مشاہیر کے خطوط بنام عطا الحق قاسمی


عطاء الحق قاسمی ایک عہد کا نام ہے۔ ایسا عہد جس میں تہذیب ہے، تابناکی ہے، وسعت ہے، برداشت ہے، علم ہے، حلم ہے اور ابلاغ اور گیان کا وفور ہے۔ آپ چھ دہائیوں سے پرورش لوح و قلم میں مصروف ہیں اور کسی بھی موقع پر ان کے تخیل کے قلمرو میں سرمو انحطاط نہ آیا ہے۔

آج بھی ”روزن دیوار“ قاری کی اولین ترجیح اور مطمح نظر ہے۔ آج بھی وہ ادبی و سماجی تقریب کامیاب اور کامران پاتی ہے، جس میں آپ کا ورود مسعود ہوتا ہے۔ آپ روشن دماغ، عالی فکر، جامع الصفات اور عبقری شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ کے قلم سے نکلی تحریریں فراست و بصیرت سے بھرپور، ادبی چاشنی کی حامل، جرات مندانہ موقف، چھ دہائیوں پر محیط ان کی ژرف نگاہی پر مشتمل ہوتی ہیں۔

آج مگر مجھے ان نامہ ہائے شوق کی بات کرنی ہے جو اہل دل نے ان کے نام رقم کیے۔ خدا ڈاکٹر عائشہ عظیم سے راضی ہو۔ جنہوں نے عطاء الحق قاسمی کو لکھے گئے خطوط کے خزانے کو (جو نہ جانے کس مخزن میں محفوظ تھے ) ، ترتیب اور تدوین کے مراحل سے گزار کر پاکستان کے معروف پبلشنگ ہاؤس سنگ میل سے بعنوان مشاہیر کے خطوط بنام عطاء الحق قاسمی شائع کرا دیا ہے۔

یوں ایک ادبی، سماجی اور تہذیبی تاریخ جو خطوط کے اس خزانہ میں چھپی ہے، اسے سر رہ لا کر رکھ دیا ہے، اب جس کا جی چاہے روشنی پائے۔

کتاب میں شامل خطوط تک جانا تو بعد کی بات ہے، میرے جیسا بندہ تو فہرست میں شامل اکابر اور مشاہیر کے نام پڑھ کر ہی مبہوت ہوجاتا ہے۔ کہیں احمد ندیم قاسمی، اسد محمد خان، اصغر ندیم سید، انور سدید، امجد اسلام امجد، انور شعور، افضل احسن رندھاوا، رام لعل، جمیل الدین عالی، جگن ناتھ آزاد، ابوالاثر حفیظ جالندھری، بیدل حیدری اور فکر تونسوی جیسے ادباء کے نام جگمگا رہے ہیں اور کہیں میاں محمد نواز شریف، شہباز شریف، جنرل محمد ضیاء الحق، سید یوسف رضاگیلانی، سراج الحق، سید منور حسن، قاضی حسین احمد، میاں شریف جیسے زعمائے ملت، کہیں ہم عصر ادیب اور کہیں پیشہ صحافت سے وابستہ اکابر ان سے ہم کلام ہیں۔

ان خطوط سے نہ صرف عطاء الحق قاسمی کے زندگی کے مختلف گوشوں کی خبر ملتی ہے بلکہ اس دور کی ادبی اور سماجی تاریخ کی کچھ جھلکیاں بھی ہمارے سامنے واضح ہوتی ہیں۔

کتاب میں شامل اکثر خطوط میں ادبی پرچے معاصر کے بارے میں بڑے توصیفی اور پذیرائی کے تاثرات ملتے ہیں۔ ان خطوط سے عطاء الحق قاسمی کی زیر ادارت شائع ہونے والے پرچے معاصر کی کی معاصرین کی نظر میں قدر و منزلت کا اندازہ ہوتا ہے۔

بعض خطوط میں عطاء الحق قاسمی کے لکھے گئے کالموں کی بے حد تعریف کی گئی ہے، جیسا کہ معروف مزاح نگار، ابن انشاء اپنے خط میں قاسمی صاحب کے کالموں، آواز نہیں آ رہی اور طوطوں والا کو ادب اور صحافت کے لیے باعث فخر قرار دیتے ہیں۔

کتاب میں کچھ خطوط تعزیتی پیغامات پر بھی مشتمل ہیں جو ان کے والد گرامی حضرت مولانا بہاء الحق قاسمی کی وفات حسرت آیات پر احباب کی طرف سے موصول ہوئے، ان خطوط میں مولانا بہاء الحق قاسمی کی عملی جدوجہد اور ان کی علمی خدمات کا نمایاں تذکرہ شامل ہے۔

ان خطوط سے عطاء الحق قاسمی اور مرحوم امجد اسلام امجد کی لازوال دوستی اور قربت کا بھی پتہ چلتا ہے کیونکہ ایسے خطوط کی کثرت ہے، جن میں امجد اسلام امجد کا بڑی وارفتگی سے ذکر کیا گیا ہے۔

خطوں کے خطابیہ الفاظ سے لکھنے والوں کی عطاء الحق قاسمی کے لیے عقیدت، پیار اور خلوص واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے، مرحوم ڈاکٹر اجمل نیازی مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں عطاء جی، ابن انشاء بابا جی کہ کر مخاطب کرتے ہیں، محمد خالد اختر پیارے عطاء کہ کر بات شروع کرتے ہیں، ابوالاثر حفیظ جالندھری عزیز القدر عطاء الحق قاسمی اور جان برادر کہ کر بلاتے ہیں، ضمیر جعفری پیارے عطاء جی، ڈاکٹر عبدالسلام خورشید ڈئیر عطاء الحق قاسمی اور کشور ناہید جناب والا اور قاسمی جی لکھ کر بات کرتی ہیں۔

میں کتاب اور اس کے مشمولات پر جتنی بھی بات کرلوں، میرے سے اس کا حق ہرگز ادا نہ ہو گا۔ کیونکہ کتاب میں شامل ایک ایک خط آپ کو اس دور کی فضاء اور ماحول میں لے جائے گا اور پھر اس فضاء اور ماحول میں اس دور کی تہ در تہ سماجی تاریخ کی پرتیں کھلتی چلی جائیں گی اور آپ پر کئی نئے سے نئے انکشافات کے در وا ہوتے جائیں گے۔

کتاب سے لطف اندوز ہونے اور اس دور میں جھانکنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ پہلی فرصت میں کتاب خریدیں اور حیرتوں، محبتوں، احساس، جذبات، فن اور متعلقات عطاء الحق قاسمی میں گم ہو جائیے، یہ گم ہونا آپ پر کئی نئی دریافتیں ظاہر کردے گا۔ ان نئی دریافتوں کے لیے گم ہونا شرط ہے۔

Facebook Comments HS