دی ہولی سینرز : اور غیر اخلاقی سیکس کی اجازت


پروفیسر راز محمد راز پشتو اور اردو میں جنسی ادب لکھنے کے چند گنے چنے لکھاریوں میں سے ہیں جنہوں نے عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کی طرح قدامت پسند معاشرے میں ایسے حساس موضوعات کو چھیڑا جہاں ایسے موضوعات پر لکھنے سے پہلے لکھاری کو ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ پروفیسر راز محمد راز نے اپنی تمام کتابوں میں جنس کو محض ذہنی عیاشی کے لیے نہیں بلکہ اسے ایک اہم انسانی جبلت اور معاشرتی پیرائے میں صوفیانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ مذکورہ ناول دی ہولی سینرز (مقدس گنہگار) اردو زبان میں لکھا گیا ہے جس کے 113 صفحات ہیں اور جو 2007 میں شائع ہوا تھا۔

یہ کتاب ایک ایسے گناہ پر روشنی ڈالتی ہے جو ایک عورت اپنی دوست کی ازدواجی زندگی کو بچانے کی خاطر اپنے کنوار پن کی قربانی دے کر خود کو اپنے دوست کے شوہر کے حوالے جنسی طور پر کرتی ہے جو شادی کی پہلی رات کے بعد نفسیاتی مسائل کی وجہ سے نامرد ہو چکا ہوتا ہے

شعیب احمد خان اور ونیزہ احمد، میاں اور بیوی ہیں جبکہ روشن عبدالعزیز ایک سائیکاٹرسٹ ہیں جو امریکہ میں رہتی ہیں۔ اور ونیزہ احمد کی دوست ہیں جو چھٹیوں پر پاکستان آئی ہیں۔ ونیزہ اور روشن برسوں بعد ایک دوسرے سے ملتے ہیں، اور بیتے ہوئے کل، یونیورسٹی میں گزرے ہوئے لمحات اور اپنی اندرونی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ بات چیت کرتے ہوئے، ونیزہ نے روشن کو کہتی ہے کہ اس نے اور شعیب احمد خان نے شادی کی سہاگ رات کے بعد جنسی تعلقات نہیں بنا پایا ہے

ایک سائیکاٹرسٹ ہونے کے ناتے، روشن اس مسئلے کی گہرائی میں جاتی ہے اور ونیزہ اسے بتاتی ہے کہ وہ سہاگ رات کو اپنے شوہر کو لاہور کے مشہور کوٹھے (ہیرا منڈی ) لے گئی اور وہاں اپنی پہلی زندگی گزاری۔ روشن نے جب اس سے اس کی سہاگ رات وہاں منانے کا کارن پوچھا تو ونیزہ نے جواب کچھ ان الفاظ میں دیا کہ اسے اس بازار کی طوائف زادیاں بہت اہم اور مقدس لگتی تھیں۔ کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ عزت دار گھرانوں کی عزتیں ان کی قربانیوں سے بچی ہوئی ہیں۔ اور یہ کہ تہذیبی زندگی میں ان کا حصہ بھی سب سے زیادہ ہے۔ برصغیر کی تہذیب میں طوائف کا کوٹھا، ایک تہذیبی محور کا کام شاعری، اداکاری نے فروغ پا کر فنون لطیفہ کی آبیاری کی۔ اور وہ بتاتی تھی کہ یہ بازار اور یہ دیتا رہا ہے۔ جہاں امراء کے بچوں کو اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی تھی۔ جہاں موسیقی پروان چڑھی۔

