تم جیو ہزاروں سال


وہ کہتے ہیں کہ ہمیں جانوروں کو اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی اہمیت ہم انسانوں کو دیتے ہیں۔ تمام جانوروں کے احساسات ہوتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں، سنتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں۔ انہیں درد بھی ہوتا ہے، خوشی بھی ہوتی ہے۔ وہ ہنستے ہیں اور انہیں تکلیف بھی ہوتی ہے۔ ہمیں جانوروں کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے۔ ہمیں ان کی عزت کرنی چاہیے، ان کا خیال رکھنا چاہیے۔

جب میں نے جانوروں کے تحفظ کی مہم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں جانوروں کے تحفظ کی مہم کو دو ادوار میں بیان کیا جاسکتا ہے، ایک 1980 سے پہلے اور دوسرا 1980 کے بعد ۔ 1980 ء سے پہلے ایک طرح سے یہ بات مانی جاتی تھی کہ جانوروں کو انسان اپنے مفاد میں استعمال کر سکتا ہے جب تک وہ جانوروں پر ظلم اور زیادتی نہ کرے مگر اس خیال کو 1980 ء کے بعد رد کر دیا گیا اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے کہا کہ انسان کو اس قسم کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ جانوروں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کریں۔ آسٹریلیا کے فلسفی پیٹرسنگر کی کتاب اینیمل لبریشن (Animal Liberation) نے جانوروں کے حقوق کے تصور کو مکمل طور پر ایک دوسرے انداز سے پیش کیا۔ اس موقع پر لفظ ”پالتو“ کے بدلے میں ”ساتھی“ یا ”سرپرست“ کا لفظ استعمال کیا جانے لگا اور انہیں خاندان کا فرد تسلیم کیا گیا۔

جیسے جیسے جانوروں کے بارے میں میری معلومات میں اضافہ ہوتا گیا اور مجھے پتہ چلا کہ ”ہیمبرگر“ دراصل گائے کا قیمہ ہے یعنی زندہ گائے کو مار کر اس کے گوشت کو کچل کر پھر آگے میں پکا کر کھایا جاتا ہے۔ ”ویل“ (Veal) گائے کے بچے کا گوشت ہے جسے پیدا ہوتے ہی مار دیا جاتا ہے اور اس کے نرم گوشت کو کھا کر لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ غیر انسانی حرکت ہے۔

اس موقع پر تین بہت اہم کام ہوئے جب پیٹرسنگر کی کتاب جانوروں کی آزادی کے بارے میں چھپ کر آئی تو واشنگٹن میں PETA کے نام سے جانوروں کے تحفظ کے لیے ایک ادارہ قائم کیا گیا اور واشنگٹن میں ہی ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے پی سی آر ایم (PCRM) کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس نے انسانوں کی صحت کے لیے جانوروں کا استعمال غلط قرار دیا، ساتھ ہی یہ مہم بھی چلائی کہ میڈیکل کے تجربہ گاہوں میں جانوروں پر تجربات بند کیے جائیں۔

اسی زمانے میں ہی جب میں ٹیکساس میں اور نارتھ کیرولینا میں ریسرچ ٹرینگل پارک میں مختلف سائنسدانوں کے ساتھ کام کر رہا تھا، ہم لوگوں نے مل کر ایثار (ESAR) (انجینئرز اینڈ سائنٹسٹ فور اینیمل رائٹ) کے نام سے ایک تنظیم بنائی جو جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہے۔

