اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور: حادثہ ایک دم نہیں ہوتا (2)
ہماری درسگاہوں میں دی جانے والی تعلیم کا مقصد کبھی انسان کی کردار سازی اور شخصیت کو نکھار کر اسے پوری انسانیت کے لیے مفید بنانا تھا۔ اساتذہ طلبہ کے روحانی ماں باپ ہونے کے ناتے تعلیم و تربیت کے ذریعے ان کی شخصیت اور روح کو نکھارتے، پھر ہم فتنوں سے بھرے ایک ایسے دور میں داخل ہو گئے جہاں تعلیم کا مقصد صرف ڈگری کا حصول بن گیا۔ اساتذہ کی اکثریت میں حقیقی استاد، کم اور خود غرض زیادہ در آئے۔ چھینا جھپٹی، لوٹ مار، نفسا نفسی اور افراتفری تعلیمی اداروں میں بھی ویسی ہی ہے جیسی پورے ملک میں نظر آتی ہے۔
جب اساتذہ نے اپنے فرض منصبی سے منہ موڑا تو تعلیمی ادارے کہیں قتل کی آماج گاہیں بن گئیں، تو کہیں حوا کی بیٹیوں کی عصمتیں نیلام ہونے لگیں۔ کہیں یہ تعلیمی ادارے فحاشی کے اڈے بنے تو کہیں ان میں منشیات اور نشہ آؤ ر ادویات فروخت ہونے لگیں۔ ان تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کے لیے جانے والے طلبہ و طالبات نشے میں دھت کسی کونے میں بیٹھ کر اپنی دنیا بسانے لگے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے کامسیٹ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اخلاقی پسماندگی کے شکار اساتذہ نے امتحانی پرچہ جات میں طلباء سے بہن بھائی کے رشتے کے متعلق غیر اخلاقی سوال پوچھے، گومل، بلوچستان، بہاؤ الدین زکریا، قائد اعظم، کراچی اور مردان یونیورسٹیز میں جنسی ہراسانی اور طلباء میں منشیات کی فروخت کے کئی واقعات سامنے آئے۔ سوال یہ ہے کہ طلبا و طالبات کو نشے کی لت لگانے، ان کی فحش ویڈیوز بنانے، ان کو جنسی طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے میں کون سے ہاتھ کار فرما ہیں؟ ایک پورا مافیا ہے جس نے تعلیمی اداروں کو نشے اور فحاشی کے اڈے بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 70 لاکھ سے زائد افراد نشے کی لت میں مبتلا ہیں جس میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان لڑکیاں لڑکے بھی شامل ہیں۔ وہ استاد جس کا کام عزتوں کی حفاظت کرنا تھا درندگی پر اتر آیا۔ جس نے نسلیں سنوارنا تھیں ہوس کا پجاری بن کر خاندان کے خاندان تباہ کر رہا ہے۔
آج ایسے لوگ اساتذہ کے درجے پر فائز ہیں جو اپنے شاگرد طلبہ و طالبات کے ساتھ عشق فرمانا معمول کی تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ سمجھتے اور اسے تعلیمی کارکردگی کے اچھے نتیجے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یہ ان طالبات کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے جو اچھے نمبروں کے لیے استادوں کے ساتھ افیرز چلانے کو معیوب نہیں سمجھتیں۔ سمیسٹر سسٹم میں بھاری بھر اختیارات نے یونیورسٹیوں میں افسر، اساتذہ، ایچ او ڈیز کو فرعون بنا دیا۔ لارڈ میکالے کا نظام تعلیم کا مقصد ہی طلباء کو نمبروں کی دوڑ میں لگانا ہے۔ سمیسٹر سسٹم میں طلبا کو نمبر دینے کا مکمل اختیار استاد کے پاس ہوتا ہے اور موجودہ صورت حال میں یونیورسٹیوں میں بہت کم استاد اپنے پیشے سے مخلص نظر آتے ہیں زیادہ تر استاد نمبروں کی آڑ میں طلبہ و طالبات کا کہیں جنسی اور کہیں نفسیاتی استحصال کر رہے ہیں۔ طلبا و طالبات خوف کے باعث کسی نا انصافی پر لب کشائی نہیں کرتے بلکہ بلیک میل ہوتے ہیں، زیادہ تر طالبات مافیاز کا ”شکار“ بنتی ہیں، کئی طلبہ و طالبات یونیورسٹی کے اساتذہ کی ”علمی دہشت گردی“ کا شکار اس لئے ہوتے ہیں وہ ان قباحتوں سے خود کو بچانا چاہتے ہیں تو انہیں مختلف طریقوں سے تنگ کیا جاتا ہے جب حکام بالا سے شکایت کی جائے تو انا کا مسئلہ بنا کر ڈگری کی دوڑ سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ گریجویشن کے پروگرام میں بھلا کوئی شکایت کا رسک لے سکتا ہے؟ سمیسٹر سسٹم پر ماہرین تعلیم کے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ تعلیمی پالیسی میں طے ہوا تھا کہ گریجویشن تک طلبا و طالبات کی تعلیم و تدریس الگ الگ تعلیمی اداروں میں ہوگی، وہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لئے جامعات کا رخ کریں گے، اس لئے بی ایس پروگرامات کا آغاز کالجز میں کیا گیا تھا۔
جامعہ بہاولپور کے سانحہ کے بعد عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مخلوط تعلیم کا سلسلہ بند کیا جائے، دونوں اصناف کی تدریس کے لئے الگ الگ ادارے قائم کیے جائیں۔ نت نئے سکینڈل اور تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال اور اس میں انتظامیہ کے ملوث ہونے کی شہادتوں کے بعد یہ لازم ہو گیا ہے کہ ایسے درندوں کو درس گاہوں جیسے مقدس مقامات سے نکال باہر کیا جائے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ طلبا یونین کے عہد میں ان کی ناجائز اجارہ داری اور جھگڑوں سے انتظامیہ اور والدین مصیبت میں تھے، ان کے جامعات سے باہر ہونے پر والدین اپنی بیٹیوں کی عزت کے تحفظ کے لئے پریشان ہیں منشیات، جنسی ہراسانی کے اخلاق سوز واقعات اب والدین کے لئے وبال جان ہیں، بلیک میلنگ پر جرم میں ملوث بیٹیاں کیسے خاندان کا سامنا کریں گی؟
ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں جب تک سالانہ امتحانی نظام رائج تھا ایسے شرمناک واقعات سامنے نہیں آتے تھے۔ اس جنسی اور نفسیاتی استحصال کو روکنے کارآمد طریقہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں سے سمیسٹر سسٹم ختم کیا جائے، طلبا کے پیپر چیکنگ کے لیے یونیورسٹی سے باہر بھیجے جائیں طلباء کے پیپر وہ اساتذہ چیک کریں جن کی طلباء کے نام تک سے واقفیت نہ ہو۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سکینڈل کے ہولناک انکشافات میں اگر سو فیصد سچائی نہ بھی ہو، تو بھی اس کا چند فیصد سچا ہونا بھی تباہ کن اثرات کا حامل ہے جو معاشرے کے بچے کھچے اخلاقی اقدار کے تانے بانے کو ادھیڑ سکتا ہے۔ یہ اس ہمہ جہت اخلاقی زوال کا صرف ایک منظر ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے میڈیا اور تعلیمی اداروں میں نقب لگائی۔ تعلیمی اداروں میں نوجوان نسل کی ذہن سازی کے لیے میڈیا کو ایک ٹول کی طرح استعمال کیا گیا۔ لبرل ازم اور روشن خیالی کے اس باب میں لباس میں بے حجابانہ انداز، بولڈنس، منشیات، افیئرز اور سیکس کو زندگی کے نارمل رویے کی طرح اختیار کرنے کی ترغیب تھی۔ تعلیمی اداروں میں منشیات اور آئس کے نشے کے سہولت کار انہی تعلیمی اداروں کے اہلکار ہوتے ہیں۔ آئس کے نشے کے ساتھ طلبہ و طالبات کا آزادانہ میل ملاپ۔ لیٹ نائٹ پارٹیاں، ڈانس کی محفلیں اور ہر قسم کی جنسی سرگرمیاں جڑی ہوئی ہیں۔ کچھ چیزیں منظر عام پر خبر بن کر آ جاتی ہیں اور کچھ نہیں آتیں اور یہ کریہہ جرائم معمول کی سرگرمیوں کی طرح جاری رہتے ہیں۔ ہوسٹلوں میں مافیاز کے لیے کام کرنے والے ایسے طالب علم موجود ہیں جو اپنے ساتھی طالب علموں کو نشے کی طرف لاتے ہیں۔ طلبہ و طالبات اپنے ساتھیوں کے فیشن ٹرینڈز سے متاثر ہوتے اور اسی کیفیت میں نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس سیکنڈل میں تشویش ناک امر یہ ہے کہ اس میں یونیورسٹی انتظامیہ کے اعلی عہدے داران پر مبینہ طور پر الزامات ہیں۔ ادارے کے چیف سیکیورٹی افسر اعجاز شاہ اور دو دیگر ذمہ دار عہدے داران کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے کے حوالے سے آنے والے سکینڈل کا پورے معاشرے پر اثر پڑتا ہے۔ والدین کا اعتماد تعلیمی اداروں سے اٹھ جاتا ہے خاص طور پر لڑکیوں کے والدین کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچیوں کو دوسرے شہر میں پڑنے کے لیے بھیجیں۔
بچیوں کو تعلیم دلانے والے ماں باپ پہلے ہی شاکی نظر آتے ہیں کہ زمانہ بڑا خطرناک ہے اس دور میں بچیوں کو پڑھانا بڑا مشکل ہے، ان کا کہنا ہے کہ ہم زیادہ اس لئے بھی پریشان رہتے ہیں، کہ تعلیمی اداروں کی نت نئی باتیں سننے کو ملتی ہیں، مگر پڑھائے بغیر بھی چارہ نہیں، پھر بچوں اور بچیوں کا اکٹھا پڑھنا ہمارے لیے سخت پریشانی کا باعث ہے، ”انٹر“ کے بعد یونیورسٹی میں پڑھنے کی پالیسی نہ جانے کس نے بنائی ہے، اب تو صبح و شام دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے۔ بی ایس اور سمیسٹر سسٹم پروگرام کس کی ایجاد ہے، گریجویشن کے بعد جامعہ آنے والے طلبا و طالبات میچور ہوتے تھے، جب سے نو عمر بچے اور بچیاں جامعات میں داخل ہوئے، آئے روز سکینڈل منظر عام پر آرہے ہیں۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے حالیہ سکینڈل کی مکمل تحقیقات ضروری ہے۔ جو لوگ گھناونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ معاملات کو صرف رسمی تفتیش اور قانونی چارہ جوئی کی راہداریوں میں الجھانے کے بجائے اس کو منطقی نتیجے پر پہنچا نا چاہیے۔ بہاولپور یونیورسٹی کے اس سانحے سے دوسری جامعات کے وائس چانسلرز کو جو یونیورسٹی کے تمام امور چلاتے ہیں، ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ پرائم ٹائم ٹاک شوز میں لایعنی سیاسی بحثوں کی جگہ اخلاقی اور سماجی حوالوں سے گفتگو کی جائے اور دانشور ایسے واقعات کے سد باب کے لیے ریاست اور اس کے ذمہ دار اداروں کو قابل عمل تجاویز دیں تاکہ اس معاشرتی اور اخلاقی بحران سے بچنے کی کوئی سبیل نکل سکے۔


