عسکری اور سیاسی قیادت میں علیحدگی کیوں ضروری ہے؟
1993 ء میں غلام اسحاق خان نے نواز شریف کو برطرف کیا لیکن سپریم کورٹ نے ان کی حکومت بحال کر دی۔ تاہم نواز شریف پارلیمنٹ اور عدلیہ کی حمایت کے باوجود اقتدار پر اپنی گرفت قائم نہیں رکھ سکے۔ غلام اسحاق خان کے پاس جادو کی وہ کون سی چھڑی تھی جس کی مدد سے وہ جاتے جاتے نواز شریف کو بھی لے ڈوبے۔ جادو کی یہ چھڑی جنرل وحید کاکڑ کے پاس تھی جو 1993 ء میں فوج کے سربراہ تھے۔ ایک مرتبہ پھر بے نظیر برسراقتدار آئیں۔ اس موقع پر فوج کے اثرو رسوخ کی جھلک بھی یوسف رضا گیلانی کی زبانی ملاحظہ کریں۔
انیس سو ترانوے میں گیلانی سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو رکن اسمبلی نواب اکبر بگتی نے بلوچی زبان میں خیر مقدمی تقریر کی جس پر ایک رکن نے اعتراض کیا جسے نو منتخب سپیکر نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ جذبات کی بہتر ترجمانی مادری زبان ہی میں ہو سکتی ہے۔ اس واقعہ کے حوالے سے وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ”جب میں اپنے چیمبر میں پہنچا تو فون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف سے گرجدار لہجے میں کہا گیا کہ سپیکر صاحب! آپ نے بگتی کو بلوچی زبان میں تقریر کرنے کی اجازت کیوں دی؟ فوج نے اس کا سخت برا مانا ہے“ ۔ گیلانی کہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتے فون بند ہو چکا تھا۔
گیلانی مزید لکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی برطرفی سے ایک رات قبل جنرل جہانگیر کرامت نے ایک عشائیے پر ان سے بات کرتے ہوئے صدر لغاری اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے درمیان ضامن بننے کی پیشکش کرتے ہوئے بتایا کہ چند دن پہلے نواز شریف کی ایک فون کال ٹیپ کی گئی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ صدر نے اسمبلی تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ گیلانی نے جہانگیر کرامت کی پیشکش کے بار ے میں بے نظیر بھٹو کو آگاہ کیا تو ان کا جواب تھا ”مجھے شرم آتی ہے کہ میں اپنے ہی صدر کی ضمانت آرمی چیف سے لیتی پھروں“ ۔
اس سارے عرصے میں بے نظیر ہوں یا نواز شریف، انہیں نادیدہ ہاتھوں نے چین سے کام نہیں کرنے دیا۔ آئے روز ایک نیا بہانہ، ہر روز ایک نیا بحران، ذرائع ابلاغ میں اشقلے، بین الاقوامی سطح پر ایسی پالیسیاں جنہیں سیاسی قیادت نگل سکے نہ اگل سکے۔ بالآخر 12 اکتوبر 1999 ء کو پرویز مشرف نے درشنی جھروکے کا پردہ ہٹا کر جلوہ انوارکو ارزاں کر دیا۔ پرویز مشرف کی فوجی حکومت میں سیاست دانوں اور سیاسی قیادت پر جو الزام دھرے گئے، وہ سب کے سامنے ہیں۔ جنرل مشرف نے سیاسی عمل اور جمہوری حکمرانی پر زبان طعن دراز کرنے میں کیا کسر چھوڑی۔ جمہوریت کو محض ایک ’لیبل‘ یا مہر قرار دیا، آئین، جمہوریت اور عوامی دانش کی سرعام توہین کی، سیاسی قیادت کو بدعنوان اور نا اہل قرار دیا، اپنی خود ساختہ پارلیمنٹ کو گنواروں کے اجڈ ہجوم کا خطاب دیا، قومی اسمبلی میں صدر کے آئینی خطاب کے بعد حزب اختلاف پر مکے لہرائے۔ حتیٰ کہ اپنی تصنیف لطیف میں پاکستان کی اس سیاسی قیادت کو بھی نہیں بخشا جو 1971 ء میں اس وقت بچے کھچے پاکستان کی کرچیاں سمیٹ رہی تھی جب پرویز مشرف 28 برس کی عمر میں فوجی میجر کے عہدہ جلیلہ پر فائزتھے۔ لیکن اس لاحاصل مشق کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی عوام نے 18 فروری 2008 ء کے انتخابات میں ایک بار پھر فوجی قیادت اور اس کے خوان نعمت کے خوشہ چینوں کو بری طرح رد کر دیا۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے والے دو مختلف اجزا میں کشمکش کی یہ نوبت کیوں آتی ہے۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ فوج اور معاشرہ اپنی نوعیت، کردار اور طریقہ کار کے حوالے سے دو مختلف مظاہر ہیں۔ جو مہارتیں اور طریقہ کار فوج میں اختیار کیے جاتے ہیں، انہیں معاشرے پر لاگو کیا جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ ادھر جو مہارتیں اور عملی اصول معاشرے کے لیے کارآمد ہیں انہیں فوج میں رائج کیا جائے تو فوج اپنے فرائض منصبی ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کر سکتی۔
