زاہد ڈار کی لاجونتی: ”وہ بس گئی، پر اجڑ گئی“

زاہد ڈار سے وابستہ ان یادداشتوں سے پاک ٹی ہاؤس نکال دیجیے تو پیچھے کچھ نہیں بچے گا۔ ان کی ساخت، پرداخت اور جیسا کہ عرض کیا کہ بقول غالب یہ تو ان کے اٹھنے، بیٹھنے، سونے، جاگنے، جینے اور مرنے کا محل تھا۔ ٹی ہاؤس کیا ختم ہوا، زاہد ڈار ختم ہوا۔ یہ تو بعد کے قصے ہیں کہ زاہد ڈار کو کس کس در کی خاک چھاننی پڑی۔ کچھ عرصہ نیرنگ گیلری میں یار دوستوں کو پل دو پل کو اکٹھے ہوئے لیکن وہاں تو منٹو کے افسانے ’بو‘ کی صورت حال تھی کہ اس اہتمام اور چمک دمک میں سب کچھ تھا لیکن وہ مٹی کی سی مہک نہ تھی۔ زاہد ڈار وہاں سے بھی اٹھ آیا۔ ٹی ہاؤس کی باز یابی کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ مذاکرات ہو رہے تھے۔ حکومتی حلقوں میں رسوخ رکھنے والے اور ٹی ہاؤس سے محبت کرنے والے کچھ اہل قلم کی رسائی سے معاملہ سلجھا۔
بیدی کی کہانی کی مانند ’لاجونتی‘ کے سندر لال بابو کی طرح زاہد ڈار کو بھی خبر ملی ہوگی کہ ’لاجو‘ بازیاب ہو گئی۔ سندر لال بابو کی طرح زاہد ڈار کو ’لاجو‘ کے جانے پہچانے بدن پر تندولے یاد آئے ہوں گے۔ زاہد ڈار کا جسم بھی سندر لال کی طرح ایک ان جانے خوف، ایک ان جانی محبت اور ایک مقدس آگ میں پھنکنے لگا ہو گا۔ زاہد ڈار کی وہ میز جس پر یار دوست ان سے روٹھ کر جاتے تو کچھ دیر بعد پھر وہیں آن بیٹھتے۔ اس میز پر رکھا ہوا چائے کا سامان، کیتلی کہ جس کا ڈھکن ڈھیلا ہو چکا تھا اور جسے کسنے کے لیے ایک کامن پن مروڑ کر کس دی گئی تھی۔ ہاتھ لگانے پر وہ ڈھکن پھر بھی لڑھک لڑھک جایا کرتا تھا۔ چینی دان میں پڑی میں ہوئی چینی کی نچلی تہہ جم کر ٹھوس ہو چکی ہوتی تو اسی ٹھوس تہہ پر مزید چینی ڈال کر لے آتے۔ قہوہ دان میں سے اٹھنے والا مہک دار دھواں کہ ماحول کو ماورائیت سی عطا کر جایا کرتا تھا۔ یہ سب تو ناصر باغ، نیرنگ وغیرہ میں نہ تھا۔ وہاں تو سب کچھ نیا نیا سا تھا۔ زاہد ڈار اور منٹو کے افسانے ’بو‘ کے رندھیر کی ایک سی صورت حال کہ کچھ ایسا نہایت قیمتی سا تھا کہ جو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کھو چکا تھا۔ ان سب کی دوبارہ واپسی پر زاہد ڈار پر ایک ان جانی کی سر خوشی ضرور ہو گی۔

بازیابی کے بعد جب زاہد ڈار نے ٹی ہاؤس کے ملنے، کھلنے کی خبر ملی ہو گی تو وہ بھی سندر لال بابو کی طرح ایک دم گھبرا گیا ہو گا۔ کرشن نگر میں اپنی چوکھٹ سے اسی طرح نکلا ہو گا جس طرح پچھلے تیس چالیس برس سے نکلا کرتا تھا لیکن اس کے قدم دروازے پر جا کر رک گئے ہوں گے۔ وہ پیچھے لوٹ آیا ہو گا۔ اس کا جی چاہا ہو گا کہ وہ ٹی ہاؤس سے روٹھ جائے اور مال روڈ پر ان تمام بینروں، پلے کارڈوں، درخواستوں کے پلندوں اور فیصلوں کی کاپیاں بچھا کر ان پر بیٹھ جائے اور زور زور سے رو دے۔ اس نے سندر لال کی طرح اس اندرونی کشا کش کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہو گا اور اس سمت چل پڑا ہو گا کہ جہاں مغویہ عورتوں کی طرح ٹی ہاؤس کی ڈلیوری ہونی تھی۔ فیتے کاٹے جانے تھے، مٹھائی بانٹی جاتی تھی۔ گلے مل کر مبارک بادیں دی جاتی تھیں۔ پا لینے کی فتح کا جشن منانا تھا۔ ان سب جشن مناتے میں لوگوں میں ایک اکیلا زاہد ڈار ہی تو تھا جو یہاں کا ایک طور مالک تھا۔ وہ ’لاجو‘ کا سندر لال تھا، باقی تو ادھر ادھر کے لوگ تھے۔
