میں ادب کا ہرجائی ہوں ”۔ ڈاکٹر خالد سہیل“ گفتگو: حامدیزدانی
حامد یزدانی: اگر آپ سے یہ پوچھا جائے کہ وہ کون سی خصوصیت یا خصوصیات ہیں جو آپ کے فن پاروں کو مختلف یا ممتاز بناتی ہیں تو کیا جواب دیں گے آپ؟ ناقدین اور قارئین کی آرا سے کچھ نہ کچھ تو معلوم ہو ہی جاتا ہے۔
خالد سہیل: حامد یزدانی صاحب۔ آپ نے میرا پہلا شعری مجموعہ۔ تلاش۔ پڑھ رکھا ہے۔ اس مجموعے میں میں نے اپنی غزلوں ’نظموں اور قطعات کو موضوعات اور تھیمز کے حوالے سے یکجا کیا تھا۔
مثال کے طور پر ایک باب مہاجروں کے مسائل کے حوالے سے ہے دوسرا عورتوں کے مسائل کے حوالے سے اور تیسرا نفسیاتی مسائل رکھنے والے انسانوں کے حوالے سے ہے۔
میری کئی کتابیں ایک موضوع کے گرد طواف کرتی ہیں۔ میں نے ان کتابوں میں اس موضوع کے حوالے سے نظمیں کہانیاں مقالے انٹرویو اور تراجم سب یکجا کیے ہیں تا کہ قارئین کا اس موضوع سے سیر حاصل اور بھرپور تعارف ہو۔ میں اپنی تخلیقات کو فکر انگیز بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔
میرے لیے ابلاغ کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ ایک ادیب ہونے کے ناتے میں اپنی تخلیقات کی وساطت سے اپنے قاری سے ایک مکالمہ کرنا چاہتا ہوں اس سے اپنے تجربات اور مشاہدات شیئر کرنا چاہتا ہوں اس پر اپنی دانشوری کا رعب نہیں ڈالنا چاہتا۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے خیالات و جذبات و نظریات و احساسات عام فہم زبان میں تحریر کروں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے سمجھ سکیں۔ میں سہل ممتنع کو فن کی معراج سمجھتا ہوں۔ میر کا یہ شعر
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات۔ ۔ کلی نے یہ سن کے تبسم کیا
زندگی کی نا پائیداری کا کتنا عمدہ تخلیقی اظہار ہے۔
سہل ممتنع
SIMPLE AND PROFOUND
لکھنے کا فن ہے۔ یہ فن مجھے برٹنڈرسل اور ایرک فرام کی تحریروں میں بدرجہ اتم نظر آیا۔
حامد یزدانی: جی، ایک قاری اور مداح کے طور پر میں آپ کے اشعار میں واقعی یہ خوبی پاتا ہوں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب سوال یہ ہے کہ بطور تخلیق کار آپ اپنے پڑھنے والوں کی رائے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟ مجھے ایسے لکھاریوں سے بھی ملنے کا موقع ملا جن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لیے لکھتے ہیں اور وہ قارئین میں مقبول بھی تھے تاہم کچھ ایسے لکھاری بھی دوست ہیں جو دوسروں کی آرا کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور انھیں اپنی ذہنی نشوونما اور ترقی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ آپ خود کو کس مکتب فکر کے قریب پاتے ہیں؟
خالد سہیل: میں اپنے قارئین کی رائے کا بہت احترام کرتا ہوں اور ان کے مشوروں پر سنجیدگی سے غور کرتا ہوں۔ انہوں نے مجھے ایک بہتر لکھاری بننے کی ترغیب و تحریک دی ہے۔ اگر میری تخلیق کسی ذہین قاری کی سمجھ میں نہیں آتی تو میں اس تحریر پر نظر ثانی کرتا ہوں۔ میں لکھنے اور پڑھنے کے عمل کو ایک سماجی عمل سمجھتا ہوں۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ اب میرا اپنے قارئین کے ساتھ ایک سنجیدہ رشتہ قائم ہو چکا ہے۔ یہ ایسا رشتہ ہے جس کا دوطرفہ فائدہ ہے۔ ہم ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
حامد یزدانی: تو گویا اپنے حلقے میں بہت مشہور ہیں آپ۔ مگر کیا کریں کہ ہمارے آس پاس ایک مدت سے یہ بیان بھی تو گردش میں ہے کہ ’شہرت معیار کی دشمن ہے‘ ۔ آپ کا مشاہدہ اور تجربہ کیا کہتا ہے؟ آج کل تو ، لگتا تو یوں ہی ہے، کہ سوشل میڈیا کے توسط سے ہر کوئی تیزی سے شہرت کی منزل پا لینا چاہتا ہے۔ نہیں کیا؟