وہ مزید کہتی ہے ”میں سہاگ رات طوائف کی کوٹھی پر بسر کر کے ان کی قربانیوں کو عملی خراج تحسین پیش کرنا چاہتی تھی۔ انہیں ان کی اہمیت جتانے آئی تھی کہ یہ مجبور لڑکیاں معاشرے کے توازن کے لئے کتنی اہم ہیں اور جدید فکر و نظر کے تناظر میں انہیں بتانے آئی تھی کہ ہماری نسل کے لوگ ان سے کتنا پیار کرتے اور ان کے کتنے ممنون احسان ہیں۔ میں کچھ کہے بغیر انہیں جتلانا چاہتی تھی کہ مجھے جیسی لاکھوں عزت دار لڑکیوں کی عزتوں اور ورجنٹی کا پاسبان یہی بد نام بازار، اور یہ بد نام عورتیں ہیں“

ان حالات کے بعد شعیب احمد خان ذہنی کوفت میں مبتلا ہو کر اپنی بیوی کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ اپنے شوہر کی نامردی کی وجہ سے ونیزہ اپنی کمپنی کے مارکیٹنگ مینیجر شمس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر لیتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے، ونیزہ یہ بھی مان لیتی ہے کہ اس نے نہ صرف اپنے شوہر بلکہ اپنی کی زندگی کو بھی برباد کر دیا اور یہ کہ وہ خود کو مجرم تصور کرتی ہے۔

اپنی دوست کی دکھ بھری کہانی سنانے کے بعد ، روشن ایک نفسیاتی ماہر ہونے کے ناتے شعیب احمد خان کی جنسی بحالی اور اپنے دوست کی شادی شدہ زندگی کو بچانے کی عہد کرتی ہے۔ ایسا کرنے میں کامیابی کے بعد جب وہ شعیب کو سائیکو تھراپی کے ذریعے اس کو جنسی طور پر بحال کر لیتی ہے تو شعیب روشن کے ساتھ جنسی تعلق بنا لیتا ہے شعیب کو جنسی طور پر صحت یاب کرنے کے بعد وینزہ، روشن کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

یہ گناہ کرنے سرزد ہونے کے بعد ، روشن خود ذہنی مسائل میں مبتلا ہوتی ہے

وہ اپنے استاد جیمز رابرٹ سے بات کرتی ہے جو روشن کو بتاتا ہے کہ جو گناہ اچھے مقصد کے لیے کیا جاتا ہے وہ گناہ نہیں ہے۔ بلکہ انسانیت کی خدمت ہے۔ یہاں جمیز گناہ کرنے کی توثیق کرتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کون سے گناہ جائز ہیں جو کہ اچھائی کے لئے کیے جائے۔ یہ سوال ادیبوں کے درمیان بحث و مباحثے کا موجب بنتی رہی ہے۔

اس ناول میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایک دوست اپنے دوست کی ازدواجی زندگی کو بچانے کے لیے کس طرح قربانی دیتی ہے۔ اس کے باوجود کہ شعیب کی جانب سے روشن کو پیشکش کی جاتی ہے کہ وہ ونیزہ کو طلاق دے کر روشن سے شادی کر لیں گے۔ جبکہ دوسری طرف روشن سختی سے اس کو ٹھکرا دیتی ہے اس حقیقت کے باوجود کہ روشن بھی شعیب سے پیار کرتی ہے

اس ناول میں تین رویہ محبت کا بھی ذکر کیا گیا ہے جہاں جیمز رابرٹ اور شعیب روشن سے محبت کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف روشن اور ونیزہ شعیب سے محبت کرتی ہیں۔

پروفیسر راز محمد راز کا کہنا ہے کہ ہر کسی کو مثالی ساتھی اور مثالی محبت کا ملنا ناممکن ہے۔ کہانی کا اختتام المیہ پر ہوتا ہے جب روشن کی موت ایسی حالت میں ہوتی ہے جب شعیب کا ناجائز بچہ اس کے پیٹ میں تھا اور شعیب کی روشن سے محبت ہونے کے باوجود روشن نے صرف اس وجہ سے ٹھکرایا ہو کہ وہ اپنی دوست ونیزہ کی ازدواجی زندگی کو بچائے۔

Facebook Comments HS