زاہد ڈار کی لاجونتی: ”وہ بس گئی، پر اجڑ گئی“


” کیا پڑھ رہے ہو آج کل؟“ یہ پہلا جملہ تھا جو زاہد ڈار نے بولا۔

میں کچھ دیر کے لیے گھبرا سا گیا کہ پہلی بات ہی پڑھنے سے متعلق ہو گی، مجھے اس کا گماں نہ تھا۔ بہت سے خیالات کو پرے ہٹا کر میں نے اپنے تئیں شفاف سا جواب دیا

” فسانہ عجائب“
” جھوٹ بول رہے ہو مجھ سے“ زاہد ڈار نے قدرے بیگانگی سے وثوق سے کہا۔
” نہیں، نہیں۔ یہی کتاب پڑھ رہا ہوں آج کل“

” یہ تو ریڈ ایبل (Readable) نہیں ہے، تم کیسے پڑھ رہے ہو“ ساتھ ہی ڈار صاحب نے ہاف سیٹ چائے کا آرڈر دے دیا اور بعد میں پوچھا کہ چائے پیو گے۔ مجھے اندر کھاتے بڑی خوشی ہوئی کہ انھوں نے توجہ دی۔ میں نے میز پر اپنے ہاتھ رکھے، کرسی آگے کو سرکائی اور حوصلہ جمع کر بتانے لگا کہ کیسے پڑھ رہا ہوں۔ وہ سنتے رہے۔ جب بتایا کہ رشید حسن خاں نے مرتب کی ہے اور اعراب لگا دیے ہیں۔ ان اعراب کے سبب پڑھنے میں اب آسانی پیدا ہو گئی ہے۔

زاہد ڈار نے بہت ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا ”اتنی کوشش کے باوجود اس کتاب کو اگر میں مکمل نہیں کر سکا تو تم کیا، کوئی بھی اسے مکمل نہیں کر سکتا، تم مجھ پر رعب ڈال رہے ہو۔“

میں نے پھر رشید حسن خاں اور اعراب کو آگے کر دیا۔ اتنے میں چائے آ گئی۔ اب کیسے بتاؤں کہ سٹیل کی اس چینک، سٹیل کے اس چینی دان، دودھ کی چھوٹی سی سٹیل سے بنی ہوئی کیتلی اور جست کی ٹرے میں کیا کشش تھی۔ برتنوں کے بھی اپنے زمانے ہوا کرتے ہیں اور گزر جانے کے بعد ان کی قدر کا اندازہ ہوتا ہے۔ موٹے اور بھاری وزن والے سفید رنگ کے کپ تھے کہ جو نیم گرم پانی سے آدھے آدھے بھرے ہوئے تھے۔ قہوہ الگ، دودھ الگ۔ کیا شان دار ذائقہ تھا چائے کا۔ اب تو بہت کم جگہیں رہ گئیں کہ جہاں اس طرز کی چائے مل سکے، ورنہ تو ہر جگہ ٹی بیگ اور خشک دودھ۔ یہ چائے اور برتن ٹی ہاؤس کے اغوا ہونے سے پہلے کا ماجرا ہے۔ بعد تو کچھ اور صورت حال ہو گئی۔

” تم جو یہ کتاب پڑھ رہے ہو، کدھر رکھی ہے“ ڈار صاحب نے چائے بناتے ہوئے پوچھا۔
” نیو ہاسٹل میں، میرے کمرے میں“ میں نے جواب دیا۔
” جاؤ اور جاکر لے آؤ، میں بھی تو دیکھوں“
” ابھی، اسی وقت“ میں نے حیرت سے پوچھا۔
” چائے پی کر چلے جانا، میں ادھر ہی بیٹھا ہوں۔ “

میں حیران سا ٹی ہاؤس سے باہر نکلا، ہاسٹل گیا اور ’فسانہ ءعجائب‘ لے کر واپس آ گیا۔ تب تک مجھے ان کے پڑھنے کی جان لیوا قسم کی عادت کا علم نہ تھا اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ یہ ان کا نہ صرف اختصاص ہے بلکہ یہ ان کی ایک وجہ شہرت بھی ہے۔ مجھے تو اس بات نے حیران کن حد تک متاثر کیا تھا کہ پہلی بات ہی انھوں نے پڑھنے کی تھی۔ انھیں نہ تعارف سے غرض تھی، نہ مجھ سے، نہ گورنمنٹ کالج سے جہاں ان کے ایک بھائی شان دار پروفیسر تھے، انھوں نے تمام باتوں کو منہا کر کے اولیں ملاقات ہی میں بات ہی پڑھنے سے شروع کی۔ رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی۔

