سر فرینک میسروی سے عاصم منیر تک – پارٹ 2۔
جنرل پرویز مشرف جنہیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے 12 اکتوبر 1999 ء کو برطرف کر دیا تھا گو انہوں نے وزیر اعظم کے حاصل کردہ اختیارات کا استعمال کیا لیکن اس وقت کی عسکری قیادت نے وزیر اعظم کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جنرل پرویز مشرف نے باضابطہ طور مارشل لا لگائے بغیر آئین کو معطل کر کے حکومت کرنے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا اس طرح وہ اس ”بے آئین“ سرزمین پر صدارتی احکامات کے تحت طویل عرصہ تک حکمرانی کرتے رہے وہ ملک کے سیاہ سفید کے مالک بن بیٹھے لیکن جوں ہی انہوں نے عالمی دباؤ کے تحت جمہوریت کا ڈرامہ رچایا تو نہ صرف ان کے ہاتھ سے عسکری قیادت چھن گئی بلکہ ان کے خلاف تحریک مواخذہ لا کر ان کو ایوان صدر سے نکال باہر کیا گیا جنرل پرویز مشرف نے 29 نو مبر 2007 ء جی ایچ کیو میں جنرل اشفاق کیانی کو ”چھڑی“ پیش کر کے فوج کی کمانڈ تبیل کرنے کی روایت ڈالی جو جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن لینے کے باوجود اب تک قائم ہے۔
ان کی ایکسٹینشن کی وجہ سے کئی سینئر جرنیل ریٹائر ہو گئے لیکن ان کی باری نہ آئی یہ تو عاصم منیر خوش قسمت جرنیل ہیں جو تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اپنا حق حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے 29 نومبر 2022 ء تک پہنچنے میں جہاں وزیر اعظم شہباز شریف کو بڑے دریا عبور کرنا پڑے وہاں متعدد سازشوں کو جس حکمت عملی سے میاں نواز شریف نے ناکام بنایا ان کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ نئے آرمی چیف کی تقرری میں لمحہ بہ لمحہ صورت حال تبدیل ہوتی رہی لیکن نواز شریف کی مستقل مزاجی نے کسی کو ”اپنا“ آرمی چیف لگانے دیا اور نہ ہی حق دار کا راستہ روکنے دیا گو کہ جنرل باجوہ نے بہت پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر سے یہ اعلان کروایا دیا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں مزید توسیع نہیں لیں گے لیکن انہوں نے اندرون خانہ نہ صرف مزید ایکسٹینشن کی کوششیں جاری رکھیں بلکہ عمران خان سے آئندہ انتخابات تک نئے آرمی چیف کی تقرری موخر کرنے اور اس وقت تک جنرل باجوہ کو مزید ایکسٹینشن تجویز پیش کروا دی جسے ایون فیلڈ کے ”مکین“ نے نہ صرف ویٹو کر دیا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ سینیارٹی سے ہٹ کر کوئی فیصلہ کرانے کی کوشش کی جائے تو ”تخت اسلام آباد“ کو لات مار باہر آجائیں۔
شہباز شریف ہیں تو وزیر اعظم لیکن کلیدی فیصلے کی قوت نواز شریف کے پاس ہونے کی وجہ سے شہباز شریف وہ نہ کر سکے جو جنرل باجوہ کی خواہش تھی سب سے بڑی رکاوٹ جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو 2016 ء میں آرمی چیف بنانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بنے۔ ذمہ دار حلقوں نے بتایا ہے جنرل باجوہ کے ایما پر تحریک انصاف کے سابق رہنما علیم خان اور قصور سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان نے میاں نواز شریف کو رام کرنے کے لئے بھجوایا۔
یہ بات قابل ذکر ہے جنرل باجوہ، علیم خان اور ملک احمد خان پر بڑے مہربان تھے جب عمران خان کی حکومت تھی انہوں نے عثمان بزدار کی بجائے علیم خان کو وزیر اعلیٰ بنوانے کی کوشش کی لیکن عمران خان نے رضا مند ہونے کے باوجود نہیں بنایا۔ اسی طرح جب عثمان بزدار کی چھٹی ہو گئی تو جنرل باجوہ نے مسلم لیگ (ن) کو ملک احمد خان کو وزیر اعلیٰ بنانے کی تجویز پیش کی لیکن اس تجویز کو قبولیت حاصل نہ ہوئی۔ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف کو وزیر اعلی بنا دیا گیا جنرل باجوہ کی فرمائش نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ حمزہ شہباز کو ایسا تگنی کا ناچ نچایا گیا کہ دنوں میں حکومت ان کے ہاتھ سے نکل کر چوہدری پرویز الہی کے پاس آ گئی یہی وجہ چوہدری پرویز الہی جنرل باجوہ کے احسانوں کا برملا اظہار کرتے ہیں آج جنرل باجوہ کے نہ ہونے سے ہی چوہدری پرویز الہی سے اقتدار کی کرسی چھینی جا رہی ہے۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباس بھی لندن یاترا پر گئے اور نواز شریف کو اس بات قائل کر نے کی کوشش کرتے رہے کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع دی جائے۔ جنہیں قمر جاوید باجوہ کی خواہش کے مطابق حمزہ شہباز کی بجائے ملک احمد خان کو وزیر اعلیٰ پنجاب نہ بنانے پر ناراض ہو گئے انہوں نے ایک محفل میں وہی تبصرہ کیا جو عمران خان کھلے عام کیا کرتے تھے کہ والد ملک کا وزیراعظم اور بیٹا پنجاب کا وزیر اعلیٰ بن گیا ہے۔
آج چوہدری پرویز الٰہی اسی لئے قمر جاوید باجوہ پر لگائے گئے کا دفاع کر رہے ہیں کیونکہ قمر جاوید باجوہ کی وجہ سے ہی وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔ چوہدری مونس الہی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے عمران خان اور ان کے لئے دریاؤں کا رخ موڑ دیا جنرل باجوہ ہی کہنے پر وہ تحریک انصاف کے ساتھ گئے تھے جب مسلم لیگ (ن) کے ساتھ چوہدری پرویز الٰہی کے معاملات طے پا گئے تھے تو قمر جاوید باجوہ نے ہی انہیں عمران خان کے ساتھ جانے کے لئے کہا تھا۔ بہر حال تمام ”پیغام رساں“ جنرل باجوہ کو مزید ایکسٹینشن دلوانا سکے اور نہ ہی ان کی سفارش پر آرمی چیف کی تقرری عمل میں آئی۔
سر فرینک میسروی پاکستان کا پہلا گمنام آرمی چیف تھا اگست 1947 سے لے کر فروری 1948 تک فوج کے سربراہ رہے کشمیر کی پہلی جنگ میں انڈیا کی جانب سے ان پر الزام عائد کیا گیا ان کی منظوری سے قبائلیوں کو کشمیر میں بھیجا گیا تھا حالانکہ جب قبائلیوں نے حملہ کیا تو میسروی اس وقت لندن میں تھے۔ 12 نومبر 1947 کو انہوں نے ایک خط جاری کیا جس میں انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ کشمیر آپریشن میں پاکستانی فوج کا کوئی حاضر سروس افسر ملوث تھا۔
پاکستان نے یہ خط ثبوت کے طور پر سلامتی کونسل میں پیش کیا تھا۔ پاکستان کے پہلے آرمی چیف نے سر فرینک میسروی نے قائداعظم محمد علی جناح کی حکم عدولی کی جس کے بعد انہیں اپنا عہدہ چھوڑ نا پڑا وہ برطانوی ہند فوج میں اعلیٰ افسر تھے۔ جنھوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی نے فروری 1948 سے لے کر اپریل 1951 تک آرمی چیف کے طور اپنے فرائض انجام دیے سرور نام کا ایک کشمیری النسل ان کا اردلی ہوتا تھا جس نے میرے ساتھ روزنامہ نوائے وقت میں کام کیا ہے۔
انہیں جنرل گریسی کی خدمت کرنے کا موقع ملا تھا جنرل گریسی اپنے ماتحت عملہ سے خوش اخلاقی سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کا کشمیر میں فوجیں بھیجنے کا حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا وہ یہ معاملہ جنرل کلاڈ آکنلیک کے نوٹس میں لے آئے جو اس وقت وہ پاکستان اور انڈیا دونوں فوجوں کے مشترکہ سپریم کمانڈر تھے پاکستانی فوج کا سربراہ بننے سے پہلے وہ جی ایچ کیو میں چیف آف سٹاف کے عہدے پر تھے ڈاکٹر اشتیاق احمد نے اپنی کتاب ’پاکستان ایک عسکری ریاست‘ میں لکھا ہے کہ قائداعظم نے جنرل گریسی کو کشمیر پر حملہ کرنے پر قائل کر لیا تھا اور اپریل 1948 کے نصف میں پاکستانی دستے کشمیر میں داخل ہو گئے تھے۔
ملک کے تیسرے آرمی چیف کا نام ایوب خان تھا، ایوب خان پاکستان کے پہلے فور سٹار جنرل اور فیلڈ مارشل تھے۔ وہ سیاسی عزائم رکھنے والے جرنیل تھے جنہیں قائد اعظم پسند نہ کرتے تھے ایوب خان جانشین مقرر کرنے سے پہلے 6 سال تک آرمی چیف رہے۔ ایوب خان کے والد میر داد خان بھی برطانوی فوج میں رسالدار میجر تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے کہ 1926 میں برطانوی فوج میں کمیشن ملا۔ جب پاکستان قائم ہوا تو ایوب خان اس وقت بریگیڈیئر تھے۔
