تم جیو ہزاروں سال


اس زمانے میں امریکا کا سفر چھوٹے جہازوں کے ذریعے ہوتا تھا جو رک رک کر جاتے تھے۔ مجھے سلطان ظفر اور ابوطالب نے کراچی ائرپورٹ پر چھوڑا۔ پان امریکن ائر ویز کے ذریعے جہاز مختلف شہروں میں رکتا ہوا ایمسٹرڈیم پہنچا۔ کراچی سے جو جہاز ملا تھا اس میں جٹ انجن لگا ہوا تھا جو تیز چلتا ہے مگر ایمسٹرڈیم پر وپیلر قسم کا انجن تھا جو آہستہ چلتا ہے اس جہاز میں ساری رات سفر کرنے کے بعد میں امریکا کے شہر نیویارک پہنچا۔ یہ ایک طویل سفر تھا، میں نے بھی پہلی دفعہ جہاز میں سفر کیا تھا جو ایک طویل ترین سفر ثابت ہوا تھا۔

نیویارک کے ائرپورٹ پر امیگریشن کے کسی مسئلے پر مجھے پریشان نہیں کیا گیا۔ امیگریشن کا عملہ بہت خوش اخلاقی سے پیش آیا اور مجھ سے کسی بھی قسم کا سوال نہیں کیا لیکن اس ائرپورٹ پر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔

بوسٹن کے لیے میری دوسری پرواز تقریباً چھ گھنٹے کے بعد تھی۔ میں اپنے سامان کے ساتھ لاؤنج میں موجود تھا اور مجھے سخت پیاس لگ رہی تھی، لیکن میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کہاں سے پانی پیوں۔ مجھے پانی پینے کا ایک فاؤنٹین نظر آیا لیکن مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ پانی کیسے نکلے گا۔ میں اس فاؤنٹین کے پاس کھڑا ہو گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کوئی آ کر پانی نکال کر پیئے تو میں بھی اس کے طریقے سے پانی نکال لوں۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ کافی دیر تک مجھے انتظار کرنا پڑا۔ پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اس مشین کے اوپر ایک بٹن کو دبا کر پانی نکالا اور اس سے منہ لگا کر پانی پینے لگا۔ مجھے اپنے اوپر ہنسی آئی کہ اتنی معمولی بات میری سمجھ میں نہیں آئی اور میں اتنی دیر تک پیاسا گھومتا رہا۔

شام کی پرواز سے میں بوسٹن پہنچا، جہاں ایک ٹیکسی والے کو میں نے بتایا کہ مجھے کہاں جانا ہے۔ آج کے بوسٹن میں مختلف قومیت رکھنے والے لوگ دیکھنے میں بھی آتے ہیں اور مل بھی جاتے ہیں مگر آج سے تقریباً ساٹھ سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ مجھے 176 نیپلز روڈ بوسٹن لے کر پہنچا تھا، یہ جگہ بوسٹن یونیورسٹی سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔ وہاں میرے رہنے کا کوئی انتظام نہیں تھا لیکن وہاں موجود کارکنوں نے میری مدد کی اور مجھے رات بسر کرنے کی اجازت دے دی۔ اس عمارت کے تہہ خانے میں مجھے سونے کے لیے ایک بستر دے دیا گیا تھا۔

دوسرے دن میں نے کالج جا کر بتایا کہ میں آ گیا ہوں، جہاں مجھے اپنے استادوں سے ملنے کے لیے کہا گیا۔ رہنے کے لیے ایک جگہ بھی دی گئی جس کے اخراجات کے لیے میرے پاس بہت زیادہ رقم نہیں تھی۔

کچھ دنوں کے بعد مختلف لوگوں سے بات چیت کرنے کے بعد مجھے اسی عمارت میں نوکری مل گئی جہاں میں نے پہلی رات گزاری تھی وہاں رات کو میری یہ ذمہ داری ہوتی کہ اس بڑی سی عمارت کو گرم رکھنے کے لیے وہاں موجود انگیٹھی میں ہر کچھ گھنٹوں بعد کوئلے ڈالتا رہوں تاکہ عمارت گرم رہے۔ اس زمانے میں عمارتوں کو گرم رکھنے کے لیے آج کل کا جدید نظام نہیں تھا۔

اپریل 2023 ء میں میرا بوسٹن جانا ہوا۔ میں چچا جان کے بتائے ہوئے پتے پر اس عمارت کو دیکھنے گیا۔ یہ عمارت ابھی تک ویسے ہی قائم دائم ہے۔ اس کے دروازے پر میں نے اپنے موبائل فون سے اپنی ایک تصویر کھینچ کر چچا جان کو بھیجی جسے دیکھ کر وہ حیران ہو گئے۔ شروع میں وہ سمجھے کہ میں نے کوئی فوٹوشاپ کی مدد سے تصویر بنائی ہے لیکن پھر میں نے چھوٹی سی کلپ بنا کر بھی بھیجی جس سے وہ محظوظ ہوئے۔

