پاکستان میں توہین مذہب جاری ہے
خیر پور کی تیرہ سالہ نابالغ ہندو لڑکی بندیا میگھوار اپنے گھر میں کھیل کود میں مصروف تھی ذرا سی دیر کے لیے باہر گئی اور پھر اسے زبردستی اغواء کر لیا گیا اور محض تیرہ برس کی عمر میں جب بچے کو اپنی شناخت نہیں ہوتی 17 مارچ 2022 کو ضلع خیرپور کے علاقہ میں مذہب تبدیل کروا کر شادی کر دی گئی۔ سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکی کی شادی اس کے اغوا کار اعجاز احمد سے ہوئی تھی، بندیا میگھواڑ کا اسلامی نام فاطمہ رکھا گیا اور کسی میڈیا آؤٹ لیٹ نے اس کی اطلاع نہیں دی۔ اہل خانہ کی شکایت کے باوجود پولیس نے 2022 کے آخر تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ اسی طرح مارچ میں سکھر کے علاقے چھوہرہ منڈی کے قریب خود کو اغوا ہونے سے بچانے کی کوشش میں 18 سالہ ہندو لڑکی پوجا کماری اودھ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق حملہ آور با اثر لاشاری قبیلے سے تعلق رکھنے والے واحد بخش لاشاری اور ان کے دو ساتھیوں نے لڑکی کے گھر میں گھس کر فائرنگ کر دی۔ پولیس حکام کے مطابق لاشاری نوجوان لڑکی سے شادی کرنا چاہتی تھا لیکن اس کے انکار پر مشتعل ہو کر اسے قتل کر دیا۔ اس قتل کی سوشل میڈیا مقامی، عالمی اور سیاسی سطح پر بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی مگر ہوا کچھ بھی نہیں۔ اکتوبر میں حیدرآباد SITE پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک 15 سالہ ہندو لڑکی چندا مہاراج کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق وہ فیکٹری جہاں وہ کام کرتی تھی وہاں سے گھر واپس جا رہی تھی۔
متاثرہ کی والدہ نے بتایا کہ اس نے پولیس کے اعلیٰ عہدہ داروں سے متعدد بار رابطہ کیا۔ حکام نے اس کی شکایت سنی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔ ماں نے شمن مگسی پر الزام عائد کیا کہ اس نے بیٹی کو ساتھیوں کی مدد سے اغوا کیا ہے۔ آخر کار پولیس نے لڑکی کو کراچی کے علاقے گلشن حدید سے برآمد کر لیا جبکہ پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ لڑکی کو جب حیدرآباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی عمر 19 سال ہے۔ عدالت نے اسے دارالامان بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے اس کی عمر معلوم کرنے کے لیے طبی معائنہ کے احکامات بھی جاری کیے ۔
عورت فاؤنڈیشن کے مطابق ہر سال کم از کم ایک ہزار غیر مسلم لڑکیوں کا جبری طور پر مذہب تبدیل کروایا جاتا ہے اور پھر اغواء کار ان کے ساتھ نکاح پڑھاتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کا سب سے زیادہ تشویشناک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران بچیوں کی عمر کے حوالے سے اس سرٹیفیکیٹ کو صحیح تسلیم کر لیا جاتا ہے جو کسی مدرسے کی جانب سے جاری کیا گیا ہو اور بچیوں کے برتھ سرٹیفیکیٹ اور سکول کے ریکارڈ کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
عدالتیں مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کے اثر و رسوخ سے خوف زدہ دکھائی دیتی ہیں اس لیے انصاف کا عمل بھی بری طرح سے متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔ یہی صورتحال ہمارے فیصلہ ساز اور قانون سازی کرنے والے اداروں کی ہے۔ شرعی اور قانونی طور پر ایسے تمام نکاح باطل ہیں جو زبردستی کی بنیاد پر ہوں۔
