زبانوں میں بٹا ہوا آدمی۔ حصہ دوم


اہل خانہ کا کھیتی باڑی سے ملازمت کا سفر گاؤں سے شہر تک کا سفر تو بنا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ یہ پنجابی سے اردو میں انتقال کا سبب بن جائے گا۔ انتقال دونوں طرح کا سمجھا جا سکتا ہے۔

میں پڑھتا تو بائیس روپے مہینہ کے سرکاری اسکول میں تھا مگر اسکول فوجی چھاؤنی میں واقع تھا، کیونکہ گاؤں چھاؤنی سے ملحق تھا۔ اسکول مخلوط بھی تھا اور مربوط بھی۔ مرد مومن ضیا الحق کے آخری سال تھے۔ اینٹوں کے رنگ کی شلوار قمیص بطور یونیفارم زیب تن کر کے ہم اردو قاعدوں کو رٹا مارتے۔ اسکول کے اصیل ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے اس کی بیرونی دیوار پر جلی حروف سے ’اے آمدنت باعث آبادی ما‘ درج تھا۔ دور جہالت میں اس کا مطلب ”آپ کی آمد سے ہماری آبادی میں اضافہ ہوا ہے“ سمجھتے رہے۔ جلی کو بھی جعلی پڑھتے اور جعلی کا تلفظ جیلی کرتے۔ اندرونی دیوار پر درج ”چشم ما روشن دل ما شاد“ کو پاک سرزمین شاد باد کے ہم وزن ہونے کی وجہ سے قومی ترانے کے حصے کے طور پر گنگناتے رہے۔ اک دونی دونی دو دونی چار والوں کو اب اول دوئم سوئم سے شروع ہونے والی جماعتوں کے نام یاد کرنے پڑتے جو جادو منتر کی طرح ہفتم ہشتم تک پہنچ جاتے۔ ابھی نہم دہم ہم سے کوسوں دور تھے۔

پنجابی سے اردو کی طرف جاری ارتقا اپنی دھیمی رفتار سے جاری تھا۔ اسکول میں ہم رٹوں کے طفیل اٹک اٹک کر درجہ بہ درجہ تہذیب کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ ہمارا علمی اطمینان مگر عارضی ثابت ہوا۔ پینڈو نامی مزائل کے حملے سے ہمارا دیہاتی اعتماد اسی طرح پاش پاش ہوا جس طرح محمود غزنوی کے ہاتھوں سومنات کا بت یا اگر آپ بہت مطالعہ پاکستان پڑھ چکے ہوں تو اس طرح جیسے محمد بن قاسم کی منجنیق سے دیبل کا قلعہ۔ غالباً ہشتم ( پینڈو ہم نفسوں کے لیے اٹھویں ) جماعت میں اول نمبروں پر آنے والی چنچل (اس وقت بدتمیز) ہم جماعت نے میرا سبق سن کر بے ساختہ چیخ ماری اور اعلان کیا، ہائے تم کتنے پینڈو ہو۔

پینڈو لفظ کو سن کر تمام پنجابی گالیاں اپنا رستہ بھول گئیں۔ ایک ہی پانچ حرفی لفظ میں جہالت، حقارت، غربت کو اکٹھا کر کے اوپر سے بد تہذیبی کا ملمع کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے اساتذہ ہلکے ہلکے ہمارے لہجے اور تلفظ پر تشویش کا اظہار کر چکے تھے۔ سرکاری سکول کے چڑیا گھر میں البتہ ہر طرح کے چرند پرند چل جاتے ہیں۔ ہم نے بھی کبھی محسوس نہیں کیا۔ ہمارے لیے تو نب والے قلم سے لکھنا ہی ترقی تھی ورنہ گاؤں کے غریب یار بیلی ابھی تختی کو گاچی (تختی کا صفائی میٹیریل سمجھ لیجیے ) سے رگڑ رگڑ کر کانے (بانس) کی قلم سے حروف تہجی لکھ لکھ کر پھونکوں سے خشک کر رہے تھے۔

مجھے مگر غربت سے زیادہ جہالت کی چوٹ لگی تھی۔ تہذیبی خلا سات سمندروں سے بھی زیادہ وسیع لگ رہا تھا۔ قومی زبان و تہذیب سے نا آشنائی پر ہم معاشرتی معتوب تو ٹھہرے تھے ہی، ایسا اندیشہ بھی تھا کہ اس مجرمانہ غفلت پر قابل دست اندازی میں اندر ہو جائیں۔ بہت دیر تک یہ دھڑکا لگا رہا کہ کسی دن ملک میں شہریت کا امتحان ہو گا اور جو لوگ قسطنطنیہ صحیح املا سے لکھ اور صحیح تلفظ سے بول نہیں سکیں گے ان کے فارم ب مسترد ہو جائیں گے۔ ٹی وی پر بھی خاکے چلتے جس میں نیم خواندہ سپاہی کی طرف سے مشکل املا والے نام جیسے ”مستنصر حسین تارڑ“ لکھنے میں ناکامی کو بطور تضحیک دکھایا جاتا ہے۔ بعد میں بیرون ملک دوران تعلیم دیکھا بھی کہ نقل مکانی کرنے والوں کا شہریت کا امتحان ہوتا ہے جس میں ان کی قومی زبان نہ جاننے والوں کو دیس نکالا مل جاتا ہے۔