بوسٹن ایک بہت ٹھنڈا شہر ہے، جہاں عمارتوں کو گرم رکھنے کے لیے اس قسم کا انتظام کیا جاتا تھا۔ وہاں کام کرنے سے یہ فائدہ ہوا کہ مجھے مفت میں رہنے کی جگہ مل گئی اور تھوڑی تنخواہ بھی جو میرے لیے کافی تھی۔ یونیورسٹی کے پہلے چھ مہینوں کے اندر ہی مجھے احساس ہو گیا کہ سینماٹوگرافی اور فلم کمپنی میں کام کرنے میں مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے اور مجھے دوبارہ سے فزکس کی یاد ستانے لگی کیونکہ میں ہمیشہ سائنس اور فزکس کے بارے میں ہی سوچتا رہتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ اس مضمون کے پڑھنے سے کائنات کے راز کھل جائیں گے، آسمانوں کی بہت سی چیزوں کا پتہ چل جائے گا اور بہت سے سوالات جو میرے ذہن میں نہ جانے کیسے آ جاتے ہیں ان کے جوابات بھی مل جائیں گے۔

میں نے کالج جا کر مشیر تعلیم سے بات کی اور بتایا کہ میں فزکس میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں اور موجودہ مضامین کو چھوڑ کر دوبارہ سے فزکس میں تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہوں، انہوں نے میری بات بہت توجہ سے سنی، پھر مختلف جگہوں پر بات کرنے کے بعد میرے لیے ایک ریسرچ اسسٹنٹ کی نوکری تلاش کی۔ یہ نوکری میساچوسنٹس جنرل ہسپتال اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کی مشترکہ نوکری تھی۔ میرے ویزے کی شرائط میں یہ شامل تھا کہ اگر میں کوئی نوکری کروں گا تو کسی تعلیمی ادارے میں کروں گا۔

اس نوکری کے ساتھ ہی مجھے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی بوسٹن کے شعبہ طبیعات میں داخلہ بھی مل گیا۔ اس شعبہ میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں ڈاکٹر آر جی سیڈ (RG Seed) نے مجھے لیزر (LASER) کے لیے ہونے والی تحقیقات کی ٹیم کا ایک رکن بنالیا۔ یہ ٹیم امریکی محکمہ دفاع کے لیے سیمی کنڈکٹرز کے بارے میں تحقیقات کر رہی تھی۔

اس موقع پر عام قاری کی معلومات کے لیے میں لیزر کے بارے میں کچھ تاریخی حقائق بھی بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس زمانے میں جس طرح سے ریڈیو ویو کا ذکر ہوتا تھا اسی طرح سے تجربہ گاہ میں مائیکٹرو ویو کا بھی ذکر ہوتا رہتا تھا۔ وہاں ایک مشین تھی جسے ماسر (MASER) (Microwave Amplification by the Stimulates Emission of Radiation) کہا جاتا تھا۔ بعد میں جب اس کام میں ترقی ہوئی اور روشنی ویو (Light Wave) کا استعمال شروع ہوا تو اس کا نام آپٹیکل ماسر (Optical Maser) رکھا گیا۔

ایک کمپنی ماسٹر آپٹکس کے نام سے بوسٹن میں کھولی گئی جس میں چچا جان نے کچھ عرصے کے لیے کام بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان ویوز پر بہت تحقیقات ہوئیں اور قومی تجربہ گاہوں، یونیورسٹیوں اور حکومت امریکا کے مختلف اداروں میں ان پر تجربات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان میں سے ایک تجربہ گاہ نیو میکسیکو کے شہر الاماؤس میں واقع ہے جہاں امریکا کے دو ایٹم بم بنائے گئے۔ مجھے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے کئی دفعہ یہاں جانا پڑا کیونکہ میری ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری یہ بھی تھی کہ سائنسی دریافت کو نجی شعبے کے تجارتی اداروں تک پہنچایا جائے جیسے آئی بی ایم اور ٹیکساس انسٹرومنٹ جیسے ادارے۔

