عسکری اور سیاسی قیادت میں علیحدگی کیوں ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


30 برس پرانی بات ہے۔ جنرل آصف نواز فوج کے سربراہ تھے۔ ایک غیرسرکاری تقریب میں جنرل آصف کے علاوہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، وزیر اعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی کے سپیکر گوہر ایوب بھی شریک تھے۔ اگلے روز تمام اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی جس میں صدر، وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کی پر اشتیاق نگاہیں فوج کے سربراہ کو ہالہ کیے ہوئے تھیں۔ ہر تین حضرات نے مصافحے کے لیے دست بیعت دراز کر رکھا تھا جب کہ جنرل آصف نواز تینوں حضرات سے پرے کسی غیر متعین نکتے پر نظریں گاڑے ہوئے تھے۔ ایک سماجی تقریب میں لی گئی اس بظاہر غیر اہم تصویر کا اصل مقصد عوام پر یہ واضح کرنا تھا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ کون ہے۔ سوال یہ ہے کہ 1991 سے 2021 ء تک آتے آتے کیا سول اور عسکری قیادت کی باہمی میزان میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اگر کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے تو اس تبدیلی کی سمت کیا ہے؟

پاکستان میں فوج اور سیاسی قیادت میں بالادستی کے لیے کشمکش کی تاریخ پرانی ہے۔ دراصل انسانی تاریخ میں کوئی معاشرہ اس کشمکش سے خالی نہیں رہا۔ تاریخ کی ابتداہی سے فوجی قوت اقتدار کا سرچشمہ رہی ہے۔ فلسفہ حکومت کا یہ زاویہ خاصا جدید ہے کہ کسی معاشرے میں عسکری قوت پر علمی، پیداواری اور تمدنی قوتوں کی بالادستی قائم کیے بغیر امن، ترقی، استحکام اور خوش حالی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔ پہلی عالمی جنگ میں فرانس کے وزیر اعظم کلے منشیو اپنے جنرلوں کو بار بار سمجھاتے تھے کہ جنگ جیسا سنجیدہ معاملہ محض جرنیلوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دوسری عالمی جنگ میں برطانوی وزیرا عظم ونسٹن چرچل کو جنرل ویول، جنرل آکن لیک اور جنرل منٹگمری سمیت دوسرے جرنیلوں کو بار بار رد و بدل کر کے یہی پیغام دینا پڑتا تھا۔ آزاد بھارت میں پنڈت نہرو اور اندرا گاندھی سے لے کر اٹل بہاری واجپائی تک سیاسی قیادت کو مصمم ارادے اور پر عزم طریقے سے عسکری عزائم کو ان کی حدود میں رکھنا پڑا۔ عسکری قوت اور سیاسی قیادت میں اس خلیج کے فکری پہلوؤں سے قبل اس ضمن میں پاکستانی تاریخ پر ایک نظر ڈال لینا بہتر ہو گا۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد کشمیر کا تنازع شروع ہو گیا۔ 1947۔ 48 ءکے موسم سرما میں پاکستانی فوج کی سربراہی جنرل فرینک میسروی کے ہاتھ میں تھی جو برطانوی فوج کی درجہ بندی میں فیلڈ مارشل آکن لیک کے ماتحت تھے۔ فیلڈ مارشل آکن لیک نئی دہلی میں بھارتی فوج کی قیادت کر رہے تھے۔ جنرل فرینک میسروی نے ریاست جموں کشمیر کے ضمن میں پاکستان کے گورنر جنرل محمد علی جناح کا حکم ماننے کے بجائے فیلڈ مارشل آکن لیک کو پاکستانی حکومت کے ارادوں سے آگاہ کر دیا۔ جس پر انہیں برطانوی حکام بالا سے بہت داد ملی کہ انہوں نے ایک بڑی جنگ روک دی ہے۔ جنرل فرینک میسروی کی پہل کاری کے بین الاقوامی اثرات اپنی جگہ لیکن پاکستان کی بدقسمتی تھی کہ یہیں سے اس ملک میں اس روایت کی بنیاد رکھ دی گئی کہ فوجی حکام اپنی صوابدید کے مطابق سیاسی قیادت کی حکم عدولی کر سکتے ہیں۔

