہے لیکن آج کچھ بتانے کے موڈ میں نہیں ہے، اس لئے وہ بھی خاموش ہو گیا۔

ادھر حویلی میں جب عنایت بیگم کی خادمہ، رجو کو بلانے پہنچی تو وہ جیسے تیار ہو کر انتظار ہی کر رہی تھی۔ وہ فوراً اٹھ کر عنایت بیگم کے کمرے میں چلی گئی۔ عنایت بیگم نے ناشتہ وہیں منگوا لیا۔ ناشتے کے بعد دونوں کمرے میں اکیلی رہ گئیں تو رجو نے رات کی ساری کہانی سنا دی۔ اس کے بعد عنایت بیگم سے درخواست کی کہ وہ کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈے، جس سے کم از کم دو تین دن کا وقفہ مل جائے۔

”ایسے تو سارا منصوبہ ہی ناکام ہو جائے گا“ عنایت بیگم نے جواب دیا

”لیکن میری ہمت تو جواب دے گئی ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب اتنا تکلیف دے گا“ رجو نے جیسے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا۔

”میں نے تو سنا تھا تمہاری عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے تو تمہیں بہت سخت جان ہونا چاہیے تھا“ ۔

”آپ نے غلط نہیں سنا۔ ہم بھی اپنے مرد لوگوں کے ساتھ مل کر کھیتوں میں کام کرتے ہیں اور سخت جان بھی ہیں۔ اس لئے سردی گرمی، مار پیٹ، سب برداشت کر لیتے ہیں، لیکن یہ تو جان نکالنے والی بات ہے، بڑی چودھرانی جی“ ۔

”دیکھ لڑکی! اگر پانچ سات دن ایسے جان نکلنا برداشت کر لے گی، تو تیری جان بچ جائے گی۔ ورنہ ساری عمر یہیں کہیں حویلی میں پڑی اپنی جان کو روتی رہے گی۔ اس تکلیف میں ہڈیاں بھی ٹوٹیں تو تو مرنے نہیں لگی مگر اس طرح گھر کا ایک فالتو پرزہ بن کر اور رو رو کر ضرور مر جائے گی۔ اب فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے، پانچ سات دن کا رونا یا پھر ساری عمر کا رونا!“ ۔

کچھ اور باتیں بھی ہوئیں مگر آخرکار عنایت بیگم نے رجو کو اس امتحان سے گزرنے کے لئے آمادہ کر ہی لیا۔

دونوں کے درمیان یہ بھی طے پا گیا کہ اب وہ کچھ دنوں تک ملاقات نہیں کریں گی۔ ایسا نہ ہو کہ چودھری کو خبر ہو جائے اور ان کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جائے۔ یا آمنہ بی بی کی کوئی نوکرانی جاسوسی کر دے اور رجو کے لئے مشکلات کھڑی ہو جائیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4