ان سے سینئر میجر جنرل افتخار تھے جنہیں جنرل گریسی کے بعد پاکستانی فوج کا پہلا کمانڈر ان چیف بنا یا جانا تھا لیکن وہ 13 دسمبر 1949 کو لاہور سے کراچی جاتے ہوئے ایک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ایوب خان کا نام مختلف حوالوں سے آج بھی لیا جاتا ہے ان کو ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹایا گیا ایوب خان ہزارہ کے قصبہ ریحانہ پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں ان کا مزار بنایا گیا ہے ایوب خان نے ملک میں مارشل لگایا تو اس کے بعد وہ فیلڈ مارشل بن گئے اور فوج کی سربراہی انہوں نے جنرل موسیٰ کے سپرد کر دی۔
ان کو دور حکومت طویل تھا۔ انہوں نے بنیادی جمہوریت کے ذریعے حکومت کرنے کا تجربہ کیا جو ناکام رہا البتہ ان کے دور میں مشرقی پاکستان میں محرومیوں نے علیحدگی پسندی کے رجحان کو تقویت دی جو بالا آخر یحییٰ خان کے دور میں علیحدگی کا باعث بنا چوتھے آرمی چیف کا نام جنرل محمد موسی تھا، انہوں نے مدت ملازمت کے دوران 6 سال تک فرائض ادا کیے، ان کی مدت ملازمت اکتوبر 1958 سے شروع ہو کر جون 1966 تک تھی پاکستان نے 1965 کی جنگ بھی ان کی سربراہی میں لڑی تھے۔
انہیں کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے دو بار ایکسٹینشن دی گئی۔ جنگ کے بعد وہ ریٹائر ہو گئے اور انہیں گورنر مغربی پاکستان تعینات کر دیا گیا۔ 1985 میں انہیں گورنر بلوچستان لگایا گیا اور 1991 میں اپنی وفات تک وہ گورنر کے عہدے پر تھے وہ ہزارہ تھے، انہیں ان کی وصیت کے مطابق مشہد میں سپرد خاک کیا گیا۔
ملک کے پانچویں آرمی چیف کا نام جنرل یحیی خان تھا۔ جنرل محمد یحیی خان 18 ستمبر 1966 سے 20 دسمبر 1971 تک ملک کے سپہ سالار رہے۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں 1971 کی جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بنا سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ان کو ہارلے سٹریٹ راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا ان سے قریبی رشتہ داروں کے سوا کسی کو ملنے کی اجازت نہیں تھی ہارلے سٹریٹ میں ہی ان کی وفات ہوئی ان کے دور کے بڑے قصے اور کہانیاں زبان زد عام ہیں لیکن آج کسی کو ان کی قبر کے بارے میں معلوم نہیں کہ کہاں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے جب سی ڈی اے کا ادارہ بنایا گیا تو وہ اس کے پہلے چیئرمین بنے لیکن انہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے اجتناب کیا انہوں نے سی ڈی اے میں اپنے آپ کو کوئی پلاٹ الاٹ نہیں کیا۔
جنرل گل حسن قومی تاریخ کے سب سے مختصر مدت کے لیے فوجی سربراہ رہے، انہوں نے دسمبر 1971 سے لے کر مارچ 1972 تک فوج کے سربراہ کی حیثیت ذمہ داریاں ادا کیں انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی آفیسرز کی ایک میس میں رہائش رکھی تھی کوئی مکان بنایا اور نہ ہی کوئی پلاٹ الاٹ کرایا خالی ہاتھ اس دنیا سے جانے والے جرنیل کی کل متاع حیات چند سو روپے تھے جو انہوں نے اپنی تجہیز و تد فین کے لئے الماری میں رکھے تھے اور اپنے اردلی کو بتا رکھا تھا یہ رقم ان کی تجہیز و تدفین کے لئے رکھی ہے۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کو برسر اقتدار لانے والے تھے لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے ان کو اپنے لئے خطرہ سمجھ کر ان کو اچانک ریٹائر کر کے جنرل ٹکا خان کو آرمی چیف بنا دیا۔
ساتویں آرمی چیف جنرل ٹکا خان 3 مارچ 1972 سے یکم مارچ 1976 تک اس عہدے پر رہے۔ جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں دفاع اور سکیورٹی کا مشیر بنا دیا تھا جنرل ٹکا خان نے 1940 میں کمیشن حاصل کیا اور دوسری عالمی جنگ میں لیبیا، برما اور جاپان کے محاذوں پر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ 1965 کی جنگ میں ٹکا خان آٹھویں انفنٹری ڈویژن کے جی او سی تھے، جس نے سیالکوٹ کا معرکہ لڑا جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی قرار دیا جاتا ہے۔
