میں ادب کا ہرجائی ہوں ”۔ ڈاکٹر خالد سہیل“ گفتگو: حامدیزدانی
حامد یزدانی: ان دنوں کون سی کتاب آپ کے زیر مطالعہ ہے؟ کیا آپ ایک وقت میں ایک سے زیادہ کتابیں بھی اپنے زیر مطالعہ رکھتے ہیں؟ اگر ہاں تو اس سے کیا تسلسل کا لطف برقرار رہتا ہے؟
خالد سہیل: میں ایک ادبی ہرجائی ہوں۔
میں بیک وقت ایک شاعری کا مجموعہ ’ایک نفسیات کی کتاب اور ایک فلسفے کی کتاب پڑھ رہا ہوتا ہوں۔
ایک سے بور ہونے لگوں تو دوسری شروع کر دیتا ہوں اور اگر کوئی ادبی تحریک ہو تو سب کتابیں چھوڑ کر کاغذ قلم پکڑ کر نیا کالم لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ بعض کتابوں کو دوبارہ پڑھتا ہوں اور جی چاہے تو ان کا ترجمہ اور تلخیص لکھ دیتا ہوں۔
میں آج کل سائیں سچا کی شاعری پڑھ رہا ہوں اور روحانیات کی نفسیات پر دو کتابیں پڑھ رہا ہوں۔ مجھے کتابوں سے عشق ہے اور یہ عشق پچھلے پچاس سال سے ابھی تک ہنی مون فیز میں چل رہا ہے۔ یہ
نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔
حامد یزدانی: آپ مطالعہ کے لیے کتاب کا انتخاب کیسے کرتے ہیں؟ کسی کے تجویز کرنے سے؟ کسی تبصرے سے متاثر ہو کر؟ اپنے موڈ کے مطابق؟ اپنے زیر تعمیر تخلیقی پراجیکٹ کے موضوع کے لحاظ سے؟ یا کیسے۔ ؟
خالد سہیل: میں سویڈن گیا تو سائیں سچا نے اپنی کتابیں تحفے کے طور پر دیں اور مرزا یاسین بیگ نے مجھے اپنے کینیڈا ون ٹی وی کے پروگرام۔ جگہ خالی ہے۔ پر دعوت دی کہ سائیں سچا کے حوالے سے گفتگو کروں تو میں نے ان کی کتاب کا مطالعہ شروع کیا۔
میرے سائنسدان دوست ڈاکٹر نوشاد علی نے ایک انٹرویو بھیجا تو میں نے اس سائنسدان کی کتاب آرڈر کی۔
میں نے ’ہم سب‘ پر تعلیم کے حوالے سے ایک کالم پڑھا اور پھر ایک ماہر تعلیم کی کتاب آرڈر کی۔
اب چونکہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اگلے سال ایک کتاب لکھوں گا جس کا موضوع یا ٹائٹل ہو گا
نروان۔ بھگوان۔ انسان
اور سب ٹائٹل ہو گا،
روحانیات۔ نفسیات۔ اور سائنسی تحقیقات
اس لیے اس کتاب کی تیاری کے لیے میں نے کرشنا مورتی کی سوانح عمری۔ ابراہم میسلو کی کتاب۔ ولیم جیمز کی سوانح عمری۔ کے علاوہ اور بھی بہت سی کتابیں آرڈر کی ہیں تا کہ اس موضوع کا سنجیدگی سے مطالعہ کر سکوں اور ایک تحقیقی انداز کی ضخیم کتاب لکھ سکوں۔ ایسی کتاب جو دوسرے لکھاری یا تو لکھنا نہیں چاہتے یا لکھ نہیں سکتے۔ میں روحانی تجربات پر مذہبی، روحانی، نفسیاتی، ادبی اور سائنسی حوالے سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے جلال الدین رومی کی زندگی کے ساتھ شمس تبریز کی ڈائری بھی منگوائی ہے۔ اس تفصیل سے آپ کو میری کتاب پڑھنے اور لکھنے سے محبت کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔
حامد یزدانی: جی بالکل ہو گیا ہے۔ اچھا لگے ہاتھوں یہ بھی بتاتے چلیے کہ تخلیقی عمل پر بات کی جائے تو آغاز سفر شاید خیال ہی قرار پائے۔ پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ جب خیال آ جاتا ہے تو اس کے اظہار کے لیے فارمیٹ کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ کہ یہ افسانے کے پیرائے میں موثر رہے گا یا نظم یا غزل کے شعر کے ملبوس میں زیادہ جچے گا؟ کیسے طے ہوتا ہے یہ؟
خالد سہیل: زندگی کے مختلف ادوار میں میری مختلف ادبی محبوبائیں رہی ہیں
ایک محبوبہ شاعری ہے
دوسری محبوبہ افسانہ نگاری ہے
تیسری محبوبہ ناول نگاری ہے
چوتھی محبوبہ خطوط نگاری ہے
پانچویں محبوبہ ترجمہ نگاری ہے
چھٹی محبوبہ انٹرویو نگاری ہے
آج کل ساتویں محبوبہ سے عشق چل رہا ہے جو کالم نگاری ہے۔
ساتویں محبوبہ کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے۔ کبھی کبھار پرانی محبوبائیں بھی رشک میں ملنے آ جاتی ہے لیکن کم کم کیونکہ اکثر اوقات وہ حسد کی آگ میں جلتی رہتی ہیں اور میں بھی تجاہل عارفانہ سے کام لیتا ہوں۔ میرا ایک شعر ہے
مجھ کو اکثر یہ گماں ہوتا ہے
میرے پہلو میں بہت سے دل ہیں
حامدیزدانی: بھئی، کیا کہنے۔ کیسا دل کش گماں ہے یہ! ہمارے حال کی بات ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ
ہم سے اک بھی نہ سنبھالا جائے
ان کے پہلو میں بہت سے دل ہیں
خیر، دلوں کی گنتی پھر کر لیں گے۔ فی الحال تو سامنے جو یہ اتنے سارے کھانے پڑے ہیں ان سے نمٹنے کا معرکہ ہی سر کر لیا جائے۔
خالد سہیل: اس معرکے میں بھی سرخرو ہی رہیں گے آپ۔
حامدیزدانی: اچھا، ڈاکٹر صاحب، میں نے دیکھا ہے کہ آپ کو دوسروں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کا اور گفتگو کرنے ہی کا شوق نہیں بلکہ آپ ان کے ساتھ مل کر سنجیدہ ادبی، تخلیقی کام بھی کرتے ہیں کچھ عرصہ قبل آپ کے سائنسی نوعیت کے مضامین کی کتاب انگریزی میں منظر عام پر آئی جو آپ نے اپنے بچپن کے دوست ڈاکٹر سہیل زبیری کے ساتھ لکھی ہے۔
آپ کی کتاب۔ ”پاپی۔“ بھی آپ نے اپنے دوست مرزا یاسین بیگ کے ساتھ مل کر لکھی ہے۔ سائیں سچا صاحب کے ساتھ بھی ایسا تخلیقی اشتراک ہوا۔ اور اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی تو اختر حسین جعفری صاحب کے فن و شخصیت پر آپ کی انگریزی کتاب ہے جس کے شریک مصنف ہمارے مشترکہ دوست امیر حسین جعفری ہیں۔ یہ فرمائیے مشکل نہیں ہوتا مل کر لکھنا؟ ہم تو اسے ایک انفرادی کام ہی سمجھتے آئے ہیں۔
خالد سہیل: میں نے سوچا اگر ایک رائٹر، ایک ڈائرکٹر اور بہت سے ایکٹرز مل کر تخلیق کام کر سکتے ہیں اور فلم بنا سکتے ہیں تو دو یا زیادہ ادیب مل کر کتاب کیوں نہیں لکھ سکتے۔
میں نے کئی موضوعات چنے ان موضوعات پر تخلیقات جمع کیں اور ادبی دوستوں کو ترجمہ کرنے کی دعوت دی جسے انہوں نے بڑی خوشی سے قبول کیا اور میں نے عالمی ادب کے بہت سے تراجم چھاپے اس کے بعد کئی ادیبوں کو خطوط کے تبادلے کی دعوت دی۔