ایک مدت سے یہ بیان گردش میں ہے کہ ’شہرت معیار کی دشمن ہے‘ ۔ آپ کا مشاہدہ اور تجربہ کیا کہتا ہے؟ آج کل تو ، لگتا تو یوں ہی ہے، کہ سوشل میڈیا کے توسط سے ہر کوئی تیزی سے شہرت کی منزل پا لینا چاہتا ہے۔ نہیں کیا؟
خالد سہیل: ایک پاپولر ادیب ہونا اور بات ہے اور ایک سنجیدہ ادیب ہونا اور بات۔
ایک
100 METER SPRINTER
ہونا اور بات ہے اور
MARATHON RUNNER
ہونا اور بات۔
میں ہر سال اوسکر ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں اس فنکار کی سب سے زیادہ عزت کرتا ہوں جسے ایک فلم میں کام کرنے کی وجہ سے ایوارڈ نہیں ملتا بلکہ اسے اوسکر کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملتا ہے۔
سنجیدہ شاعر، ادیب اور دانشور شہرت اور دولت سے بے نیاز اپنا تخلیقی کام کرتے رہتے ہیں۔ غالب نے بھی فرمایا تھا
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ
گر نہیں ہیں میرے اشعار میں معنی نہ سہی
اگر کوئی لکھاری بے نیازی اور فن سے وفاداری کی اس منزل تک پہنچ جائے تو پھر اس پر فیض کا یہ شعر صادق آتا ہے
فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
حامدیزدانی: کیا کہنے۔ واہ۔ واہ۔ آپ کی گفتگو جتنی سحر انگیز ہے اتنا ہی دل کش آپ کا شعری انتخاب بھی ہے۔ جی چاہتا ہے۔ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ مگر دیکھیے ادھر کھانا بھی آ پہنچا ہے، کیوں نہ اس کے ساتھ بھی دو دو ہاتھ کر لیے جائیں؟
خالدسہیل: یعنی چار ہاتھ؟
حامدیزدانی: یہی سہی۔ آنکھیں چار کرنے کو کوئی دختر خوش گل تو ہے نہیں۔ فی الحال ہاتھ ہی چار کرلیتے ہیں۔
خالد سہیل: یہ بھی خوب رہی۔ چلیے، کھانا لیجیے آپ اور بتائیے ان میں سے کیا ڈیلیٹ ہے اور کیا ریپیٹ۔
حامدیزدانی: آپ کا انتخاب ہے سب ریپیٹ ہی ہو گا۔
خالد سہیل: یہ بھی خوش گمانی ہوئی۔
حامدیزدانی: خوش گمانی سی خوش گمانی ہے! اچھا ڈاکٹر صاحب چکن سے تو لطف اندوز میں ہو ہی رہا ہوں کیوں نہ یہ بھی پوچھتا چلوں کہ یہ جو ان دنوں سوشل میڈیا کی ہما ہمی ہے، جو مصروفیات ہیں کیا یہ سب آپ کی تخلیقی سرگرمیوں میں حائل نہیں ہوتا؟ فن کار کو جو یک سوئی درکار ہوتی ہے وہ کم یاب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے۔ آپ کا احساس کیا ہے؟
خالد سہیل: ہر میڈیم کے فوائد بھی ہیں نقصانات بھی۔ ایک دانا انسان نہ صرف یہ جانتا ہے کہ اسے زندگی میں کیا کرنا ہے
بلکہ یہ بھی جانتا ہے کہ اسے زندگی میں کیا نہیں کرنا۔
ایک دانا لکھاری جانتا ہے کہ اسے کیا لکھنا ہے کیا نہیں لکھنا کیا پڑھنا ہے کیا نہیں پڑھنا کس سے ملنا ہے اور کس سے نہیں ملنا۔
مجھے تو سوشل میڈیا کا اور خاص طور ہر ’ہم سب‘ پر متواتر لکھنے کا بہت فائدہ ہوا۔ وہاں میری نئے لکھاریوں اور قاریوں سے ملاقات ہوئی اور بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو میں بہت سے ادبی تحفوں سے محروم رہ جاتا۔
حامد یزدانی: کیا ابلاغ عامہ کے جدید اور برقیاتی وسائل کے فروغ نے ’کتاب‘ کے وجود کو غیر ضروری ثابت کر دیا ہے؟ ایسے میں آپ ’اصلی کتاب میرا مطلب ہے کاغذ پر طبع شدہ مجلد صورت کا کوئی مستقبل دیکھتے ہیں؟
خالد سہیل: میں بہت سے سنجیدہ قاریوں اور لکھاریوں کو جانتا ہوں جو آج بھی اصلی کتاب کے عاشق ہیں۔ میں بھی ان ہی میں شامل ہوں۔ مجھے مجلد کتاب کا مستقبل تاریک دکھائی نہیں دیتا۔
میں کمپیوٹر کی سکرین پر ایک دو صفحے تو پڑھ لیتا ہوں لیکن میں ہر مہینے دو چار روایتی کتابیں آرڈر کرتا ہوں کیونکہ میں ان کتابوں کو بیگ میں جہاں چاہوں لے جاتا ہوں اور انہیں ہاتھ میں پکڑ کر کبھی گھر میں کبھی کلینک میں کبھی جھیل کے کنارے اور کبھی درخت کے نیچے بیٹھ کر پڑھتا ہوں اور محظوظ و مسحور ہوتا ہوں۔ میں اہم جملوں یا شعروں پر نشان لگاتا ہوں اور انہیں کتاب کے تبصرے یا کالم میں کوٹ کرتا ہوں۔


