کیا یہ بہترین پیرنٹنگ ہے؟ (حصہ اول)


میرے اکثر رشتہ دار میرے والدین کی تربیت کو بہت شاندار کہتے ہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ میرے والدین کو پیرنٹنگ کرنا ہی نہیں آتی ہے کیونکہ اولاد کے ساتھ کیا ہو رہا تھا میرے والدین ان ساری باتوں سے بے خبر تھے۔

نرسری سے پانچویں جماعت تک:۔

والدین کی غفلت:۔

میں چار سال کا تھا جب مجھے میرے والدین نے اسکول میں داخلہ دلوایا تھا۔ میرا اسکول ایک لوکل پرائیویٹ اسکول تھا۔ میں صبح اسکول جاتا تھا اور دوپہر میں واپس آتا تھا۔ گھر آنے کے بعد اور اگلے دن اسکول جانے سے پہلے تک میرے والدین یا گھر والے کچھ بھی نہیں پوچھتے تھے کہ میرا اسکول کا دن کیسا گزرا؟ ، اسکول کا کوئی ہوم ورک یا ٹیسٹ ملا ہے؟ ، کبھی کسی گھر والے نے بٹھا کر مجھے ”A“ for Apple یا B for Ball ”بھی نہیں پڑھایا تھا۔ میں نے اسی طرح اپنی نرسری، کے جی ون، کے جی ٹو کی جماعتیں پاس کی تھیں اور اب پہلی جماعت میں پہنچ چکا تھا مجھے اب اسکول کے ٹیچر کسی ٹیسٹ میں ناکام ہونے پر اسکیل سے مارتے تھے۔ ایک دفعہ اسکول کے مالک (جو اسکول میں ہی رہتے تھے ) آئے ہوئے تھے انہوں نے میرا ٹیسٹ پیپر لیا اور اس میں لکھے میرے غلط جوابات آواز کے ساتھ پڑھ کے سنا کر خود بھی ہنسے اور باقی ٹیچرز بھی ہنسنے لگے، ایک دن میرا ٹیسٹ غلط ہونے پر ٹیچر ہاتھ میں ہتھوڑی پکڑ کر بولنے لگی کہ“ یہ ہتھوڑی تمھارے سر پر مار کر تمھارے دماغ کا سارا بھوسہ نکال دوں گی ”۔

اسی دوران ایک دن ٹیسٹ ملنے کے بعد میں گھر پر بیٹھا ہوا تھا تو میں نے ٹیسٹ کے سوالات کو دیکھ کر سوچا کہ ”اگر میں کوشش کرتا ہوں تو میں یہ ٹیسٹ یاد کر سکتا ہوں“ اور پھر اسی طرح میں نے ٹیسٹ یاد کر کے دے دیا اور میں ٹیسٹ میں پاس ہو گیا اور پھر اسی طرح میں خود ہی ہر ٹیسٹ کو یاد کر کے پاس ہو جایا کرتا تھا لیکن اب میری لکھائی کا مسئلہ تھا جو بہت خراب تھی تو پہلے ٹیچر نے مجھے صرف کہا کہ ”اپنی لکھائی اچھی کرو“ باقی لکھائی اچھی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا تھا۔

جب کچھ دن کہنے کے بعد میری لکھائی اچھی نہیں ہوئی تو ٹیچر نے پھر سے اسکیل سے مارنا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں بعد میں بیٹھا ہوا پھر سے سوچنے لگا کہ ”اگر میں کوشش کروں تو میں اپنی لکھائی اچھی کر سکتا ہوں“ اور پھر اسی طرح میں نے اپنی لکھائی بھی بہتر کر لی تھی۔ مطلب گھر پر کوئی ماحول نہیں تھا جس سے بچے کی پڑھائی، لکھائی یا تعلیمی معاملات کو ڈسکس کیا جاتا ہو۔