فوج میں تمام کارروائیوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف یہ کہ دشمن سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے بلکہ غیر متعلقہ افراد کو بھی لاعلم رکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف سیاسی عمل میں پارلیمنٹ ہوں یا عدالتیں، ان کی کارروائیاں طے شدہ ضابطوں کے مطابق اور شفاف طریقے سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ فوج میں قیادت کی وحدانیت کا تصور پایا جاتا ہے جس میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ دوسری طرف سیاسی عمل میں قوم کی اجتماعی فراست اور مشاورت کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اختلاف رائے جو عسکری اداروں کے لیے زہر قاتل ہے، جمہوریت کے لیے لازمی امر ہے۔
اسی طرح فوجی کارروائی میں مخالف قوتوں کو حیران کرنے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے تاکہ وہ اچانک حملے کی تاب نہ لا کر پسپا ہو جائیں، دوسری طرف سیاسی عمل میں ایک نامیاتی ارتقا پایا جاتا ہے جس میں تسلسل اور تواتر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سیاسی عمل میں حیران کرنے کی حکمت عملی عارضی جب کہ طے شدہ منزل کی طرف پیش قدمی تسلسل رکھتی ہے۔ ایک فوجی کمانڈر کو مخالف کی نیت پر شک کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اسے خود کو ہر طرح کی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار رکھنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف سیاست اعتماد کے پل باندھنے کا عمل ہے۔ مسلسل شکوک شبہات کی فضا میں سیاسی عمل فساد اور تفرقے کی طرف لے جاتا ہے۔ سیاست مختلف گروہوں، طبقات اور خطوں میں باہم اعتماد پیدا کرنے کا عمل ہے۔
فوجی حکمت عملی میں دو رخی چالوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن سیاسی عمل میں یہی دو رخی دھوکا دہی اور موقع پرستی شمار ہوتی ہے۔ ایک فوجی کمانڈر کے لیے اپنے ارادوں پر پردہ ڈالے رکھنا جائزہے لیکن سیاسی رہنما کو عوام کے سامنے اپنی رائے بیان کرنا ہوتی ہے۔ جنگ ایک ہنگامی صورت حال کا نام ہے لیکن کوئی صحت مند معاشرہ مستقل جنگ کو اپنا نصب العین قرار نہیں دے سکتا۔ سیاسی عمل کا نصب العین امن کا قیام ہے جب کہ عسکری قوتوں کا فرض جنگ کی تیاری ہے۔ عسکری قوت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے قوت کے استعمال پر یقین رکھتی ہے جب کہ سیاسی عمل پیداوار، تجارت اور علم کے سہارے آگے بڑھتا ہے۔ فوجی ذہن اپنی فتح اور مخالف کی مکمل شکست کے سوا کچھ سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جب کہ سیاسی طریقہ کار ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کا نام ہے جس میں جملہ فریقین کے مفادات کا زیادہ سے زیادہ تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ عسکری قوت اور سیاسی عمل ایک ہی دریا کے دو مختلف دھارے ہیں لیکن اس دریا کی روانی کا تقاضا ان دھاروں کو الگ الگ رکھنا ہے۔
چنانچہ جدید ریاست میں عسکری قوت کو سیاسی اداروں سے الگ رکھا جاتا ہے۔ علمی، تمدنی اور سیاسی قوتوں کو فوج پر بالا دستی دی جاتی ہے اور قومی سطح پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ فوج جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے، قوم کے سیاسی نصب العین، تمدنی رجحانات اور معاشی امکانات کی محتسب نہیں۔ جن قوموں میں سیاسی اور جمہوری قوتیں یہ اصول نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، وہ معاشرے جمہوریت اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ جن معاشروں میں سیاسی قیادت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر عسکری قوت اپنی بالا دستی قائم کر لیتی ہے وہ معاشرے مستقل بحران، پسماندگی اور اجتماعی ناکامی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔
Feb 19, 2016




Precise but comprehensive.
سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے والے دومختلف اجزا میں کشمکش کی یہ نوبت کیوں آتی ہے۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ فوج اور معاشرہ اپنی نوعیت، کردار اور طریقہ کار کے حوالے سے دو مختلف مظاہر ہیں۔ جو مہارتیں اور طریقہ کار فوج میں اختیار کیے جاتے ہیں، انہیں معاشرے پر لاگو کیا جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ ادھر جو مہارتیں اور عملی اصول معاشرے کے لیے کارآمد ہیں انہیں فوج میں رائج کیا جائے تو فوج اپنے فرائض منصبی ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کر سکتی۔ sir i 20000000% agree with you sir ap nay maray dil k bat leke hay q k hamay be is halat ka samna hay ye army walay apnay ap ko aqle qul samajtay hay
بہت خوب وجاہت صاحب۔