جانوروں کے لیے حقوق کی مہم میں کچھ لوگوں نے مل کر ایک رسالہ ”اینیمل ایجنڈا“ کے نام سے نکالا جو پابندی کے ساتھ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس رسالے کے ادارتی بورڈ میں شامل رہے اور کئی سال کام کرتے رہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ساری دنیا میں جانوروں کے حقوق کے لیے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔ پیٹرسنگر کا کہنا ہے کہ جانوروں کے بھی اتنے ہی حقوق ہیں جتنے انسانوں کے ہیں۔ جانوروں کو ہمارے پیار کی ضرورت نہیں ہے، انہیں انصاف کی ضرورت ہے۔ جانوروں سے محبت کرنے سے جانوروں کے حقوق بحال نہیں ہوں گے، ہمیں ان کے لیے ایسے ہی کام کرنا چاہیے جیسے ہم مہاجروں، سیاہ فام لوگوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ آپ یہ نعرہ نہیں لگاتے ہیں کہ مہاجروں اور سیاہ فام لوگوں سے محبت کی جائے۔ ہم کہتے ہیں کہ مہاجر اور سیاہ فام لوگوں کو حقوق دیے جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ امریکا میں جانوروں کا خیال رکھنے والے ادارے ہیں لیکن امریکا سمیت دنیا کے بہت سارے ممالک میں جانوروں سے جس قسم کا سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ بہت بے رحمانہ غیر انسانی اور غیراخلاقی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کئی سال پہلے ان کی نظر سے ایک کتاب گزری جس کا نام تھا Animal in Islam جو شاہ جہان مسجد ووکنگ برطانیہ کے امام الحافظ بشیر احمد المصری نے لکھی تھی۔ میں اس کتاب کو پڑھ کر حیران ہو گیا۔ بشیر احمد صاحب کی وجہ سے مجھے پتہ چلا کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ جانوروں کے ساتھ ناجائز اور ناروا سلوک کیا جائے۔ انہوں نے ان کی یہ کتاب پاکستان میں اینمل ویلفیئر سوسائٹی اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے تعاون سے دوبارہ چھاپنے کا اہتمام کیا۔

اس کتاب میں جانوروں کے حقوق کی نشاندہی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ جانور زمین پر ہمارے ساتھی ہیں اور ہم زمین ہیں، جس طرح سے زمین پر انسانوں کے حقوق ہیں اسی طرح سے جانوروں کے بھی حقوق ہیں جن کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ قدرت نے جانور اس لیے نہیں بنائے کہ انسان ان کا استحصال کرے۔ اپنے منافع اور اپنی ضرورت کے مطابق ان کو بے رحمی سے قتل کرے، ان سے کام لے، ان پر تشدد کرے اور ان کے حقوق کو پامال کرے، یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔

انہوں نے اس کتاب کے دو ایڈیشن چھاپے ہیں اور دنیا کے کئی اسلامی ملکوں میں اہم شخصیات کے ساتھ مختلف یونیورسٹیوں کو بھی بھیجے ہیں۔

رضوی چچا پاکستان سے جانے کے بعد چار دفعہ پاکستان اور ہندوستان آئے ہیں اور اپنی جانی پہچانی جگہوں پر خوب گھومے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے کئی ممالک میں اپنے کام کی وجہ سے وقت گزارا ہے۔ وہ انسانیت پر پورا یقین رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایک دن ساری دنیا میں انسان جانور اور فطرت ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں گے اور ایک دوسرے کی عزت کریں گے۔

وہ بہت زیادہ پڑھتے لکھتے رہتے ہیں۔ وہ سائنس کی کتابیں خاص طور پر فزکس سے بہت دلچسپی ہے۔ انہیں انگریزی اور اردو ادب پڑھنے کا شوق ہے۔ وہ شاعری سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں اور موسیقی ان کی کمزوری ہے۔ وہ امریکا میں ہر سال ان سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہیں جن میں جانوروں پر ظلم کے خلاف بات کی جاتی ہے یا کوئی مہم چلائی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ جانوروں، پرندوں اور سمندر میں موجود مخلوق کو قتل کر کے انسان کیا حاصل کرتا ہے۔

رضوی چچا پاکستان کے سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی نظام کے بارے میں بہت سوچتے رہتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں غربت کی وجہ جہالت اور ناخواندگی ہے۔ وہ فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ وہ پاکستان کے حالات سے بہت باخبر رہتے ہیں۔ انہیں بہت افسوس ہے کہ پاکستان میں جنگل سے شہروں میں داخل ہونے والے جانوروں کو گولی مار دی جاتی ہے۔

