دیپ جلتے رہے: عفت نوید کی کتاب

2024 کے نومبر میں کراچی کے ایک ہوٹل کی لابی میں میری ملاقات عفت نوید سے ہوئی۔ مجھے اعزاز بخشا اور ملنے آئیں۔ ملاقات بہت مختصر رہی۔ تنگی وقت نے سیراب نہ ہونے دیا۔ لوگ دوچار ملاقاتوں میں کھلتے ہیں ہم اتنے کم وقت میں ہی کھل گئے۔ عفت سے مل کر یوں لگا جیسے کوئی سہیلی بچپن کی۔ ہم نے باتیں بھی کیں اور ہنسے بھی۔ عفت نے اپنی کتاب بھی مجھے دی۔ عفت کو جانے کی جلدی تھی اور جاتے وقت بڑے آرام سے کتاب اپنے بیگ میں ڈالی اور اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میں نے ٹوکا کہ بھئی یہ کتاب تو آپ میرے لیے لائی ہیں تو ہڑبڑا کر بولیں ”آئے ہائے عادت ہو گئی ہے ہر چیز پرس میں ڈالنے کی۔ میں نے بتایا کہ میری بھی یہی عادت ہے۔ جاتے ہوئے میز پر جو فون پڑا ہوتا وہ میں بیگ میں ڈال لیتی، بعد میں دھیان آتا کہ یہ تو بیٹے کا فون تھا میرا فون تو پہلے ہی بیگ میں رکھا ہوا تھاْ۔ ہم دونوں ہی کھلکھلا اٹھیں۔
دبلی پتلی عفت کا سراپا کچھ ایسا ہے۔ چشمے کے پیچھے چمکتی آنکھیں، لبوں پر مسکراہٹ بلکہ ہنسی، سر پر گھنے سیاہ بال اور کھنکتی آواز۔
عفت سے میرا تعارف ’ہم سب‘ پر ہوا۔ جب میں نے اس ویب سائٹ کو پڑھنا شروع کیا تو عفت کی آپ بیتی ’دیپ جلتے رہے‘ کی ایک قسط پڑھی۔ مجھے لگا یہ کوئی فکشن کہانی ہے کوئی اپنے بارے میں اتنا سچ بھلا کیسے لکھ سکتا ہے لیکن بھئی یہ بے باک سچائی تھی کسی لگی لپٹی کے بغیر۔ مجھے اگلی قسط کا انتظار رہنے لگا۔ ہر قسط ایک سے ایک بڑھ کی تھی۔ میں نے یہ بیچ میں پڑھنی شروع کی اور شروع کی قسطیں مجھ سے مس ہو گیں۔ میں عفت کی تحریروں کی باقاعدہ قاری ہو گئی۔ پھر ہم فیس بک فرینڈ ہو گئے اور ایک دو بار فون پر بھی باتیں کیں۔ عفت باتیں بہت کھری کرتی ہیں۔
کراچی سے واپس آ کر میں نے عفت کی کتاب پڑھنی شروع کی۔ بہت دھیان لگا کر پڑھی اور کئی جگہ تو دم بخود رہ گئی۔ کتاب پڑھنے کے بعد سوچا اس پر تبصرہ لکھوں لیکن جب کتاب میں لکھے گئے جغادری ادیبوں کے مضامین پڑھے تو سوچا ان چمکتے دمکتے ستاروں جیسے ناموں کے ہوتے میرے تبصرے کی موم بتی کہاں کچھ اجالا کر سکے گی لیکن لکھنا تو بنتا تھا۔ ابھی لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ عفت نے میری کتاب پر تبصرہ لکھ ڈالا۔ میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ ایسا نہ لگے کہ کوئی انجمن ستائش باہمی کا سلسلہ ہے۔ اور یہ تاثر جائے کہ ’من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو‘
خیر یہ سب اپنی جگہ کتاب پر لکھنا ضروری ہے۔ اور میں لکھ رہی ہوں۔
’دیپ جلتے رہے‘ نے مجھے عفت کی شخصیت کے کئی روپ دکھائے۔ نوید صاحب کی ناسازی طبع کو جانتے ہوئے بھی ان سے شادی کر لی اور نبھائی بھی۔ اس نبھانے میں عفت اور اس کے بچوں پر جو گزری وہ عفت نے کھل کر لکھی۔ میں عفت کی بہادری اور ثابت قدمی کی قائل ہو گئی۔ اگر میں کتاب کے جملے یہاں قوٹ کرنے بیٹھوں تو کئی صفحے بھر جائیں گے۔ ہر صفحے پر چونکا دینے والی بات کہی گئی ہے۔ اتنی دکھ بھری کہانی میں کچھ ہنسا دینے والے جملے، کچھ رلا دینے والی باتیں۔ کچھ سوچنے پر مجبور کردینے والا فلسفہ بھی۔ عفت اپنی کتاب میں خود لکھتی ہیں ”آپ بیتی بری ہو یا بھلی وہ بیان کرنے میں اگر مصلحت سے کام لیا جائے تو اسے آپ بیتی نہیں کہیں گے“۔ اور یہ سچ ہی ہے جو اس آپ بیتی کے پڑھنے والے کو خود سے باندھ کر رکھتا ہے۔ اسی داستان درد میں کچھ تیکھی باتیں، چند کٹیلے جملوں کے ساتھ ساتھ شوخی بھی ہے۔ تنگ دستی میں کہیں سے کچھ پیسے ہاتھ لگتے ہیں۔ عفت اس عیاشی کو یوں بیان کرتی ہیں۔
’اتنے ڈھیر سارے پیسے تھے کہ انہوں (احمد نوید) نے کھوکھے سے پان کھایا، ہم نے گنے کا جوس پیا اب بھی بس کے ٹکٹ کے پیسے بچ رہے تھے ”۔ عفت کی اس چھوٹی سی خوشی سے مجھے بھی خوشی محسوس ہوئی۔ مجھے لگا عفت اس خوشی کی حقدار تھیں۔
عفت کو کئی بار نقل مکانی کرنی پڑی۔ کہیں کرایہ زیادہ تھا کہیں شیعہ سنی کا مسئلہ۔ ایک مالکہ مکان نے تو کہہ دیا ”ہم عیسائی، ہندو کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن شیعوں کو نہیں“ ۔ یہ سن کر صاف دل عفت کی ہنسی نکل گئی۔ ایک اور مکان سے نکلنا پڑا۔ مالک مکان کا کہنا تھا ”ہمیں نہیں پتہ تھا کہ آپ کے میاں شاعر ہیں“۔ ایک بار بغیر کچن کے گھر میں رہنا پڑا۔ عفت اپنی بے سروسامانی کا ذکر بھی یوں کرتی ہیں جیسے یہ کوئی خاص بات ہی نہ ہو اور جیسے یہ تو ہوتا ہی رہتا ہے۔
عفت کئی جگہ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں ’احمد نوید کی بکھری ہوئی زندگی کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا‘ لیکن عفت نے ساتھ نہ چھوڑا اس چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ شوہر کی بیماری کے ساتھ ساتھ عفت کو معاشی محاذ پر بھی لڑنا پڑا۔ چھوٹے بچے کو ساتھ لے جا کر ٹیوشن پڑھائی۔ وہاں سے ایک دن کہہ دیا گیا کہ ایسا نہیں چلے گا بچے کو چھوڑ کر آیا کریں۔ یہ عفت کے لیے ایک بہت مشکل فیصلہ تھا کہ اتنے چھوٹے بچے کو کسی غیر کے حوالے کرنا لیکن عفت نے دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ بھی کر لیا۔ گھر جو چلانا تھا۔ میرا دل ڈوب سا گیا جب عفت نے لکھا کہ واپسی پر بھول گئیں کہ کس بلڈنگ کے کس فلیٹ میں انہوں نے اپنا بچہ چھوڑا تھا۔ اس وقت عفت کے دل کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنیں میں نے اپنے سینے میں محسوس کیں۔ چند لمحے بھی بچے کا گم ہو جانا قیامت سے کم نہیں۔
احمد نوید صاحب ایک تو شاعر اور دوسرے طبیعت ناساز۔ بلا کے حساس، ہر بات دل پر لیتے تھے۔ عفت کے ہی الفاظ میں ”ایک گلی میں ان کے عزیز دوست مل گئے ان کے منہ سے نکلا گیا ’بھابی یہ ہیرا ہے، ہیرا اسے سنبھال کر رکھیے گا۔‘ ان کے یہ حسین الفاظ بھی طبع نازک پر گراں گزرے۔ ’انہیں کوئلے کی کان میں ہاتھ کالے کرنے والا قرار دے کر آگے نکل گیا‘۔
عفت نے اسکول میں پڑھایا اور بڑی لگن سے یہ کام کیا۔ لیکن کئی جگہ کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ کہیں وقت پر تنخواہ نہ ملی کہیں اضافی کام کرنا پڑا۔ یہ سب محاذ اپنی جگہ اور احمد نوید صاحب کو انجیکشن لگوانے پر راضی کرنا اپنی جگہ۔ یہ پوری کہانی شوہر کی بیماری سے لڑنے کی اور ان کے علاج کروانے کی جدوجہد ہے۔ عفت کو ڈر تھا کہ صاحب خودکشی نہ کر لیں۔ عفت کو اس خوف سے بھی لڑنا تھا۔ ایسے میں ایک ننھے مہمان کی آمد عفت کو ڈرا رہی تھی۔ سانس لینے میں دقت، دل کو گھبراہٹ نے گھیرا۔ پینک اٹیک ہوا لیکن وہ عفت ہی کیا جو ہتھیار ڈال دے۔ آنے والے مہمان کے لیے بھی وہ سینہ سپر کھڑی تھی۔ گو کہ شدید خواہش بیٹی کی تھی لیکن بیٹے نے آ کر عفت کا مان اور بڑھا دیا۔ ”بیٹے کی خبر نے طمانیت کی لہر رگ و بے میں دوڑا دی۔ مجھے لگا میں نے اپنی ماں کے نصیب کو بریک لگا دیے“ ْ
ایسا بھی نہیں تھا کہ عفت ستی ساوتری بنی سارے دکھ سہ رہی تھیں اور منہ سے اف نہیں نکلا رہا تھا۔ وہ احمد نوید کی زہریلی باتوں پر ترکی بہ ترکی جواب دیتیں۔ خود لکھتی ہیں ”ان سے مصلحتا معافی مانگ لی لیکن دل میں ان سے نفرت کا احساس اجاگر ہو گیا۔“ ایک آدھ بار سامان بیگ میں رکھ کر گھر چھوڑنے کا ارادہ بھی کیا لیکن گئیں نہیں۔
رشتے داروں کے روکھے رویے بھی سامنے آئے۔ عفت کے گھر اور شوہر کی حالت زار دیکھ کر بھائی بھی کترا کر چل دیے۔ عفت کے اپنے گھر والے انہیں شوہر کو چھوڑنے کا مشورہ دیتے رہے۔ عفت نے جواب میں کہا کہ یہ فیصلہ وہ خود کریں گی۔ یہاں عفت پورے قد کے ساتھ کھڑی بتا رہی ہیں کہ ان کے فیصلے کوئی اور نہیں کر سکتا۔ میری زندگی میرا فیصلہ۔ عفت وکیل ہیں اور اپنا مقدمہ لڑنا جانتی ہیں۔
عفت کو اپنے شوہر سے محبت ہے وہ انہیں ایک بہت بڑا شاعر اور ایک حسین انسان دیکھتی ہیں۔ یعنی یہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ وہ ذکر کرتی ہیں کہ کیسے ایک دنیا ان کی شاعری کی دیوانی ہے اور کیسے خوبصورت خواتین ان کے شوہر پر عاشق ہو جاتی ہیں۔ عفت کے لیے پہلے ہی لڑنے کو کافی محاذ تھے ایک اور بھی کھڑا ہو گیا۔ یہاں بھی عفت اپنے میاں کو بچا کر لے گیں۔
عفت کے بچے بڑے ہو گئے۔ عام طور پر جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو ساس بھی کچھ سہم سی جاتی ہیں اور شوہر بھی تشدد سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ بیٹا باپ کا اٹھا ہوا ہاتھ اب پکڑ لیتا ہے۔
احمد نوید صاحب کو بیرون ملک مشاعروں میں بلایا جانے لگا، گھر کے حالات بہتر ہونے لگے۔ کسی ٹرسٹ سے پیسے ملے تو اپنا گھر بھی لے لیا۔ لیکن عفت کی زندگی خانہ بدوش تھی۔ ایک وقت آیا جب کراچی شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ فلیٹ بیچ کر راولپنڈی کوچ کیا۔ وہاں بھی صاحبہ مکان نے کہا ’ہم نے آپ کو سنی سمجھ کر گھر دیا تھا لیکن آپ تو شیعہ نکلے۔ ”پھر وہاں بھی دل نہ لگا تو کراچی واپس۔
بچوں کے بڑے ہونے سے عفت کی زندگی میں قدرے سکون آ گیا ہے۔ جو طویل جنگ لڑی اسے پوری صداقت سے رقم کیا۔ اس کتاب کا ایک ایک حرف چمکتی سچائی ہے۔ لکھنے کا ڈھنگ ایسا جیسے لگے وہ کسی دوست کو خود پر گزری بپتا سنا رہی ہیں اور وہ بھی مسکرا مسکرا کے۔ بالکل ویسے ہی جیسے کتاب کے سرورق پر عفت کی تصویر ہے۔ مسکراتی ہوئی۔ یہ دوست ناصح بنے بغیر یہ بتاتی ہے کہ محبت فاتح عالم۔
عفت کی آپ بیتی میں احمد نوید صاحب کا بھی ایک مضمون شامل ہے جس میں نہایت فراخ دلی سے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے شریک حیات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ”عفت نے دہری ذمہ داری نبھائی یعنی تخلیقی عمل بھی اور گھریلو ذمہ داری بھی“ ۔ پتہ نہیں یہ الفاظ عفت کے زخم مندمل کر سکیں گے یا نہیں لیکن اس کے دل کو یک گونہ سکون ضرور ملا ہو گا کہ محنت رائیگاں نہیں گئی اور دیپ سے دیپ جلتے رہے۔



بہت خوبصورت اور اعلیٰ تحریر جب بھی آپ لکھتی ہیں عمدہ لکھتی ہیں آپ کا شکریہ