زاہد ڈار صاحب نے دو تین روز بعد کتاب واپس کر دی اور کہا کہ اب میں اطمینان سے مر سکوں گا۔ پڑھنا زاہد ڈار کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا اور شہرہ بھی۔ بعد میں خوب معلوم ہوا۔ حیرت کا مقام تھا کہ وہ اس وسعت مطالعہ کو مدمقابل کو چپ کرانے کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے یا کم از کم میں نے نہیں دیکھا۔ اب دیکھیے کہ اس میز پر ساتھ بیٹھے کون کون ہیں۔ مظفر علی سید صاحب۔ ان کی تبحر علمی کا ڈنکا تو سن انچاس سے بج رہا تھا۔ ایک بار شروع کے دنوں میں معصومیت سے زاہد ڈار سے پوچھ لیا کہ غالب کی اپنی زندگی میں جو کچھ ان پر لکھا گیا، اس کی نشان دہی کر دیں تو انہوں نے قریب بیٹھے مظفر علی سید صاحب کی طرف اشارہ کر دیا کہ ان سے پوچھ لو۔ اب اس پر مظفر علی سید صاحب کچھ بگڑ گئے۔ تب مظفر علی سید صاحب شاید ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے اور ہفتے میں دو دن باقاعدگی سے آ کر ٹی ہاؤس اسی میز پر بیٹھا کرتے تھے۔ انھوں نے بارہا کہا کہ اگر یہ دوست نہ ہوں تو میں مر جاؤں گا۔ انتظارحسین، مسعود اشعر، اکرام اللہ، جاوید شاہین، حمید شاہد تو اس میز کا مستقل حصہ تھے، ایک زاہد ڈار ہی ہیں کہ جو خاموشی سے سن رہے ہیں۔ وہ بحث میں کم ہی حصہ لیتے تھے۔ مظفر علی سید صاحب انھیں چٹکیاں کاٹ کر اکسانے کی کوشش کرتے تھے لیکن ڈار صاحب ٹس سے مس نہ ہوتے۔ مجال ہے کہ کسی علمی بحث میں کود پڑیں یا کسی تازہ مغربی ادیب پر ہونے والی بحث میں شامل ہو جائیں۔ مسعود اشعر صاحب کا تازہ کالم تو اس میز کی گفتگو کا مستقل حصہ تھا لیکن زاہد ڈار صاحب کو اس گفتگو میں شریک ہوتے ہوئے کم ہی دیکھا۔ ان کا مطالعہ صرف ان کی اپنی ذات کی تشفی کے لیے تھا۔ اسی مزاج کے سبب شاید اصغر ندیم سید صاحب نے لکھا کہ وسعت مطالعہ کا امیج زاہد ڈار نے بڑی محنت سے بنایا تھا۔ اصغر ندیم سید صاحب کا موقف یہ ہے کہ ان کی وسعت مطالعہ کے سنگ میل کہیں دکھائی نہیں پڑتے۔ انھوں نے کہیں بھی اپنی اس وسیع مطالعاتی دنیا کی جھلک ظاہر نہیں کی۔ عمومی رویہ تو یہی ہے کہ نئی کتب، نئے ادبی رجحانات اور خاص طور پر مغرب کی نئی آوازوں کو تعارفی مضامین، تنقیدی مقالات یا کم از کم کالم کی صورت میں کہیں نہ کہیں ظاہر کریں۔ زاہد ڈار کا جہان تو یہ تھا ہی نہیں۔ انتظارحسین کے بقول ”جیسے ضحاک کے کاندھوں پر بیٹھے ہوئے دو سانپ روز کھانے کے لیے دو انسانی کھوپڑیاں مانگتے ہیں ویسے ہی زاہد ڈار کی دو آنکھیں پڑھنے کے لئے روز ایک کتاب مانگتی ہیں۔ اچھی ہو یا بری کتاب ملنی چاہیے۔ “