جب میں تیسری جماعت میں جانے والا تھا تو تب میرا اسکول بدلوا دیا گیا تھا۔ یہ نیا اسکول بھی لوکل پرائیویٹ اسکول ہی تھا لیکن یہ پرانے اسکول سے بڑا تھا۔ میں نے اب ٹیوشن لینا بھی شروع کر دی تھی ٹیوشن لینے کی شروعات ایسے ہوئی کہ میری خالہ ٹیوشن پڑھنے جاتی تھیں تو شوق میں، میں بھی ان کے ساتھ کبھی کبھار چلا جاتا تھا تو ایسے ٹیوشن جانے کا اتفاق ہوا اور مجھے اس طرح ٹیوشن جاتا ہوا دیکھ کر میرے ماموں نے مشورہ دیا کہ ”مجھے ان کے ٹیوٹر کے پاس لگوا دینا چاہیے“ ۔ مجھے پھر میرے ماموں کے ٹیوشن سینٹر میں داخلہ دلوا دیا گیا میں اب اسکول کے علاوہ ٹیوشن بھی جانے لگ گیا تھا لیکن ٹیوشن بھی اسکول کی طرح ہی جاتا تھا۔ بس ملازم ٹیوشن چھوڑنے جاتا تھا اور 2 گھنٹے بعد لینے آ جاتا تھا اور گھر پر کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ ”ٹیوشن میں کیا پڑھا ہے۔“ میرے ٹیوشن ٹیچر نہ ہی اسکول کی ڈائری چیک کرتے تھے، نہ اسکول کا ہوم ورک کرواتے تھے، نہ ہی ٹیسٹ کی تیاری کروایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ”بس میں جو اپنا ٹیسٹ دیتا ہوں مجھے وہ اگلے دن یاد کر کے دیا کرو“ ۔

میرے ہم جماعتوں کا میرے ساتھ رویہ:۔

اس نئے اسکول کے بچے بہت بدتمیز اور گالم گلوچ کرنے والے تھے۔ جب میں اس اسکول میں آیا تو مجھے اسکول کا ماحول دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ”یہ اسکول ہے یا کیا ہے“ اس اسکول میں، میں اپنی کلاس میں سب سے خاموش بچہ ہوتا تھا۔ اکثر ٹیچر کبھی پوری کلاس کو سزا کے طور پر کھڑا کر دیتے تو مجھے وہ کھڑا ہونے سے منع کر دیا کرتے تھے کیونکہ انہیں پتا ہوتا تھا کہ میں تو کسی سے بات نہیں کرتا ہوں لیکن مجھے کلاس کے بچے کافی تنگ کیا کرتے تھے۔ وہ میری فیملی کے بارے میں بیہودہ باتیں کیا کرتے تھے اور کبھی کبھار جسمانی اذیت بھی دیا کرتے تھے۔ ان کی ہر بات میں جنسی اعضاء کا ذکر ضرور ہوتا تھا اور وہ زبردستی میرے جنسی اعضاء کو چھوا کرتے تھے۔

چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت: میرے ہم جماعتوں کا رویہ:۔

پہلے میں کلاس میں سب سے خاموش بچہ ہوتا تھا لیکن اب چھٹی کلاس میں آنے کے بعد میں بہت باتیں کرنے لگ گیا تھا۔ کلاس کے بچے اب بھی میرے گھر والوں کے بارے میں بیہودہ باتیں کیا کرتے تھے لیکن اب میں ان کو جواب دے دیا کرتا تھا لیکن ابھی بھی وہ زبردستی میرے جنسی اعضاء کو چھوا کرتے تھے اور مجھے پریشان کرنے کے لیے انہوں نے ایک طریقہ یہ نکالا کہ وہ میرے قلم کو مجھ سے چھینتے اور اس قلم کو اپنی پینٹ کے زپ والے حصہ پر رگڑ کر مجھے واپس دے دیتے مجھے اس قلم کو چھوتے ہوئے بھی گھن آتی تھی تو اس لیے میں وہ قلم بیگ کے ایک الگ حصے میں ڈال دیتا تھا اور دوبارہ اس قلم کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا تھا۔ لڑکے روز دیکھتے کہ میں نیا قلم آج لے کر آیا ہوں تو وہ اس قلم کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتے تھے وہ نئے قلم کو بھی ویسے ہی رگڑ کر واپس دے دیتے۔ انہوں نے یہ عمل کافی دنوں تک جاری رکھا اور میں روزانہ کے نئے قلم لاتا رہتا تھا لیکن یہاں سے میری OCD کی پہلی علامت شروع ہو چکی تھی وہ سارے قلم جن کو لڑکے رگڑ کر دیتے میں ان کو اگر ذرا سا بھی چھو لیتا تو میں جب تک ہاتھ نہیں دھو لیتا تھا اس وقت تک اس ہاتھ کو میں استعمال نہیں کرتا تھا۔

