بھوپال کی تانیا، کمالا حارث اور ہان کانگ
تانیا کا گھرانا بھوپال کا گھرانا ہے۔ تعلیم یافتہ، بین الاقوامی واسطے داریاں، خوشحال اور بے حد شائستہ اور کشادہ طبع۔ چھوٹے بڑے سب کے سب گفتگو اور چال چلن دونوں میں لیے دیے رہنے والے۔ اپنا دور پرے کا تعلق سیف علی خان اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی جوڑتے ہین۔ ان کے ہاں کیسری رنگ جو زردے زعفران کا رنگ ہے اسے بھوپال والیاں ترئیا کلر کہتی ہیں۔ راجھستان جہاں اس کی ٹھمری کیسریو بالم آؤ پدھارو (تشریف) مارے ( ہمارے دیش (وطن) نے بہت اودھم مچایا وہاں زعفران نہیں ہوتی اسے وہاں بھگوا کہتے ہیں۔ یہ راجپوت شہزادوں کی جنگ سے واپسی کا لوک گیت تھا اسے سن کر خوش رہتے ہیں انہیں علم ہے کہ اب راجپوت شہزادے پہلے جیسے نہیں رہے
ایک راجپوت نے ناک ہی کٹوا دی۔ گجرات کی ریاست راج پپلا کے راجکمار من ویندر سنگھ گوہل نے تو سیم سیکس شادی بھی رچا لی ہے اور دنیا کے پہلے کھلم کھلا گے شہزادے ہونے کا جھومر بھی ماتھے پر سجا لیا ہے۔ دلہن بن کر رہتے ہیں۔
بات بھوپال کے اس نستعلیق گھرانے کی تھی
موسم اچھا ہو یعنی برسات ہو تو پانچ چھ ملنے والے گھرانے ان کے فارم ہاؤس پر جمع ہو جاتے ہیں، کھانے اور گانے۔ برسات ہو تو چند بی بیاں گلوکارہ مہ ناز کی والدہ کجن بائی والی کجریاں بھی بہت چاؤ سے گاتی ہیں۔ کجری وہ لوک گیت ہیں جو آرے بھوج پور کے بہاری، موسم برسات میں گاتے ہیں۔
بھوپالی اب بنگالنیں (شرمیلا ٹیگور) پنجابنیں (سیف امرتا سنگھ) اور میمن بھی بیاہ لائے ہیں۔ اب ان کا کلچر ایسا watertight نہیں رہا۔ ان کی ایک لڑکی کی شادی امریکہ میں ایک جامعہ میں عشق کے نتیجے میں میمن لڑکے سے ہوئی۔ اب وہ دہشت گرد تو کراچی کے اسٹاک میں داؤ مارتی ہے اور کامیابی پر اپنے اسٹاک والے کلائنٹس کو میمنی زبان میں سودے میں یقینی فائدے کو ماں ڑی (امی جی) چھتیس جو آکڑو (ہندسہ) پکو اور کسی سے الجھ پڑے تو اوگھن ڑ تالیس ( انتالیس) نمبر جو باؤلو ( وہ لفظ تو چ والا کرتی ہے مگر ہم نے بوجہ اس سے اجتناب کیا ہے) ۔
لڑکی جس کا نام ہم تانیا فرض کرلیتے ہیں اور اس کی شخصیت کی عکاسی کے لیے فوٹو بھی اس جیسی کی لگا لیتے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل اس کے میاں دولہا عامر باٹا کے بڑوں کی ممبئی میں باٹا کی کئی دکانیں تھیں سو فیملی کا نام ہی باٹا پڑ گیا۔ عامر بہت کامیاب کارپوریٹ وکیل ہے۔ گھر والوں کے کئی اور بھی کاروبار ہیں۔ خوشحالی کے ہاتھی دروازے پر جھولتے ہیں۔
یہ تانیا ایسی ضدی اور اوریجنل ہے کہ گوری ہونے کے باوجود اس نے اپنی مہندی والی شام ساؤتھ انڈین دلہنوں والا میک اپ کیا۔ کالا چشمہ لگایا، دولہا کے ساتھ شیشہ پیا۔ عامر اور اس کی بہن نے سمجھانے کی کوشش کی تو کہنے لگی مہندی والے دن بھی Refund and Exchange کی سہولت دستیاب ہے میرے دو تین کزن پنڈال میں ہر وقت میرے لیے آدھی روٹی پر دال لیے تیار بیٹھے ہوں گے۔ ادھر تم نے قدم پیچھے ہٹائے ادھر ان کی طرف دیکھ کر میرا نعرہ ہو گا
Boys your time starts now.
نکاح نامے پر دستخط کے بعد
Baby you are hooked, booked and cooked
سمجھ لو اسرائیل، اردن کے مغربی کنارے میں گھس گیا۔ اپن نہیں نکلنے کی۔
عامر کی والدہ تو بیٹے کے پیار میں سمجھوتہ کر گئیں تھیں۔ بیٹے نے قائل کیا تھا کہ تانیا کو تیسواں پارہ پورا یاد ہے۔ آپ کی بیٹیوں کو تو التحیات اور دعائے قنوت بھی نہیں آتی۔ میرے ابو اور آپ کے میاں جب ممبئی کے کرکٹ ٹینس فٹبال کے میچ میں بھاؤ لگا کر بکیز کو سجدے ٹھوک رہے ہوتے ہیں تانیا کے ابو سان فرانسسکو میں بھی تہجد کے لیے اٹھتے ہیں۔ ماں نیک لوگوں کی قدر کر۔ بچے جیسا مزاج ہے۔ ریس کی گھوڑی سمجھ کر رکھے گی تو اپنی شان ہے، دھوبی کا گدھا سمجھا تو ایسی لات مارے گی کہ تیرا ڈیکرا (بیٹا) ماسکو کے گورکی پارک میں پڑا ہو گا،
اماں کو مہندی والے دن ڈارک میک اپ کرنے پر تانیا کے سب کے سامنے شیشہ پینے پر اعتراض تھا۔ عامر نے اپنی امی کو سمجھایا کہ جو کچھ ان کے اپنے زمانے میں ہوتا تھا۔ وہ اب ماضی کا قصہ ہے۔
نانی نے جہیز میں بہشتی زیور رکھنے کی ضد کی تھی۔ آپ نے اسی نیک عورت کو کہا تھا کہ میرے سامان میں سیم سو نایئیٹ کا بیوٹی باکس نہیں ہو گا تو میں دھوراجی کالونی (کراچی میں میمنوں کی مشہور بستی) سے قدم باہر نہیں نکالوں گی۔ آپ کی ٹوٹل شادی جتنے خرچے میں ہوئی اتنے میں آپ کی بیٹی اور ہماری بہن ماہ وش نے دوبئی کے چار چکر لگا کر بھاشا ڈیم والے پرانے جج صاحب کی بہو کی نقل میں انیتا ڈونگرے کے چار گھاگرے چولیاں بنوائے تھے۔ اپنی ماں کے گلے میں ہات ڈال کر جب اس نے کہا
Baby Calm Down۔ Time has changed
تو وہ دل پر جبر کر کے مان گئیں۔ عامر کی طرف دیکھ کر البتہ اتنا ضرور کہا کہ میری ماں کہتی تھی اپنی مرغی خراب جو دوسروں کے چھپر پر انڈے دیتی ہے۔ اپنے میمنوں میں بھی ہانیا عامر اور جھانوی کپور جیسی چھوکریاں ماں باپ کی عزت سنبھال کر بیٹھی ہیں مگر ہم ثریا بھوپالی کے، تیری پسند کے سامنے ہار گئے۔
میک اپ پر وہ خود بھی بہت خوش نہ تھا مگر جب تانیا نے مذاق کیا کہ ”تم میمن لوگ گوری چیز کو چم چم برفی سمجھ کر کھا جاتے ہو۔ سو اس کو اگنور کرو۔ میری رخصتی نکاح کے بعد ہوگی۔ اس دن میک اپ بھی تمہاری مرضی کا وکٹوریہ سیکریٹ کی لانجرے اورلاپریلا کی نائیٹی بھی تمہاری فیورٹ تمہارے ویزا کارڈ سے۔
تانیا کی اپنی اماں بھی، بیٹی کی اس بے باکی سے کچھ بہت آسودہ نہ تھیں مگر تانیا نے ضد کی کہ روز روز سب لوگ مجھے سسرال میں برا کہیں اس بہتر ہے پہلے دن ان کو پتہ چل جائے کہ اونٹ پالا ہے تو دروازے بھی اونچے رکھنے ہوں گے۔ Mom wedding is an opening statement of marriage۔ I want to feel good on my very big day۔