ناصر عباس نیر صاحب نے زاہد ڈار کی شخصیت میں ہمہ وقت مطالعہ کرنے رہنے کی اس عادت کے بارے میں ایک امکان کی سمت اشارہ کیا ہے کہ جیسے ”کتاب ان کے لیے ’فیٹش‘ کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ ہر وقت کتاب ہاتھ میں رکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔ زاہد ڈار صاحب کی آخری دس بیس برس میں ان کے نزدیک تر رہنے والے عاصم کلیا ر صاحب نے اس جہت کو ان کی فطرت کا حصہ بتایا ہے۔ کہیں کہیں انتظار حسین کی یادداشتوں میں زاہد ڈار کی وسعت مطالعہ کے اظہار کی کچھ ادھوری سی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ “ چراغوں کے دھواں ”میں آپ لکھتے ہیں کہ ایک بار حسن عسکری صاحب کو زاہد ڈار نے کہا کہ کچھ دن قبل ایک کباڑیے سے پرانا رسالہ خریدا تو اس میں آپ کا ایک مضمون دیکھا کہ جس میں آپ نے پاکستان میں نہریں کھودنے اور دریاؤں پر ہیڈ بنانے کے معاملے پر شعرا کی خبر لی ہوئی تھی کہ ان مہتم الشان کارناموں پر ادب خاموش ہے۔ یہ سننا تھا کہ عسکری صاحب بدک گئے اور کہا کہ ہاں وہ مضمون پھر اسی کباڑیے نے لکھا ہو گا، میں نے ایسا کوئی مضمون نہیں لکھا۔ پچاس کی دہائی میں مظفر علی سید صاحب نے حسن عسکری صاحب کے اس نقطہ نظر پر مجلہ ’راوی‘ میں ادب میں جمود کے عنوان سے اداریہ بھی لکھ رکھا ہے۔ زاہد ڈار صاحب کا عمومی رویہ یہ تھا ہی نہیں۔ وہ اپنے مطالعہ کو فقط خود تک محدود رکھتے تھے۔ ٹی ہاؤس کی میز پر خواہ کتنے ہی زوروں کی بحث کیوں نہ چل رہی ہو، وہ اپنے مطالعہ کی لٹھ لے کر کبھی کسی کے پیچھے نہ پڑے، نہ بحث میں الجھے، نہ اپنی فضیلت کی دستار اونچی کی اور نہ دوسرے کو کم علمی کا طعنہ دیا، بس خاموش۔ جاوید شاہین، کیا بھلے اور مزے کے آدمی تھے کہ جنہیں ہم نے یکسر فراموش کر دیا، اسی ٹی ہاؤس کی اسی میز پر وہ مدتوں بیٹھے اور زمانوں سے زاہد ڈار کے دوست تھے۔ انھوں نے اپنی یادداشتوں ’میرے ماہ و سال‘ میں زاہد ڈار کو ’راں بو‘ کی معنوی اولاد قرار دیا اور کہا“ زاہد ڈار کا اب سارا وقت کتابیں پڑھنے میں گزرتا ہے۔ لیکن اس نے اپنا علم اپنی ذات تک محدود رکھا ہوا ہے۔ شاید کتابیں پڑھنے سے اس کا مقصد علم حاصل کرنے سے زیادہ اپنی تنہائی کا علاج کرنا ہے ”جاوید شاہین صاحب نے بھی وسعت مطالعہ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اتنا سارا مطالعہ بھی ان کے اندر کوئی خوبی پیدا نہ کر سکا۔ زاہد ڈار کا منشا یہ بھی نہیں تھا کہ وہ مطالعہ اس لیے کریں کہ اس سے کوئی خوبی پیدا ہو جائے۔ مطالعہ کرنے کے وضع کردہ جتنے بھی فوائد اور قواعد موجود ہیں، وہ زاہد ڈار کی دنیا میں سرے سے تھے ہی نہیں۔ نہ انھیں کوئی نقاد بننا تھا، نہ ہی گرمی محفل کا حصہ ہونا تھا، نہ ادب او ر سماج کے دھاروں کو سمجھنا تھا اور نہ ہی علم کا بحر بے موج ہونا تھا۔ بس زندگی بسر کرنے کا ایک ڈھب تھا کہ جو بہت غیر معمولی تھا۔