ساتویں جماعت میں میرا ٹیوشن سینٹر بھی بدلا جا چکا تھا اسی ٹیوشن میں ایک لڑکا آیا کرتا تھا جو بہت بدتمیز تھا۔ میری والدہ کے بارے میں نامناسب باتیں کیا کرتا تھا۔ ایک بار مجھے تھپڑ بھی مارا تھا اور ایک بار میرے سر کے بال بھی نوچے تھے۔

میرے اساتذہ کا رویہ:۔

ساتویں جماعت میں آنے کے بعد مجھ میں ایک بڑی تبدیلی آئی میری کلاس کے وہ لڑکے جو بالکل بھی پڑھنے والے نہیں تھے، کلاس فیلوز کو پریشان اور ٹیچرز سے بدتمیزی بھی کیا کرتے تھے لیکن وہ پورے اسکول میں پاپولر تھے۔ ان کا نام پورا اسکول جانتا تھا تو میں ان کو دیکھ کر متاثر ہوا اور سوچا کہ کیوں نہ میں بھی ان کی طرح اسکول میں مشہور ہو جاؤں تو اب میں نے جان بوجھ کر ٹیسٹ یاد کرنے چھوڑ دیے، کلاس ورک مکمل کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ میں کلاس میں اب شرارتیں کرتا تھا جیسے ٹیچر نے کوئی بات بولی تو اس پر مذاق میں کوئی کمینٹ پاس کر دیا لیکن میں کلاس فیلوز کو پریشان اور ٹیچرز سے بدتمیزی نہیں کیا کرتا تھا اور جس دن میری شکایت ہیڈ مسٹریس کے پاس جاتی تھی تو اس دن میں بہت خوش ہوا کرتا تھا کہ جیسے میں نے کوئی اچیومنٹ حاصل کرلی ہے۔

ہماری کلاس کے بدنام لڑکوں کا ایک دن اسکول والوں نے بیگ رکھ کر انہیں گھر پر بھیج دیا تھا اور ان سے کہا کہ ”وہ اپنے گھر والوں کو لے کر آئیں“ جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے سوچا کہ میں بھی اتنی شرارتیں کروں گا کہ ایک دن یہ لوگ میرا بھی بیگ رکھ کر مجھے گھر پر بھیج دیں اور پھر ایسا ایک دن ہوا بھی تھا اور میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ جیسا میں نے چاہا تھا وہ پا لیا ہے۔ میرے اسکول کی ہیڈ مسٹریس بہت ہی جھوٹی اور بے حس خاتون تھی وہ اپنے ساتھ ایک موٹا سا تار رکھتی تھی اور اس سے بچوں کے ہاتھ، پیر، کمر پر مارتی تھی۔ ایک دفعہ میری بہن اسکول سے روتی ہوئی گھر آئی اور اس نے بتایا کہ ”مجھے تار سے مارا گیا ہے“ میری خالہ نے یہ دیکھ کر اسکول فون کر کے بتایا تو اسکول والوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔

میرے اسکول میں میری ایک کزن بھی پڑھتی تھی جس کو میری کلاس کا ایک لڑکا پسند کرنے لگا تھا تو ایک دن میں نے ایک بالکل چھوٹی سی پرچی لی اس پر اپنی کزن کے نام کے ساتھ ”I love you“ لکھ کر مذاق میں اپنی کلاس کے لڑکے کو دے کر کہنے لگا کہ ”یہ لے پرچی اور میری کزن کو دے کر آ جا“ میں نے یہ بات مذاق میں بولی تھی نہ مجھے وہ پرچی اپنی کزن کو دلوانا تھی اور نہ ہی وہ لڑکا یہ پرچی اس کو جا کر دیتا لیکن وہ پرچی ہیڈ مسٹریس کے پاس چلی گئی۔ میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ ”میرا بیگ اسکول والوں نے رکھ لیا تھا“ تو مجھے میرا بیگ دلوانے کے لیے میری ممانی اسکول آئیں تو میری ممانی کو ہیڈ مسٹریس نے جھوٹ بولا کہ ”میں تو اپنی کزن کو“ Love letters ”لکھ کر دیتا ہوں اور میں 3، 4 بار پکڑا گیا ہوں“ میری ممانی سے یہ بات میری مما کو اور مما سے یہ بات مجھے پتا چلی تھی۔

اب میں جس ٹیوشن سینٹر میں جاتا تھا یہ ٹیوشن ٹیچر پرانے والے سے بھی بیکار تھے۔ پرانے والے اپنا ٹیسٹ تو یاد کرنے کے لیے دے دیا کرتے تھے لیکن یہ والے ٹیچر نہ اسکول کی ڈائری دیکھتے، نہ اسکول کا ٹیسٹ، نہ اسکول کا ہوم ورک، یہ والے ٹیوشن ٹیچر اپنے پاس بیٹھی ہوئی سینئر لڑکیوں سے باتیں کرنے میں لگے رہتے تھے اور ان لڑکیوں کے جانے کے بعد مجھے کہتے کہ ”اپنی مرضی کے کوئی بھی 2 سبجیکٹ کی کتابیں لے آؤ“ ٹیچر ان کتابوں میں سے کسی سوال کی تھوڑی سی ریڈنگ ( 5 سے 10 منٹ) کرتے اور کہتے کہ ”کل ان کا ٹیسٹ دے دینا“ ، اب کل ہم لوگ ٹیسٹ دیں یا نہیں ٹیچر کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا تھا۔ ٹیچر کی اگلے دن بس پھر سے وہی روٹین ہوتی تھی۔ میرا اسکول میں زیادہ تر % 60 سے زیادہ رزلٹ آتا تھا تو ان ٹیوشن ٹیچر کے پاس پڑھنے کے دوران بھی میری % 64 آئی تو اس ٹیوشن ٹیچر نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس کو زور سے دباتے ہوئے کہنے لگے کہ ”میں B گریڈ والا پڑھاتا ہوں کیا“ حالانکہ وہ تو کچھ بھی نہیں پڑھاتے تھے۔

آٹھویں جماعت میں پہنچنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے پچھلی کلاس جو شرارتیں کیں تھیں ان سب کی وجہ سے میری امیج خراب ہو چکی ہے اور اسی لیے میں اب پھر سے ایسی کوئی شرارتیں نہیں کروں گا اور پہلے کی طرح پڑھائی کروں گا لیکن میرے اسکول کی ہیڈ مسٹریس نے مجھے نوٹس کر لیا تھا اور اب معمولی سی باتوں پر بھی مجھے جسمانی سزائیں دیا کرتی تھی اور مجھ پر جھوٹے الزامات لگایا کرتی تھی۔ جیسے ایک دفعہ میں نے کلاس میں ایک لڑکے کے مانگنے پر میں نے اس کو سیاہی کی بوتل پھینک کر دی تو ہیڈ مسٹریس نے یہ دیکھ کر مجھے 2 تھپڑ مارے اور میری سیاہی کی بوتل اپنے استعمال کے لیے رکھ لی۔

ایک دفعہ میں بھاگتا ہوا اسمبلی ہال میں کھڑا تھا تو میری شرٹ تھوڑی باہر نکل رہی تھی میں ایک ہاتھ سے اندر کرنے لگا مجھے صرف 5 سے 10 سیکنڈ لگے ہوں گے ہیڈ مسٹریس نے میری کمر پر زور سے تھپڑ مارا اور کہنے لگی کہ ”یہاں پر آپ لوگوں کو اٹینشن ہونے کے لیے بلایا جاتا اور یہاں پر آ کر پینٹیں صحیح ہو رہی ہیں“ ایک دفعہ میرے برابر میں لڑکا کھڑا ہوا تھا وہ لڑکا میرے منہ کے قریب آنے لگا تو میں نے اسے اپنے ہاتھ سے آگے کی طرف کر دیا پیچھے سے ہیڈ مسٹریس نے مجھے تھپڑ مار کر کہا کہ ”تم نے اس لڑکے کو دھکا دیا ہے“ ۔ ایک دفعہ میں اور میرے کلاس فیلوز اسکول کے باہر بھاگ رہے تھے ہیڈ مسٹریس نے یہ دیکھا اور میرے پاپا سے بولا کہ ”میں نے باہر رکشہ والے کا اینٹ مار کر شیشہ توڑ دیا تھا“ ۔ ایک دفعہ میرے پاپا کو جھوٹ بولا کہ ”میں آپ کے بیٹے کو روز ڈائری میں لکھ کر دیتی ہوں کہ اپنے پیرنٹس کو بلاؤ آپ کا بچہ بلا کر ہی نہیں لاتا ہے“ میں نے اپنی ڈائری دکھائی اس میں بھی کچھ نہیں لکھا ہوا تھا میرے پاپا نے کہا ”آپ نے کہاں لکھا ہے“ تو اس پر ہیڈ مسٹریس نے بولا کہ ”یہ ڈائری تو انہوں نے ابھی لی ہے“ میں نے دکھایا کہ یہ ڈائری تو میرے پاس اس کلاس کے شروع ہونے سے ہے تو یہ سنتے ہی اس نے مجھے اوپر کلاس میں جانے کو کہا۔

ایک دفعہ میں کلاس میں پیچھے کی طرف بیٹھا ہوا تھا اور ہیڈ مسٹریس کلاس کے باہر کھڑی ہوئی تھی پوری کلاس شور کر رہی تھی میں چپ تھا لیکن پھر بھی کلاس کے زیادہ شور ہونے کی وجہ سے مجھے اور میرے برابر میں بیٹھے ساتھی کو ہی مار پڑی۔ ہیڈ مسٹریس اگر مجھے کہیں اسکول کے باہر دیکھ لیتی اب چاہے میں کسی کام سے ہی باہر ہوں لیکن اگلے دن وہ کہتی کہ ”میں نے تو تمھیں آوارہ گردی کرتے ہوئے دیکھا تھا“ ۔

ایک اسکول ٹیچر تھی جس کا نام زہرہ (فرضی نام) تھا۔ وہ زیادہ مارکس لینے والے طالب علموں سے اچھا برتاؤ رکھتی تھی اور کم یا اوسط مارکس لینے والے طالب علموں سے بہت بے رخی سے بات کرتی تھی اور ہماری کلاس کے 2 لڑکوں سے بہت زیادہ فری رہتی تھی اور ان دو میں سے ایک لڑکے سے ”Double meaning“ باتیں کیا کرتی تھی تو ایک بار زہرہ نے میری کسی بات پر مجھے اپنے پاس کلاس کے بیچ میں بلایا اور مجھے دھکا دیا، میں کلاس کے بیچ میں فرش پر گر گیا۔ پوری کلاس ہنسنے لگ گئی اور زہرہ نے مجھے گری ہوئی حالت میں ہلکی سے لات ماری اور اس کے بعد مجھے کلاس کے بیچ میں ہی فرش پر بٹھا دیا حالانکہ سب لوگ اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور میں فرش پر بیٹھ کر اپنا کام کرنے لگا۔

اسی جماعت سے میری کلاس کے لڑکوں نے میرا نام ایک کلاس کی لڑکی شاہدہ (فرضی نام) کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیا تھا میں شاہدہ کو کچھ بھی نہیں بولتا تھا اور یہ بات شاہدہ بھی جانتی تھی بلکہ شاہدہ خود مجھے تنگ کرنے کے لیے میری باتوں کے بیچ میں بولتی تھی لیکن پھر بھی جب لڑکے میرا نام لے کر شاہدہ کو کچھ بولتے تو شاہدہ جواب دیتی اور جواب میں میرے والدین کو گھسیٹ کر لے آتی تھی لڑکے میرے جیومیٹری باکس کا سامان شاہدہ کو دے دیتے تھے اور شاہدہ میرے سامان کو ایسے چھوتی جیسے میں کوئی اچھوت ہوں، شاہدہ میرے سامان کو فرش پر گرا کر پوری کلاس میں جوتے سے گھماتی تھی۔ ایک بار شاہدہ اپنے جوتے اتار کر گئی ہوئی تھی تو لڑکوں نے میرا جیومیٹری باکس کا سامان شاہدہ کے موزوں میں ڈال کر اس کے جوتوں میں ڈال دیا تھا۔

والدین کی لاپرواہی:۔

میرے پاپا مجھے دکان پر آنے کا کہتے تو میں یہی کہتا تھا کہ ”مجھے یہ کام پسند نہیں ہے میں کچھ اور کروں گا“ اور میری یہ بات سن کر میرے پاپا ایسا چہرہ بناتے جیسے میں نے مجرم بننے کا بول دیا ہے مجھے لوگ بولتے کہ ”بڑا بیٹا باپ کا بازو ہوتا ہے“ ۔ میری مما کہتیں کہ ”بڑا بیٹا تو باپ کے کام کو ہی سنبھالتا ہے باقی چھوٹی اولاد کوئی اور کام کرتی ہے“ ، مجھے یونیورسٹی جانے کی خواہش تھی لیکن میرے گھر والوں کی منطق کے مطابق مجھے دکان پر بیٹھنا چاہیے اور میرے چھوٹے بھائی جن کو دکان کا کام پسند ہے ان کو یونیورسٹی جانا چاہیے۔