میجر جنرل اکبر خان کی وجہ شہرت 1947 ء کا کشمیر آپریشن اور راولپنڈی سازش کیس ہے۔ وہ اپنی کتاب میں ر قم طراز ہیں کہ انہوں نے ایک سرکاری تقریب میں گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کو کشمیر کی پالیسی کے حوالے سے کچھ تجاویز دینے کی کوشش کی لیکن قائد اعظم نے انہیں بری طرح ڈانٹ دیا کہ بحیثیت فوجی جنرل کے ان کا کام پالیسی تشکیل دینا نہیں، حکم ماننا ہے۔ قائد اعظم کے بعد کس سیاسی رہنما کی مجال تھی کہ فوجی قوت کو للکار سکے۔

فیلڈ مارشل ایوب خان اپنی خود نوشت سوانح ”جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی“ میں لکھتے ہیں کہ وزیراعظم لیاقت علی خان سرکاری فائلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے کاغذات کو ایک خاص زاویہ پر رکھتے تھے۔ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کی نظر کچھ کمزور ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ فوج کے چوالیس سالہ سربراہ جنرل ایوب خان کو اس میں کیا دلچسپی تھی کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بصارت کمزور ہو رہی ہے یا نہیں۔ دراصل فوجی افسر ہونے کے ناتے ایوب خان بصارت اور بصیرت میں تمیز کرنے سے قاصر تھے۔

حسین شہید سہروردی مشرقی پاکستان کے مقبول سیاسی رہنما تھے اور راولپنڈی سازش کیس میں وکیل صفائی تھے۔ مقدمے کی کارروائی میں سہروردی نے اپنے مخصوص انداز میں فوج کے کردار پر لطیف پیرائے میں چوٹیں کیں جو ایوب خان کی طبع نازک پر سخت گراں گزریں۔ وہ اپنی خود نوشت میں واضح طور پر لکھتے ہیں کہ جب انہیں سہروردی کی کابینہ میں وزیردفاع کے طور پر کام کرنا پڑا تو انہوں نے وزیر اعظم سہروردی کو صاف صاف بتا دیا کہ وہ وذرات دفاع میں مداخلت پسند نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ ایوب خان فوج کے سربراہ کی حیثیت سے سیکرٹری دفاع کے ماتحت تھے اور وزیر دفاع کی حیثیت سے سیکرٹری دفاع کے افسر بالا بھی تھے۔ وہ ایک ایسے وزیر اعظم سے شوخ چشمی پر اترا رہے تھے جو پارلیمنٹ کی حمایت سے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز تھا۔

اپنی فوجی تربیت کے باعث ایوب خان سیاسی عمل اور معاشرتی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی شخصی وجاہت اور قائدانہ صلاحیت کی بدولت پیچیدہ سیاسی مسائل حل کر سکتے ہیں۔ وہ پارلیمانی جمہوریت کو ایک غیر ضروری بکھیڑا اور سیاسی رہنماؤں کو کندہ نا تراش عطائی سمجھتے تھے۔ جمہوریت میں بظاہر ایک افرا تفری اور ہنگامے کی سی کیفیت نظر آتی ہے لیکن اس بے ترتیبی میں ایک نامیاتی حسن موجود ہوتا ہے جسے دو چار سو وردی پوش تنخواہ دار فوجیوں پر حکم چلانے والے میجر اور کرنل سمجھ نہیں سکتے۔ پنڈت نہرو نے اپنی سیاسی مہارت کی بدولت ایوب خان کو ہر موقع پر نکو بنا کر رکھ دیا۔ 1964 ء میں پندت نہرو کے انتقال کے بعد لال بہادر شاستری ہندوستان کے وزیر اعظم بنے۔ لال بہادر چھوٹے قد اور اکہرے بدن کے انسان تھے اور بظاہر ان کی شخصیت رعب اور دبدے سے خالی تھی۔ 1965 ء کی جنگ میں ایوب خان باقاعدہ اس زعم میں تھے کہ دو بالشت کا منحنی لال بہادر شاستری ان کی بلند و بالا اور سرخ و سپید شخصیت کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ لال بہادر شاستر ی نے جنوری 1966 ء میں تاشقند مذاکرات کے موقع پر ایوب خان کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ لال بہادر شاستری ہندوستان کے جمہوری وزیراعظم تھے، پاکستان کے سیاسی رہنما نہیں تھے جنہیں ایوب خان ایبڈو کا قانون لاگو کر کے منظر سیاست سے غائب کر دیتے۔

جنرل یحییٰ خان نے مارچ 1969 ء میں لیفٹیننٹ جنرل حمید خان، میجر جنرل پیرزادہ اور میجر جنرل گل حسن سے مل کر اقتدار پر قبضہ کیا۔ فوجی طالع آزماؤں کے اس ٹولے کا خیال تھا کہ وہ سیاسی رہنماؤں کو اپنی انگلیوں پر نچائیں گے۔ مشرقی پاکستان کے گورنر ایڈمرل احسن نے اپنی یاد داشتوں میں فروری 1971 ء میں راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ایک اعلیٰ فوجی اجلاس کا ذکر کیا ہے۔ ایڈمرل احسن کے بقول پنڈی کے فوجی حکام کا عمومی رویہ یہ تھا کہ حکم ملنے کی دیر ہے، فوج کی ایک کمپنی کالے بھجنگ بنگالیوں کو سیدھا کر دے گی۔ اس ضمن میں لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان اور لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ نیازی کے خیالات تاریخ کا حصہ ہیں۔ انتخابی عمل سے قوت پانے کے بعد مجیب الرحمن نے فوجی تانا شاہی کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیے۔ ذوالفقارعلی بھٹو دسمبر 1971 ء کے واقعات کو فوجی شکست کہا کرتے تھے جو دراصل شکست خوردہ فوج کی دلجوئی کا ایک اصطلاحی ڈھنگ تھا۔

16 دسمبر 1971 ء کو پاکستان کے حصے میں آنے والی شکست فوجی سے زیادہ سیاسی ناکامی تھی۔ مشرقی بنگال کے سیاسی رہنماؤں نے مغربی پاکستان کی فوجی قیادت کو شکست دی تھی۔ گوجرانوالہ اور چند دوسرے مقامات پر نچلے درجے کے فوجی افسروں میں بے چینی نہ پھیلتی تو یحییٰ خان اقتدار چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اس زمانے میں نامور صحافی احمد بشیر پیپلز پارٹی کے ترجمان روزنامہ مساوات کا اداریہ لکھا کرتے تھے۔ احمد بشیر نے 20 دسمبر 1971 ءکو ایک سخت اداریہ میں پاکستان کی عسکری قیادت کو بری طرح لتاڑا تھا۔ اسی شام بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھال لیا۔ احمد بشیر روایت کرتے تھے کہ اگلے دن جنرل گل حسن سخت غصے میں ایوان صدر پہنچے اور مساوات کا ادارتی صفحہ بھٹو صاحب کی میز پر رکھتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو صدر بناتے ہیں اور آپ ہمارے خلاف اداریے لکھواتے ہیں۔ گویا جنرل گل حسن کی دانست میں ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار فوج نے دیا تھا، پاکستان کے عوام نے نہیں، جنہوں نے انہیں مغربی پاکستان سے قومی اسمبلی کی 81 نشستیں دلائی تھیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3

3 thoughts on “عسکری اور سیاسی قیادت میں علیحدگی کیوں ضروری ہے؟

  • 19/02/2016 at 5:15 pm
    Permalink

    سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے والے دومختلف اجزا میں کشمکش کی یہ نوبت کیوں آتی ہے۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ فوج اور معاشرہ اپنی نوعیت، کردار اور طریقہ کار کے حوالے سے دو مختلف مظاہر ہیں۔ جو مہارتیں اور طریقہ کار فوج میں اختیار کیے جاتے ہیں، انہیں معاشرے پر لاگو کیا جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ ادھر جو مہارتیں اور عملی اصول معاشرے کے لیے کارآمد ہیں انہیں فوج میں رائج کیا جائے تو فوج اپنے فرائض منصبی ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کر سکتی۔ sir i 20000000% agree with you sir ap nay maray dil k bat leke hay q k hamay be is halat ka samna hay ye army walay apnay ap ko aqle qul samajtay hay

Leave a Reply