زاہد ڈار کی یہ سب سنگتیں، عادتیں اور رویے ایک آنگن کے گرد گھومتے تھے کہ جسے پاک ٹی ہاؤس کا نام دیا جاتا ہے اور یہ تب کی بات ہے کہ جب یہ عمارت اغوا نہیں کی گئی تھی۔ پرانی وضع برقرار تھی۔ اسی پرانی وضع ہی میں تو زاہد ڈار نے جنم لیا تھا۔ ادھر ہی کی اور اسی زمانے کی بات ہے کہ بقول انتظار حسین ٹی ہاؤس کی میز پر زاہد ڈار نے کوئی کتاب کھولی اور ادھر ہر قماش کا آدم میز پر اکٹھا ہوتا چلا گیا۔ ان حالات میں لاجو کے پاس تھا ہی کیا ماسوا اس کے آنگن کے۔ یہاں سے اٹھ کر، نالاں ہو کر، کسی اور کونے کھدرے میں جا بیٹھنا۔ گاجر سے لڑ کر مولی سے مان جانا۔ زاہد ڈار بھی اٹھ کھڑے ہوتے۔ ٹی ہاؤس کے باہر کھمبے سے لگ کر کتاب پڑھتے رہتے۔ تھک جاتے تو فٹ پاتھ کے ڈنڈے پر بیٹھ جاتے لیکن ٹی ہاؤس سے الگ نہ ہوتے۔ انتظار حسین کے خیال میں زاہد ڈار نے ٹی ہاؤس میں اپنے گرد ایک حصار کھینچ رکھا تھا اور اس دانش ور مخلوق نے جو کسی بھلے مانس کو میز پر اکیلا بیٹھا نہیں دیکھ سکتی، زاہد ڈار کی جان کو صبر کر لیا۔

زاہد ڈار کی شخصیت کے سبھی دھارے ٹی ہاؤس کی سمت جاتے ہیں۔ ان کی شناخت کے بنیادی حوالے اسی در و دیوار سے جڑے ہیں۔ پچاس کی دہائی کے آس پاس انتظار حسین نے ایک رسالہ جاری کیا جس کا نام شاید ’نصرت‘ تھا۔ اس کا جنگ آزادی نمبر بہت معروف ہوا۔ اس رسالے کے چند ایک شمارے ہی شائع ہو سکے تھے۔ گورنمنٹ کالج کے کتب خانے میں یہ شمارے موجود ہیں۔ ان شماروں میں مظفر علی سید کے زیر تکمیل ناول ’فالتو آدمی‘ کے اشتہارات موجود ہیں جو اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس عنوان کے تحت مظفر علی سید جو ناول لکھنا چاہتے تھے، اس کی داستان تو ٹی ہاؤس میں وقت سامع بن کر سن رہا تھا۔ انتظار حسین کے الفاظ میں زاہد ڈار کے لیے حیات ذوق جمود کے سوا کچھ اور نہیں۔ لکھتے ہیں کہ ہم سب ہی زندگی کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ہانپ رہے ہیں مگر دوڑ رہے ہیں۔ ہمارے بیچ بس ایک زاہد ڈار ہے کہ مٹھس بیٹھا ہے۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ اس تہذیبی ناداری کے زمانے میں یہ ایک دم غنیمت ہے۔ اچھے زمانوں میں ہماری تہذیب ایسے کرداروں سے مالا مال ہوتی تھی۔ مظفر علی سید صاحب نے بقول انتظار حسین روسی فکشن کے زیر اثر فالتو آدمی بننے کا عزم باندھا تھا اور اس عنوان سے ایک ناول لکھنے کی بھی ٹھانی تھی مگر وہ آگے چل کر ونگ کمانڈر بنا۔ ناصر کاظمی کے بارے میں لاہور اور ٹی ہاؤس کی کتنی روایات موجود ہیں لیکن انتظار حسین کے نزدیک فالتو آدمی تو ناصر کاظمی بھی نہیں بن سکا۔ فالتو آدمی کا اعزاز ایک پراگندہ طبع شخص کے لیے محفوظ تھا۔ زاہد ڈار کو دیکھ کر کتنی مرتبہ مجھے احساس ہوا ہے کہ یہ شخص گوگول، گونچروف، کرمنتوف اور دوستوفسکی کے کرداروں کی تلچھٹ ہے۔ ( فالتو آدمی از انتظار حسین)

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3