ہم فارم کو فا۔ رم اور پارک کو پا۔ رک پڑھتے۔ ابھی ملک کا صحیح تلفظ کوسوں دور تھا اور آگے پیچھے کو اگے پچھے ہی کہا جاتا تھا۔ شکر ہے یہ تخریبی سوال بھی ذہن میں نہیں آیا کہ اگر زبان زبردستی اور تگ و دو سے سیکھنی پڑے تو وہ قومی زبان کیوں کر ہوئی۔ اسکول کی اسمبلی میں ”لب پہ آتی ہے دعا“ پڑھا جاتا تھا جس کو ہم لبے آتی لبے آتی پڑھتے۔ ایک استاد نے پوچھا کہ مطلب کیا ہے۔ جواب دیا لبے آتی یعنی ڈھونڈ کر آتی۔ استاد سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

ہمارے تہذیبی بحران کا حل تین کرداروں کا مرہون منت تھا ؛ ایک چوکیدار، ایک درزی اور ایک اپسرا۔

اسکول میں ایک منظم لائبریری موجود تھی جس میں سینکڑوں کتابیں موجود تھیں مگر لائبریری میں جانے پر پابندی تھی۔ جواز اس کا یہ تھا کورس کے علاوہ کتابیں پڑھنے سے بچوں کا وقت ضائع ہو گا۔ مجھے اکثر لائبریری کے اردگرد منڈلاتے دیکھ کر ایک مہربان چوکیدار نے چور دروازے کی راہ سجھائی اور میں نے گاہے گاہے نقب زنی شروع کر دی۔ نہم اور دہم کے دوران میں نے اسکول کی لائبریری سے کہانیوں کی تمام کتابیں چوری کر کے پڑھ چھوڑیں۔ طلسم ہوشربا اور داستان امیر حمزہ کی دس دس جلدیں ہڑپ کر لیں۔

عوامی اردو ادب تک رسائی ایک درزی صاحب کے ذریعے ہوئی۔ نام یادداشت سے حذف ہوا ہے مگر ہم سب کہتے درزی صاحب ہی تھے جو قریبی قصبے کے ایک تنگ محلے میں کپڑے سیتے اور اردو ناول کرائے پر دیتے تھے۔ اس تنگ گلی کی ایک اور نشانی قصبے کی مشہور کھوئے والی قلفی کا گودام تھا۔ میں نے خوشبو سے پیٹ بھرنے کا تجربہ پہلی اور آخری دفعہ وہیں کیا۔ اس کے بعد تو کھانے سے پیٹ نہ بھرنے کا مظاہرہ متواتر نظر آتا ہے۔ خیر قلفی کے گودام کے ساتھ درزی صاحب کی دکان تھی جس میں ایک طرف سلائی مشین اور دوسری طرف سستے اردو ناولوں کا ڈھیر لگا رہتا۔ عمران سیریز، انسپکٹر جمشید اور انگریزی جاسوسی ترجموں کو ایک یا دو روپے روزانہ پر حاصل کیا جا سکتا تھا۔ درزی صاحب خود البتہ سلائی کے وقفوں میں شاعری کے کتابیں با آواز بلند پڑھتے۔ سلائی مشین چلاتے پروین شاکر، احمد فراز اور ناصر کاظمی کے شعر سناتے جھوم جھوم جاتے۔ ہے مشق سخن جاری اور سلائی مشین بھی، کا عملی نمونہ لگتے۔ شاعری کی کتاب کرائے پہ نہیں دیتے تھے کہ استاد شعرا کی توہین گوارا نہیں تھی۔

میں مختلف کتابیں مختلف جگہ پڑھتا۔ کورس کی کتابیں سب کے سامنے، روز مرہ کتابیں چھت پر مگر شعلہ بیاں ناولوں کے لیے غسل خانہ مخصوص تھا۔ اس وقت ہر قسم کے ناولوں کو اخلاق باختہ سمجھا جاتا اس لیے میں ناول اخبار وغیرہ میں چھپا کر گھر لاتا اور باتھ روم کے واش بیسن کے پچھلے حصے کی درز میں چھپا کر رکھتا۔ چونکہ اہل خانہ کی تعداد کثیر تھی اس لیے وقت کم ہوتا اور جلدی جلدی پڑھتا۔ اس مشق سے اردو پڑھنے کی رفتار البتہ تیز ہو گئی۔ تین چار چکروں میں تین سو صفحوں والا ناول ختم کر لیتا۔ تیز پڑھنے کی اس مشق کے فائدے بعد میں بہت ہوئے۔ ایک دو دفعہ یہ مثال طالب علموں کو بھی دی۔ کچھ عرصہ پہلے فیس بک پر پیغام بھی وصول ہوا کہ آپ کی بڑی مہربانی اب ناول دس چکروں کے بجائے چھے چکروں میں ختم کر لیتا ہوں۔ کون کہتا ہے نوجوان سبق نہیں سیکھتے۔ نوجوان نے موجودہ روٹین کے بارے میں پوچھا۔ جواب دیا کہ آج بھی رفتار وہی ہے البتہ اب جگہ پرسکون مل جاتی ہے۔