پچھلے دنوں ان کا فون آیا اور ان کی آواز سے لگا کہ وہ بہت فکرمند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی کے گاندھی گارڈن میں نورجہاں نام کی ہتھنی کی بیماری اور اس کے ساتھ ہونے والے سلوک سے بہت پریشان ہیں۔ اول تو جانور کو قید نہیں کرنا چاہیے اور اگر قید کر لیا گیا ہے تو ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ ان کے کھانے پینے کا مناسب انتظام ہونا چاہیے، ان کی بیماری کا علاج اسی تندہی سے کرنا چاہیے جس تندہی سے ہم اپنے رشتے داروں اور خاندان کے افراد کا علاج کرتے ہیں۔ فون پر ان کی آواز میں بہت درد تھا اور وہ بہت پریشان لگ رہے تھے۔

وہ پاکستان میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے بھی مخالف ہیں اور اقلیتوں پر ہونے والے ظلم کے بہت خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس طرح نہیں ہونا چاہیے۔ کسی بھی ملک میں مذہب، نسل زبان، قومیت کی بنیاد پر کسی کو بھی نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ انسانوں کو انسانوں سے محبت کرنا چاہیے اور مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

انہیں پاکستان میں غیرت کے نام سے قتل ہونے والی لڑکیوں کا بھی بہت دکھ ہے۔

ان سے میری کم ملاقاتیں ہوتی ہیں مگر فون پر اکثر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ سائنس کے موضوع پر وہ بے شمار معلومات بہم پہنچاتے ہیں۔ وہ سائنس کی ترقی کے معترف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ سائنس کو انسانوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

وہ ایک بہت سادہ سے انسان ہیں، جب بھی ان سے ملاقات ہوتی ہے تو مجھے ان کا چہرہ بہت معصوم سا لگتا ہے۔ ان کے ساتھ آتے جاتے میں نے محسوس کیا ہے کہ راہ میں چلتے ہوئے اور گھروں میں موجود پالتو جانور ان کے بہت قریب آ جاتے ہیں۔ جانوروں کے لیے ان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی کشش ہے۔ میں نے یہ بات اپنے ایک اور ویگن دوست سے کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ نظریہ یہ ہے کہ جو لوگ گوشت نہیں کھاتے ہیں جانوروں کو ان کے جسم سے مردہ جانوروں کی بو نہیں آتی ہے، مجھے اس نظریے کی حقیقت کا اندازہ نہیں ہے لیکن یہ میرے مشاہدے میں ہے کہ جانور اس قسم کے لوگوں کے دوست بن جاتے ہیں۔

میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ امریکا میں رہتے ہوئے نہ تو ڈیموکریٹ ہیں اور نہ ہی ری پبلکن ہیں۔ وہ ہر اس سیاسی جماعت اور نظریے کے خلاف ہیں جو رواداری، انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق اور جانوروں کے حقوق کے خلاف ہے۔

وہ جھوٹ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ وہ اردشیر کاؤس جی کے کالم بہت پابندی سے پڑھتے رہے اور ان کا خیال ہے کہ اس قسم کی آواز سماج کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

وہ پاکستان کی سیاست میں دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں عمران خان کی سیاسی جماعت کی حمایت کرتے رہے، لیکن اب وہ ان کے مخالف ہو گئے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ عمران خان مذہب کا استعمال کر رہے ہیں اور بعض ایسے مذہبی نعرے لگا رہے ہیں جو مناسب نہیں ہے۔ ملکوں اور سماج کے کاموں میں مذہبی جذبات کو استعمال نہیں کرنا چاہیے، مذہب انسانوں کا ذاتی معاملہ ہے۔ کسی بھی ریاست کو مذہب کا سیاسی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

میں نے ان سے سیکھا ہے کہ کسی بھی صورت اور حالت میں انسانوں کو جانوروں پر تشدد نہیں کرنا چاہیے، جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، دوسروں کے خیالات سے متفق ہوئے بغیر بھی ان کی عزت کرنی چاہیے۔ انسانوں کوایک دوسرے کے کام آنا چاہیے کیونکہ انسان ایک دوسرے کی مدد کر کے ہی ترقی کر سکتے ہیں۔

