زاہد ڈار کی لاجونتی: ”وہ بس گئی، پر اجڑ گئی“


پاک ٹی ہاؤس اور زاہد ڈار کے بارے میں اب سوچتا ہوں تو ایسے ہی کبھی کبھار یہ خیال آتا ہے کہ محض عورتیں ہی اغوا نہیں ہوتیں، جگہیں اور مقامات بھی اغوا ہو جایا کرتے ہیں۔ فقط مغویہ عورتیں ہی بازیاب نہیں ہوا کرتیں، کچھ مغویہ عمارتیں، خیالات اور احساسات بھی بازیاب ہو جایا کرتے ہیں اور اس بازیابی کی کہانی بہت درد ناک اور الم انگیز ہوا کرتی ہے۔ بیٹھے بٹھائے آپ کو معلوم ہو کہ جہاں آپ زمانے سے بیٹھا کرتے تھے اور جو بقول غالب آپ کے سونے جاگنے، جینے مرنے، اٹھنے اور بیٹھنے کا محل تھا، وہ اب آپ کا نہیں رہا، اب وہ مقفل کر دیا گیا۔ دروازے پر زنجیر پڑ چکی۔ آنے جانے کی ممانعت ہو چکی۔ طاقت وروں نے زور کے بل پر اس کو اغوا کر لیا، ملکیت میں وہ جگہ پہلے بھی آپ کی نہ تھی لیکن عمر کی نقدی تو وہیں صرف ہوئی تھی۔ عمر کی اس نقدی کے سامنے سونے کی چمک اور کھنکھناہٹ زیادہ معتبر ہوئی۔ اطراف میں ٹائروں کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، یہ ایک بیچوں بیچ پاک ٹی ہاؤس قسم کی فضول شغل کی چیز کیا منافع دے سکتی ہے۔ ہمیں شعر و ادب، فلسفہ، سوچ، فکر، خیال کی بلند اڑان سے کیا لینا کہ بھلا اس سے پیٹ بھرتا ہے۔ پانچ پانچ فٹ کی چھوٹی چھوٹی دکانیں اطراف میں ایک دن میں اتنا کما کر اپنے مالک کو دیتی ہے کہ پاک ٹی ہاؤس پانچ برسوں میں اتنا کما کر اپنے مالک کو دے نہیں سکتا اگرچہ اس کا حجم اطراف کی مارکیٹ میں موجود دکانوں سے دس گنا زیادہ ہے۔ جس شہر میں پچاس برس سے قائم کتب فروشوں کی جگہ پر جوتے بیچنے بیٹھنے والے آن بیٹھے تو وہاں پاک ٹی ہاؤس کس کھیت کی مولی ہے۔ قصہ مختصر، پاک ٹی ہاؤس اس بدلتے رجحان اور رویے کے ہنگام میں اغوا کر لیا گیا، مغویہ عمارت کو مقفل کر دیا گیا، دروازے پر زنجیر پڑ چکی تھی۔ نظر دوڑائے اور ان عمارتوں کا کرب محسوس کیجیے کہ جو اغوا کر لی گئیں۔ تازہ ترین مثال تو لکشمی منشن کی دی جا سکتی ہے کہ جہاں اردو افسانہ قیام پذیر تھا۔ منٹو کی ایک ہی نشانی ہمارے پاس موجود تھی اور ایک عہد اس منشن سے جڑا تھا۔ اس کا کیا ہوا۔ لاہور گھومتے جائیں اور دیکھتے جائیں کہ عمارتیں، جگہیں نوحہ کرتی ہیں کہ انھیں ان کے باپ دادا اور بیٹوں کے سامنے اغوا کیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد مغویہ عورتوں کی بازیابی کے دردناک قصوں کے راوی تو منٹو اور بیدی رہے۔ سوچتا ہوں کہ پاک ٹی ہاؤس کے اغوا ہونے اور کئی برس بعد اس کی بازیابی کی کہانی کون سنائے گا کہ زاہد ڈار تو رخصت ہوا کہ ٹی ہاؤس اس کی ’لاجونتی‘ تھی۔ اب کون سندر لال بابو ہو گا جو پیپل یا برگد کی گھنیری چھاؤں تلے بیٹھ کر یہ کہانی بنے گا۔