اردو اپنانے میں تیسرا کردار اور اصل مشعل راہ البتہ مس رضیہ ثابت ہوئیں۔ پر وقار، دھیمی، شائستہ اور خوش اخلاق۔ تہذیب اور تمدن کی نمائندہ۔ ناک کی نوک پر عینک کو بس ٹکا کر وہ اردو شعر کی تشریح مزید شعروں کے ساتھ کرتیں تو بالکل اپسرا لگتیں۔ اپسرا لفظ بھی میں نے نیا نیا طلسم ہوشربا سے سیکھا تھا مگر استعمال کا موقع نہیں ملتا تھا اس لیے استانی صاحبہ کے لیے استعمال کر لیا۔ اب باعث شرمندگی ہے مگر تاریخ کی درستگی پیش نظر ہے۔ اسی طرح ایک دکھی شعر کی تشریح کے دوران انہوں نے مصرعہ پڑھا، وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا، اور میری طرف دیکھ کر مسکرانا شروع کر دیا۔ مجھ پر صورتحال کی خوشگوار سنگینی کا ادراک کچھ دیر بعد ہوا۔ بس پھر اس کے بعد یہ ادراک بھی ہو گیا کہ مہذب ہونے کا سفر تو اردو خاص کر شاعری سے عبارت ہے۔

ہم استانی جی کے قابل فخر شاگرد ثابت ہوئے۔ پی ٹی ماسٹر کی اردو میں غلطیاں نکال لیتے۔ اخبار بھی پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ جماعت کے آخری دن قومی ترانہ پڑھا گیا تو بھائی نے ہم جماعتوں کے لیے کشور حسین شاد باد کی تشریح کی کہ یہ کشور نامی حسین دوشیزہ کا ذکر نہیں بلکہ اپنی حسین مملکت کے ہمیشہ قائم رہنے کی دعا ہے۔ مس رضیہ کی آنکھوں میں جھلکنے والا فخر اسکول میں نا ملنے والے میڈل سے بھی زیادہ کم یاب تھا۔

اردو اور خصوصاً شاعری ایک بات کے لیے بہت سے الفاظ کے استعمال سے عبارت ہے۔ عام طور پر اس اسراف کو فصاحت اور بلاغت سے محمول کیا جاتا ہے۔ پڑھا لکھا کہلانے کے لیے ہم نے چاند کے ہی درجن بھر نام یاد کر لیے تھے ؛ بدر، قمر، ہلال۔ شہر اور اردو میں یہ بھی دیکھا کہ ایک ہی چیز کے بہت سے نام ہوتے ہیں۔ چاند کے بنیادی ناموں کے بعد چاند نما صورتوں کے نام جیسے مہ تاب، مہ جبین، مہ رو، مہ لقا۔ کالج میں تو غالب کا ”تم مہ چہار دہم تھے ہمارے گھر“ پڑھ کر ایک درجہ اور اوپر چلے گئے۔ گاؤں میں تو چاند صرف چن تھا جو چڑھتا یا چڑھایا جاتا۔ یا پھر کسی کا اپنایت کا نام چن پڑ جاتا جیسے ہمارے مہربان اور مشہور سیاستدان چن صاحب ہیں۔ اب تو ایسے نام سنتے ہیں جن کے لیے لغت بھی ناکافی پڑے۔

ویسے کبھی سوچتا ہوں کہ ہم وہ قوم ہیں جس میں ہر نسل میں نئے نام نمودار ہوتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں کے نام غلام حسین، رسول بی بی وغیرہ تھے۔ اس کے بعد ریاض، مشتاق، لیاقت، شوکت ہو گئے۔ ہمارے تک عمر، عثمان، علی کے ساتھ ساتھ عدنان، ذیشان، تک پہنچے۔ اب تو بات سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ شادی پہ کچھ اٹکھیلیاں کرتے عزیزوں کے صاحبزادوں سے نام پوچھ بیٹھا، جواب میں بچوں نے یکے بعد دیگرے آگاہ کیا ؛ آرش، اشہل، آدرش، آیان۔ نام کیا تھے گویا ادائیگی، املا اور معنی کا سہ طرفہ امتحان تھا۔ ابھی یہ صرف الف والے نام ہیں۔ سلسلہ یہ تک پہنچے گا تو نہ جانے کہاں جائے گا۔ مغرب میں درجن بھر ابتدائی ناموں پر تہذیب چل رہی ہے، بس ساتھ خاندانی نام لگا لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں مذہبی اور تقدس والے نام مستقل ہیں مگر بطور سابقہ یا لاحقہ۔ ساتھ نئے سے نئے نام ایجاد ہو رہے ہیں۔ اردو میں سب سے زیادہ ترقی تو ناموں میں ہی نظر آتی ہے۔ شاید یہ انفرادیت کی تگ و دو ہے یا پھر کوئی لایعنی مقابلہ۔ کچھ اور کمال تو ممکن نہیں تو نام ہی کمال کا رکھ لیں۔

ماضی کے قصوں میں بات کہیں سے کہیں نکل گئی۔ ذکر تھا اسکول، اردو اور ہماری تعلیم کا جو اب کالج تک پہنچ چکے تھی۔ اسکول کے بعد کالج میں بھی اردو کا دور دورہ تھا۔ اقبال کے شعروں پر مباحثے ہوتے جن میں اقبال کے دعووں کے حق میں اقبال کے کلام سے دلیلیں دی جاتیں۔ بھائی نے ساقی نامہ حفظ کر لیا تھا اور یہ موجِ نفس کیا ہے تلوار ہے خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے سے شروع ہو کر خودی کو خودی سے ثابت کرنے میں ملکہ حاصل کر لیا تھا۔ باقی دلیلیں ختم ہوتیں تو اقبال کے تمام القابات بھی ایک سانس میں فائر کر دیتے، حکیم الامت، شاعر مشرق، ترجمان حقیقت وغیرہ وغیرہ۔

