کھلی آنکھوں کا خواب (آٹھواں حصہ)


وادیٔ سلام کم از کم چھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ پورا قبرستان ایک ہزار چار سو پچاسی ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں چھ ملین سے زیادہ قبریں موجود ہیں۔ اسے یونیسکو نے ورلڈ ہیریٹیج سائٹس میں شامل کیا ہے۔ اس وسیع و عریض قبرستان کو دیکھنے کے لیے ایک دن کیا دو دن بھی ناکافی ہیں۔ ہم بس چلتے چلتے دیکھتے چلے گئے۔ گاڑیاں نجف اشرف امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار اقدس کی طرف رواں تھیں۔ ساتھ ساتھ قادر کی معلوماتی اور دل چسپ گفتگو بھی رواں دواں تھی۔

نجف اشرف کو اب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے روضے کی وجہ سے شہرت، فوقیت اور امتیاز حاصل ہے مگر نجف کی تاریخی اور مذہبی اہمیت بہت دل چسپ حقائق پر مبنی ہے۔ نجف، کربلا سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نجف عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ٹیلے یا خشک جگہ کے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ یہاں وہ بلند پہاڑ تھا جس پر نوح علیہ السلام کا نافرمان بیٹا، نوح علیہ السلام کی کشتی میں بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے اس پر چڑھ گیا تھا کہ اس طرح وہ بچ جائے گا مگر ایک تیز لہر آئی اور وہ پہاڑ کو لے ڈوبی۔ (قرآن اس واقعے کو تمثیلی انداز میں بیان کرتا ہے ) بلند و بالا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ وادیٔ سلام کے قریب جس سمندر کو دیکھا، اسے نے کہا جاتا تھا۔ بعد میں یہ سمندر خشک ہو گیا تو اسے نے جف کہا جانے لگا۔ جف عربی زبان میں خشک کو کہتے ہیں یعنی خشک سمندر۔

بانقیاکے علاقے میں ہمیشہ رات کو زلزلے آیا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس جگہ ایک رات قیام کیا تو اس رات زلزلہ نہیں آیا۔ اہل علاقہ کے اصرار پر دوسری رات بھی قیام کیا تو رات کو پھر زلزلہ نہیں آیا۔ اب انہوں نے اصرار کیا کہ آپ ادھر ہی رک جائیں۔ آپ جو چاہیں گے ہم پورا کریں گے۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ مستقل قیام مشکل ہے، تاہم آپ یہ زمین مجھے فروخت کر دیں۔ اہل علاقہ نے اصرار کیا کہ آپ مفت لے لیں۔ اللہ کے خلیل نے مفت زمین لینے سے انکار کیا اور اس زمین کو سات بھیڑوں اور چار گدھوں کے عوض خرید لیا۔ غلام نے کہا اس بنجر زمین کا کیا فائدہ؟ آپ نے جواب دیا، اس زمین سے ستر ہزار لوگ محشور ہوں گے جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر نجف آتے اور اسے دیکھ کر فرماتے تیرا منظر کتنا حسین ہے۔ تیرا اندر کتنا خوش گوار ہے۔ یا اللہ میری قبر یہاں قرار دے۔ ان کی اس خواہش پر رسولﷺ نے بشارت دی کہ ایسا ہی ہو گا۔ صاحب نہج البلاغہ نے نجف کی زمین کو ہیرا کہا۔ عقبہ بن علقمہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے نجف کو حیرہ اور کوفہ تک کو وہاں کے زمینداروں سے چالیس ہزار درہم میں خرید کر اس پر چند لوگ گواہ بنائے۔ یہ دیکھ کر کسی نے اعتراض اٹھایا کہ آپ اس خطیر رقم کے عوض وہ زمین خرید رہے ہیں جو بنجر اور بے کار ہے۔ آپ نے فرمایا، میں نے حضرت محمد ﷺ سے سنا ہے کہ پشت کوفہ سے ستر ہزار لوگ بلا حساب کتاب جنت میں جائیں گے۔ میری خواہش ہے کہ وہ میری ملکیت سے محشور ہوں۔ سبحان اللہ

