اقبال کے کائنات کے بارے میں سوالات وقیع نہیں: علی اکبر ناطق کا خصوصی انٹرویو
اقبال: لکھنے کا ڈھب کیا ہے، دن میں لکھتے ہیں یا رات میں، کاغذ اور قلم برتتے ہیں، یا ٹائپ کرتے ہیں؟ یہ بھی فرمائیں کہ آج کل کس کتاب پر کام کر رہے ہیں؟
ناطق: مَیں نے لکھنے کے معاملے میں کبھی ٹائم ٹیبل نہیں بنایا۔ جیسے ہی طبیعت اجازت دیتی ہے، لکھنے بیٹھ جاتا ہوں۔ اِس میں دن اور رات کی قید نہیں ہے۔ قلم سے بھی لکھتا ہوں اور براہ راست لیب ٹاپ پر بھی لکھتا ہوں۔ آج کل خود نوشت اور ایک ناول، یعنی دو کتابوں پر کام کر رہا ہوں۔
اقبال: عام خیال ہے کہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں نے کئی ادیبوں کو نگل لیا، مگر آپ کا معاملے مختلف، کتابیں تواتر سے شایع ہوئیں، توازن کیسے قائم رکھتے ہیں؟
ناطق: مَیں سوشل میڈیا زیادہ استعمال نہیں کرتا۔ ٹویٹر اور انسٹاگرام بھی استعمال نہیں کرتا۔ فیس بک استعمال کرتا ہوں، وہ بھی ایک دن میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ۔ اُس میں بھی اگر ذہن میں کوئی چیز آتی ہے، تو پوسٹ لگا کر فیس بک بند کر دیتا ہوں۔ کمنٹس وغیرہ نہیں دیکھتا، نہ جوابی کمنٹس کرتا ہوں، بلکہ مَیں نے پبلک کے کمنٹ بھی بند کر رکھے ہیں اور دوستوں میں سے بھی وہی کمنٹ کر سکتا ہے، جو مہذب ہو۔ ورنہ مَیں فوراً بلاک کر دیتا ہوں۔ زیادہ کتاب پڑھتا ہوں، باقی میں اپنی روٹی روزی کے لیے کام بھی کرتا ہوں اور اُس کے بعد لکھتا بھی ہوں۔
اقبال: گزشتہ ایک عشرے میں سوشل میڈیا نے کتابوں کی تشہیر میں کلیدی کردار ادا کیا، مستقبل میں اس پلیٹ فارم کیا عمل دخل دیکھتے ہیں؟
ناطق: مَیں پہلے دن سے ہی کتاب کے لیے پر اُمید ہوں۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ سوشل میڈیا کتاب کی ضرورت کو ختم کر دے گا، مگر میرا یقین تھا کہ کتاب علمی حوالے سے ایک کلاسک شے ہے۔ اِس کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ چناں چہ آپ نے دیکھا کہ جب سے سوشل میڈیا معاشرے میں عام ہوا ہے، کتاب کی قرات بڑھ گئی ہے، اور اِس کی تشہیر اور خریدو فروخت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں چھپی ہوئی اچھی کتاب ایک دم پھیل جاتی ہے۔ انشا اللہ آئندہ یہ مزید پڑھے جائے گی اور روز بہ روز زیادہ کتاب خوانی کا رواج ہو گا۔
اقبال: اردو ادب کا مستقبل کیا دکھائی دیتا ہے؟ منظر نامہ کیا ہے؟ کیا بڑھتی مہنگائی ہمیں ای بکس کی سمت دھکیل دے گی؟
ناطق: اردو ادب کا مستقبل انتہائی شان دار ہے۔ فکشن لکھنے والوں میں بہت سے نام ہیں، جیسے مستنصر حسین تارڑ، زیف سید، عرفان جاوید، محمد عاصم بٹ، عامر فراز، جیم عباسی، غافر شہزاد، سید گلزار حسنین، رفاقت حیات، نیلم احمد بشیر، اقبال دیوان، مبشر علی زیدی، نیلوفر اقبال، طاہرہ اقبال، سید کاشف رضا اور اِن کے علاوہ بھی اچھا لکھنے والے موجود ہیں۔
اِسی طرح شاعری اور دیگر نثر کی اصناف میں بہت نوجوان سامنے آ رہے ہیں۔ تنقید میں اب جو لوگ ابھر رہے ہیں، اُن میں خاور نوازش، ارسلان راٹھور، سجاد نعیم اور کراچی سے بہت نام ہیں۔ ہندوستان میں انتہائی اچھا لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ پھر یہ کہ نوجوان قارئین کی ایک بڑی تعداد پیدا ہوئی ہے، جو یونیورسٹیز سے باہر کی دنیا میں موجود ہیں۔
اقبال: معاشی مسائل، سیاسی انتشار، میڈیا کے مرکزی دھارے کو ادب میں دل چسپی نہیں، ایسے میں ادیب کیسے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے؟
ناطق: ادیب اور شاعر کو میڈیا سے باہر رکھنے کی ایک باقاعدہ کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے ہاں چوں کہ ایک خاص مائنڈ سیٹ نے حکومت اپنے ہاتھ میں لی ہے، چناں چہ وہ رائے کی آزادی کا رسک نہیں لے سکتے۔ ادیب کتنا بھی دو نمبر ہو گا، پھر بھی کبھی نہ کبھی اپنی بات اور اپنی رائے کسی پلیٹ فارم پر دے جائے گا۔ یہ بات ہمارے مقتدر حلقے جانتے ہیں۔ ادیب کو سب سے پہلے میڈیا سے باہر کرنے کی مہم جنرل ضیا اور شریف اینڈ کمپنی نے کی۔ پبلک کو ایک خاص زبان سے سمجھایا گیا کہ اُن کے اصل دانش ور ادیب اور شاعر نہیں، بلکہ یہ ٹی وی پر بیٹھے اینکر پرسن ہیں، چناں چہ اِن ہی کو سنو اور پڑھو، اور ظلم یہ ہوا کہ کہ عوام نے اسٹیبلشمنٹ کی یہ بات قبول بھی کر لی۔ حیرت ہے، جو شخص کسی فکری اور سماجی مغالطے کو دور کرنے کے لیے افسانہ اور ناول تو کیا، دو سطریں مضمون کی نہیں لکھ سکتا، وہ ہماری قوم کا دانش ور ہو چکا ہے۔
اب رہی بات یہ کہ اِس حالت میں ادیب کیا کرے؟ ادیب یہی کر سکتا ہے کہ وہ قوم کے جتنے افراد کو بانجھ پن سے بچا سکتا ہے، بچانے کی کوشش کرے، اور اپنا کام کرتا رہے۔ وہ ہم کر ہی رہے ہیں۔
اقبال: وہ کون سی فکر ہے، جو آپ کو متحرک رکھتی ہے؟ روز کام کرنے کی قوت دیتی ہے؟
ناطق: آپ حیران ہوں گے، مگر یہ بات سچ ہے کہ مجھے جس ہستی کی طرف سے تحرک اور اُمید اور متواتر کام کرنے کا شوق ملتا ہے، وہ جنابِ امیر علی علیہ السلام اور مولا حسین علیہ السلام کی ذات ہے۔ انسان کی زندگی بہت کم ہے۔ وقت ضائع کرنا جانوروں کا کام ہوتا ہے، انسانوں کا نہیں۔ اِن دو ہستیوں نے انسانیت کو مقدم رکھا۔ اُس کو اپنی ذات اور ذات کے اظہار کے لیے مہمیز کیا۔ میرے پاس ایک فکری نظام ہے، وہ یہ کہ انسان کو غیر متعصب طور پر فکری آزادی حاصل ہو۔ مَیں مذہبیات، سائنس اور فلسفہ میں سے کسی کا دشمن نہیں ہوں۔ کیوں کہ کسی ایک شعبے میں علم کی لگن دوسرے شعبے سے دشمنی پیدا کرے، تو گویا وہ لگن نہیں اُس کا اپنا تعصب ہوتا ہے۔ مَیں روزانہ اگر چھ گھنٹے سے زیادہ نیند لوں، تو مجھے ڈپریشن ہو جاتا ہے۔ مَیں کبھی دن کے وقت نہیں سویا۔ اگر دن کو سونے لگوں، تو مجھے لگتا ہے کہ مرنے لگا ہوں۔ مَیں نے کسی کے خلاف کبھی سازش یا گروپ بازی نہیں کی۔ مجھے کسی سے گلہ، شکوہ یا اختلاف ہو، تو فوراً لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مَیں لوگوں کے بارے میں اندر ہی اندر حسد کی آگ میں نہیں جلتا۔ مجھے کسی کی شہرت یا کسی کے عہدوں سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ نہ مجھے ایسی چیزوں کی پروا ہے، نہ اِن اشیا سے مرعوب ہوتا ہوں۔ میرے پاس ایسی بے معنی مصروفیات نہیں ہیں، چناں چہ کام کے لیے بہت وقت ہوتا ہے۔
اقبال: ادبی سرکل میں کن سے اچھی دوستی ہے؟ کن ادیبوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے؟
ناطق: میرے ادبی سرکل میں پہلے بہت لوگ تھے، پھر یہ ہوا کہ کچھ مجھے چھوڑتے چلے گئے اور کچھ کو مَیں چھوڑ گیا۔ اُس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ میری دوستی کی ایک قیمت ہے، جو ایسا آدمی ادا نہیں کر سکتا، جس نے مشاعرے بھی پڑھنا ہوں، فیسٹیولز میں بھی حصہ لینا ہوں، بیوروکریٹس سے بھی بنا کر رکھنا ہو۔ ایوارڈز حاصل کرنے کی خواہشات بھی اُس کے اندر ہوں۔ ایسا آدمی میرا کبھی دوست نہیں رہ پاتا ہے، کیوں کہ اُسے میرے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کے سبب اِن تمام چیزوں سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ اب جن کے ساتھ روزانہ کا اٹھنا بیٹھنا ہے، اُن میں سے کم و بیش سب نوجوان ہیں، جنھیں ابھی تک ایسی کسی شے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اشفاق عامر، شہاب صفدر، ارسلان راٹھور، اطہر رسول حیدر، فرقان احمد، سید منظر نقوی ، مسعود احمد اور احمد شہزاد لالہ اور اِسی طرح کے بہت سارے دوست ہیں، جن کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ بزرگ شعرا و ادبا سے مَیں نے خود جان چھڑا لی ہے۔ کیوں کہ اُنھیں اپنے جنازے تک کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔
اقبال: کوئی ایک کتاب، جو بار بار پڑھنے کی خواہش ہوتی ہے؟ جو اوروں کو پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوں؟
جواب: نہج البلاغہ، آبِ حیات، فسانہ آزاد، مضامین فرحت اللہ بیگ۔ یہ کتابیں مَیں نے کئی بار بار پڑھی ہیں، جب بھی موقع ملتا ہے، اِنھیں پڑھتا ہوں۔
اقبال: کیا فلمز دیکھتے ہیں؟ کون سی فلم اچھی لگی، ہدایت کار کون پسند؟ اداکار کون سا بھایا؟
ناطق: مَیں فلم دیکھتا ہوں۔ فلم کی دنیا میں عرفان خان مجھے بہت پسند تھا۔ اِس کے علاوہ نواز الدین بھی۔ مجھے ایک اداکار بہت پسند تھا، اسے مَیں برصغیر کا سب سے بڑا اداکار سمجھتا ہوں۔ وہ لیجنڈ معین اختر تھا۔
نوٹ: یہ انٹرویو کتابی سلسلے ”بات چیت اقبال خورشید کے ساتھ“ کے لیے کیا گیا ہے۔ جلد یہ کتاب ڈیجیٹل شکل میں دست یاب ہوگی۔