اقبال کو صرف ادب نہیں بلکہ تاریخ، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کے اساتذہ بھی بے دریغ استعمال میں لاتے تھے۔ ایک دن ایک معصوم ہم جماعت جو تازہ تازہ کویت سے وطن منتقل ہوا تھا، نے ”خودی کو کر بلند اتنا“ سن کر سوال کیا کہ یہ خودی کا مطلب کیا ہے۔ استاد نے ہمیں حکم کیا کہ بتائیں۔ ہم نے ”خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے ؔ“ فر فر پڑھی دی۔ وہ پھر بضد رہا کہ آخر خودی ہے کیا؟ استاد نے آگ بگولا ہو کر ارشاد کیا، اگر تم جیسے جاہلوں کی سمجھ میں آ جائے کہ خودی ہے کیا تو پھر اقبال کے اتنے بڑے شاعر ہونے کا کیا فائدہ۔ ہمارا دل بھی کچھ کھٹکا مگر ہم میں گہرائی میں جانے کی نہ جستجو تھی اور نہ ہی ہمت۔

کالج کے علاوہ ٹی وی واحد تفریح تھی۔ ساڑھے پانچ بجے پنجابی ڈرامہ اج دی کہانی لگتا مگر ہم پر اب پچیس منٹ گراں گزرتے۔ ڈرامے کے کردار کچھ جاہل کچھ گنوار اور کچھ غریب لگتے یعنی مکمل پینڈو۔ ہم نے پینڈو نامی تہمت کو ہٹانے کا تہیہ کر لیا تھا۔ اج سک متراں دی بھی شہر میں کانوں میں نہیں پڑتا تھا۔ ٹی وی پر قاری وحید ظفر پرسوز آواز میں زہے مقدر حضور حق سے سلام آیا پیام آیا پڑھتے تو قلبی سکون ملتا۔ مجھے زہے کا مطلب سمجھ نہیں آیا۔ گھر میں بھی کسی کو نہیں پتا تھا مگر یہ احساس ہوا کہ اردو کے ساتھ فارسی تہذیبی شعور کو بڑھاوا دے گا۔

ٹیپ پر اب نواب مرزا خان داغ دہلوی کی غزل ”تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا“ ضلع سیالکوٹ کے غلام علی کی آواز میں سنتے اور سر دھنتے۔ شام کو نیلام گھر میں ساہیوال کا طارق عزیز بیت بازی کرواتا اور پھر خطوں کے جوابات دیتے ہوئے جھوم کر ایک ہی شعر ہر بار پڑھتا، ”نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے کیسے ہوتے ہی وہ خط جن کے جواب آتے ہیں“ ۔ رات گئے چمڑے کی جلد میں لپٹے ریڈیو پر سرحد پار سے محمد رفیع کے ابھرتے سروں، ”لکھے جو خط تجھے وہ تیری یاد میں“ سے نیند کی وادیوں میں اتر جاتے۔

ذرائع ابلاغ پر تہذیب یافتہ اور نستعلیق افراد کا غلبہ تھا۔ علم و تہذیب کا عملی نمونہ کسوٹی پروگرام دیکھتے جس میں قریش پور اور عبید بیگ رسیلے لہجوں میں رسان کے ساتھ معلومات میں اضافہ کرتے۔ بیگ صاحب حسرت سے یو پی اور اتر پردیش کی جگہ صوبہ جات متحدہ آگرہ و اودھ کہتے تو لگتا کہ ہم نے بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کی ہے اور اگر یہ صاحبان ہم تک نہ پہنچتے تو ہم نرے کورے دہقان ہی رہ جاتے۔ اب تو فارسی قوالیاں بھی سننی شروع کر دی تھیں۔ ”نمی دانم کہ آخر چوں دم دیدار می رقصم قوالی میں می رقصم“ کی گردان پاپ موسیقی سے کم نہیں لگتی تھی۔ دیوان حافظ مترجم خرید کر ساتھ ہی کچھ کچھ فارسی میں بھی دست درازی شروع کر دی تھی مگر چوری چوری چپکے چپکے۔ سننے والوں کو یہ بتا کر کہ زبان یار من ترکی و ترکی نمی دانم اصل میں ترکی نہیں فارسی کا شعر ہے، محظوظ کرتے۔

کبھی امیدیں مدھم پڑتیں تو استاد نارووال کے جاٹ فیض احمد فیض اور سیالکوٹ کے شیخ گھرانے کے چشم و چراغ کے شاعر مشرق بننے کی مثالیں دیتے۔ ہماری بھی شمع امید ایک بار بھڑک اٹھتی۔ منصوبے بناتے کہ اردو سیکھ لی، مہذب بھی ہو گئے، اب شاعری کریں گے اور اپنے علم و دانش کی دھاک بٹھائیں گے۔ خیال آیا ’مری عمر بھر کا ریاض تھا‘ والے امجد اسلام امجد کے نقش قدم پر چل کر عمر ریاض عمر ہی بن جائیں مگر سوچا کہ زیادہ ہو جائے گا تو بات واپس روایتی تخلص پر آن پہنچی اور قرعہ آن پڑا اداس اور تبسم کے درمیان۔ طبیعت میں تبسم تو تھا مگر اندر اداسی کا سامان بھی بمقدار وافر پایا جاتا تھا اس لیے فیصلہ نہ ہو سکا۔