امام صادق فرماتے ہیں کہ نجف کے پہاڑ پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام، حضرت ابراہیم کو خلیل، رسول اللہ کو اپنا حبیب اور انبیاء کا مسکن بنایا۔ توہم سوئے نجف رواں تھے۔ شاہ نجف امیر، امیرالمؤمنین کے در پر حاضری کے لئے۔ میری وجہ سے مختلف راستے اختیار کرتے ہوئے ایک کشادہ گلی میں پہنچ کر گاڑیاں روک دی گئیں۔ اس کشادہ گلی میں زائرین کے لئے اقامت گاہیں نظر آئیں اور زائرین بھی دکھائی دیے۔ گاڑی سے اترنے کے بعد تھوڑا سا چل کر جب ہم اندر داخل ہوئے تو ایک پرشکوہ اور شاندار مسجد اور مقبرہ سامنے تھا۔

سرخ قالین اور دیوار پر جہازی سائز پینٹنگ بنی ہوئی تھی مگر چہروں کو چھپا لیا گیا تھا۔ چند قدم اور چلے تو خوب صورت پھولوں اور پھولوں کے رنگارنگ بوکوں نے قدم جکڑ لئے۔ خوش رنگ پھولوں کے بہت بڑے اور سندر بوکے لکڑی کے اسٹینڈ پر سجانے کے علاوہ بھی سلیقے سے رکھے گئے تھے جو بیک وقت مسرت و حیرت کا باعث تھے۔ دو دن پہلے یوم غدیر تھا۔ عقیدت مندوں نے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار پھولوں کی زبان میں کیا تھا اور کیا خوب کیا تھا کہ گل ہائے رنگارنگ نظروں کو بھا رہے تھے تو دل کو جذبے کی گرمی سے دہکا رہے تھے۔ یوم غدیر عید کی سی خوشی لیے ہوئے تہوار ہے۔ سنا ہے اس یوم غدیر پر تین ملین لوگ نجف اشرف میں موجود تھے۔

دو دن پہلے عید کی خوشی کا سماں، رنگ اور مہک فضا کو خوش رنگ اور مہکائے ہوئے تھے۔ ہم کربلائے معلیٰ سے دو گھنٹے میں نجف پہنچے۔ میں گھر سے نکلتے ہوئے لازمی وضو بنا کر نکلتی ہوں کہ سفر میں باوضو رہنا زیادہ ضروری اور مفید ہے اور آج تو باب علم کے در پر جا رہی ہوں تو خصوصی اہتمام کے ساتھ تیاری کی ہے مگر اس نیند کا کیا علاج کہ جو گاڑی کے چلتے ہی اپنی نرم گرم آغوش میں لے لیتی ہے۔ گو آج میں نے خود کو باہر کے مناظر دیکھنے کے لئے جگائے رکھا۔

قادر (ڈرائیور ) کی معلوماتی گفت گو سننے کے لئے مگر بیچ بیچ میں جھپکی بھی لیتی رہی، اس لئے راستے میں عائشہ کو پریشانی کے عالم میں کہا حاضری سے پہلے وضو کرنا ہے۔ اس نے اپنے مخصوص دل نواز انداز میں جواب دیا تو اس میں فکر کی کیا بات ہے جس طرح کل روضۂ امام حسین میں مخصوص کمرۂ خاص میں بیٹھے تھے، یہاں بھی کمرہ ہے جہاں آرام سے بیٹھ کر ، وضو تازہ کر کے جائیں گے۔ باتیں کرتے کرتے گیلری سے گزر کر ہال نما وی آئی پی کمرے میں داخل ہوئے تو بارعب نورانی صورت والے شخص نے آگے بڑھ کر خوش آمدید کہا۔