مجھے ادیب دوستوں سے مل کر کام کرنے میں مزا آتا ہے۔ میں اپنی نانی اماں کے مشورے پر عمل کرتا ہوں وہ کہا کرتی تھیں۔ ایک اور ایک مل کر دو نہیں گیارہ بناتے ہیں۔
حامد یزدانی: لکھنے پڑھنے کے عمل یا مشاغل نے آپ کو بطور لکھاری تو بہت کچھ دیا ہو گا مگر بحیثیت ایک انسان کے آپ کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب کیے؟ آپ چونکہ معالج بھی ہیں اور نفسیات آپ کا پسندیدہ شعبہ بھی ہے تو فائدہ مند رہے گا ہمارے لیے آپ سے یہ سب جاننا۔
خالد سہیل: میں نے زندگی میں گرین زون فلسفہ تخلیق کیا ہے۔ میں اس فلسفے پر خود بھی عمل کرتا ہوں اور اپنے مریضوں کو سکھاتا بھی ہوں۔ میری خوش بختی کہ
I TEACH WHAT I PRACTICE
AND
I PRACTICE WHAT I TEACH
گرین زون فلسفے کے مطابق ایک پرسکون زندگی کی طرف تین راستے جاتے ہیں
CREATING….SHARING…SERVING
میں ادبی تخلیقات لکھتا ہوں
پھر ادبی دوستوں سے شیر کرتا ہوں
اور اپنے مریضوں کی خدمت کرتا ہوں
میری تخلیقات نے مجھے ایک بہتر انسان بنایا ہے۔ ایک درویش بنایا ہے جس کا فلسفہ ہے
مل جائے تو شکرہ، ملے تو صبر
میری نگاہ میں ایک خوشحال زندگی گزارنے کے دو راز ہیں
PASSION AND COMPASSION
میرے پیشن کا اظہار میری ادبی زندگی میں اور کمپیشن کا اظہار میری پیشہ ورانہ زندگی میں ہوتا ہے۔
حامد یزدانی: ایک سوال یہ بھی ذہن میں آتا ہے کہ آپ نے لکھنے ہی کو کیوں چنا؟ وہ کیا تھا یا کون تھا جس نے آپ کو آہوئے دشت ہنر بنا دیا؟
خالد سہیل: مجھے نوجوانی میں ہی کتابوں کا عشق ہو گیا تھا۔
میرے والد بڑے شوق سے کتابیں پڑھتے تھے اور چچا عارف عبدالمتین کتابیں لکھتے تھے۔ ہو سکتا ہے کتابوں کا شوق اور آدرشوں سے عشق وراثت میں ملا ہو۔
ارجنٹینین لکھاری بورخیز فرماتے ہیں جنت باغ کا نہیں لائبریری کا نام ہے۔ میں نوجوانی سے ہی لائبریری کی کتابوں کی جنت میں زندگی گزار رہا ہوں اور خوش ہوں۔ یہ کتابیں مجھے کچھ سوچنے اور کچھ لکھنے کی تحریک دیتی ہیں اور میں ان میں گھرا اپنے خیالوں کی دنیا میں مست رہتا ہوں
عجب سکون ہے میں جس فضا میں رہتا ہوں
میں اپنی ذات کے غار حرا میں رہتا ہوں
حامد یزدانی: ڈاکٹر خالد سہیل، آپ کا شمار ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جو مسلسل لکھ رہے ہیں اور متنوع اصناف میں لکھ رہے ہیں۔ اور پھر ایک طویل مدت سے لکھ رہے ہیں اور یہ کہ وقت آپ کی تخلیقی توانائی پر مثبت اثرات ہی مرتب کر رہا ہے۔ اس سفر میں کہیں تکان دکھائی نہیں دیتی؟ تو وہ کیا ہے جو آپ کو سدا تحریک دیتا رہتا ہے، یوں موٹیویٹڈ رکھتا ہے؟
خالد سہیل: میں نوجوانی سے اپنے سچ کی تلاش میں ہوں اور زندگی کے خفیہ راز جاننا چاہتا ہوں۔