زندگی میں جس طرح دنوں کا پھرنا لازم ہے اور آدم کا زیادہ عرصہ جنت میں قیام قدرتی نظام میں شامل نہیں اس لیے ہمارا وقت آخر بھی جلد آ گیا۔ اردو کی تہذیبی بہشت سے ہمیں نکالنے کا سہرا یا قصور کالج میں ہماری ایک اور طرحدار ہم جماعت کے سر آیا۔

ایک دن ایسے ہی امتحان کی تیاری میں غیر نصابی طبع آزمائی شروع ہو گئی۔ اس عفیفہ نے شیکسپئر کا حوالہ دیا، بھائی نے بھی میر انیس اور آغا حشر سے جواب دیا۔ اس نے کسی سڈنی شیلڈن کا ذکر کیا۔ ہم نے سڈنی شہر کا تو سنا تھا مگر اس خاتون مصنفہ تو کیا کسی بھی انگریز ادیب سے نا آشنا تھے۔ پتہ چلا یہ تو مرد ہے مگر ہم نے بھی بغیر محسوس کیے جواب میں مستنصر حسین تارڑ کا وار کیا۔ سوچا کہ عفیفہ تو اس نام کے املا اور تلفظ دونوں سے نابلد ہو گی۔ اس غیرت ناہید کی غیرت کو اردو کے جغادری ادیبوں سے ناواقفیت پہ ذرا ٹھیس نہ لگی۔ ہمارے پندار سخن کو ریزہ ریزہ کرنے کے لیے ظالم کا صرف ایک جملہ ہی کافی تھا۔ اف یو آر سو اولڈ فیشنڈ۔ ہم نے بھی پھر بھی تھوڑے کو بہت نہیں جانا اور اردو کی عظمت پہ قصیدہ خوانی جاری رکھی آخر کو ہمارا پندار صرف سخن تک ہی محدود نہیں تھا۔ اردو کے ساتھ ہم نے اپنی تہذیب اور شناخت بھی منسلک کر لی تھی۔ ہم تو یہی کہیں گے ہم نے اصرار کر کے مخاطب سے ترکش کا آخری تیر بھی چلوایا اور یہ تیر ہدف کے ساتھ ساتھ ہماری رہی سہی عزت غیر سادات بھی لے اڑا۔

خاتون کا نکتہ بڑا سادہ تھا۔ بھلے اردو تو پڑھ لو گے مگر کرو گے کیا۔ پہلے تو بی اے پاس نہیں کر سکو گے اور اگر رو دھو کر نکل بھی گئے تو پھر روزگار کا کیا ہو گا۔ اردو میڈیم کو پوچھتا کون ہے۔ اور یہ بھی کہ اردو میڈیم والے بھوکے مرتے ہیں اور تابوت میں آخری کیل کہ ہم خود بھی ڈوبیں گے اور اپنے ساتھ گھر والوں کو بھی لے ڈوبیں گے۔

مسئلہ تو وہی پرانا تھا، دلی میں رہیں گے کھائیں گے کیا۔ ہمارا بحران تہذیبی کی ساتھ ساتھ وجودی بھی ہو چکا تھا۔ پہلے ہم پینڈو کہلائے اور اب اردو میڈیم کی تہمت ہمارے سر پر آن لگی تھی۔ ایسا لگا کہ یہ اردو میڈیم کوئی طوق ہے جس کو گلے میں ڈال کر اب ہمیں گھومنا تھا۔ گاؤں میں بیٹھی ماں اور عزیز رشتہ داروں کا تصور بھی آنکھوں میں پھر سا گیا۔ کیا کہیں گے کہ شہر بھی گیا اور بھوکا بھی رہے گا۔ لکھنؤ اب کالا پانی لگنے لگا تھا اور اقبال کے شعر گستاخی معاف جیسے کوئی جنتر منتر یا کالا جادو۔ سرکار نے بھی عجیب کھیل کھیلا تھا۔ ہر طرف سے اردو کا ماحول بنا کر بی اے میں انگریزی کا پل صراط رکھ دیا تھا۔ ہم کچھ اپنے حالات اور کچھ نا عاقبت اندیشی کی وجہ سے بی اے بھی پرائیویٹ کر رہے تھے۔ باقاعدہ سبق کا بھی موقع نہیں تھا اس لیے نوشتہ دیوار تھا کہ ہم بی اے فیل کہلائیں گے، نا گاؤں کے رہیں گے نا شہر کے، نا گھر کے نا گھاٹ کے۔ ہم لائبریری پہنچ کر طلسم ہوشربا اور داستان امیر حمزہ کی درجنوں جلدوں کو خالی اکھیوں کے جھروکوں سے کئی روز گھورتے رہے۔