ملک کے آٹھویں آرمی چیف کا نام جنرل ضیا الحق تھا، یکم مارچ 1976 سے 17 اگست 1988 تک ساڑھے 12 سال کے طویل عرصے تک آرمی چیف کے طور پر اس منصب پر رہے ان کی فوج کی سربراہی کی مدت سب سے زیادہ ہے، جنرل ضیا الحق نے 1977 میں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا تختہ بھی الٹ کر مارشل لاء لگا دیا تھا اور پھر انہوں نے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی۔ وہ بہاولپور کے قریب طیارے میں حادثے میں جاں بحق ہوئے ان کی تدفین فیصل مسجد اسلام آباد کے سبزہ زار میں ہوئی ہے جنرل ضیاء الحق 12 اگست 1924 کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔
1945 میں وہ برٹش انڈین آرمی کے اس آخری بیج کا حصہ تھے جو ڈیرہ دون سے فارغ التحصیل ہوا تھا اردن میں تعیناتی کے دوران انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف آپریشن کیا جس میں ہزاروں فلسطینی مارے گئے، جس پر یحییٰ خان نے ان کے کورٹ مارشل کی سفارش کی تھی لیکن جنرل گل حسن نے انہیں بچا لیا تھا ذوالفقار علی بھٹو نے سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کر کے ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف پاکستان قومی اتحاد نے تحریک چلائی۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے دھاندلی کے الزامات لگا کر نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے جس پر ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 کو ملک میں مارشل لا لگا دیا۔
ملک کے نویں آرمی چیف کا نام جنرل اسلم بیگ ہے جو بقید حیات ہیں وہ اگست 1988 سے لے کر اگست 1991 تک آرمی چیف رہے۔ صدر غلام اسحاق خان نے آرمی چیف کی مدت کے اختتام پر ان کی مدت ملازمت میں توسیع دینے سے انکار کر دیا جنرل مرزا اسلم بیگ دو اگست 1931 کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور 1950 میں پی ایم اے کاکول میں کمیشن حاصل کیا۔ 1958 میں سپیشل فورسز گروپ کی تربیت حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلے گئے۔ انہوں نے 1965 اور 1971 کی جنگوں میں حصہ لیا۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے وار سٹڈیز میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور وہیں پڑھانا شروع کر دیا۔ جب وہ جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل سٹاف تھے۔ تو جنرل ضیا الحق کی سفارش پر وزیراعظم محمد خان جونیجو نے انہیں وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دی۔ اگرچہ ان پر سیاسی جماعتوں میں 1990 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مخالف سیاست دانوں میں 14 کروڑ روپے کے فنڈز تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ ان پر ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی مدد کا بھی الزام لگایا گیا جب کہ جنرل ضیاء الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق نے ان پر سانحہ بہاولپور میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا ہے لیکن انہوں نے ہمیشہ تمام الزامات کی تردید کی۔
ملک کے دسویں آرمی چیف کا نام جنرل آصف نواز تھا، انہوں نے اگست 1991 سے لے کر جنوری 1993 تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے کے باعث وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ان کو جنرل مرزا اسلم بیگ کی ریٹائرمنٹ سے چار ماہ قبل ہی نیا آرمی چیف بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ جنرل آصف نواز سب سے سینیئر جرنیل تھے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل شمیم عالم دوسرے اور جنرل حمید گل چوتھے نمبر پر تھے نواز شریف نے جنرل حمید گل کو آرمی چیف نہیں بنا یا حالانکہ ان کے نواز شریف سے بڑے قریبی تعلقات تھے ان کی پرچی پر میاں نواز شریف پارلیمنٹ کے انتخابات میں ان کے پسندیدہ امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کرتے رہے۔