کرشن نگر سے اپنے گھر سے خوف اور امید کے ساتھ زاہد ڈار ٹی ہاؤس کے لیے اسی رستے پر پیدل روانہ ہوا ہو گا کہ جو اس کا دہائیوں سے رستہ تھا، بھنگیوں کی توپ، ٹولنٹن مارکیٹ سے ہوتا ہے، مال روڈ پر انارکلی چوک سے بائیں سمت کو ہرے بھرے میدان کی بغلی سڑک سے ہوتا ہوا۔ بڑے شہروں میں پیدل چلنے والا وہ آخری آدمی تھا۔ انتظار حسین نے لکھا اور ہم نے پڑھا ”زاہد ڈار کی دو ہی مصروفیتیں ہیں۔ کتابوں کا مطالعہ اور شہر کا اندیشہ۔ مصروفیت کا احوال یہ ہے کہ یوں اس عزیز کو دنیا کا کوئی غم نہیں ہے مگر فکر جہاں بہت ہے۔ موٹروں کی بہتات آخر کہاں جا رکے گی۔ جنگل اسی طرح کٹتے رہے تو انسان کیسے جئے گا۔ ایٹمی تجربے اسی طرح ہوتے رہے تو کرہ ءارض پر انسانی زندگی کا کیا بنے گا۔ ایٹمی جنگ ہوئی تو خلقت پر کیا گزرے گی وغیرہ وغیرہ۔ پہلے دو غموں میں تو میں بھی شریک ہو جاتا ہوں۔ لیکن باقی غموں میں اس کا شریک برٹرنڈرسل ہی ہو سکتا تھا جو اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ موٹر سواروں کا کیا ہے کہ وہ بے فکرے تو موٹروں میں فراٹے بھرتے پھرتے ہیں، یہ فکر تو زاہد ڈار کو ہے کہ اگلے دس برسوں میں ٹریفک کے بڑھتے ہجوم میں یہ موٹریں کیسے چلیں گی اور کہاں کھڑی ہوں گی۔“ زاہد ڈار کے اندیشے بے جا ہرگز نہ تھے۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے راقم کو ایک عزیز سے ملنے میو ہسپتال جانا پڑا۔ وہاں اندر داخل ہوتے ہی موٹروں کی ایک لمبی قطار رکی ہوئی تھی۔ لفٹر جن گاڑیوں کو اٹھا اٹھا کر فٹ پاتھ پر دھرتا جاتا تھا، وہ فٹ پاتھ بھی موٹروں سے بھری ہوئی تھی اور پیدل چلنے والوں کے پاس پیدل چلنے کو راہ نہ تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد میں ایک سمت سے ہسپتال میں داخل ہو کر دوسری سمت سے بہ مشکل نکلا کہ کہیں پاؤں رکھنے کو جگہ نہ تھی۔ یہ ہسپتال کا منظر ہے، کسی تفریح گاہ کا نہیں۔ ایمبولینسیں، وہیل چیرز، مریضوں کے وہ بستر جن کے نیچے پہیے لگے ہوتے ہیں، سب پھنسے ہوئے تھے۔ ایک آہ و بکا کا منظر تھا اور آگے چلنے کو راہ نہ تھی۔ لگتا تھا کہ انسانوں کی بستی پر موٹروں نے حملہ کر دیا ہے۔ تب مجھے زاہد ڈار کا یہ اندیشہ یاد آیا اور دل ان سے بہت اداس ہوا۔ میں فقط اتنا کہہ سکا کہ زاہد ڈار تم ٹھیک کہتے تھے۔ تمھارے اندیشے درست تھے۔ اس صورت حال کو وہی پہلے سے بھانپ سکتا ہے کہ جو پیدل چلنے والا ہو۔ وہ ہمارے شہر میں پیدل چلنے والوں کی آخری نشانی تھی۔

اسے جب معلوم پڑا ہو گا کہ ٹی۔ ہاؤس بحال ہو گیا ہے تو پیدل ہی انہی مانوس رستوں پر نکل کھڑا ہوا ہو گا کہ وہ سامنے ٹی ہاؤس، اپنا آنگن لیکن اسے ٹی ہاؤس کو دیکھ کر دھچکا لگا ہو گا۔ اس نے دیکھا ہو گا کہ اس کی ’لاجو‘ کا رنگ نکھرا ہوا تھا، وہ پہلے سے تندرست لگ رہی تھی۔ اغوا ہو جانے کی اور پھر سے ملنے کے اس طویل وقفے میں جو کچھ زاہد ڈار نے سوچ رکھا تھا، وہ سب غلط تھا۔ ’لاجو‘ پورے نکھار کے ساتھ اس کے سامنے جگ مگ کر رہی تھی۔ پرانی وضع کی لکڑی سے بنی میزیں اٹھا دی گئی تھیں۔ ان کی جگہ نئی نویلی ماڈرن میزیں بچھی ہوئی تھیں۔ اسٹیل اور پلاسٹک سی بنی ہلکے وزن کی خوشنما کرسیوں نے بھاری اور لکڑی کی بنی ہوئی اور بنائی والی کرسیوں کی جگہ لے لی تھی۔ پرانا اکھڑا اکھڑا فرش ختم ہو چکا تھا۔ اس فرش پر کہ جس پر چھوٹے چھوٹے روڑے کبھی کبھار پاؤں تلے آ کر اپنے ہونے کا بتایا کرتے تھے، ختم ہو چکے تھے۔ وہاں اب چمک دار ٹائلوں پر دیوار کے قمقموں کا عکس پڑ رہا تھا۔ دیواروں پر لکڑی نما خوش نما پینلنگ کے نیچے پرانی دیواریں اور نیلا پیلا رنگ چھپ چکا تھا۔ دیواروں پر مناسب وقفوں سے اردو کے مشاہیر کی تصاویر آویزاں تھیں اور ہر تصویر پر ایک خوش نما بلب مرتکز تھا۔ ٹی ہاؤس تو شیش محل بن چکا تھا۔ ملگجی روشنی، اندھیرے اور اجالے آتی جاتیں لہروں کا منظر ختم ہو چکا تھا۔ اور وہ ایک بڑا سا مینارہ یا پلر کہ جس ساتھ زاہد ڈار کی میز دھری رہتی تھی، موجود تو تھا لیکن سمارٹ ہو چکا تھا۔ اس کی چوڑائی نصف سے کم رہ گئی تھی۔ اس مینارہ کو بھی پینلنگ سے ڈھانپ کر خوش نما بنا دیا گیا تھا۔ اس پر بھی چند مشاہیر ادب کی تصاویر آویزاں تھیں اور ہر تصویر کے اوپر ایک خوب صورت بلب آویزاں ہو کر تصویر کو مزید نمایاں کر رہا تھا۔ ٹی ہاؤس جگ مگ کر رہا تھا۔ پرانے بیرے جا چکے تھے، ان کی جگہ نئے لڑکے بالے یونیفارم پہنے مستعدی سے ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ پرانے سبھی برتن تلف کر دیے گئے تھے۔ وہ پیلے رنگ کے کوٹڈ جگ کہ جن کے ہتھے کی گولائی ہی مان نہ تھی، وہ سفید رنگ کے کپ کہ جن میں سے نیم گرم پانی کا دھواں اٹھتا تھا، وہ سٹیل کی بنی ہوئی قہوہ دانی کہ جس کا ڈھکن کبھی فٹ نہ بیٹھتا تھا، وہ سٹیل کی چھوٹی سی کیتلی کہ جس میں دودھ پر بالائی ایک تہہ رکھے رکھے آجاتی تھی، جست کی ٹرے اس نئے ماحول سے کہاں لگا کھاتے، سو اٹھا دیے گئے تھے اور ان کی جگہ بیش قیمت ٹی سیٹ نے لے لی تھی۔ کون قہوے، دودھ اور شکر کا الگ الگ کھکھیڑ اٹھاتا پھرے، سو ٹی بیگ دستیاب، خشک دودھ کی ایک ڈبیا سامنے دھری ہے۔ مکیں موجود، مکاں بدلا ہوا۔ سبھی مکیں سندر لال کے ہم نواؤں کی مانند خوش و خرم۔ بازیابی پر جشن کا سماں۔
ادھر زاہد ڈار کھڑا کہ یا الہی یہ ماجرا کیا ہے۔ پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ زاہد ڈار نے ادھر سے منہ موڑا اور چل دیا۔ جاتا کہاں، جہاں ہوا لے گئی، چل پڑا۔ کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔ اس نے اپنے آپ کو بھی ترک کیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا اور لکھنے والوں نے اس کی زندگی میں لکھا کہ ان کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا کہ کپڑے میلے ہیں، بال بکھرے ہوئے ہیں۔ صرف خود سے نہیں، اپنے اطراف سے بے نیاز ہوا، لوگوں سے ان کی باتوں سے خود کو اٹھا لیا۔ ٹی ہاؤس بس گیا۔ حلقہ کے جلسے بھی ہونے لگے۔ رونق بھی بحال ہو گئی۔ چکا چوند فضا نے نئی نسل کو اپنی جانب کھینچا، سو جا کر دیکھ لو، دروازے سے جھانک لو۔ جہاں اس فقیر کا ڈیرا تھا، وہاں جگ مگ کرتی میز، کرسی، برتن، آس پاس کے تعلیمی اداروں کی لڑکیاں لڑکے برگر شرگر کھاتے، قہقہے لگاتے نظر آ جائیں گے۔ دائم آباد رہے گی دنیا۔ زاہد ڈار کی لاجونتی بس تو گئی، پر اجڑ گئی۔
(بشکریہ مکالمہ کراچی)