جس طرح پرانی داستانوں میں راہ بھٹکے مسافر کو بزرگ وغیرہ مل جاتے ہیں اس طرح ہمارا ایک اور خضر بھی مقامی سٹیشن لائبریری کا بے نام لائبریرین تھا۔ اس نے جیسے دل کا حال پا کر ہمیں عقبی ہال کی طرف اشارہ کیا جس پر بڑا سا تالہ اور داخلہ منع ہے کی تختی لگی تھی۔ تالے اور تختی کے پیچھے قطار اندر قطار انگریزی کی کتابیں کسی دلہن کی طرح سجی کھڑی تھیں۔ ہمارا مسئلہ زیادہ گمبھیر تھا۔ انگریزی سے ہم اتنے ہی قریب تھے جتنی جمہوریت ہمارے پیارے وطن سے، بس آئی آئی نا آئی تو نا آئی۔ کچھ ٹوٹا پھوٹا پڑھ لیتے تھے مگر پلے کچھ نہیں پڑتا تھا۔ دوستوں نے بتایا کہ کالج کے استاد طاہر بی اے کی ٹیوشن وغیرہ پڑھاتے ہیں۔ طاہر استاد وضع قطع سے جدید مگر اطوار سے روایتی استاد تھے، بے ریا، بے تکلف اور مخلص۔ غریب کی انگریزی کی ٹوٹی ٹانگیں دیکھیں تو دو بیساکھیاں تجویز کیں۔ ایک انگریزی سے اردو لغت ( ڈکشنری ) اور دوسری اردو سے انگریزی۔ ساتھ ڈان اور جنگ اخبار بھی دیے اور ہدایت نما نصیحت فرمائی کہ روزانہ اردو اخبار کے اداریے والے حصے کا انگریزی ترجمہ کروں اور انگریزی کالموں کا اردو ترجمہ۔ ہم تو خیر صرف سڈنی شیلڈن کا ترجمہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ استاد نے نا سمجھ آنے والی انگریزی میں ڈانٹا اور ساتھ لائل پوری انداز میں جگت بھی عطا کی۔ مطلب دونوں کا یہی تھا کہ پہلے چلنا تو سیکھ لو پھر دوڑ بھی لینا۔

ہم سعادت مند شاگرد ثابت ہوئے۔ اردو میڈیم کا کلنک بھی تو اتارنا تھا۔ روز دو اخباروں کے کم از کم بارہ اداریوں کا حرف با حرف ترجمہ کرتے جس میں جوئے شیر لانے کی طرح صبح شام ہو جاتی۔ استاد نے ہمارے ترجمہ کے عمل کو زچگی سے بھی تشبیہ دی۔ ویسی ہی تکلیف مگر بغیر کسی نتیجے کے۔ ہم نے بھی بریک نہیں لگائی اور جواب آں غزل کے طور پر ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مصیبت کا نعرہ بلند کیا۔ خیر اب اردو شاعری سے دل اوب سا گیا تھا۔ سوتے جاگتے آنکھوں کے سامنے انگریزی لفظ رقص کرتے۔ اردو والے ارشاد احمد حقانی اور انگریزی کے اردشیر کاؤس جی کو سب سے زیادہ کوسنے دیتے کہ ناقابل ترجمہ زبان لکھتے۔ یہ مشق البتہ اکسیر ثابت ہوئی۔ چھے مہینے میں ہی سڈنی شیلڈن پڑھ مارا۔ ناول کا نام بھی ابھی تک یاد ہے، بلڈ لائن۔ اپنی عزرائیل نما سابق ہم جماعت کو اپنی تہذیبی ترقی کی دھاک بٹھانے کے لیے ڈھونڈا مگر آنسہ اگلے نگر کوچ کر چکی تھی۔

ہمارا اب دس سال میں تیسرا تہذیبی جنم ہو چکا تھا۔ دھڑا دھڑ انگریزی ناول پڑھ چھوڑے اور اس کے بعد تاریخ اور فلسفے میں بھی طبع آزمائی شروع کر دی تھی۔ اردو کی تہی دامنی کا احساس بھی یقین میں بدل چکا تھا۔ سنجیدہ نثر قلیل اور علوم نافع کا مواد مفقود۔ شاعری البتہ بمقدار وافر دستیاب۔ ہم نے انگریزی کی مدد سے بی اے مناسب نمبروں سے پاس کر لیا اور اب ایم اے میں داخلے کے لیے کمر باندھی۔ سوچا معاشیات پڑھیں گے اور اپنے اور ملک کے معاشی حالات سدھاریں گے۔

ایک بھاری بھرکم انٹرویو ایم اے میں داخلے کی شرط تھا۔ نیم تاریک کمرے میں کچھ پروفیسر نما حضرات گھات لگا کے بیٹھے تھے۔ پہلا ہی سوال انگریزی میں داغا کہ معاشیات کیوں پڑھنا چاہتے ہو۔ ان کی آنکھوں میں بھی ایسی ہی استہزایت تھی جو سو کلو والے تجربہ کار باکسر کو پچاس کلو والا مخالف دیکھ کر ہوتی ہے۔ اب انسانوں کی زندگی میں کچھ پل فیصلہ کن ہوتے ہیں جب نگاہ کی شوخی سے قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہم نے ابھی تک انگریزی پڑھی اور لکھی تو تھی مگر بولنے کا حوصلہ نہیں تھا۔ مگر اس پل اندر سے ایسی ہلچل ہوئی جیسی سپر مین کو اپنی کینچلی بدلتے وقت محسوس ہوتی ہو گی۔ ہمارے منہ سے شعاؤں کی طرح انگریزی نکلی اور نکلتی چلی گئی۔ ہم تو چھوٹی سی دنیا کے جانو جرمن بننے سے خوفزدہ تھے کہ کبھی آن پڑا کہ تو صرف ون ٹو تھری فور۔ ہی نکلے گا مگر وہاں تو سڈنی شیلڈن، مسٹر چپس اور برٹینڈ رسل کا ایک گندھا ہوا سونامی تھا۔ پروفیسر بے حال ہو کر صرف سر ہلا سکے اور ہم محمد علی باکسر کی طرح فاتح اس لسانی رنگ سے باہر نکلے۔