ملک کے گیارہویں سپہ سالار کا نام جنرل عبد الوحید کاکڑ ہے۔ 12 جنوری 1993 سے 12 جنوری 1996 تک عہدہ سنبھالا انہیں لیفٹیننٹ جنرل فرخ نواز، جاوید ناصر، محمد اشرف، حامد نواز، عارف بنگش اور رحیم دل بھٹی کو نظر انداز کر کے آرمی چیف بنایا گیا وہ سردار عبدالرب نشتر کے بھتیجے تھے جنرل کاکڑ نے اپنے دور میں صدر غلام اسحق خان اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان میں شدید اختلافات کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کو مارشل لا ء لگانے کا موقع ملا لیکن انہوں نے اس آپشن کو استعمال کرنے کی بجائے غلام اسحق اور نواز شریف دونوں کو استعفا دینے پر مجبور کر دیا الیکشن ہوئے جس کے نتیجہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو کو دوبارہ وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا۔ بینظیر بھٹو نے انہیں ایکسٹینشن کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔
ملک کے بارہویں آرمی چیف کا نام جنرل جہانگیر کرامت ہے، انہوں نے جنوری 1996 لے کر 1998 تک آرمی چیف کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قیام کے حوالے سے بیان دینے پر وزیراعظم نواز شریف نے ان سے کھڑے کھڑے استعفاٰ لے لیا تھا انہوں نے میجر جنرل ظہیر الاسلام کی جانب سے فوج میں بغاوت کی کوشش کو ناکام بنایا اور اس سازش میں ملوث افسران کو سزائیں دلوائیں۔ جنرل وحید کاکڑ کی ریٹائرمنٹ پر اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو نے انہیں چیف آف آرمی سٹاف لگایا۔ ان کا شمار سینئر ترین جرنیلوں میں ہوتا تھا
محمد نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت سے استعفاٰ لینے کے بعد پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا اگرچہ جنرل علی قلی خان سب سے سینیئر تھے اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل خالد نواز سینئر تھے لیکن نواز شریف نے ان دو جرنیلوں پر جنرل پرویز مشرف کو ترجیح دی ان کو آرمی چیف چوہدری نثار علی خان کی سفارش پر بنایا گیا ان کی مدت ملازمت اکتوبر 1998 سے لے کر نومبر 2007 تک تھی کارگل جنگ بنیادی طور پر جنرل پرویز مشرف اور نواز شریف کے درمیان لڑائی کا باعث بنی جنرل مشرف 12 اکتوبر 1999 ء کو سری لنکا کے دورے سے واپس آ رہے تھے تو انہیں نواز شریف نے برطرف کر کے جنرل ضیا الدین کو نیا آرمی چیف لگا دیا لیکن فوج نے نواز شریف کا حکم ماننے سے انکار کر دیا فوج نے محمد نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، جنرل پرویز مشرف 1999 سے لے کر 2002 تک ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کرتے رہے 2003 میں ہونے والے الیکشن کے دوران انہوں نے صدارت کا عہدہ سنبھالا 2007 کو معزولی سے قبل ہی انہوں نے اپنے عہدے سے استعفاٰ دیدیا تھا نواز شریف کے تیسرے دور میں ان کے خلاف غداری کا مقدمہ بنایا گیا ان کو 17 دسمبر 2019 کو آئین شکنی پر سزائے موت سنائی گئی جسے لاہور ہائی کورٹ نے معطل کر دیا البتہ وہ پچھلے کئی سالوں سے متحدہ عرب امارات میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں پاکستان میں ان کے تمام گھروں کو تالے لگے ہوئے ہیں وہ دوبئی کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی منگوٹ تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں 20 اپریل 1952 کو پیدا ہوئے۔ 1971 میں پی ایم اے سے فارغ التحصیل ہوئے۔ انہوں نے بینظیر بھٹو کے ساتھ بطور ملٹری سیکریٹری کام کیا۔ 2000 ء میں ڈی جی ایم او رہے اور 2003 میں لیفٹیننٹ جنرل بننے کے بعد 10 کور کو کمانڈ کیا۔ ایک سال بعد ڈی جی آئی ایس آئی بن گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو آرمی چیف تعینات کیا گیا تھا۔ وہ ملک کے 14 ویں سپہ سالار تھے، انہوں نے نومبر 2007 سے لے کر نومبر 2013 تک اپنا عہدہ پر کام کیا، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انہیں اپنے عہدے میں توسیع بھی دی تھی۔ ان کے دور میں امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن کیا۔
ملک کے 15 ویں آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے، انہوں نے نومبر 2013 سے لے کر نومبر 2016 تک فرائض انجام دیے ان کے دور میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ”ضرب عضب“ شروع کی گئی میاں نواز شریف نے ان کو ایکسٹینشن نہیں دی جب کہ ان کی خواہش تھی کہ انہیں مزید تین سال کی ایکسٹینشن دے دی جائے جنرل راحیل شریف کا تعلق کنجاہ گجرات سے ہے ان کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف کو 1971 کی جنگ میں نشان حیدر دیا گیا تھا جبکہ میجر عزیز بھٹی نشان حیدر بھی ان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1976 میں وہ پی ایم اے سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں سعودی عرب میں کمانڈر ان چیف آف اسلامک ملٹری کا ؤنٹر ٹیررازم کولیشن بنا دیا گیا۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف جنرل راحیل کو ایکسٹینشن دے دیتے تو نواز شریف کی حکومت ختم نہ ہوتی۔
ملک کے 16 ویں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے، جنہوں نے اپنے عہدہ 29 نومبر 2016 سنبھالا سابق وزیراعظم عمران خان نے انہیں ملازمت میں تین سال کی مزید توسیع دی تھی جو 29 نومبر 2022 ء کو ختم ہو گی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں ایکسٹینشن ان کی بڑی غلطی تھی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا تعلق گکھڑ منڈی سے ہے۔ وہ 11 نومبر 1960 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ سرسید کالج اور گارڈن کالج راولپنڈی میں تعلیم حاصل کی 1978 میں ملٹری اکیڈمی کے لیے منتخب ہو گئے۔ آرمی چیف بننے سے پہلے جنرل باجوہ راحیل شریف کے پرنسپل سٹاف افسر بھی رہے۔ نواز شریف نے 29 نومبر 2016 کو نواز شریف نے سینیئر ترین جنرل زبیر حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف اور جنرل باجوہ، جو سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر تھے آرمی چیف بنایا۔
25 جولائی 2018 کے عام انتخابات میں کہا جاتا ہے ”پراجیکٹ عمران“ کے تحت پی ٹی آئی کی حکومت بنائی گئی کل تک نواز شریف جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے کردار کو تنقید کرتے رہے آج عمران خان جنرل باجوہ پر ڈبل گیم کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ جنرل باجوہ کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی دوسری ایکسٹینشن میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن دوسری ایکسٹینشن کی راہ میں نواز شریف آڑے آ گئے۔
29 نومبر 2022 ء کو پاکستانی فوج کے نئے سربراہ کی حیثیت سے جنرل عاصم منیر 17 ویں آرمی چیف بن گئے جنرل عاصم منیر کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور وہ پہلے چیف آف آرمی سٹاف ہیں جن کا تعلق پی ایم اے لانگ کورس سے نہیں بلکہ آفیسرز ٹریننگ سکول سے پاس ہونے والوں سے ہے۔ جنرل عاصم منیر آئی ایس آئی اور ایم آئی دونوں انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ حافظ قرآن ہیں اور سینیارٹی کے حوالے سے سب سے سینیئر جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں چیف آف دی آرمی سٹاف مقرر کر دیا۔ (ختم شد)

