جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم: حصہ اول


ڈاکٹر خالد سہیل کا سوال۔ محترمہ معظمہ سارہ علی صاحبہ سیمینار کے بعد میں چاہتا ہوں کہ آپ جمہوریت، فاشزم اور کمیونزم ان تینوں نظاموں کے بارے میں اپنی رائے اور ان کا فرق ان کی چند مثالوں کے ساتھ ایک مضمون میں قلمبند کر کے اپنی رائے سے آگاہ کریں؟

میرے محترم دوست ڈاکٹر خالد سہیل،

آپ کا محبت اور دانائی بھرا سوال نامہ جب مجھے ملا تو ان دنوں میں آپ کی ہی کتاب گرین زون فلسفے کو پڑھنے اور اس کے بارے میں اپنی رائے لکھنے میں مصروف تھی اور بے انتہا کتاب کی دنیا میں محو ہونے کے باوجود آپ کے سوال کی گہرائی اور اس کی اہمیت نے مجھے چونکا دیا اور میرا اولین رد عمل یہ تھا کہ میں بہت کم علم ہوں اس سوال کا جواب تحریر کرنے کے لیے۔ اس کا جواب تو میرے والد ڈاکٹر کرامت، نوم چومسکی، اقبال احمد یا ایڈورڈ سعید یا آپ خود بہتر دے سکتے ہیں پھر آپ کی کتاب کے سحر سے نکلنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ ڈاکٹر خالد سہیل کو اس کا پولیٹیکل، اکانومیکل فلوسفیکل اینگل معلوم ہے وہ اس کا lay man psychology سے جواب چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ سمجھ سکیں کہ عام لوگ جو creative minority سے تعلق نہیں رکھتے وہ ان نظریات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اس لیے میری خدمات نفسیات کے جادوگر نے طلب کی ہیں۔ اس خیال کے بعد میں یہ جواب لکھنے پر آمادہ ہوئی ہوں ورنہ جن چیزوں کے بارے میں ایسی قدآور شخصیات کے نظریات اور لیکچرز موجود ہوں وہاں میں منہ کھولنے کی جسارت کبھی نہ کروں۔