اس کے بعد تو ہمارے ہاتھ میں کلید کامیابی آ گئی۔ ایم اے میں پڑھ تو معاشیات رہے تھے مگر ہتھیار صرف انگریزی کو استعمال کر رہے تھے۔ جماعت میں بے تکان بولتے اور پرچوں میں بے مہار لکھتے۔ کبھی روکے نہیں گئے اور فیل بھی نہیں ہوئے۔ اسی طرح اول درجے میں ڈگری لے لی اور عملی دنیا میں وارد ہوئے۔ یار لوگوں نے بہت ڈرایا کہ ڈگری ہاتھ میں لے کر جوتیاں چٹخائیں گے۔ خدا لگتی بات ہے ایسا کچھ نہیں ہوا حالانکہ ہمارے پاس تو چٹخانے کے لیے مناسب جوتے بھی نہیں تھے۔

ہم بڑے فخر سے دو سو روپے کی قمیص اور تین سو روپے کی پتلون پہن کر انٹرویو دینے جاتے۔ پتلون کی کریز استری ہو ہو کر علامہ اقبال کی موج نفس کی طرح تلوار کی دھار بن چکی تھی۔ ہم خیر بے نیاز تھے۔ اصل میں تو ہم نے انگریزی کی خلعت فاخرہ زیب تن کی ہوتی تھی جس کے سامنے ہر لباس ہیچ تھا۔ ایک سترہ گریڈ کی اسامی کے انٹرویو میں پبلک سروس کمیشن کے صدر پینل تو انگریزی سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان پر قریب قریب رقت طاری ہو گئی۔ ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں اور رندھے ہوئے لہجے میں نوید سنائی کہ سرسید کے مخاطب مثالی نوجوان ہم ہی ہیں۔ ساتھ ہی یہ اصرار کیا کہ برخوردار مقابلے کا امتحان دو اور ملک کا انتظام انصرام سنبھالو۔ ہم نے بھی کچھ بے نیازی سے کندھے اچکائے کہ سوچیں گے۔ فی الحال تو ہم ایک نہ دو، درجن بھر سرکاری تقرر ناموں کے سرور میں ہلکورے لے رہے تھے۔ انگریزی کی مرہون منت بائیس سال کے بے سر و سامان سابق دیہاتی کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری آسامیاں قطار اندر قطار اتر چکی تھیں۔ کہنے کو اس کامیاب مہم میں کچھ کردار اس وسیع مطالعہ کا بھی تھا جو لائبریری میں مہینوں اعتکاف کا ثمر تھا مگر بھائی اگر ذریعہ مناسب نا ہو تو علم کا کیا فائدہ۔ کچھ سال نوکری کے بعد مقابلے کے امتحان میں بیٹھے اور حسن اتفاق سے کچھ پوزیشن وغیرہ بھی آ گئی۔ دیسی مرغ آخر سیمرغ بن گیا۔

قصہ مختصر کے بجائے طویل ہو گیا مگر نتیجہ یہ ہے کہ آج میں زبانوں میں بٹا ہوا آدمی ہوں۔ ماں سے پنجابی، بہنوں سے اردو اور بیوی سے انگریزی میں بات کرتا ہوں۔ انگریزی پڑھتا ہوں، اردو بولتا اور پنجابی سنتا ہوں۔ نثر انگریزی میں، شاعری اردو میں اور گیت پنجابی کے مزہ دیتے ہیں۔ سوچ البتہ بٹی ہوئی ہے۔ کئی زبانوں کی پٹڑیاں بدلتی رہتی ہے۔ انگریزی ترقی کا زینہ ثابت ہوئی۔ ذاتی لائبریری میں نوے فیصد کتابیں انگریزی میں ہیں۔ عرصے سے اردو کی کوئی نئی کتاب نہیں پڑھی۔ نئی سوچ، نئی فکر اور نئی جہت کی اساس اب تو انگریزی ہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی ایک ڈھونگ بھی ہے۔ ڈرائینگ روموں میں اشرافیہ کے نمائندے گاؤں کے مسائل پر انگریزی میں مصنوعی پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔

انگریزی غریب کو غریب اور امیر کو امیر رکھنے کا ایک بہانہ بھی ہے۔ اشرافیہ اگلی نسل کو اے لیول کروا کر امریکہ بھیجنا چاہتی ہے اس لیے ان کو اردو کی کثافت سے دور رکھا جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اردو کا چلن نہیں۔ اردو بھی اپنا وجود رکھے ہوئے ہے۔ گاؤں کی خبر نہیں مگر شہر کی گلی گلی میں اب اردو سنائی دیتی ہے۔ ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا پر اردو کا ہی دور دورہ ہے۔ انگریزی کالم پڑھنے والے اب کالم لکھنے والوں سے بھی کم ہیں۔ پنجابی تو صرف ان پڑھ طبقے تک محدود سی ہے۔ ہم شاید واحد قوم ہوں گے جو اپنے والدین سے ایک زبان میں بات کرتے ہیں اور اولاد سے دوسری زبان میں۔ ہمارے بچپن میں یہ بالترتیب پنجابی اور اردو تھی۔ اب اردو اور انگریزی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ہمارے والدین اور اولاد کے درمیان رابطے کا ذریعہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ دادا دادی کہانیاں سناتے تھے اب پوتے پوتیاں دادا کی غلطیاں نکالتے ہیں۔

سرکار کو دیکھیں تو اس کا المیہ بھی عجیب ہے۔ قائد اعظم، اقبال اور سرسید کے درمیان بٹی ہوئی ہے۔ اقبال جو نظم اردو فارسی اور مضمون انگریزی میں لکھتے رہے۔ قائد جو اردو میں خود اٹکتے ہوئے بھی اردو نافذ کرتے رہے۔ سرسید جو بیک وقت تہذیب اور جدیدیت دونوں کے علمبردار تھے۔ آج کے دن بھی قومی، سرکاری، مادری اور مذہبی زبان فرق ہے۔ فیصلہ ہی نہیں ہو پا رہا کہ کدھر جائیں۔ یار لوگ جاپان اور ترکی کی مثالیں لاتے ہیں کہ تمام نصاب قومی زبان میں ہو۔ مگر پھر قومی زبان مادری زبان نہیں ہے اور سرکاری زبان اس کے علاوہ ہے۔ اس کا حل یہ سمجھا گیا کہ قومی زبان کو اس طرح نافذ کیا جائے کہ وہ مادری زبان بن جائے۔ مگر جب تو وہ بنے گی اس وقت پھر ایک نئی قومی زبان یعنی انگریزی خواص سے عوام تک پہنچ چکی ہو گی۔ اور پھر انگریزی کا مقدمہ بھی مضبوط ہے۔ بھارت کے عالمگیر قوت بننے میں انگریزی کی بنیاد کا بڑا کردار ہے۔ چین میں سب سے تیزی سے پھیلتی ہوئی زبان انگریزی ہے۔ انگریزی بولنے والے برطانیہ نے خود کو یورپ سے الگ کر لیا مگر یورپ کی مرکزی زبان انگریزی ہی ہے۔ طب سے لے کر کمپیوٹر تک علوم کا ذخیرہ انگریزی سے کب اور کیسے مقامی زبان میں منتقل ہو گا، یہ ایک لمبی کہانی ہے۔

میری اپنی بظاہر دکھی کہانی کا انجام بٹے ہونے کے باوجود آخر میں ہنسی خوشی زندگی گزارنے جیسا ہے۔ ایک ہی نشست بلکہ ایک ہی رو میں وارث شاہ، مرزا غالب اور والٹ وہٹمین در آتے ہیں۔ مرثیے سے اوپرا تک کا سفر ایک ہی پل میں طے ہو جاتا ہے۔ زبان تہذیب کا دروازہ ہے۔ میں تہذیبی بحرانوں سے گزر کر اب تہذیبوں کے سنگم پر کھڑا ہوں جہاں علوم، فنون اور اخلاقیات کے سوتے آپس میں مل رہے ہیں۔ یہ مقام کیسا دل نشیں، کیسا پر لطف اور کیسا پر مغز ہے۔ زبانوں کے اس تنوع سے زندگی میں رعنائی ہے جیسے ذہن میں اپنا خانہ ساز سمارٹ ٹی وی چل رہا ہو، جب چاہا جو مرضی چینل لگا لیا۔

اس سب کے باوجود نہاں خانہ دل میں حسرت ہے کہ جب زندگی کا پہیہ اپنا چکر پورا کرے تو کہیں آس سے ہوک اٹھے اور پاس سے کوک۔ کوئی دکھیارا ہیر پڑھے ہؔیر آکھدی جوگیا چوٹھ آکھیں کون رٹھڑے یار مناوندا اے۔ رات کو ٹریکٹر پر لگی ٹیپ سے بانسری کی آواز اوس کی طرح اترے۔ الصبح مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے صدا آئے ؛لوں لوں وچ شوق چنگیری اے، اج نیناں نے لایاں کیوں جھڑیاں، اج سک متراں دی گھنیری اے۔ بے تکلفی سے وے اور نی کہے اور سنے بھی زمانہ بیت گیا۔ نہ وہ حسن میں رہی شوخیاں نہ وہ عشق میں رہی گرمیاں۔ شاید اب بھی بارش برسے تو کہیں گلیوں سے بچوں کی آواز جلترنگ کی طرح سوکھے دھانوں پر پڑے، کالیاں اٹاں کالے روڑ مینہ وسا دے زور و زور۔ اور کہیں بہت دور سے ماں ہلکورے لے کر گنگنائے، الھڑ بلھڑ باوے دا، باوا کنک لیاوے دا، باوی بہہ کے چھٹے گی سو رپیہ وٹے گی۔

زبانوں میں بٹا ہوا آدمی کہیں بھی نہیں ہے اور ہر جگہ ہے بھی۔

Facebook Comments HS