میرا باس


جنوں پریوں کا گانا (4)

’استاد جی نے گویے کو پرکھنے کے لیے چار چیزیں بتائیں، سر، راگ داری، لے کاری اور روح داری، یہ چار چیزیں پوری کسی گائیک میں نظر نہیں آئیں گی، سب میں کسی نہ کسی ایک چیز کی کمی ہوگی لیکن یہ پوری چار چیزیں استاد جی میں تھیں، استاد جی ست پٹیا گائیک تھے جنہیں سنگیت میں سمپورن گائیک کہتے ہیں‘ (انعام علی خان۔ استاد سلامت علی خاں صاحب کے شاگرد خاص)
’استاد سلامت علی خاں صاحب آپ سے ملتا چاہتے ہیں۔‘
میرے استاد نزاکت علی خان صاحب کی وفات کے چند مہینوں بعد مجھے کسی جاننے والے کا فون آیا۔ مجھے بتایا گیا کہ جب سے نزاکت علی خان صاحب فوت ہوئے ہیں استاد سلامت علی خان صاحب لوگوں سے پوچھتے رہتے ہیں کہ میرا بھائی ان کی ناچاقی کے بعد کس کے پاس رہا اور کس کے گھر فوت ہوا۔ وہ سب میرا نام لیتے لیکن نہ میں خاں صاحب کو ذاتی طور پر جانتا تھا نہ ہی ان کا مجھ سے کوئی رابطہ تھا۔ میں خان صاحب کے فن کی تو بے انتہا عزت کرتا تھا لیکن میرے دل میں ان سے بات کرنے یا ملنے کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ اس لیے کہ مجھے اس بات کا سخت رنج تھا کہ انہوں نے اپنے بھائی اور میرے استاد کو نہایت کسمپرسی کے عالم میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ شاید میں ان سے اس لیے بھی نہیں ملنا چاہتا تھا کہ ان کو موجودگی میں مجھے میرے استاد نزاکت علی خاں صاحب یاد آتے رہیں گے۔ میں نے اپنے اس فون کرنے والے دوست کو ٹال دیا اور خاں صاحب سے کوئی بات نہ کی۔ ایک آدھ مہینے کے بعد پھر ایسا ہی فون آیا اور میں نے اسے پھر ٹال دیا۔ اس کے بعد ان کا فون نہیں آیا۔ کچھ عرصہ بعد جب میں اس بات کو تقریباً بھول چکا تھا

Ustad salamat-ali-khan-saheb-with-shrafat-ali-khan

ایک دن شام کے وقت میرے گھر کے دروازے کی گھنٹٰی بجی، میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا استاد سلامت علی خان صاحب اپنے ہاتھوں میں مٹھائی کا ڈبہ لے کر اپنے پورے خاندان کے ساتھ میرے دروازے پر کھڑے ہیں۔ ان میں شفقت اور شرافت خان، سلامت علی خاں صاحب کی بیگم اور ان کی بیٹیاں شامل تھیں۔ ان سب کو اپنے سامنے دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی، میں اسی حیرانی کے عالم میں ان سب کو فوراً گھر کے اندر لے آیا۔ خان صاحب نے میری بیوی سارہ سے اپنی بیوی بچوں کو ملوایا۔ پھر خاں صاحب نے بڑے پیار سے مجھ سے کہا، ’سرمد صاحب آپ نے میرے بھائی کو جس محبت سے اپنے گھر رکھا، ان کی خدمت کی اور ان کا خیال رکھا، میں اس کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں‘ ان کے لہجے میں ایک خلوص بھرا تاسف تھا۔ پھر ذرا توقف کے بعد کہا ’انہوں نے آپ کو گانا بھی سکھایا ہو گا۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے لیکن اب میں آپ کو گانا سکھاؤں گا‘ ۔ میں نے دل میں سوچا بھلا میں کون اور کہاں خان صاحب جنہیں لوگ اپنے زمانے کا تان سین کہتے ہیں وہ مجھے گانا سکھائیں گے؟ ’لیکن میں اس گفتگو کے دوران احتراماً بالکل خاموش رہا۔

اس کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ تھام کر میری کلائی پر ایک سرخ رنگ کا دھاگہ باندھا جسے مولی یا گنڈا کہتے ہیں، ۔ اپنے ہاتھوں سے مجھے مٹھائی کھلائی، سب نے میرے لیے دعا کی اور پھر خاں صاحب نے مجھے ایک نہایت خوبصورت کڑھائی والا کرتا دیا جو عموماً گویے پہنتے ہیں۔ میں اس کرتے کو کبھی نہ پہن سکا اس لیے کہ میں نے اپنے آپ کو کبھی اس کا اہل ہی نہیں سمجھا۔ اس کے بعد خاں صاحب نے کہا، ’سرمد صاحب آپ مجھے کچھ گا کر سنائیں، میں نے کیا گانا تھا، خاں صاحب کے خاندان کے سامنے تو میری سانس رک گئی تھی۔ مجھے پسینے آ رہے تھے۔ میری یہ حالت دیکھ کر ان کی بیٹی رفعت نے ہنستے ہوئے کہا،
’سرمد صاحب اب تو آپ ہمارے خاندان میں شامل ہو چکے ہیں، اب تو بس آپ ہیں اور گانا ہے‘، اس ہمت افزائی پر میں نے تھوڑا سا گانا گایا، خاں صاحب نے ہارمونیم پکڑا اور اسی استھائی کو ایسی خوبصورتی سے گایا اور ایسی مشکل جگہیں کہیں کہ میں سناٹے میں اگیا۔ ’سرمد صاحب آپ بھی کہیں ناں‘ خاں صاحب نے کہا
’ خاں صاحب یہ تو میں کبھی نہیں کہہ سکوں گا‘
’کہتے رہیں ایک دن آ جائے گا۔ ‘ خاں صاحب نے بڑے اطمینان سے کہا لیکن میں اس استھائی کو آج تک دہراتا رہا ہوں اور خان صاحب والی ایک جگہ بھی نہیں کہہ سکا۔

ghulam kathak Maharaj with sonia as dancer

میرا دوست احمد ظوے جو میرے گھر میں رہتا تھا کمال کا آرٹسٹ تھا، اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے خاں صاحب کا انتہائی خوبصورت سکیچ بنایا اور انہیں پیش کیا۔ کچھ تصویریں بھی کھینچی گئیں۔ خاں صاحب نے رخصت ہوتے ہوئے مجھے اور میرے بیوی بچوں کو اپنے گھر کھانے کی دعوت دی۔ کھانا کیا تھا ایک جشن تھا، چاروں طرف موسیقی تھی، خان صاحب کا سارا خاندان موجود تھا، مختلف دیسی کھانوں کی خوشبو سے گھر مہک رہا تھا۔ میں نے ایسا لذیذ کھانا زندگی میں نہیں کھایا، اس بات کو تیس سے زیادہ سال گزر چکے ہیں لیکن ان کھانوں کی لذت آج بھی میرے حواس میں رچی بسی ہے۔ اس رات خاں صاحب اور ان کے خاندان کے لوگوں سے بہت گپ شپ رہی، خان صاحب کی طرف سے میرے دل میں جو رنجش تھی وہ تو دور ہو گئی لیکن ان سے گانا سیکھنے پر میری طبیعت پھر بھی نہ مائل ہوئی۔ اس دعوت کے بعد وہ جب بھی میرے گھر آتے تو میں بجائے ان سے کچھ سیکھنے کے ان کو بڑی عزت سے بٹھاتا، چائے وغیرہ پیش کرتا اور ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہتا۔ ایک دن جب میں نے ان سے ویسا ہی سلوک کرنے کی کوشش کی تو کسی قدر غصے میں فرش پر ہارمونیم پکڑ کر بیٹھ گئے، میں بھی فوراً نیچے بیٹھ گیا، کہنے لگے ’سرمد صاحب میں آپ کو وہ استھائیاں دینا چاہتا ہوں جو میرے باپ دادا نے مجھے دی ہیں۔ اور آپ اس طرف کوئی دھیان ہی نہیں دیتے‘، ان کی اس بات پر مجھے اچانک خیال آیا کہ واقعی مجھے اس بیش بہا نعمت کا احساس نہیں۔

میں نے سوچا خاں سلامت علی خاں میرے گھر تو کبھی نہ آتے اگر ان کے بھائی نزاکت علی خاں صاحب میرے گھر نہ آتے۔ مجھ پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ یہ میرے ہی مرحوم استاد ہیں جنہوں نے خاص طور پر میری تعلیم کے لیے ایک ایسے شخص کو میرے گھر بھیجا ہے جو اپنے وقت کا سب سے بڑا گویا ہے۔ جسے استاد لوگ ست پٹیا، سمپورن گائیک اور اپنے زمانے کا تان سین کہتے ہیں۔ یہ میرے ہی استاد تھے جنہوں نے مجھ ’اتائی‘ کو یہ نعمت خان سلامت علی خان صاحب کی صورت میں ’عطا‘ کی تھی۔ یہ سوچتے ہی میری ساری مزاحمت ایک محبت بھری عقیدت میں بدل گئی اور میں نے ان سے گانا سیکھنا شروع کر دیا۔ خاں صاحب نے سب سے پہلے مجھے ملتانی راگ میں دو استھائیاں یاد کرائیں۔
’کون سی پری ہے، نینن میں ان بان‘ ۔ اور دوسری، ’سائیں رے سندر بلماں‘
دونوں استھائیوں میں ایک دو ایسی جگہیں لیتے جو شاید میں دوبارہ پیدا ہوں اور ساری عمر ریاض کے بعد بھی نہ کہہ سکوں


خاں صاحب بہت مشکل گاتے تھے، مجھے کہتے ’یہ مشکل نہیں، میں کہتا "خان صاحب یہ آپ کے لیے مشکل نہیں”۔
’آپ کرتے رہیں، یہ آپ کے لیے بھی مشکل نہیں رہیں گی‘ وہ مسکرا کر کہتے۔
ایک دن جب انہوں نے مجھے ابھوگی کانہڑہ کی استھائی سکھائی تو مجھے پتہ چلا وہ من رنگ تخلص کرتے ہیں، میں آپ کو اس کے دو بول بتاتا ہوں۔
لاگی رٹنا مورے پیا سوں
من رنگ کے من میں لاگی لگنا
لاگی رٹنا۔
خاں صاحب ہفتے دس دن میں ضرور میرے گھر آتے۔ وہ اس زمانے میں اسلام آباد شفٹ ہو چکے تھے۔ کبھی صوفی صاحب اور مبارک صاحب بھی وہاں موجود ہوتے۔ خان صاحب کے آنے پر ہم سب خاموش ہو جاتے اور بڑے احترام سے ان کی باتیں سنتے۔ خاں صاحب پوچھتے کس راگ کا ریاض ہو رہا ہے؟ پھر مجھے گانے کو کہتے، بڑے غور سے سنتے اور پھر مجھے کچھ پلٹے یاد کرنے کو دیتے۔ کبھی شام کو شرافت اور شفقت کے ساتھ بھی آتے اور خوب بے تکلفی سے گپ شپ لگاتے۔ میں شفقت کو پیار سے کزن کہتا تھا۔ کبھی وہ خاں صاحب کے بغیر آتا تو بہت ہنسی مذاق ہوتا۔ ہمارے دوست فقیر حسین ساگا مور کے پر لگا کر ’مور ڈانس‘ کیا کرتے تھے جو عوام میں بہت دلچسپی سے دیکھا جاتا تھا۔ ساگا خود بھی مزے کی جگتیں کرتا تھا ایک دن جب ساگا کی بات چھڑی تو شفقت نے کہا، ’سرمد صاحب ساگا صاحب کسی جنگل میں جا رہے تھے، رستے میں انہیں ایک مور مل گیا جو اپنے پورے پر پھیلائے رقص کر رہا تھا، اللہ جانے ساگا صاحب نے مور کے کان میں کیا کہا کہ مور جاتے ہوئے اپنے پر انہیں دے گیا۔ ‘ ۔

واہ، یہ بڑی رمز بھری بات تھی۔ اس کا لطف اس میں تھا کہ جیسے استاد کسی شاگرد سے خوش ہو کر اسے کوئی استھائی دے دیتا ہے اسی طرح مور ساگا کی بات سے ایسا خوش ہوا کہ اس نے اپنے سارے پر ساگا کو دے دیے۔کبھی جب میں شفقت کو کہتا، ’یار شفقت مجھے اوپر کے سر لگاتے ہوئے بڑی مشکل پیش آتی ہے‘ تو وہ ہنس کر کہتا، ’اوہو سرمد صاحب کوئی مسئلہ ہی نہیں، آپ کو پتہ ہے میرا مدرستان نہیں بولتا تھا، میں روزانہ صبح چار بجے قلعے چلا جاتا تھا اور دو تین گھنٹے مدرستان کا ریاض کرتا تھا، سا رے گا ما پا دھا نی سا، سا نی دھا پا ما گا رے سا، صرف دو برس میں ٹھیک ہو گیا،‘
’خدا کا نام لو شفقت،‘ میں ہکا بکا ہو کر کہتا، ’دو سال اور روزانہ صبح چار بجے شاہی قلعے؟ بھائی میں نچلے سروں پر ہی گا لیتا ہوں‘
شرافت علی خان کا اپنا سٹائل تھا، وہ دھیمے دھیمے بات کرتا۔ ہلکا سا مسکراتا رہتا، لوگ کہتے ہیں استاد اپنا فن اپنے خاندان سے باہر کسی کو نہیں دیتے لیکن جب سے خاں صاحب نے مجھے گنڈا باندھا تھا خاں صاحب اور ان کے بیٹے مجھ سے بالکل اپنے خاندان کے فرد کی طرح ملتے اور ہر ملاقات میں مجھے ضرور کچھ نہ کچھ دے جاتے۔ مجھے کسی بھی چیز کے بارے میں کسی قسم کا بھی تجسس ہوتا تو گھنٹوں میرے ساتھ بیٹھ کر میری تسلی کرتے رہتے۔ انہوں نے کبھی مجھ سے موسیقی کے بارے میں کوئی بات نہیں چھپائی۔ خاں صاحب جب ملک سے باہر جاتے تو مجھے ’بقلم خود‘ خط لکھتے اور ریاض جاری رکھنے کی ہدایت کرتے۔ ایک دفعہ دہلی جاتے ہوئے میں اور شرافت علی خان ایک ہی جہاز میں ایک دوسرے کے برابر بیٹھے تھے، کیا خوبصورت سفر تھا، سارا رستہ شرافت درباری راگ سے میرے کانوں میں رس گھولتا رہا اور اس کا چلن گا گا کر سمجھاتا رہا۔ ہم اپنی زبان میں ایسے شخص کو ’نیک روح‘ کہتے ہیں۔

خاں صاحب گاتے تو مشکل تھے ہی لیکن سنگیت کے بارے میں بالکل تنگ نظر نہیں تھے اور نہ ہی دوسرے استادوں کی طرح راگوں کے بارے میں کسی بحث میں الجھتے تھے، گویے تو ایک ایک بات پر چھریاں نکال لیتے ہیٰں جیسے عروضیے شاعر کے مصرعوں کے فعلن فعلن گنتے رہتے ہیں۔ خان صاحب اس شور شرابے سے دور رہتے تھے۔ میں نے ایک بار ان سے کسی راگ کے بارے پوچھا کہ ’خاں صاحب اس میں جاتے ہوئے یعنی امروہی میں رکھب لگ سکتی ہے؟‘ کہنے لگے ’پتہ نہیں‘
’کمال ہے خاں صاحب آپ کو نہیں پتہ تو کس کو پتہ ہو گا؟‘ اس پر انہوں نے ایک شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ’سرمد صاحب میرا جی چاہے تو میں تو لگا دیتا ہوں، آپ کا دل کرے تو آپ ہھی لگا دیا کریں۔ ‘

کچھ دن پہلے ہمارے محترم دوست ڈاکٹر خورشید عبداللہ نے مجھے خاں صاحب کی ایک نایاب ویڈیو بھیجی اور کہا ’سرمد صاحب مجھے اس راگ کا نام کہیں نہیں ملا۔ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ یہ بھیم پلاسی ہے۔ آپ ذرا اسے سنیے اور بتائیے یہ کون سا راگ ہے‘ میں نے اپنی شدبد سے راگ کا اندازہ لگایا اور صرف اتنا سمجھ پایا کہ یہ راگ کافی ٹھاٹ کا ہے لیکن بھیم پلاسی ہرگز نہیں۔ پھر بھی میں چونکہ اپنی رائے کو کسی حوالے سے بھی مستند نہیں سمجھتا، میں نے چند اور استاد لوگوں سے رجوع کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی کچھ معتبر لوگوں سے مشورہ کیا، اب سب کافی ٹھاٹ پر تو متفق تھے لیکن کوئی اس کو مشر بھیم پلاسی، کوئی کافی اور دیسی کا ملاپ کہہ رہا تھا، کسی کا کہنا تھا اس میں باگیشری کے سر لگے ہوئے ہیں اور کوئی اسے شاہانہ اور کوئی کافی کانہڑا کا نام دے رہا تھا، چونکہ یہ سارے راگ کافی ٹھاٹ کے ہیں اس لیے ان سب راگوں کا اس نامعلوم راگ پر گمان ہو رہا تھا۔

اس واقعہ پر مجھے خاں صاحب کی یہ بات یاد آئی جب انہوں نے مجھے رکھب کے بارے میں کہا تھا کہ ’میرا جی چاہتا ہے تو میں تو لگا دیتا ہوں‘ خاں صاحب بارہ سروں کی تان مارتے تھے۔ ان کے لیے کوئی سر بھی لگانا مشکل نہیں تھا۔ وہ سنگیت کے اس مقام پر تھے کہ جس سر کو جہاں چاہتے لگا سکتے تھے۔ شاید اس کافی ٹھاٹ میں کافی راگ گاتے ہوئے انہوں نے باقی راگوں کی چھب بھی دیکھ لی ہو۔ شاید اس ایک راگ میں ’من رنگ‘ کے سو رنگ چھپے ہوئے تھے۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو بڑا آرٹ کرافٹ سے ماورا ہوتا ہے، خان صاحب کرافٹ سے آگے نکل چکے تھے۔ وہ نائیکی مہرہ یعنی صحیح خوانی کی منزل سے گزر کر گائیکی مہرہ یعنی اختراع کی منزل میں تھے اور جیسے مرزا غالب قول محال کو اپنی شوخی ایجاد سے بیان میں لے آتے تھے ویسے ہی خاں صاحب بھی مشکل ترین جگہوں کو اپنی شوخی ایجاد سے ممکن بنا دیتے تھے۔
ایک دن مجھے ایک راگ کی سرگم یاد کراتے ہوئے کہنے لگے ’امروہی میں دھیوت چھوڑ دیں، میں نے پو چھا‘ کیوں خاں صاحب؟ کتابوں میں تو ایسا نہیں ’کہنے لگے‘ میں جانتا ہوں لیکن آپ اسی طرح کہیں ’
’ مگر کیوں خاں صاحب؟ کویٔ رمز تو ہوگی اس میں؟‘ میں بضد ہو گیا۔ ’رمز یہی ہے کہ‘ یہ ”میں” اپ سے کہہ رہا ہوں‘ واہ، واہ خاں صاحب، نصابی کتابی اور علمی بندشوں سے ایسی چھیڑ چھاڑ آپ ہی کر سکتے تھے۔

salamat ali khan with ustad inam ali khan

میرا نہایت پیارا دوست اور خاں صاحب کا شاگرد انعام علی خاں ایک غیر معمولی انسان ہے۔ خاں صاحب خود تو چلے گئے لیکن جاتے جاتے مجھے انعام کی دوستی کا تحفہ دے گئے۔ انعام کو میں پیار سے موسیقی کا پنڈت کہتا ہوں۔ حافظہ ایسا کہ سنگیت کی ساری مستند کتابیں ازبر ہیں اور موسیقی کی لگن دیوانگی کی حد تک ہے۔ انعام نے سنگیت کی خاطر گھر بار چھوڑ دیا تھا، لیکن اسے گانے کا کوئی استاد نہیں ملتا تھا۔ استاد منظور علی خاں صاحب نے جن سے انعام نے طبلہ سیکھا تھا انعام سے کہا اگر تم نے گانا سیکھنا ہے تو سلامت علی خاں کے پاس جاؤ، اس ملک میں وہ واحد گویا ہے جو سب گن جانتا ہے۔ انعام کو اپنے کتابی علم پر بڑا گھمنڈ تھا وہ بڑے بڑے استادوں کے سامنے نذر رکھ دیتا تھا اور ان سے ایسے سوال کرتا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔ اس کے پاس ایسی کئی دلچسپ کہانیاں ہیں لیکن وہ میں آپ کو کسی اور وقت میں سناؤں گا، یہاں میں صرف اس کی خاں صاحب سے پہلی ملاقات کا مختصر سا حصہ سناتا ہوں۔ انعام نے مجھے اپنی شاگردی کا قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ جب وہ خاں صاحب سے ملا تو اس نے ان کو مرعوب کرنے کے لیے ان کے سامنے اپنا سارا کتابی علم زبانی دھرا دیا۔ خاں صاحب نے اس کے سارے علم کو بے کار قرار دے دیا اور کہا، ’موسیقی کا علم ہونا اچھی بات ہے لیکن موسیقی کا بھید وہی پا سکتا ہے جو اسے عمل میں لاتا ہے۔ تم مجھے‘سا’ سے‘پا’ کا فاصلہ گا کر دکھا دو تو میں تمہاری ہر بات مان لوں گا۔‘ اس دن کے بعد انعام خاں صاحب کا ہو کر رہ گیا، کئی سال ان کی خدمت اور صحبت میں رہا، خاں صاحب نے بھی اسے اپنے بیٹوں کی طرح اپنے پاس رکھا۔ انعام ان کے ساتھ یورپ اور امریکہ گیا، طبلے پر ان کے ساتھ سنگت کی اور خاں صاحب کی موسیقی پر بھرپور تحقیق کی، میرے خیال میں اگر کوئی شخص خان صاحب پر پی ایچ ڈی کر سکتا ہے تو وہ صرف انعام علی خان ہے۔ انعام کا کہنا ہے کہ سلامت علی خاں صاحب ’سر‘ اور ’لے‘ کو تسخیر کر چکے تھے۔ یعنی کرافٹ سے اگے نکل چکے تھے
’سرمد صاحب ایک دن میں انگلستان میں دریائے ٹیمز کے کنارے سیر کر رہا تھا تو گنگناتے ہوئے میرے ذہن میں ایک نیا راگ جنم لینے لگا، اس راگ کا نام میں نے راگ ٹیمز رکھا۔‘ خاں صاحب مجھے اپنے یورپ کے دورے کے قصے سنا رہے تھے۔ میں نے راگ ٹیمز سننے کی فرمائش کی جو انہوں نے پوری کی اور میں نے خان صاحب کا ایجاد کیا ہوا راگ ٹیمز سنا۔ مجھے بہت اچھا لگا لیکن خان صاحب نے اسے پھر کبھی نہ پبلک میں گایا اور نہ ہی کہیں ریکارڈ کروایا، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس راگ کے بعد جب خاں صاحب پر فالج کا حملہ ہوا تو بہت سے حاسدین نے یہ بات اڑا دی کہ خاں صاحب پر فالج کا حملہ اس لیے ہوا ہے کہ انہوں نے ایک نیا راگ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ (بعض گانے بجانے والوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر کوئی گویا اپنا راگ ایجاد کرے تو اسے لقوہ ہوجاتا ہے۔) خاں صاحب ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور وہ شاید اپنے حاسدین کو مزید کچھ کہنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے، وہ صحت یاب ہوئے اور باقی زندگی بھی اسی زور شور اور خوبصورتی سے گاتے رہے
میری بیٹی سنعیہ کی شادی عامر ذکی سے ہوئی تھی۔ عامر ایک حیران کن گٹارسٹ تھا۔ جب سنعیہ اور عامر کراچی سے مجھے اسلام آباد ملنے آئے تو میں نے اپنے گھر خاں صاحب اور کچھ دوسرے موسیقاروں کو کھانے پر بلایا۔ اس شام موسیقی کا ایک عجیب سحر انگیز جیم سیشن ہوا۔ خان صاحب کی تانیں اور ذکی کی گٹار، ایک جگل بندی ہو رہی تھی، خان صاحب جو تان لگاتے ذکی اس تان کو بڑی صفائی سے گٹار پر بجاتا اور پھر اس میں کمال کے اضافے کرتا۔ خاں صاحب بھی ذکی کے بہلاووں اور تانوں سے ایسی ایسی شکلیں تخلیق کرتے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ جب ذکی جاز JAZZ کی طرح اختراع کے صیغے میں چلا جاتا اور راگ کے ساتھ کھیلتا تو خاں صاحب بھی اس کا لطف لیتے ہوئے راگ سے عشوہ و انداز کرنے لگتے۔ اس طلسمی موسیقی کی محفل کے اختتام پر خان صاحب نے اٹھ کر ذکی کا ماتھا چوما اور اسے دعا دی۔ شاید اس لیے کہ دونوں ہی سکہ بند راگوں کی بندشوں سے کھیل رہے تھے اور ان کے سروں سے فلرٹ کر رہے تھے، اس زمانے میں میرے پاس کوئی ریکارڈنگ سسٹم نہیں تھا اس لیے میں اس نایاب موسیقی کو ریکارڈ نہ کر سکا لیکن مجال ہے وہ شام کبھی میرے دل و دماغ سے محو ہوئی ہو۔


اسی زمانے میں میری بیوی سارہ جسے خود بھی کلاسیکی موسیقی اور کلاسیکی رقص سے گہری دلچسپی تھی ’سنگت شاہ حسین‘ کے نام سے اپنے گھر میں ایک بیٹھک شروع کی جس میں مہاراج کتھک لاہور سے ہفتے میں تین دن کے لیے اسلام آباد آتے، ان کے ساتھ امداد حسین طبلہ نواز اور بخشی صاحب ہارمونیم پہ بول گاتے اور مہاراج کے ساتھ سنگت کرتے۔ رات کو دیر تک ہم گپ لگاتے۔ میں بخشی صاحب سے کوئی استھائی سنتا تو یاد کر لیتا۔ امداد صاحب بھی مجھے تالوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ بتاتے رہتے۔ اب ہمارے گھر میں ہر شام کوئی نہ کوئی محفل ہوتی رہتی۔ خاں صاحب کی ہمارے گھر میں آمد سے ہمارے گھر میں فنکاروں کا آنا جانا رہتا اور خوب رونق رہتی۔ کبھی موسیقی کبھی رقص اور کبھی کوئی ادبی بیٹھک۔ ہمارے بچے بھی ان محفلوں میں شریک ہوتے۔ سنگت شاہ حسین میں سندھ کے گائیک یوسف خان، پٹھانے خان، ناہید صدیقی، فصیح رحمان اور کئی اور فنکاروں نے ہماری زندگیوں کو حسین ترین لمحات عطا کیے۔ ایک سرائیکی محفل میں آدم نیر اور فیاض باقر نے سرائیکی ادب اور ثقافت پر گفتگو کی اور انعام علی خان نے اپنی خوبصورت دھنوں میں طبلہ نواز استاد اجمل خان کی سنگت میں خواجہ فرید کی کافیاں سنائیں، راگ راگیشری میں ’وسو نی اکھیاں گھنگھوراں لا کے‘ ابھی بھی مجھ کو یاد ہے۔ سلامت علی خاں صاحب نے بھی ہمارے گھر میں ایسے ایسے راگ گائے جو ہم نے ان سے پبلک میں کبھی نہیں سنے تھے۔ اسی زمانے میں میری اور سارہ کی ناہید صدیقی، ضیا محی الدین، نورجہاں، ثریا ملتانیکر اور عابدہ پروین سے یاد گار ملاقاتیں ہوئیں۔ ‍
خاں صاحب نے یورپ اور امریکا میں گانا گایا، بھارت میں خاص طور پر ان کی بے حد پذیرائی ہوئی اور پرتھوی راج نے تو انہیں اوتار کا مقام دیا۔ وہ لتا منگیشکر کے مہمان بھی رہے۔ میں نے لوگوں سے خاں صاحب اور لتا منگیشکر کے عشق کے بارے میں کچھ تھوڑے بہت قصے سنے ہیں لیکن خاں صاحب نے مجھ سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی۔ انہوں نے اور ان کے بھائی نزاکت علی خاں صاحب نے مجھ سے یہ ضرور کہا ہے کہ وہ لتا کے گھر مہمان رہے لیکن یہ کہ لتا ان سے شادی کی خواہش مند تھیں ایسی کوئی بات نہیں کی، کہا جاتا ہے کہ لتا خاں صاحب سے شادی کی خواہش مند تھیں۔ مجھے ان کے شاگرد انعام علی خاں نے بتایا کہ یہ بات درست ہے، بہرحال کوئی ایسی بات ہوئی ہو یا نہ ہو لیکن یہ تصور کہ یہ ’ایک دیوتا اور سرسوتی دیوی کا عشق تھا‘ اپنی دلاویزی میں کسی اساطیری تمثیل کی طرح سدا بہار ہے۔


ایک دن میری بیٹی سنعیہ کراچی سے اسلام آباد آئی ہوئی تھی، سنعیہ کی خان صاحب کی بیوی اور ان کی بیٹیوں سے بڑی محبت بھری دوستی تھی۔ سنعیہ نے کہا وہ خاں صاحب کے گھر جانا چاہتی ہے۔ میں شام کو سنعیہ کو لے کر خاں صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ اس دن گھر میں شفقت اور شرافت دونوں نہیں تھے۔ اور ان کی بیگم کے سوا اور بھی کوئی گھر میں نہیں تھا میں اور خاں صاحب ایک کمرے میں بیٹھ گئے اور سنعیہ اندر ان کی بیگم سے ملنے چلی گئی۔ کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ خاں صاحب کی بیگم کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے۔ یک دم کمرے میں اداسی چھا گئی، خاں صاحب باتیں کرتے کرتے بالکل خاموش ہو گئے، انہیں اپنی بیگم سے بہت پیار تھا وہ اندر چلے گئے لیکن ان کی بیگم کی طبیعت اور بگڑتی گئی، سنعیہ نے کہا وہ ان کو ہسپتال لے کر جانا چاہتی ہے، ہسپتال کا نام سن کر خاں صاحب اور بھی پریشان ہو گئے، لیکن سنعیہ ضد کر کے انہیں فوراً ہسپتال لے گئی۔
خاں صاحب کچھ دیر اس دل دہلانے والی خاموشی میں بیٹھے رہے اور پھر آہستہ سے اٹھے اور تان پورہ لے کر فرش پر بیٹھ گئے، میں ان کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا، میں حیران کہ خاں صاحب اس حال میں گانا کیوں گانا چاہتے ہیں، خاں صاحب کی آنکھیں بند تھیں اور درباری کا الاپ کر رہے تھے، کمرے میں پھیلی ہوئی خاموشی ازلوں کی خاموشی میں بدل گئی، خاں صاحب کی آواز انسان کی ازلی تنہائی بن کر آسمانوں کے گنبدوں میں گونجنے لگی، درباری کا الاپ انسان کی پہلی آواز بن گیا، پہلا شبد، تنہائی کا پہلا اظہار، ایک ایک سر میرے اندر تیر کی طرح پیوست ہو رہا تھا، ایسا الاپ میں نے خاں صاحب سے پہلے کبھی نہیں سنا تھا ان کی آواز میں ایک ہولناک کرب تھا، گھنٹے گزر گئے لیکن وقت وہیں ٹھہرا ہوا تھا۔ یک دم باہر ٹیکسی رکنے کی آواز آئی، خاں صاحب نے دروازے کی طرف دیکھا، سنعیہ اور ان کی بیگم اندر داخل ہوئیں۔ پتہ چلا کہ ان کی طبیعت اب بالکل ٹھیک ہے۔ خاں صاحب کے چہرے پر رونق لوٹ آئی انہوں نے مجھ سے مسکراتے ہوئے کہا ’سرمد صاحب میں گا نہیں رہا تھا اپنی بیوی کے لیے دعا کر رہا تھا۔ ‘
خان سلامت علی خان کا سنگیت سرسوتی دیوی کا دیدار تھا۔ وہ موسیقی کے جن تھے اور اس جن کی حاضری میں کئی راگ راگنیوں کی پریاں رہتی تھیں۔ میرے مقدر میں ان پریوں کا نظارہ رکھ دیا گیا تھا۔
’آپ نے کبھی کوئی پری دیکھی ہے؟
، نہیں۔ ’
’میں تو ہر وقت دیکھتا ہوں، ‘
’اچھا؟‘
’ہاں اگر آپ بھی دیکھنا چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں، بات تو صرف چاہے جانے کی ہے! ‘

Facebook Comments HS