اسلام نے اپنی آمد اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دوران تبلیغ یہ واضح کر دیا تھا کہ دین کے معاملے میں جبر نہیں۔ اسلام میں ”عقیدہ کی آزادی“ کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو کسی اعتقاد کو اپنانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور کسی اعتقاد کی وجہ سے اسے نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے جس پر وہ یقین رکھتا ہے۔ اللہ رب العزت نے سورت البقرة کی آیت نمبر 256 میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ ”دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہو کر واضح ہو چکا۔ اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آئے گا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ ۔
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عقیدہ کی آزادی اہم ترین انسانی حقوق میں سے ایک ہے جس کا اسلام نے ناصرف اقرار کیا ہے بلکہ تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی اور مختلف نصوص کسی شخص کے اس عقیدے کو قبول کرنے کے حق کی تصدیق کرتی ہیں جس میں اس کا دل مطمئن ہو، کیونکہ اللہ تعالٰی نے انسان کو ایمان اور کفر کے درمیان بھی انتخاب کرنے کی آزادی دے رکھی ہے۔ سورت الکھف کی آیت نمبر 29 میں واضح کر دیا گیا ہے کہ ”اب جو چاہے، ایمان لے آئے، اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔“ دین کے علاوہ اسلام عورت کو ولی کی اجازت سے اپنی مرضی کے مرد سے نکاح کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ زور زبردستی کے ہر فعل کی مذمت واضح انداز میں کر دی گئی ہے مگر کچھ افراد اس کو تسلیم نہیں کرتے اور کھلے عام شریعت اور طریقت کی توہین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں اندرون سندھ میں مسلسل اور باقی پاکستان میں اکا دکا ایسے واقعات کثرت سے سامنے آ رہے ہیں جن میں کم عمر ہندو بچیوں کو اغواء کر کے ناصرف زبردستی اسلام قبول کروایا جاتا ہے بلکہ بڑی عمر کے مردوں کے ساتھ نکاح بھی کروا دیا جاتا ہے جو کہ قابل مذمت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل مجرمانہ فعل ہے جسے قانون کے مطابق ڈیل کیا جانا چاہیے۔ تین سال قبل اکتوبر 2021 ء میں پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے جبری تبدیلی مذہب کے بل کو مسترد کیا تھا۔
بل کو غیر اسلامی قرار دیا گیا اور اس بات سے بھی انکار کیا گیا کہ ملک میں جبری تبدیلی مذہب کوئی مسئلہ بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک خودساختہ رپورٹ بھی جاری کی گئی جو زمینی حقائق سے یکسر مختلف تھی۔ اس سے پہلے سندھ حکومت نے دو بار جبری تبدیلی مذہب اور جبری شادیوں کو غیر قانونی قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ اس بل کے تحت 18 سال سے کم عمر کے بچے اپنے ماں باپ کی رضامندی کے بغیر مذہب تبدیل نہیں کریں گے اور یہ کہ جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے والوں کو قانون کے ذریعے سزا دی جائے گی۔ لیکن دونوں بار قدامت پسند مسلم گروہ آڑے آ گئے اور قانون پر عملدرآمد نہیں ہو پایا۔
جس ملک میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی، تشدد کے واقعات پر بھی معاشرے میں کوئی حساسیت نہ پائی جاتی ہو سوچیے وہاں اقلیتوں کی بچیوں اور عورتوں کا کیا حال ہوتا ہو گا؟ کیا ملکی پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی، جس نے جبری طور مذہب تبدیلی کے بل کو مسترد کیا ہے، اس سوال کا جواب دے سکتی ہے کہ اسلام کی سچائی صرف کم عمر لڑکیوں پر ہی کیوں واضح ہو رہی ہے؟ محبت یا شادی کے لیے ہر بار غیر مسلم کو ہی کیوں اپنا مذہب بدلنا پڑتا ہے؟