(امی جی شادی کی تقریب اس سفر کا پہلا پڑاؤ ہے۔ میں اپنے اس بڑے دن خود کو بہت خوش محسوس کرنا چاہتی ہوں۔)
تانیا کی ایک اور بات بتا دیں جب اس نے اپنے میاں سے پاکستان کے اندر لوٹ مار کرنے والے سیاست دانوں کے آئی پی پی ز کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ کیسے جن دنوں بجلی کا بحران تھا سرکار نے یہ خون آشام معاہدے کیے تاکہ عوام روز آنہ کی بنیاد پر Bleed کرتے رہیں اور رقم بغیر بجلی بنائے ان سرمایہ دار سیاست دانوں کی انتڑیوں میں جاتی رہے۔ اسے بتایا گیا کہ کیسے سرکار ان کے بڑوں نے اپنی ہی 33 کمپنیوں کوcapacity payment charges میں 979۔3 ارب روپے ادا کیے ہیں۔
اس پر تانیا نے کہا میرے نانی کی اردو بہت اچھی تھی اور ذہین بھی بہت تھیں پاکستان کے ایک سابق سیکرٹری جن کی اردو اور ایک جرنیل جن کی انگریزی بہت خراب تھی ان سے شادی کرنا چاہتے تھے مگر اللہ کو ہمارے نانا سے رشتہ منظور تھا۔ ہماری نانی کہا کرتی تھیں
رانڈ کا سانڈ اور سوداگر کا گھوڑا
کھائے بہت اور چلے تھوڑا
سو یہ موئے آئی پی پی ز پاکستانی غریب کا خون پینے والے رانڈ کا سانڈ اور سوداگر کا گھوڑا ہیں
تانیا کی چھوٹی بہن عمی یعنی عمرانہ بھی کم نہیں۔
فارم ہاؤس پر بتانے لگی ہمارے ہاں احتراماً گوگل کو بڑی پھوپھو اور چیٹ gpt کو جدید اور کشادہ مزاجی کی وجہ سے آنٹی پکارا جاتا ہے۔ میری ایک دوست فارہہ نے سہیلوں کے ساتھ شیشہ پیتے پیتے تفریح لینے کے لیے پوچھ لیا آنٹی چیٹ gpt یہ بتائو اور ماں قسم سچ بولنا۔ جھوٹ بولو تو تم پر امام کی مار ”ہم نے سنا ہے کمالا حارث اندر سے مسلمان ہے۔ آنٹی بہت دیر تک ہنسی۔ فارہہ کی عمر پوچھی سولہ سال کچھ مہینے سنے تو پھر کہنے لگی یہ سوال اپنے پاکستان کے بڑوں کے بارے میں پوچھ لیتیں چلو مردوں کے ایمان سے تمہیں کچھ لینا دینا نہیں تو چار پانچ سابق جرنیلوں کی ماڈل محبوباؤں کے بارے میں پوچھ لیتیں تو سوال کرنا جچتا تھا۔ اب پوچھ ہی لیا ہے تو سنو کمالا چالاک تو بہت ہے اس میں کوئی شک نہیں اس کا سایہ بھی اس سے بچ بچا کر چلتا ہے۔ باپ ویسٹ انڈین ہندو اور ماں تامل ناڈو کی ہے مگر خود وہ کسی طور مسلمان نہیں۔ آنٹی کا جواب تفصیلا” بچی نے کاپی کر کے فیملی گروپ میں واٹس ایپ پر پھینک دیا جس کے ایک ممبر ہمارے سول سروس کے ساتھی ہیں۔ جب ملازمت میں تھے تو بریف کیس اور ڈالر سے کم کی رشوت نہ لیتے تھے۔
اب صبح کی دعاؤں، پھولوں والے پیغامات جس میں دوسروں کو نیک بننے کی تلقین ہوتی ہے وہ یہ سارا کچھ ڈالر اپنے پاس رکھ کر آپس میں ایک دوسرے کو گروپ بھیجتے ہیں۔ اس میں کمالا حارث والی بات دل چسپ تھی
تانیا کو کورین سنیما بہت پسند ہے۔ خوش تھی کہ ہان کانگ وہ پہلی خاتون ایشیائی ادیب ہے جسے نوبل انعام ملا۔ ہم نے مذاق کیا کہ ہم دو دوست اگر انتخابی پینل میں ہوتے تو ہمارے لاہور کے ایک دوست کا فیصلہ کراچی کی ایک زمانے میں بہت دل نشین شاعرہ کے حق میں ہوتا جن کا تعلق ویسے تو حیدرآباد سندھ سے تھا۔ ہم البتہ گارڈن ایسٹ کراچی میں ان کے پڑوسی ہونے کے ناتے یہ انعام جون ایلیا کو تمام عمر ایک پاجامے اور بہترین چھوٹے اشعار جن میں احتجاج ایک کونے میں چپ چاپ پلے کارڈ لے کر کھڑا ہوتا اس کے عوض دے دیتے اس نے ہماری احتجاج والی بات پر پوچھا ایک دو ایسے اشعار بتائیں جن سے آپ کی بات کی تصدیق ہو
ہم نے صرف تین اشعار سنانے پر اکتفا کیا
1) مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہ ہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
2) بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
3) یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کار مسیحا کیوں کریں ہم
تانیا کو آخری شعر سمجھ نہیں آیا۔ کہنے لگی شعر کچھ مشکل نہیں۔ ہم نے کہا شعر کہہ لینے کے کئی دن بعد تک جون ایلیا کو خود بھی اپنے بعض اشعار سمجھ میں نہیں آتے تھے اس حساب سے وہ اردو شاعری کے کافکا مانے جاتے ہیں۔ مزید سمجھنا ہو تو ہم نے کہا ایک آدھ سال انتظار فرمائیں ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پھر کوئی غیر مقبول سرکار بلا لے لی گی، تب گورنر ہاؤس میں جاکر پوچھ لینا۔
تانیا کی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت لیزر فوکس والا ذہن رکھتی ہے۔ ملکی حالات اور سوشل میڈیا پر بہت دھیان دیتی ہے بھارت کی پالکی شرما، شیکھر گپتا، روش کمار اور امریکہ میں پناہ گزین وی لاگر کی گالیوں بھری ویڈیوز ضرور دیکھتی ہے۔
پوچھنے لگی آپ کا وہ لاہور والا دوست کراچی والی مرحوم شاعرہ کو نوبل پرائز کیوں دیتا۔ ہم نے کہا اس نے اس شاعرہ کے ایش ٹرے سے بہت ٹوٹے ایک بیگ میں جمع کیے ہیں وہ شاعرہ کا انعام لینے جب اسٹاک ہوم سویڈن جاتے تو وہ بیگ اکیڈیمی کو نذر کرتے
تانیا نے کہا امرتا پریتم بھی ساحر لدھیانوی کے ٹوٹے جمع کرتی تھی۔ ہمارے چہرے پر لفظ ٹوٹے کی شرارت پڑھ کر کہنے لگی
I only mean Cigarette Butts
ہم نے جواب دیا وہ کوئی اور قسم کی لگاؤٹ تھی۔ وہ بھی کوئی اور تھی اور ساحر بھی کوئی اور۔ وہ رات کوئی اور تھی، چراغ کوئی اور تھا
ہمارا دوست جس نے شاعرہ کے ٹوٹوں کا یہ بیگ خوشبو میں بسے خط سمجھ کر سینے سے لگائے رکھا ہے کافی عرصے سے اس کی مدد سے ایک پرفیوم بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کامیابی یوں نہ ہوئی کہ اس کے ٹاپ نوٹس قابو میں نہیں آرہے تھے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ پرفیوم کی تین تہہ ہوتی ہیں۔ سب سے اوپر والی تہہ کو ٹاپ نوٹس یا ہیڈ نوٹس کہتے ہیں۔ جب آپ پرفیوم اسپرے کرتے ہیں تو جو خوشبو کی لپیٹ کا اولیں احساس کہ یہ گلاب ہے عود ہے لیمن ہے، یا لیونڈر، اس کو ٹاپ نوٹس کہتے ہیں۔
ہم جانتے بوجھتے کہ فین ڈم کیا روگ ہے پوچھ بیٹھے کہ یہ ٹوٹے یہ کیا بلا ہیں جو ان کو دین ایمان بنا کر بیٹھے ہو
کہنے لگا تم تاجروں کی میمن قوم کیا جانو کہ عقیدت کس پتھر کو خدا بنا دیتی ہے ایک صاحب نے کوئین وکٹوریہ کا انڈروئیر، ایک نے بیٹلز والے جان لینن کا کموڈ اور کسی نے مارلن منرو کے سینے کا ایکسرے خریدا تھا اس میں سب سے سستا (دس ہزار ڈالر) ملکہ وکٹوریہ کا انڈروئیر تھا ورنہ باقی دونوں چالیس ہزار ڈالر سے اوپر کے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران پاکستان کے ہوں یا باہر کے مر کے بھی کوڑیوں کے مول بکتے ہیں۔
عقیدت کے اسی غلبے کے نیچے دب کر انہوں نے ایک بڑی مذہبی ہستی سے یعنی ہمارے اسی دوست نے ان کا ازار بند (ناڑہ) مانگا تھا۔ کالج کے زمانے کی دوستی ہے۔ اس طلب کی ٹائمنگ کچھ آؤٹ ہو گئی۔ سیدنا کی بال لگوانے والی ویڈیو لیک ہو گئی تھی سو وہ کچھ چراغ پا تھے۔ ایسے میں ازار بند کی فرمائش پر انہیں شک ہوا کہ یہ بھی اس گروہ حاسدان میں شامل ہے جو اس Implants کے بارے میں منفی پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے، بعید نہیں اس پر وہ جادو کرا دے اور سیدنا کے بالوں کے گرنے والی کمزوری جسم کے دوسرے حصوں میں بھی سرایت کر جائے سجن کوئی کوئی، ویری ہر کوئی۔
ہمارے دوست کی خفیہ اداروں میں بہت رسائی ہے۔ پیشکش کی کہ جب تک اصلی ملزم کا پتہ چلے کہ Hair Transplant ویڈیو کس نے لیک کی۔ وہ ڈونٹ والا بد زبان سرکاری تحویل میں ہے اس ناکردہ جرم پر اس کا وہی حال کر دیں گے جو امام حنبل کا سچ بولنے پر خلیفہ مامون نے کیا تھا۔ اس کا نام ایف آئی آر میں ڈال دیتے ہیں۔ سو جوتے صبح سو شام۔ مگر سیدنا نہ مانے حالانکہ ڈونٹ والی اور بالوں والی ویڈیو ایک ہی ناہنجار نے لیک کی تھی
اب آپ کو یاد دلائیں بات باجی ہان کانگ کو ادب کا نوبل پرائز ملنے سے شروع ہوئی۔ اصل میں قصور ہمارا نہیں بیوروکریسی کا ہے۔ ان سے آپ کچھ دیر پہلے ناشتے میں چائے اور سادہ ٹوسٹ مانگیں تو یہ بجٹ مکیش امبانی کے بیٹے کے ولیمے کا اور ٹائم ایک سال کا مانگیں گے۔ اسی لیے ہماری میز پر ہوم ڈیپارٹمنٹ میں لکھا رہتا تھا کہ اگر آپ کسی کو برباد کرنا چاہتے ہیں تو جوا تیز ترین، عورتیں حسین ترین اور بیوروکریسی مستند ترین ذریعہ ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ سول کی وہ دکان کیوبو جس میں 23 لاکھ کتابیں سجی رہتی ہیں اس کا وہ گوشہ جو فیض کے قفس کی طرح ایک مدت سے اداس تھا اور صبا سب کچھ سننے کے بعد بھی صرف بیلنس ڈلوانے کی بات کرتی تھی اور وہاں درج تھا کہ کسی کورین لکھاری کو نوبل پرائز ملے گا تو ہم پھلاں نال دھرتی سجاویں گے۔ اس پر بہار آ گئی ہے مگر سادہ مزاج ہان کانگ کو جب سویڈن سے انعام جیتنے کی اطلاع ملی تو انہوں نے بس اتنا کہا۔ very surprised and honored
ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی ادیب شاعر بھی ہو۔ ہان کانگ کو کوریا میں مستند شاعرہ بھی مانا جاتا ہے۔ ہان کانگ کی تین کتب مندرجہ ذیل ترجموں کی صورت میں دستیاب ہیں
”The Vegetarian“
”Human Acts“
The Wind Is Blowing ”
ہان کانگ نے جس طرح ہمارے قاضی صاحب نے اپنی خرچیلی الوداعی دعوت کو ٹھکرایا ہے اور خاموشی سے ڈائری لے کر گھر جانے کو ترجیح دی ہے اس سے متاثر ہو کر کہا ہے کہ وہ کوئی تقریب منعقد کرنا یا اس کامیابی پر بیان دینا نہیں چاہتیں وہ یوکرین اور غزہ کی جنگ پر بہت دل شکستہ ہیں۔ وہ پہلے ایک کورین ادیبہ تھیں۔ اب ان کی شناخت بین الاقوامی ہو گئی ہے اور وہ ان مسائل کے بارے میں واضح طور پر سوچنا چاہتی ہیں۔
ان کی اپنی کتابوں کی دکان ہے اور والد اور بڑے بھائی بھی ادیب ہیں وہ خود البتہ روسی ناول نگاروں، خصوصاً دوستوئفسکی اور پاسترناک سے بہت متاثر ہیں۔ اتالو کلوینو، اروندھتی رائے کو بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں
ہان کانگ کی تحریر میں تجربہ ہے اور ایسا تجربہ اور مشاہدہ جو قاری کو بے قرار اور تنگ کرتا ہے۔ اس لیے کہ اس میں کوریا کے جدید تاریخ کے مستند حوالے ہیں۔
ان کی تحریر برف پر قدموں کے نشان یا بچوں کی کاپی کا وہ ورق لگتی ہے جسے مٹا کر کچھ لکھا تو گیا ہو مگر اس پر پہلے سے درج پرانی تحریر صاف پڑھی جاتی ہو اس کو انگریزی میں palimpsest اسٹائل کہتے ہیں
ان کا نیا ناول
We Do Not Part
جو عنقریب شائع ہونے کو ہے
















دیوان صاحب کا مشاہدہ اور قلم کی کاٹ۔۔۔۔۔اسلوب اور تچزئیہ شاندار ہوتا ہے۔۔۔۔۔ہم ایسے لوگ اپکی نی تحریر پڑھنے کو ترس جاتے ہیں۔۔۔۔اوع اچانک ایک۔خوشگوار جھونکے کی مانند سر دیوان صاحب کی تحریر سامنے اتی ہے۔۔۔۔مشاہدے اور تجربے کی بھٹی سے کندن ہوتے ہوئے جملے اور تاریخ کا پوسٹ مارٹم۔۔۔۔۔۔بہت عمدہ۔۔۔۔۔۔
ایڈیٹر ہم سب۔کام سر اپ سے گزارش ہے کہ سر دیوان صاحب کی تحاریر کا مستقل سلسلہ شروع کیا جائے تو کیا ہی شاندار کام ہو جائیگا