ڈاکٹر صاحب ان تینوں نظاموں کے بارے میں اپنی رائے دینے سے پہلے میں آپ کو اپنے معاشی اور معاشرتی بیک گراؤنڈ سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں کیونکہ آدمی اپنے حالات کے مطابق نظریات کے ساتھ جڑتے ہیں۔ نظریہ اگر زمینی حقائق سے نہ جڑا ہو تو وہ نظریہ نہیں ایک hypothesis ہوتا جس کو ٹیسٹ کرنے کے لیے لوگوں کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے۔ میرا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے یہ انتہائی پسماندہ خطہ ہے اس لیے نہیں کہ اس کے پاس وسائل نہیں بلکہ یہ انتہائی زرخیز علاقہ ہے لیکن اس کے وسائل کو اپر پنجاب خاص کر لاہور پر خرچ کیا جاتا ہے جو بچ جاتا ہے وہ جنوبی پنجاب کی غنڈہ اشرافیہ کی نظر ہو جاتا ہے جن کا ووٹ بنک تو جنوبی پنجاب کے گاؤں ہیں لیکن ان کے گھر اور ان کے اہل خانہ لاہور کے ڈیفنس میں رہائش پذیر ہیں۔ سونے پہ سہاگہ گدی نشین پیر، قریشی گیلانی، خاکوانی، بوسن اپنے مزارعوں کا خون چوستے ہی ہیں جو مزارع سارا سال زمینوں پر کام کرتے ہیں ان کو فصل میں سے کچھ خیرات اور چند پیسے دے کر رخصت کر دیا جاتا ہے اور خود زمیندار سارا پیسہ ہڑپ کر جاتے ہیں اوپر سے زرعی ٹیکس بھی نہیں لگنے دیتے ساتھ میں جب یہ اقتدار میں آتے ہیں تو مڈل کلاسیوں کا بھی خون چوستے ہیں اس کے ساتھ جو وہاں پہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مالکان ہیں وہ بھی کچھ مختلف نہیں ملتان میں ضیا دور میں 1978 میں کالونی ٹیکسٹائل ملز میں مزدوروں کا بدترین قتل عام کیا گیا تھا یہ مل مغیث اے شیخ کی تھی جنہوں نے اس سال ریکارڈ منافع کمایا تھا اور جب مزدوروں نے بونس کا مطالبہ کیا تو ضیا الحق کے ساتھ دیرینہ مراسم کے باعث پیرا ملٹری فورسز نے ان مزدوروں کی پرامن میٹنگ پر سیدھی گولیاں برسائیں اور مزدور اس لیے مار دیے گئے کیونکہ وہ اپنا حق مانگ رہے تھے یہ ملتان کے جنرل ڈائر کا کارنامہ تھا وہ تو پھر فرنگی تھا ہم تو ایک ہی دھرتی کی اولاد تھے پھر بھی صرف اس لیے مار دیے گئے کہ غریب ہو کر حق مانگتے ہو۔ آج بھی ملتان کی ہر تقریب میں اس خاندان کے افراد کو مہمان خصوصی بلایا جاتا ہے اور ملتان کا ہر پرنسپل وائس چانسلر ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ جو مڈل کلاس ہے وہ بھی انتہائی فیوڈل مائنڈ سیٹ کی مالک ہے اس لیے میں نے اپنے علاقے کے غریب کو چکی کے دو پاٹوں میں پستے پایا ایک تو معاشی بدحالی، صحت اور تعلیم کی عدم دستیابی اور دوسرا مذہب کا گورکھ دھندا جہاں مزاروں کے گدی نشین اور مولوی ان کو بتاتے ہیں کہ ان کے حالات ان کے گناہوں کا نتیجہ ہے اور ان کو صبر شکر کر کے اپنے اوپر مسلط زمینداروں فیکٹری مالکان اور تاجروں سے اپنا خون چوسوانے کے لیے برضا و رغبت اپنی گردن پیش کر دینی چاہیے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میرا جیسا انسان جس نے کئی دفعہ ان لوگوں کے لیے اور کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کی بیوی کے لیے کھڑے ہونے سے انکار پر جھاڑ کھائی ہو وہ اس ماحول میں کیسا پریشر ککر بنا ہو گا۔ اس لیے میں معاشی معاشرتی اور سیاسی نظام پر انتہائی strong opinion کی مالک ہوں امید ہے کہ میں آپ کی curiosity کی ideology of of lay man کو تسلی بخش جواب دے پاؤں گی۔

ڈاکٹر صاحب جمہوریت میرے لیے ایک ایسے نظام کا نام ہے جس میں عام لوگوں کو آواز ملتی ہے وہ اپنے لیے ان نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کے خیال میں ان کے مسائل کو حل کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نظام عوام کی رائے پر انحصار کرتا ہے اور وہ لوگ جو عوام کے نمائندگی کرنا چاہتے ہیں چار یا پانچ سال بعد ایک آئین کے تحت عوام میں اپنا منشور لے کر جاتے ہیں جس میں انسانی زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام پہلو صحت، تعلیم، معیشت، تجارت اور دیگر کی بہتری کے لیے مختلف پروگرام تجویز کیے جاتے ہیں اور ان کو عوام میں لے جایا جاتا ہے جلسے منعقد کیے جاتے ہیں، کارنر میٹنگز ہوتی ہیں اور عوام مختلف جماعتوں کے نمائندگان کے پروگرام اور تجاویز کو سن کر الیکشن میں اپنا ووٹ ڈالتے ہیں۔ ہر نظام میں اچھائیاں اور برائیاں موجود ہوتی ہیں اس طرح جمہوریت میں بھی بہت سی اچھائیاں اور برائیاں ہیں۔ میرے لیے اس نظام کی اچھی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو عوام کی نمائندگی کرتے ہیں ان کو دوبارہ ری ایلیکٹ ہونے کے لیے ان لوگوں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے جن سے وہ وعدہ کر کے آئے ہوتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ خاص کر سوشل میڈیا کی ایکٹیوزم کی وجہ سے دیہات میں بھی لوگوں کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا جا رہا ہے اور وہ سوال جواب کرتے ہیں جب ان کے نمائندے ان کے پاس جاتے ہیں۔ اسی طرح سے ان نمائندوں کو بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کام نہیں کیا اور ان کے دکھ سکھ میں شریک نہیں ہوئے تو اگلی دفعہ ان کے لیے مشکل کھڑی ہوگی۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ خاص کر دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندگان زیادہ اپنے علاقوں میں متحرک رہتے ہیں اور اس نظام میں مارجینلائزڈ کمینوٹی کو اپنے مسائل کے بارے میں جہاں بات کرنے کو ملتی ہے وہاں ایک میلے کا سا سماں ہوتا ہے وہ غریب آدمی جس کو ہر طرف سے پیسا جا رہا ہوتا ہے اس کو اپنی آواز کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے اس لیے میں سٹوڈنٹ پالیٹکس، لیبر یونینز کی حمایت میں ہوں۔ طلبا تنظیمیں طلبا کی سوچ اور ان کی توانائی دونوں کو سیاست کے میدان میں جمہوریت کے لیے چینیلائز کرتی ہیں بدقسمتی سے ضیا الحق کے دور میں ان کے اوپر پابندی لگا دی گئی اور جماعت اسلامی کے غنڈوں کو اسلام کے نام ہر طلبا پر چڑھ دوڑنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ایسے جمود کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے نوجوانوں کا ایک سمندر ہے جس کے ہاتھ میں موبائل ہے ان کو برائلر مرغیوں کی طرح ڈبے کی تاریخ اور جغرافیہ پڑھایا گیا ہے ہاتھ میں مذہب کے انجیکشن لگے ہیں اور ان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔ انرجی کا یہ بے انتہا طوفان لیڈر لیس ہے اور جب یہ جمہوریت کو گراس روٹ لیول پر نابلد پائے گا اور اپنی آواز کو میوٹڈ دیکھے گا تو مایوس ہو جائے گا اور انارکی پھیلی گی۔ جمہوریت اس انرجی کو چینلائز کرتی ہے اور اس کو پازیٹیو پروڈکٹیوٹی میں بدل دیتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ جب بھی ہم نے جمہوری آوازوں کو دبایا تو اس کی جگہ مسلح جدوجہد نے لے لی غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر کو بلوچستان میں جمہوری نظام سے بے دخل کیا تو پیچھے صرف لاشیں اور دہشت بچی وہ سردار جن کو ریاست نے مسلط کیا ان سے نفرت ہر دل میں موجود ہے۔ پختونوں کے اوپر سعودی جہاد کو مسلط کیا تو پیچھے نوحے سسکیاں اور بربادی رہ گئی۔ پاکستان میں جو ایک پرسنٹ نوجوان کے پاس دماغ ہے اس کے ہیچھے اسٹیبلشمنٹ اور بلاسمی کا الزام دوڑ رہا ہے۔ جمہوریت میں ان سب مسائل پر بات کی جاتی ہے، حل کے لیے کوشش کی جاتی ہے یہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ اس نظام میں بہت خامیاں بھی ہیں جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لابی جو بہت زیادہ پیسے یا اثر و رسوخ کی مالک ہوتی ہے وہ الیکشن کے نتائج کو influence کر کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے جیسے امریکہ میں APAC یا پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ لیکن جیسے جیسے انفارمیشن کی عام انسان تک فراہمی آسان ہو رہی ہے awareness زیادہ ہو رہی ہے اور عام آدمی زیادہ سوال پوچھ زیادہ باشعور ہو رہا ہے اور میرے والد کے بقول جوابدہی کا عمل جتنا مضبوط ہو گا جمہوریت اتنی زیادہ اور بہتر ہوگی انڈیا اس کے ایک مثال ہے نریندر مودی کو اسی جمہوری نظام میں تمام اپوزیشن پارٹیز شکست کی طرف لے جا رہی ہیں جس ملک میں وہ بادشاہ سمجھے جاتے تھے اگرچہ یہ ایک صبر آزما عمل ہے۔ حتیٰ کہ جمہوریت کی ماں برطانیہ کو رشی سونک جیسے پرائم منسٹر سے چھٹکارا حاصل کر نے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا۔ فرانس کے پہلے الیکشن راؤنڈ نے ساری دنیا کے روشن خیالوں کے سانس روک دیے جب رائٹ ونگ کی جیت عیاں ہوئی اور اس شدت پسندی کو شکست دینے کے لیے فرانس کی تمام مارجینلائزڈ کمیونٹیز الیکشن کے اگلے راؤنڈ میں باہر آئیں انہوں نے روشن خیال اقدار کے حق میں مظاہرے کیے اور فرانس کی لے فٹ ونگ پارٹی کو ووٹ دے کر جمہوریت کی جیت میں اپنا حصہ ڈالا لیسبین، گے، ٹرانس جینڈر، ابارشن کے حق میں کھڑی خواتین، امیگرینٹ سب ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے تھے، جنگوں کے باپ امریکہ میں ڈیموکریٹ بھاگے پھر رہے ہیں کہ وہ مسلمان جن کی فلسطین میں جنگ بندی کی آواز کو انہوں نے اپنے طاقت کے گھمنڈ اور یہودی لابی کے پریشر میں اگنور کیا تھا آج کملا ہیرس کو سونگ اسٹیٹس میں ووٹ دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستانی ڈاکٹروں نے اپنی حمایت ٹرمپ کی جھولی میں ڈالی دی ہے کہ ہم تو ڈوبیں گے صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے وہ جنگ جو آپ دوسرے پر مسلط کرتے ہیں ہم اپنا ووٹ ٹرمپ کو دے کر آپ کے اوپر مسلط کریں گے۔ Have a taste of your own medicine۔

ڈاکٹر صاحب جمہوریت کی تمام برائیاں دور کرنے کا حل مزید جمہوریت ہے اور یہ جو پاکستان کا ایلیٹ سوشل میڈیا پر اپنی pseudo intellectual rant کرتا ہے کہ ”ارے پاکستان کے تو نوے فیصد عوام جاہل ہیں یہ بریانی کی ایک پلیٹ کے پیچھے اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں“ ان کو مسئلہ اسی بڑھتے ہوئے شعور جوابدہی اور اپنے برج کے الٹ جانے سے ہے۔ جمہوریت محبت کی طرح صبر ایثار اور قربانی مانگتی ہے اس میں سیٹ بیک بھی آتے ہیں لیکن اس میں جیت اسی کی ہوتی ہے جس کا دل عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے یہ کم ہمتوں کا کام نہیں اس کی ایک مثال برنی سینڈرز ہیں جو کہ ڈیموکریٹ سے تعلق رکھتے ہیں جب پورے امریکہ میں ڈیموکریٹ کے برج الٹ گئے تو برنی سینڈرز پھر بھی جیت گئے وہ برنی سینڈرز جن کو ہرانے کے لیے demean کرنے کے لیے ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن دونوں چھریاں نکال لیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب یہ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے پاکستان کی ایلیٹ یا دنیا میں کسی بھی ملک کی ایلیٹ جمہوریت سے اسی لیے خائف رہتی ہے کہ اس میں عوام کا زور کہیں نہ کہیں نظر آ جاتا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

سارہ علی

Facebook Comments HS