اور غیر مسلموں میں بھی صرف ایک عورت پر ہی کیوں دین کی حقیقت کھل رہی ہے؟ مرد اس سے فیض حاصل کرنے سے کیوں محروم ہیں؟ پاکستان کی ہندو اور مسیحی اقلیتی برادریاں اپنی لڑکیوں کے مذہب کی جبری تبدیلی کی شکایت ایک طویل عرصے سے کرتی آ رہی ہیں مگر سوائے قانون سازی کے جسے متنازع بنایا گیا عملی طور پر کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیم سینٹر فار سوشل جسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں ستر سے زائد مسیحی لڑکیوں کے مبینہ جبری مذہب کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے 95 فیصد کا تعلق پنجاب سے ہے۔ سندھ میں ہندو کمیونٹی جبری تبدیلی مذہب کی شکایت کرتی ہیں لیکن اب مسیحی برادری کی بھی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ جب بھی جبری مذہب کے واقعات ہوتے ہیں تو والدین خوفزدہ ہو جاتے ہیں، بچیوں کو سماجی رابطوں سے روک لیتے ہیں، اس قدر کہ تعلیم کی راہ میں بھی رکاوٹیں آ جاتی ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسے واقعات سے صرف ایک جرم وابستہ نہیں، بلکہ ان واقعات میں اغوا کیا جاتا ہے، تشدد ہوتا ہے، والدین کو ہراساں کیا جاتا ہے، پھر قانون شکنی کر کے قانون اور مذہب دونوں کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس میں ریپ، بچوں سے زیادتی اور جنسی ہراسانی شامل ہیں۔ ہم قانون سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ کمسن بچیوں کا مذہب کیوں تبدیل ہو رہا ہے، اس تعداد کو روکنے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کرتا۔
پاکستان کی تقریباً 24 کروڑ کی آبادی میں ہندو دو فی صد اور عیسائی ایک اعشاریہ پانچ فی صد سے بھی کم ہیں جبکہ پاکستانی سماج اور حکومت مذہبی اقلیتوں کو ایسے طریقوں سے بچانے کے لیے جبری تبدیلی کو غیر قانونی قرار دینے میں مسلسل ناکام ہو رہی ہے۔ اکتوبر 2021 میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے ایک مجوزہ بل کو ختم کر دیا تھا جس میں جبری تبدیلی مذہب کو جرم قرار دینے اور 10 سال تک قید کی تجویز دی گئی تھی۔ دوسری جانب یہ بھی ایک المیہ ہے کہ غیر مسلم بچیوں اور خواتین کے خلاف جرم کرنے والے مجرم قانونی کارروائیوں سے بچ جاتے ہیں کیوں کہ جبری تبدیلی کو اکثر عدالتوں میں ایک مذہبی مسئلہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ہماری عدالتیں مذہبی جنونیوں سے خوف زدہ رہتی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ہر سال ایسے سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔
متاثرین بنیادی طور پر غریب خاندانوں اور نچلی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اغوا کی گئی ہندو لڑکیوں کی زبردستی تبدیلی مذہب اور مسلم مردوں سے شادیوں کے زیادہ تر واقعات جنوبی صوبہ سندھ میں معمول کی بات ہے، جہاں تقریباً 90 فی صد اقلیتی برادری مقیم ہے۔ تاہم پاکستان میں قوانین بے اثر ہونے کی وجہ جرم بڑی تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر دوسروں ممالک اور سماج پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے کم از کم ایک بار اپنے گریبانوں میں ضرور جھانکیں تاکہ پتہ چل سکے کہ جو ریاست اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے وہ کسی دوسری ریاست کے معاملات میں مداخلت کیسے کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان پر لگنے والے ان داغوں کو اب تیزاب سے دھونے کا وقت آ گیا ہے اور اس حوالے سے متعلقہ برادریوں اور اقلیتوں کے مفادات، نظریات اور عقائد کو مدنظر رکھتے ہوئے موثر اور جامع قوانین سازی اور ان کی فعالیت بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔


