علی اکبر ناطق کی خودنوشت: آباد ہوئے، برباد ہوئے
دَورِ حاضر میں علی اکبر ناطق کسی تعارف کے محتاج نہیں اورمستقبل میں بھی اُمید کی جاتی ہے کہ اُن کے ادبی قد میں مزید اضافہ ہو گا۔ ناطق کی شخصیت متاثر کُن ہے اور اُن کے قلم سے نکلا ہوا ادب بھی با ادب ہے۔ جہاں پاکستان و بھارت میں اُن کے معتقدین کی کثیر تعداد ہے، وہیں ناقدین بھی اُن پر حملہ آور ہونے کے لیے ہمہ وقت تیارہیں۔ ایک طرف وہ اُردو کے بعض کلاسیکی شعرا کے کلام میں اپنے لیے پناہ ڈھونڈتے ہیں، دوسری طرف نثر میں محمد حسین آزاد کے کام کو خوب سراہتے ہیں اور اسی سراہنے میں ہی ان پر ایک تصنیف لکھ ڈالی جس کا نام ہے ‘فقیر بستی میں تھا’۔ فکش اور تاریخ سے گہرا لگاو ہے اوران کا دعویٰ ہے کہ شاید ہی کوئی ناول یا افسانہ ہوجسے وہ نہ پڑھ پائے ہوں۔
علی اکبرناطق کی خودنوشت ‘آباد ہوئے برباد ہوئے’ 398 صفحات پر مشتمل ہے جسے نو ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ تصنیف صرف ایک سرگزشت ہی نہیں بلکہ ناطق کا نامہ اعمال بھی ہے۔ اِسے پڑھنے کے بعد میری رائے میں یہ ابھی نامکمل ہے اوراس کا کچھ حصہ ناطق نے چھپا لیا ہے جسے وہ بعد میں مںظر عام پرلائیں گے۔ انہوں نے اِسے ‘آباد ہوئے برباد ہوئے’ کا نام کیوں دیا اِس کا اندازہ کتاب کی ورق گردانی سے ہو جاتا ہے۔ کتاب کا آغاز بہترین ہے، اس کا پہلا صفحہ ہی آپ کو جکٹر لیتا ہے اور تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے حروف قاری کو متاثر کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
لکھتا ہے:”میری خودنوشت شروع ہوتی ہے۔ ایسے شخص کی خود نوشت جس کے اجداد اصفہان وتوران سے نہیں آئے۔ اگر آئے تھے تو اس کا علم نہیں۔ محمد بن قاسم کی فوج میں تو بالکل بھی شامل نہیں تھے۔ گھوڑوں کے سوداگر بھی نہیں تھے۔ نہ سونے اور ریشمی کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ ہاں دادی اماں کا ایک چچازاد عیسیٰ خاں گڑ گاوں کے علاقے سے گھوڑے اور خچر چوری کر کے انہیں منڈی گرو ہرسا میں بیچا کرتا تھا اور منڈی کا مال لدھیانے میں۔”
پہلے باب میں وہ اپنے اجداد کا تعارف کرواتا ہے اوراپنے عزیزواقارب کی خاکہ نگاری کرتا ہے۔ حالاں کہ ان شخصیات سے نہ کبھی وہ ملا اور نہ ہی انہیں خوابوں میں دیکھا لیکن جن افراد سے ان کے بارے میں سُنا، کیا خوب سُنا! ناطق نے ان کے سراپا، عادات اور ان کی معاشی وسماجی زندگیوں کی خوب عکاسی کی ہے۔ اس کے علاوہ اس باب میں انہوں نے تقسیم کے واقعات اوران کے خاندان کی فیروزپور سے ڈرامائی ہجرت کی مںظر کشی بھی کی ہے۔
دوسرا باب مصنف کی پیدائش اور سکول داخل ہونے سے پہلے کے واقعات پر مشتمل ہے۔
تیسرے باب میں وہ اپنے سکول میں داخلے کے بارے میں بتاتا ہے اور معلمین کی خاکہ نگاری کرتا ہے۔ اس باب میں مصنف منظر نگاری میں بھی جوہر دکھانے لگتا ہے۔ وہ جمالیات سے کام لیتے ہوئے قدرت کی بنائی ہوئی چیزوں کو بھی بہ خوبی بیان کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اُسے ہرے بھرے درختوں سے محبت ہے، اُسے پرندوں سے لگاو ہے اور وہ ان کے پیچھے بھاگتا ہے۔ وہ درختوں پر چڑھی ہوئی مرغیاں پکڑتا ہے۔ وہ لکڑیاں چننے جاتا ہے جہاں اُس کا دوست جن بن کر اسے دھوکا دیتا ہے اور اس کی جمع کی ہوئی لکڑیاں لے اُڑتا ہے۔ اسی باب میں وہ پھاجے بھٹی کی سوَر کے ساتھ جھڑپ کی دل چسپ داستان بھی بیان کرتا ہے۔
چوتھا باب بھی دل چسپ واقعات سے بھرپور ہے۔ اِس میں مصنف مزید بڑا ہو چکا ہے۔ اُس کی سمجھ بوجھ بھی بڑھ چکی ہے اور وہ باپ کی کویت سے لائی گئی کمائی سے شروع کیے ناکام کاروبار کی روداد بھی بیان کرتا ہے۔ وہ اس میں آوارہ گردی اور گرمیوں میں نہر میں نہانے کے شغل سناتا ہے۔ وہ جوگیوں کی کہانیاں اوران کی پدم ناگ سے لڑائی کی داستان بھی بیان کرتا ہے۔