میں ایک طالبعلم ہوں اور کچھ سیکھنا چاہتا ہوں اور جو سچ پا لوں جو راز جان لوں اس مین دوسروں کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔
میں ایک ایسا ادبی کچھوا ہوں جو دھیرے دھیرے اپنی منزل کی طرف چل رہا ہے۔ مجھے راستے میں کئی ادبی خرگوش ملے جو کچھ عرصہ بعد یا تو سو گئے اور یا تھک گئے۔ میں ستر برس میں ستر کتابیں لکھنے کے بعد آج بھی نئے خیالات نئے نظریات اور نئے تجربات کی تلاش میں ہوں۔ میرے اندر کا بچہ ابھی زندہ ہے جو زندگی کو حیرت سے دیکھتا ہے۔ یہ حیرت ہی میری زندگی اور ادب اور نفسیات اور فلسفے سے محبت کا راز ہے۔
حامد یزدانی: کیا آپ اپنی تخلیق کاری کو کسی پیغام کا وسیلہ بنا رہے ہیں۔ مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے تاہم آپ سے جاننا چاہتا ہوں وہ کیا پیغام ہے یا وہ کیا بات ہے جو آپ دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں؟
خالد سہیل: میری زندگی کا فلسفہ انسان دوستی ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم انسانوں کو رنگ، نسل، مذہب اور زبان سے بالاتر ہو کر دیکھیں تو ہم جانیں گے کہ ہم سب سات ارب انسان ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
میرا خواب ہے کہ ہم سب انسان اپنا اپنا سچ تلاش کریں بہتر انسان بنیں، دوسرے انسانوں کی رائے کا احترام کرنا سیکھیں اور کرہ ارض پر پر امن معاشرے قائم کریں۔ میری ایک نظم ہے
PEACE
there is inner peace and there is outer peace
there is emotional peace and there is social peace
there is religious peace and there is political peace
there is local peace and there is global peace
these are all colors of peace
we need all these colors
to create a rainbow of peace
یہ نظم میرے انفرادی اور اجتماعی خوابوں کی ترجمانی کرتی ہے۔
حامدیزدانی: بہت خوب، بہت خوب۔ اچھا، مجھے یاد آیا آپ کو ابھی ایک اور دوست سے بھی ملنے جانا ہے اور اس ملاقات کے اختتام سے پہلے مجھے یہاں کی ملائی قلفی بھی کھانا ہے تو کیوں نہ اپنی گفتگو کو اسی خوب صورت نظم پر سمیٹ لیں اور آئندہ ملاقات پر یہیں سے اسے پھر آغاز کر لیں۔ کیا خیال ہے؟
خالدسہیل: جی، یہ مناسب رہے گا اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں کی ملائی قلفی آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔
حامدیزدانی: آپ جیسی علم پرور اور رجائیت پسند ہستی کے پاس بیٹھ کر مایوسی کا تو خیال بھی نہیں آتا۔
خالدسہیل: عنایت، کرم، شکریہ، مہربانی
حامدیزدانی: دیکھیے، سب کچھ تو آپ نے کہہ دیا۔ میرے لیے تو کچھ بھی نہیں چھوڑا۔
خالد سہیل: کیوں نہیں چھوڑا؟ یہ ملائی قلفی آپ ہی کے لیے ہے۔
مجھے محسوس ہوا جیسے ہمارے مشترکہ دوستانہ قہقہے کے پر خلوص آہنگ نے ڈھلتی شام کی کھڑکی سے باہر ایستادہ پیڑوں کے خزاں رنگ حسن میں بھی اضافہ کر دیا ہو۔