ان کی وجہ سے مجھے بہت ساری سائنسی ایجادات اور سائنس میں ہونے والی ترقی کے بارے میں پتہ چلتا رہتا ہے۔ میں ان کی علمیت کا معترف ہوں اور جب بھی ان سے ملتا ہوں یا بات کرتا ہوں تو مجھے خوشی ہوتی ہیں۔

وہ ایک خاموش، پرامن جنگجو ہیں، جن کی جنگ ان لوگوں کے خلاف ہے جو جانوروں پر ظلم کرتے ہیں۔ ان میں زبردست رواداری ہے۔ وہ خود بھی وہی بولتے ہیں جو صحیح سمجھتے ہیں، اور دوسروں سے بھی وہ یہی چاہتے ہیں کہ وہ سچ بولیں جو وہ صحیح سمجھتے ہیں اس کا اظہار کریں۔ ان کے بے شمار دوست اور مداح ہیں اور وہ ان کے ساتھ ایسے ہی ہیں جیسے ایک گھنے درخت کا سایہ۔

جولائی 2013 ء میں، میں چچا جان سے ملنے اپنے دوست شاہد علی کے ساتھ سین ہوزے کیلیفورنیا گیا۔ میں کبھی بھی ان کے اس گھر میں نہیں گیا تھا۔ گھر کے سامنے ہی بیٹھی ہوئی کئی بلیوں نے میرا استقبال کیا، یہ ان کی ساتھی بلیاں نہیں تھیں۔ یہ محلے کی وہ بلیاں تھیں جو ان کے گھر کو پنا سمجھتی ہیں، وہ محلے کے مختلف گھروں میں کھانا کھاتی ہیں اور ان کے گھر کے سامنے کھلے حصے میں آرام فرماتی ہیں۔ وہ اپنے گھر آتے جاتے ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، میرے سامنے یہ دو دفعہ ہوا۔

ان کے گھر میں چلنے پھرنے کی جگہ نہیں تھی، ہر طرف کتابیں تھیں جنہیں پڑھا گیا تھا۔ ایسا ایک گھر میں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں جب کئی سال قبل میں ممبئی میں علی سردار جعفری کے فلیٹ میں ان سے ملنے گیا تھا، ان کے گھر میں بھی اتنی ہی کتابیں تھیں جن کے درمیان سے سنبھل سنبھل کر آنا جانا ہوتا تھا۔ باورچی خانے سے باتھ روم تک اور ان کے سونے کے کمرے سے مہمانوں کے کمرے تک کتابوں کو دیکھ کر میں خوش ہو گیا اور سب سے زیادہ خوشی یہ دیکھ کر ہوئی کہ اردو ادب کی کتابوں میں میری بھی چند کتابیں موجود تھیں۔

میں اور شاہد ان سے گپ مارتے رہے پھر تقریباً چار میل دور جہاں وہ روزانہ چل کر جاتے اور کافی کی دکان سے کافی پی کر واپس آتے ہیں، اسی علاقے کے ایک تھائی ریسٹورنٹ میں سبزیوں والا کھانا کھانے گئے اور دیر تک دنیا جہان کی باتیں کرتے رہے۔ وہ دنیا میں ہونے والے مظالم، نا انصافی، ماحول کی تباہی کے سخت خلاف تو ضرور ہیں مگر وہ مایوس نہیں ہیں۔ انہیں امید ہے کہ جب بھی علم کی روشنی پھیلے گی آگہی کے چراغ جلیں گے تو ذہن آزاد ہوں گے اور انسان اپنے بارے میں کم اور دنیا اور ساری کائنات کے بارے میں زیادہ سوچے گا، ایسا انسان نہ صرف یہ کہ اپنے جیسے انسانوں کا خیال کرے گا بلکہ زمین پر رہنے اور بسنے والے تمام جانداروں کو اپنے خاندان کا فرد سمجھے گا۔
ان کا معصوم چہرہ، چوڑی پیشانی، روشن آنکھیں اور مسکراتے لبوں پر امید کی کرن دیکھ کر میں خوش ہو گیا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3