انہوں نے 1966 ء میں ٹیکساس انسٹرومنٹ میں نوکری شروع کی تو اس وقت یہ کمپنی دنیا میں سیمی کنڈکٹر بنانے والی سب سے بڑی کمپنی تھی۔ ان ٹیل نام کی کمپنی بہت بعد میں بنی اور انہوں نے سین جوز کے علاقے کو اس کام کے لیے چنا۔ اب یہ علاقہ سلیکون ویلی کہلاتا ہے۔ اسی زمانے میں آپٹیکل ماسر کا نام بدل کر اسے لیزر (Laser) کا نام دیا گیا۔

تھوڑے عرصے کے بعد دوسرے قسم کے لیزر بھی دریافت ہوئے جیسے گیس لیزر یا روبی لیزر۔ روبی لیزر اپنے قسم کی بہت مختلف لیزر ہے۔ جب روبی روڈ کو ایک خاص قسم کے حالات میں خاص قسم کی روشنی کی زد میں لایا گیا تو اس میں سے بہت ہی طاقتور روشنی کی ایک نئی لہر پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس سے لیزر گن کی ایجاد ہوئی۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ تم نے فلم گولڈ فنگر دیکھی ہوگی، اس میں انہوں نے اسی خیال کو فلما کر دکھایا ہے کہ جب ایک بہت بڑا روبی لاکر اس میں سے لیزر کی ایک لہر پیدا کی گئی جس سے لوہے کی ایک دیوار کو کاٹا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیزر کی روشنی کی خوبی یہ ہے کہ وہ پھیلتی نہیں ہے، جتنا بھی دور اسے بھیجا جائے یہ اسی طرح سے ایک ہی سمت میں بیم کی طرح جائے گی۔ لیزر کی روشنی کی بیم کو چاند پر فائر کر کے بہت سے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ ان سے مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ لیزر آج کل کی زندگی میں ہر وقت ہمارے ساتھ ہے جیسے دکانوں میں کیش کا رجسٹر، رابطوں کے ذرائع میں ان کا استعمال، سرجری اور بے شمار دوسرے پیشوں میں ان کا عمل دخل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لیزر کا پہلا ڈگری پروگرام نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی بوسٹن میں شروع کیا گیا۔ جہاں سے میں نے اپنی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور پی ایچ ڈی کرنے کے دوران ہی ٹیکساس انسٹرومنٹ میں کام کرنے کے لیے ڈیلاس چلا گیا جو ٹیکساس کا ایک بڑا شہر ہے۔ وہاں میں نے سیمی کنڈکٹر ریسرچ اور ڈیولپمنٹ لیبارٹری میں کام کیا جہاں دنیا کا پہلا (IC) Intigrated circuit انٹگریٹڈ سرکٹ بنایا گیا۔ بنانے کا یہ فارمولا تھا کہ ایک سلیکون کی چپ پر بہت سارے ٹرانسسٹرز لگا دیے جائیں۔ آج کل یہ کروڑوں کی تعداد میں لگائے جاتے ہیں یہ اس لیے ممکن ہوا ہے کہ ٹرانسسٹرز بہت ہی چھوٹے سے چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دنیا کی پہلی لیزر کانفرنس بوسٹن میں ہوئی جس کو منظم کرنے والوں میں وہ بہت سرگرمی سے شامل تھے اور اس وقت کے سائنسدانوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ آگے کی دنیا میں لیزر کیا کیا انقلابات لے کر آئے گا۔ اس زمانے میں کہا جاتا تھا کہ لیزر کی ایجاد ہو گئی ہے مگر اس کی ضرورت کا ابھی تک پتہ نہیں چلا ہے۔ اس وقت کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ لیزر آنے والی دنیا میں زندگی کے ہر شعبے میں کام آئے گی۔

اچھی بات یہ ہے کہ ان ہنگامہ خیز سرگرمیوں کے دوران ہی انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کی اور انہیں یہ سند تفویض کی گئی۔

امریکا کے محکمہ دفاع کے پروجیکٹ میں کام کرنے سے یہ فائدہ ہوا کہ مجھے جلد ہی گرین کارڈ مل گیا اور ساتھ ہی امریکا کی شہریت بھی مل گئی۔ امریکا میں ہر اس شخص کے لیے آسانی پیدا کردی جاتی ہے جس کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ امریکا کے لیے مفید ثابت ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے پڑھے لکھے کارآمد لوگوں کو امریکا کا ویزا اور سکونت مل جاتی ہے۔ وہ اپنے نئے ملک میں بہت دل لگا کر بڑی محنت سے کام کرتے ہیں جس سے انہیں تو فائدہ ہوتا ہی ہے مگر وہ امریکا کے لیے بھی بہت زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ امریکا میں قابل لوگوں کی بہت قدر کی جاتی ہے۔

وہ بہت دنوں تک امریکی یونیورسٹیوں میں فزکس کے شعبے میں تحقیقات کے متعلق امداد دینے والے ادارے کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس نوکری کے دوران انہیں سفر کا بہت موقع ملا اور امریکا کے بے شمار تعلیمی اداروں کو دیکھنے کا تجربہ ہوا جس سے ان کی معلومات میں قابل قدر اضافہ ہوا اور انہیں امریکا اور وہاں کے لوگوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا بہت اچھا موقع ملا۔ امریکا بہت بڑا ملک ہے جس میں ہر ریاست کی اپنی الگ خوبیاں اور برائیاں ہیں۔ یہاں بہت ساری خوبصورت جگہیں بھی واقع ہیں اور بے شمار جنگلات، دریا، پہاڑ اور سمندر کے ساحل ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکا کے عام لوگوں کو بھی تعلیم سے بے انتہا دلچسپی ہے۔ وہاں سب کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔

گو کہ چچا جان کا تعلق فزکس سے ہے اور پاکستان میں رہتے ہوئے وہ مرغی، مچھلی اور ہر قسم کے گوشت اور بہاری کباب وغیرہ و ذوق و شوق سے کھاتے رہے مگر اب وہ مکمل طور پر ویگن ہیں یعنی وہ کسی بھی قسم کا گوشت انڈا دودھ اور جانوروں سے بنائی ہوئی کوئی چیز نہیں کھاتے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز استعمال کرتے ہیں جس میں جانوروں کی کوئی چیز استعمال کی جاتی ہے۔ ان کے جوتے، بیلٹ وغیرہ سب کپڑوں کے ہوتے ہیں۔ رضوی چچا نے اس بارے میں بھی ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں جانوروں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی لیکن ہوا یہ کہ جب وہ 1970 ء میں ٹیکساس میں رہ رہے تھے تو ان کا ایک پڑوسی اپنے گھر میں اپنی دو پالتو بلیوں کو چھوڑ کر کہیں چلا گیا۔ یہ دونوں بلیاں انسانوں کے ساتھ رہنے کی عادی تھیں اور پریشان ہو کر میاؤں میاؤں کر رہی تھی، لیکن انہوں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی دن ایک بہت خوبصورت لڑکی جس کا نام باربرا تھا ان بلیوں کی آوازیں سن کر انہیں تلاش کرتی ہوئی آ گئی اور مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے یہ بلیاں دیکھی ہیں۔

میں نے کہا کہ میں نے دیکھی ضرور ہیں مگر مجھے نہیں معلوم کہ میں ان کے لیے کیا کر سکتا ہوں۔ جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ”کم از کم آپ ان بلیوں کو کھانا تو کھلا سکتے ہیں۔“ انہوں نے بتایا کہ وہ اس لڑکی کی خوبصورتی سے بہت زیادہ متاثر ہو گئے۔ انہوں نے بلیوں کا خال رکھنے کا وعدہ یہ سوچتے ہوئے کیا کہ اس طرح سے لڑکی سے دوستی ہو جائے گی۔ انہوں نے ان بلیوں کو کھانا پابندی سے کھلانا شروع کر دیا۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کی اس سے دوستی بھی ہو گئی، ان دونوں نے مل کر ان کا نام ’گوندا‘ اور ’سوفیانہ‘ رکھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ لڑکی اپنی زندگی کے راستوں پر چلتی ہوئی کہیں دوسری جگہ چلی گئی مگر وہ بلیوں اور جانوروں کی محبت میں گرفتار ہو گئے اور آج تک اسی میں گرفتار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں احساس ہوا کہ انسان جانوروں پر کتنی زیادتی کرتے ہیں۔ وہ جانوروں سے کام لیتے ہیں، ان سے کھانے کے بدلے میں بیگار کراتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں قتل کر کے کھا جاتے ہیں۔ انہیں اس بات سے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جانوروں کو ذبح کرنے کے دوران ان پر شدید قسم کا تشدد کیا جاتا ہے۔ عام زندگی میں بھی انسان جانوروں کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ مجھے بہت برا لگنے لگا۔ اس سلسلے میں جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو مجھے بے شمار تحریریں ملیں کہ کس طرح سے انسانوں نے جانوروں کو ایک صنعت میں تبدیل کر دیا ہے۔ مرغی سے لے کر گائے بھینس تک، اونٹ، گھوڑوں سے لے کر پرندوں تک اور جنگلوں، سمندروں اور برف میں رہنے والے جانوروں تک، انسان ان سب کا استحصال کرتا ہے ان پر ظلم کرتا ہے، ان کی تجارت کرتا ہے اور اپنے منافع کے لیے ان سے ہر وہ سلوک کرتا ہے جو ناجائز ہے اور کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3