احمد اور نسیم تو ان کے ساتھ محو گفتگو رہے۔ میں اور عائشہ صوفے پر بیٹھے تو کمرے کا جائزہ لیا۔ بہترین فرنیچر، دیوار پر تصاویر، بہترین کتابوں سے سجے ہوئے شیلف اور اس شان دار ہال نما کمرے کے وسط میں سٹینڈ پر دھرا بہت بڑا پھولوں کا بوکے۔ گزری عید غدیر کی خوشی کا اظہار جگہ جگہ ہویدا اور نمایاں تھا۔ میں نے اٹھ کر کتابوں کا جائزہ لیا۔ عائشہ نے تصاویر بنائیں۔ اتنے میں سجی ہوئی ٹافیوں کی ٹوکری، کھجور، قہوہ اور چائے آ گئی۔ کھجور کھا کر چاکلیٹ اٹھائی تو نعمتوں کی چاشنی اور شکر کے کیف آگیں سرور میں ڈوب کر سر کو ذرا سا جھکا کر سجدۂ شکر ادا کیا۔ دل نے ترانۂ حمد پڑھا اور لبوں پر فبای آلا ربکما تکزبان جاری ہوا۔ زبان پر ماشاء اللہ الاقوت الاباللہ کی آیات جاری ہو گئیں۔

میں نے ملحقہ صاف ستھرے غسل خانے میں وضو تازہ کیا۔ ٹھنڈے پانی کے چھپکوں نے ترو تازگی بخشی۔ واپس آ کر کچھ دیر بیٹھے تھے کہ شیشے کے نازک فنجانوں میں ایک بار پھر قہوہ آیا جسے کھجور کے ساتھ نوش جان کیا۔ مخصوص عربی کڑوے قہوے کے ساتھ کھجورکامزہ ہی کچھ اور ہے۔ ٹافیوں کی ٹوکری سے ٹافی اٹھائی تو یک دم مجھے اپنی خالہ یاد آ گئیں جو لاہور میں رہتی تھیں۔ ان کے پاس جب ہم لاہور جاتے تو داتا کے مزار پر ضرور حاضری دیتے اور وہاں اگر زردہ یاکوئی میٹھی چیز بٹ رہی ہوتی تو خالہ جاکر لے لیتیں۔

خالو خفا ہوتے، منع کرتے تو وہ کہتیں کہ خوردہ ہے، تبرک ہے۔ پھر واپسی کے راستے میں خوش ہوتیں۔ وہ تبرک کا ملنا نیک شگون سمجھتیں کہ اب ان کی مرادیں بر آئیں گی۔ باب علم کے در پر بیٹھے ایسی آؤ بھگت، میزبانی مٹھاس بھری، دل خوش گماں نے کیسی کیسی خوش گمانیاں کیں اور دل ہی دل میں کس کس طرح شکر ادا کیا۔ کیا بتائیں۔

باب علم کے در پر :

کمرۂ خاص سے باہر آئے تو دن ڈھلنے کے قریب تھا۔ مسجد کی وسعت اور خوب صورتی نظروں کو بھا رہی تھی۔ زائرین کی کثرت تھی مگر کوئی بدنظمی، افراتفری دکھائی نہ دی۔ سرخ قالینوں پر لوگ مصروف عبادت تھے۔ سلام اور حاضری کے لئے جاتے ہوئے عجیب سی کیفیت تھی۔ دل و دماغ میں برسوں سے پڑھی ہوئی احادیث، واقعات، فضائل اور اشعار سب گردش کر رہے تھے۔ عمرے کے دوران طواف کرتے ہوئے رکن یمانی کے پاس سے گزرتے ہوئے حصول علم کی دعا کرتے ہوئے کہتی یا اللہ مجھے باب علم سے شہر علم میں داخل کر ۔ پیش نظر یہی فرمان رسول ﷺ ہوتا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ شہر علم میں داخل ہونے کے لئے پہلے دروازے سے ہی گزر کر جایا جاسکتا ہے، سو طواف کے میں تیز تیز قدم اٹھاتے ایک خاص کیفیت میں یہ دعا کرتی رہتی۔

آپ ﷺ نے انہیں اپنا بھائی قراردیا تھا۔ وہ مثل موسیٰ و ہارون ہیں۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔

ہمیشہ ورد زباں ہے علی کا نام اقبال
کہ پیاس روح کی بجھتی ہے اس نگینے سے

اشعار اور احادیث کو دہراتے، تانے بانے بنتے دروازے تک پہنچ گئے جہاں سے عورتوں کے داخلے اور سلام کے لئے جانا تھا۔ احمد اور دربان کے درمیان عربی میں جانے کیا بات چیت ہوئی کہ وہیل چیئر ڈھونڈنے لگے۔ جلد ہی وہیل چیئر ایک عورت باہر لے کر آئی۔ کسی اور کو دینے لگی تو عائشہ نے درخواست کی کہ ہمیں دے دیں جو اس نے دے دی اور حیدر وہیل چیئر لے کر عورتوں کی طرف سے داخل ہوئے۔ ہم درود شریف پڑھتے ہوئے داخل ہوئے۔ خواتین کا جم غفیر تھا جس میں سے راستہ بناتے صاحب نہج البلاغہ، مولودکعبہ پروردہ رسول کریم، داماد خاتم النبین، محبوب رسولﷺ، زوجہ زہرا بتول خاتون جنت، والد حسنین کر یمین، حسن سفیر امن اور حسین، شاہ است حسین دیں پناہ است حسین، دختر زینب فخرالنسا عزم و ہمت کا کوہ گراں، حافظ قرآن، جامع قرآن، شاعر، ادیب، مفکر، علم کا منبع و خزینہ، جو دوسخا کا پیکر جس کا فرمان ہے کہ جتنا میں سخی تھا اتنا کسی نے مانگا نہیں اور جتنا میرا علم تھا، اتنا کسی نے پوچھا نہیں۔

میرے دل و دماغ میں عشق و محبت اور عقیدت کے جذبات کا ایک سمندر موجزن تھا۔ میری زبان پر بار بار شکر کے کلمات کا ورد جاری رہتا کہ یا اللہ یہ تیرا کرم ہے جس نے مجھے باب علم تک رسائی بخشی۔ رقت طاری ہو گئی۔ آنسو کہیں گلے میں پھنس کر رہ گئے۔ پتہ نہیں کیا مانگا، کیا دعائیں کیں۔ بس اتنا یاد ہے۔ کہ باب مدینۃ العلم کی جالیوں سے جا لگی اپنا اور سب احباب کا سلام پیش کیا۔ نعت لکھنے کی دعا، علم و عمل کی اور قلم کے ایسے استعمال کی دعا کی کہ صدقہ جاریہ بن جائے۔ اور جانے کیا کیا۔

دل چاہ رہا تھا کہ یہاں سے نہ ہٹوں۔ یوں ہی اپنی خوش بختی پر نازاں جالی سے لگی ضریع تھامے دل کی باتیں کرتی رہوں مگر اور خواتین بھی منتظر تھیں۔ بادل نخواستہ الوداعی سلام اور دعا کر کے پلٹی۔ روضہ بڑے فانوس اور روشنیوں سے جگ مگ جگ مگ کر رہا تھا۔ اس کیفیت کو یوں الفاظ میں ڈھالا۔

منقبت بحضور صاحب نہج البلاغہ
علی علی علی
تجھ سا نہیں کوئی
علی علی علی
مولد خانہ ٔ خدا
سفر آخر در خانۂ خدا
پروردۂ رسول کریم
علی علی علی
زوجہ جس کی
خاتون جنت
نور نظر رسول کریم
پسر جس کے جو انان جنت
خیبر شکن، شیر خدا
جس کے لئے فرمان رسول
ہوں میں شہر علم
اور باب علم ہیں علی
آج ہوں میں حاضر
اے امیر المومنین
تیرے پرنور، پر ضیا روضے پر
اے امام زمانہ
پیکر جود و سخا
صاحب فہم و ذکا
جس کے فیصلے بے نظیر
صاحب نہج البلاغہ
تیرے در پر بندی عاجز نوا
کم علم و کم عمل
اے خدائے کریم
سن لے میری یہ دعا
کہ داخل ہوں باب علم میں
اور پہنچوں شہر علم تک
علی علی علی
تجھ سا نہیں کوئی
(جاری ہے )

Facebook Comments HS