بیدی نے اپنی عظیم الشان کہانی ’لاجونتی‘ میں لاجو کا جو دکھ بیان کیا، وہی دکھ زاہد ڈار کا ہے کہ ’وہ بس گئی، پر اجڑ گئی‘ ۔ زاہد ڈار کے ساتھ یہی ہوا۔ اک عمر کی سنگت کو خاموشی سے اس نے اپنے کندھے پر ڈالا اور وہاں سے چلا آیا۔ اس کرب کا کون اندازہ لگا سکتا ہے کہ جس کا سامنا زاہد ڈار کو ٹی ہاؤس کی نئے سرے سے آباد کاری پر کرنا پڑا۔ لاہور میں سندر لال بابو کی طرح کچھ درد مند لوگ موجود تھے۔ اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسئلہ لاہور کی شناخت کا تھا۔ حلقہ ارباب ذوق نے اعلان کیا کہ پاک ٹی ہاؤس اگر اسی طرح مقفل رہا تو ہم سڑک پر اجلاس کریں گے لیکن ٹی ہاؤس کی مانوس فضا سے دور نہیں جائیں گے۔ زاہد ڈار کا حلقہ سے کیا لینا دینا، وہ تو کس کرب سے وہاں سے گزرا ہو گا، اور اس کی نظر میں کتنے ہی آنسو ہوں گے کہ جن کی شہادت بھی دینے والا کوئی نہیں۔ ایک عرصے تک مغویہ عمارت کے بازیاب ہونے کی جتن بیدی کی کہانی ’لاجونتی‘ کی مانند ہوتے رہے۔ حلقہ بالآخر اٹھ کر وائی ایم سی اے ہال چلا گیا تو کبھی ناصر باغ میں جتن کیے گئے، وہاں ایک کنٹین کا جنگی مشقوں کی بنیاد پر ٹی ہاؤس کا جعلی عکس سا تیار کیا گیا۔ زاہد ڈار وہاں نہ گیا۔ بھلے لاجو کی ہم صورت نظر بھی آ جائے، نین نقش بھی قدرے مماثل ہوتے پھریں، چال ڈھال بھی متشابہ ہو لیکن لاجو کی سی بات کہاں۔ ہم تو کہیں نوے کی دہائی کے آغاز میں آ کر زاہد ڈار سے ملے تھے لیکن یہ تو بہت قدیمی معاملہ تھا۔ سن رکھا ہے، کچھ پڑھ رکھا ہے اور کچھ حد تک دیکھ رکھا ہے کہ جب بھی پاک ٹی ہاؤس جانا ہوا، زاہد ڈار کو وہاں موجود پایا۔ وہیں پر ایک خاص میز پر، کہ جسے یار لوگ طعنہ کے ساتھ بڑے لوگوں کی میز کہا کرتے تھے، زاہد ڈار براجمان رہتے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے ٹی ہاؤس ان کے لیے ایک مانوس آنگن ہے، گیہوں کی مہک کی مانند کوئی ازلی و ابدی وابستگی تھی کسی ماں جائے کی مانند۔ وہ ٹی ہاؤس تو ’لاجو‘ کا آنگن تھا کہ جس میں لاجو گاجر سے لڑ کر مولی سے مان جاتی تھی۔ انتظار حسین کی یادداشتیں زاہد ڈار کے تذکرے سے خالی نہیں۔ انھوں نے ’فالتو آدمی ©‘ کے عنوان سے ایک باکمال خاکے میں زاہد ڈار کے بارے میں جو اپنے تاثرات لکھ دیے ہیں، انھیں پڑھنے کے بعد تو ڈار صاحب پر لکھنے کا حوصلہ ہی نہیں پڑتا کہ بندہ اس کے بعد کیا لکھ سکتا ہے۔ انتظار حسین نے ’چراغوں کا دھواں‘ میں بھی زاہد ڈار کا خوب ذکر کیا۔ اپنے خاکے میں زاہد ڈار کی ٹی ہاؤس سے جڑت کے بارے میں انتظار حسین نے اس گزرے یا اغوا شدہ وقت اور مکان کو زندہ کر کے رکھ دیا: ”زاہد ڈار تو پھر زاہد ڈار ہے۔ مطلب یہ کہ وہ ٹی ہاؤس کا رشی ہے۔ ہمالہ پربت کے رشیوں سے اس کا موازنہ زیادتی کی بات ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو ٹی ہاؤس میں تپ کرنا زیادہ کٹھن ہے۔ دور دور تک آدمی نہ آدم زاد۔ کبھی بھولے بسرے کوئی اپسرا ہی آ کر وظیفہ میں کھنڈت ڈالے تو ڈالے۔ “ (فالتو آدمی ) اسی خاکے میں آپ لکھتے ہیں کہ اپنے پاک ٹی ہاؤس کے نصیب اچھے ہیں۔ وضع داروں سے کبھی خالی نہیں رہتا۔ خیر اس کا وہ زمانہ تو گزر گیا۔ جب دیوانے اس کے کھلنے کے ساتھ صبح کرتے تھے اور اسے بند کرا کر رخصت ہوتے تھے۔ مگر اس گئے گزرے زمانے میں بھی اس کی مٹھی میں کم از کم ایک دانہ تو ایسا ہے کہ روز بلا ناغہ مقررہ وقت پر بغل میں ایک کتاب داب کر گھر سے نکلتا ہے اور کچھوے کی چال چلتا کرشن نگر سے ہوتا ہوا ٹولٹن مارکیٹ کے سامنے سے گزرتا ہوا اپنے صحیح وقت پر ٹی ہاؤس میں داخل ہوتا ہے۔ انتظارحسین اس گئے گزرے زمانے میں ٹی ہاؤس کی مٹھی میں زاہد ڈار کو ایک ایسا دانہ قرار دیا کہ جس کے سبب ثروت مندی کا بھرم رہ جاتا ہے۔ زاہد ڈار ٹی ہاؤس کی ثروت مندی کا آخری دانہ تھا۔ ایک اور صاحب اسرار زیدی بھی ہمارے وقتوں میں باقاعدہ یہاں بیٹھے دکھائی دے جایا کرتے تھے، نہ جانے کیوں ہم نے انھیں یکسر فراموش ہی کر دیا۔ اسرار زیدی صاحب کو تو ٹی ہاؤس کے مستقل نشینوں نے یاد نہیں کیا لیکن ہر اہم لکھنے والے نے انتظار حسین کی طرح ٹی ہاؤس اور زاہد ڈار کو لازم و ملزوم قرار دے رکھا ہے۔

زاہد ڈار سے راقم کی پہلی ملاقات اتفاقیہ تھی کہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں سے لاہور آنے والے شاید اپنے ساتھ ایک بسا بسایا لاہور ساتھ لے کر آتے ہیں۔ یہ بسا بسایا، رچا رچایا لاہور متخیلہ میں پہلے سے ہی آباد ہوتا ہے اور بڑی ہی حسین جگہ بن کر چمکتا رہتا ہے کہ اسے روشن کرنے والے سورج کی تابناکی اسے خیالوں میں دمکائے رکھتی ہے۔ ’یکے مضافات از ملتان است‘ سے لے کر ’عروس البلاد‘ تک کا سفر لکھنے والوں کے طفیل نووارد کے تخیل میں ایک جہان آباد کر جاتی ہے کہ جہاں محمد حسین آزاد ایسا فقیر اس بستی میں بوریا نشین اور درختوں کے پتوں پر لکھتا اور ان پتوں کو ہوا میں اچھالتا نظر آتا ہے، حالی کی نگاہیں ترجمہ کی ہوئی کتب پر اسی شہر میں جھکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، علامہ اقبال کی زندگی اور فکر کا غیر معمولی ارتقا اس دھرتی سے بلند ہو تجلیات میں خلل ڈالتا ہے، پطرس بخاری، صوفی تبسم اور نیاز مندان لاہور کی الف لیلوی داستانیں نووارد کو لاہور کی اصل سے متعارف کروا جاتی ہیں، منٹو کا لکشمی منشن اور اسی زمانے کا پاک ٹی ہاؤس، میرا جی، قیوم نظر، ناصر کاظمی، احمد مشتاق، منیر نیازی، اشفاق احمد، انشا جی، مظفر علی سید، جاوید شاہین، حنیف رامے، مسعود اشعر، شاہد حمید۔ ایک طولانی قصہ ہے کہ جو نئے آنے والے کے دل و دماغ میں گونجتا رہتا ہے اور نووارد ٹی ہاؤس کا رخ کرتا ہے کہ ان الف لیلوی داستانوں کے قصہ گو آنے والے کی دانست میں وہیں موجود ہوتے ہیں۔ راقم کی کیفیت بھی کم و بیش ایسی ہی تھی کہ بسا بسایا، رچا رچایا لاہور تو متخلیہ میں تھا مگر حقیقت میں اسے ٹی ہاؤس میں ہی جا کر دیکھا جا سکتا تھا۔ لاہور آتے ہوئے میرے قدم خود بہ خود ٹی ہاؤس کی سمت سب سے پہلے بڑھے۔

راقم 1992ء کے آخری مہینوں میں جب گورنمنٹ کالج کے شعبہ اردو کا طالب علم بن کر لاہور آیا تھا تو لاہور کے بارے میں تخیل کا یہ حسین جہان اپنے ساتھ لایا تھا۔ آتے ہی تخیل کے اس مرکزی دھارے پاک ٹی ہاؤس کا رخ کیا۔ اب ٹی ہاؤس کی رونقیں تو شام میں ہوا کرتی ہیں، اس بات کا مجھے زیادہ اندازہ نہ تھا۔ میں منہ اٹھا کر دن کے وقت بلکہ دو پہر میں چلا گیا۔ وقت کی نمود کی اپنی پراسراریت تو ہوتی ہے۔ ٹی ہاؤس کا طلسم شام میں اپنا اثر دکھاتا ہے۔ میں دوپہر کو جا دھمکا۔ پاک ٹی ہاؤس سے باہر سڑک کی دوسری سمت مال روڈ کے متوازی کچھ ہرا بھرا سا حصہ ہے جس میں بہت نفاست اور سلیقے سے گھاس کا ایک میدان یا ٹکڑا سا ہے۔ اس میدان میں بہت سے درخت ہیں کہ جن کو دیکھ کر نہ جانے کیوں ناصر کاظمی اور مجید امجد یاد آئے۔ یہ ہرا بھرا حصہ آگے جا کر ٹی ہاؤس کے سامنے ختم ہو جاتا ہے اور اسی جگہ کچھ دوست دار بیری کے پرانے درخت ہیں جو پہلے اپنی کہانی سناتے ہیں اور پھر ٹی ہاؤس جانے کا اذن ہوتا ہے۔ ٹی ہاؤس یا زاہد ڈار سے ملنے کے لیے جانا ہو تو یہ رستے استقبال کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آپ کہاں ہیں اور کس سمت جا رہے ہیں۔ سن رکھا ہے کہ سپین میں جب کسی ملک کا سفیر یا نمائندہ حاکم سے ملنے کے لیے جاتا تھا تو الحمرا کا رستہ ہی آنے والے پر اتنا رعب داب ڈال دیتا تھا کہ سامنے آنے پر ملنے والے کی زبان پتھر کی ہو چکی ہوتی تھی۔ کچھ ایسا ہی ماجرا یہاں بھی تھا کہ یہ رستہ تاریخ اور روشن تر روایت کے نقش و نگار سے ایسا مزین کے سانس رک سی جائے۔ پھر ادھر اطراف ہی میں تو کتنے نابغوں کی رہائش ہوا کرتی تھیں کہ پیدل ہی چل کر گھر سے ٹی ہاؤس آن پہنچے۔ نووارد تو ہونقوں کی طرح قیاسی رعب میں ویسے ہی آ جاتا ہے کہ ان بالائی خانوں پر یہ بام و در سے وابستہ نابغہ ہائے روز گار، ٹی ہاؤس سے متصل ایک وائی ایم سی اے ہال، ایک پرانا گرجا گھر، چند قدم پر ایک گلی میں مندر، کچھ ہی فاصلے پر مسجد کا نیلا گنبد۔ مسجد، مندر، کلیسا کی مشترک تہذیب کی اس منطقے سے بڑھ کر کیا کوئی مثال ہو سکتی ہے کہ سب قرب میں ہوا کرتی تھیں۔ خواجہ فرید او ر صوفیا کے ہاں کہ یہ سبھی استعارے ایسے تو یک جا نہیں ہوئے تھے۔

سوچتا ہوں کہ انتظار حسین کو لاہور میں اس اقلیم نے کتنا سنبھالا کہ سب ایک ساتھ تھا ورنہ ان کا دم گھٹ گیا ہوتا۔ نووارد کا اس مقام پر کیا حال ہو سکتا ہے، آپ بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ منہدم مشترک تہذیب کی بچھی کچھی نشانیوں میں گھرا ٹی ہاؤس اور زاہد ڈار ہی تھے کہ جو آباد تھے۔ اس وقت ٹی ہاؤس خالی پڑا تھا کہ ابھی طلسم ہوش ربا کا صفحہ کھلنے کا وقت نہ تھا۔ میں غلط وقت میں قدم اندر رکھ چکا تھا۔ ٹی ہاؤس خالی پڑا تھا۔ لکڑی سے بنی ہوئی پرانی وضع کی چھوٹی چھوٹی کرسیاں کچھ میزوں کے ارد گرد دھری ہوئی تھیں اور خالی تھیں۔ اس ہال نما کمرے کے عین وسط میں بڑے سائز کا ایک پلر تھا جس کے بالکل ساتھ ایک میز پر بلیک اینڈ وائٹ انگریزی فلموں کے ہیرو کی طرز کا ایک شخص کتاب لیے بیٹھا تھا اور کتاب میں منہمک ہونے کا عالم یہ تھا کہ انھیں میری آمد کا معلوم ہی نہ ہوا اور نہ انھوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ اندر روشنی کم تھی اور پرانی وضع کے بلب لگے ہوئے تھے۔ ٹی ہاؤس کے اندر جاڑوں میں کمروں کی خاص حرارت موجود تھی کہ جو آغوش کی مانند سرشار کردینے والی گرمائش کی یاد دلاتی ہے۔ ان صاحب سے ظاہر ہے میری کوئی شناسائی نہ تھی۔ میں ان کی میز کی طرف بڑھا۔ قریب پہنچا تو انھوں نے کتاب سے نظر ہٹا کر استفساریہ نظر سے مجھے دیکھا۔ میں نے وہاں بیٹھنے کی اجازت طلب کی۔ انھوں نے کتاب کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔ موٹی، بڑی اور کشادہ آنکھیں کہ جن پر رت جگے کا گمان ہو، ماتھا چوڑا، پرانی وضع کی عینک، بال سلیقے سے بنائے ہوئے، ستواں ناک، چہرے مہرے سے مغربی ادیبوں سے مشابہ تھے۔ میں ابھی اپنا تعارف کر وا رہا تھا اور گورنمنٹ کالج پر پہنچا ہی تھا کہ انھوں نے بات کاٹ دی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3