پانچویں باب میں مصنف کی دادی کی وفات کا ذکر ہے۔ وہ دادی کے ساتھ جذباتی وابستگی کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ اس باب کی سب سے اہم بات کہ اب مصنف بلوغت میں قدم جما چکا ہے اور آوارہ گردی کا دائرہ مزید وسیع ہو چکا ہے اور وہ نئی جہتوں کی طرف راغب ہونے لگا ہے۔ اسی چکر میں وہ اپنے دوست کو لیے ہیرا منڈی جا پہنچتا ہے اور بدمعاشی دکھانے کے چکر میں بازارِ حُسن کے منتظم کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ اسی باب میں وہ ہائی اسکول پہنچ جاتا ہے اور اساتذہ کے بارے میں قصہ خوانی کرتا ہے۔ وہ بلااجازت لکڑیاں کاٹتا ہے۔ ہم جولیوں کے ساتھ مل کر کماد چوری کرتا ہے اور اس سے گڑ بناتا ہےاور زمین داروں کی کپاس پر بھی ہاتھ صاف کرتا ہے۔ بے نظیر بھٹو سے ہونے والی حادثاتی ملاقات کا احوال بھی بیان کرتا ہے اورلاہورعجائب گھر میں انسانی ڈھانچے کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی سناتا ہے۔ اسی باب میں احمد ندیم قاسمی سے ہونے والی مختصر ملاقات کی بات کرتا ہے اور لاہور میں بینڈ ماسٹر کے ساتھ ایک بارات میں کرائے پر باجے بجانے اور اسی دوران گدھے کی کارروائی کی مزاحیہ کہانی بھی سناتا ہے۔
باب ششم میں ناطق میڑک پاس کر کے کالج میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس دوران وہ اپنے باپ کے ساتھ تعمیراتی کاموں میں مزدوری بھی کرتا ہے اور قارئین کو کالج کے واقعات بھی سناتا ہے۔ وہ اپنے پہلے عشق کے بارے میں بتاتا ہے اور اپنے گاوں کے پاگل کرداروں سے واقفیت بھی کرواتا ہے۔ یہاں وہ گاوں کے مشہور کبوترباز کا تعارف کرواتا ہے اور بشیراں ممبرانی کی بے باک گفتگو سے بھی روشناس کرواتا ہے۔
باب ہفتم میں وہ اپنی ملازمت کے دوران پیش آنے والے واقعات ذکرکرتا ہے۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں فیلڈ سپروائزر بھرتی ہو جاتا ہے۔ اس دوران وہ نئے لوگوں سے ملتا ہے۔ وہ ملک شرافت کے پالتو بھیڑیوں کا قصہ بھی سناتا ہے جو ملک کی ماں کو ایک رات پھاڑ ڈالتے ہیں۔ یہاں وہ اپنا سرحد پار جانے کا قصہ بیان کرتا ہے اورعلاقے کے جرائم پیشہ افراد کی وارداتوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اسی باب میں وہ ایک مولوی سے جیتی گئی شرط سے حاصل شدہ رقم سے بی اے کے داخلے کی روداد بیان کرتا ہے۔
باب ہشتم میں مصنف اوکاڑہ کی ادبی محفلوں کا بیان کرتا ہے اور نئے مراسم بناتا ہے۔ اسی میں اوکاڑہ کے نواح کا ذکرہے۔
کتاب کا آخری باب انتہائی دل چسپ ہے۔ اس میں مصنف روزگار کے سلسلے میں اچانک سے مُلکِ سعود پہنچ جاتا ہے۔ ویسے تو شروع سے لے کر آخر تک مزاح موجود ہے لیکن یہاں کچھ الگ ہی احوال بیان کیا ہے۔ وہ عرب کے بدتہذیب گدھوں کے کئی واقعات قلم بند کرتا ہے جو قاری کو ہنسنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ آخری قصہ جو کہ نودولتیے عرب لڑکوں کا ہے، بے حد محظوظ کرتا ہے۔ یہ مہماتی قصہ ہے اور مصنف ایسے گینگ کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو رات کے اندھیرے میں ریگستان میں موٹر سائیکلوں پر غیرقانونی دوڑیں لگاتے ہیں۔ اِسی باب میں مصنف نے بیرون ملک جانے والے مزدوروں کے مسائل بھی سنائے ہیں کہ وہاں انہیں کیسے کیسے رنج وغم سے گزرنا پڑتا ہے۔
‘آباد ہوئے برباد ہوئے’ ادب کی ایک ایسی دستاویز ہے جس میں مصنف نے ایمان داری اور سنجیدگی سے اپنی زندگی کا تمام تراحوال بیان کر دیا ہے۔ بچپن سے لے کر جوانی تک ایسے دسیوں واقعات بھی قلم بند کیے ہیں جن کی ہیئت مزاح پر مبنی ہے۔ یہ ہراُس شخص کی آپ بیتی ہے جو ارد گرد کی ستم ظریفیوں اور ناانصافیوں سے نبٹتے ہوئے معاشرے میں اپنا مقام پیدا کر رہا ہے۔ اِس کے مطالعہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی حصہ یا واقعہ ہماری زندگیوں میں بھی موجود ہے۔ خاص کر دیہی زندگی کے معمولات کی عکاسی لائق تحسین ہے۔ یہ واقعتاً ایک بہترین خودنوشت ہے۔