اسی کلاس میں میرے پاپا نے ہمارے اسکول کورس کے لیے پیسے نہیں دیے تھے کیونکہ انہوں نے کہا کہ ”میں اپنے بچوں کو اب بس پڑھائی چھڑوا کر دکان پر بٹھاؤں گا“ پھر اسکول کے کورس کے لیے میری مما نے ایک الماری جو میرے نانا ابو نے بھیجی تھی اس کو بیچ کر اسکول کا کورس منگوایا تھا۔

میں حساس طبیعت کا بچہ تھا لوگوں سے شرماتا تھا۔ مجمع میں اونچی آواز میں سلام کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی تھی لیکن لوگ میری اس فطرت کی وجہ سے مجھے بدتمیز بولتے تھے۔ میں لوگوں سے زیادہ گھلتا ملتا نہیں تھا تو لوگ اس پر مجھے ڈوبا ہوا کہتے تھے۔ اسی کلاس کے دوران میری مما نے یہ بولنا شروع کر دیا تھا کہ ”میری تو اولاد بھی مجھے کچھ نہال کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے“ وہ مجھے بولتیں کہ ”تمھارے باپ، دادا نے کچھ نہیں کیا تم بھی کچھ نہیں کرو گے“ ، وہ مجھے بولتیں کہ ”اس عمر ( 14 سال عمر تھی) کے بچے تو پتا نہیں کیا سے کیا کر جاتے ہیں“ میں ان سے پوچھتا کہ ”بتائیں مجھے کیا کر جاتے ہیں تو اس پر وہ جواب دیتیں کہ“ بس بہت کچھ کر جاتے ہیں ”میرے مطابق تو اس عمر کے بچے اسکول، ٹیوشن جاتے ہیں۔ اسپورٹس کھیلتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ شغل لگاتے ہیں۔ میری مما جو خود زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں وہ مجھے طعنے دیتیں کہ“ تم پڑھائی میں کون سا اول نمبر لا رہے ہو ”، وہ میرا موازنہ دوسرے بچوں سے کرتیں کہ“ وہ بچہ کتنا ذہین ہے۔ وہ بچہ کتنا محنتی ہے۔ وہ بچہ کتنا سلجھا ہوا ہے ”۔

اس سال میں پھر سے پرانے ٹیوشن ٹیچر کے پاس واپس آ گیا تھا میرے پاپا اس ٹیوشن ٹیچر کے پاس ہمارے 5 سال پڑھنے کے بعد پہلی بار ملنے آئے تھے وہ بھی اس لیے کیونکہ ہمیں لانے کے لیے کوئی ملازم اس دن موجود نہیں تھا وہ ٹیوشن ٹیچر بھی مجھ سے کہنے لگے کہ ”تمھارے ابو آج کیسے پوچھنے آ گئے“ ۔ میں اس کلاس میں سب سے اپنی شکل کے بارے میں معلومات لیتا تھا کہ میری شکل کیسی دیکھتی ہے کیونکہ مجھے اپنی شکل بہت بری لگتی تھی میرے گھر والوں کو ابھی بھی کچھ نہیں پتا تھا کہ میرے ساتھ اسکول میں کیا ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ سوچیں گے کہ میرے گھر والے نہیں پوچھتے تھے تو مجھے خود ان کو بتا دینا چاہیے تھا لیکن مجھے اس وقت ایسا کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا شاید اس کی وجہ یہی تھی کہ ہمارے گھر بچوں سے ڈسکس کرنے کا ماحول ہی نہیں تھا۔

نویں جماعت سے میٹرک:۔

اساتذہ کی لاپرواہی:۔

نویں جماعت میں بورڈ کے امتحانات ہونے والے تھے تو جیسے Elementary تک طالب عملوں کے سال میں 2 بار امتحانات ہوتے ہیں جن میں سے ایک Terminal (کچے امتحان) ہوتے ہیں جن میں اگر ناکام ہو بھی جاؤ تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ دوسرے Annual (پکے امتحان) ہوتے ہیں جن میں پاس ہو گے تو نئی جماعت میں داخلہ ملے گا تو نویں جماعت میں بھی مجھے لگا کہ امتحان ایسے ہی ہوں گے۔ آدھا سال گزرنے کے بعد یہ بات مجھے پتا چلی کہ بورڈ کے امتحان میں پورے سال کا سلیبس آتا ہے یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ مجھے کوئی بھی گائیڈ کرنے والا نہیں تھا۔

نویں جماعت میں میرے ٹیوٹر مجھے ریاضی پڑھانے لگے لیکن پڑھاتے وقت پہلی ہی بات بتانے کے بعد انہوں نے کہا کہ ”یہ بات یاد رکھنا ہے یہ بات میں نے کبھی بھی پوچھی اور تمھیں پتا نہیں ہوئی تو اسی وقت تھپڑ پڑے گا“ یہ سن کر میں گھبرا گیا میں نے سوچا کہ ”میری ریاضی تو کافی کمزور ہے مجھے تو پھر بہت مار پڑے گی“ اس بات کے بعد سے میں نے آہستہ آہستہ کرتے ہوئے ٹیوشن ہی چھوڑ دی۔ میں نویں جماعت کا پریکٹیکل دینے کے لیے گیا تو اسکول پہنچ کر پتا چلا کہ ”پریکٹیکل جرنل بھی یہاں پر ساتھ لے کر آنا ہوتا ہے“ میں واپس گھر بھاگا، رش بہت تھا تو رکشہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں تھا میں نے آدھا راستہ پیدل طے کیا باقی کا آدھا رکشہ میں، پھر پریکٹیکل جرنل لے کر واپس آیا۔

اساتذہ کا رویہ:۔

میں نے اوپر زہرہ ٹیچر کا ذکر کیا تھا جو صرف زیادہ مارکس لینے والے طالب علموں کو پسند کرتی تھی اب میں کیونکہ ایک اوسط مارکس لینے والا طالب علم تھا اور شاہدہ (جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے ) زیادہ مارکس لینے والی تو زہرہ کو یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ میرا نام شاہدہ کے ساتھ کیوں جوڑا جا رہا ہے ایک دفعہ کلاس کے ایک لڑکے نے شاہدہ کو میرا نام سے بات بولی تو زہرہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی میری طرف آئی کہ ”تمھارے گھر میں ماں، بہن نہیں ہے“ اور مجھے مارنا شروع کر دیا، مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ جو لڑکے میرا نام لے کر بول رہے ہیں ان کو سزا کیوں نہیں دی جا رہی ہے یا وہ لڑکی جس کے ساتھ میرا نام جوڑا جا رہا ہے جب اس کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو پھر کسی اور کو کیا اعتراض ہے۔

اگلے دن مجھے کلاس میں سب سے الگ تھلگ بٹھا دیا گیا مطلب غلطی دوسروں نے کی لیکن سزا مجھے دی جا رہی تھی ایک دفعہ لڑکوں نے ایسے ہی میرا نام لے کر کچھ بولا تو زہرہ نے ان لڑکوں کو بولنے کے بجائے مجھے بولا ”یہ ایسے لاوارث ہیں کیا“ ایک دفعہ لڑکوں نے پھر شاہدہ کے ساتھ میرا نام جوڑا تو زہرہ نے بولا کہ ”اظہر نے اپنی شکل دیکھی ہے (میں ان دنوں میں شکل کے معاملے میں پہلے بھی احساس کمتری میں مبتلا تھا)“ ہماری کلاس کا وہ لڑکا جو زہرہ کا فیورٹ تھا وہ اگر کلاس میں پڑھائی کے دوران گانا بھی گا رہا ہو، زہرہ کو پڑھاتے وقت روک کر فالتو سوال بھی کر رہا ہو تو زہرہ پھر بھی اس کو کچھ نہ بولتی تھی بلکہ اس کی باتوں پر خوش ہوتی تھی۔ وہ لڑکا کلاس کی ایک لڑکی کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھا اور وہ لڑکا جب بھی Indirectly اس لڑکی سے کوئی بات کہتا تو زہرہ مسکرا کر کہتی کہ ”مجھے پتا ہے کہ تمھارا اشارہ کس طرف ہے“ ۔

زہرہ کہتی کہ ”مجھ میں اور میرے بہن، بھائیوں میں جراثیم ہیں نہ پڑھنے کے“ ، وہ کہتی کہ ”میرے والدین ایک کان سے بات سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں“ ۔ اس سال سے ٹیوشن ٹیچر کا انتظام ہمارے گھر پر ہی کر دیا گیا تھا اب یہ جو نئے ٹیوٹر آئے تھے اس وقت یہ مجھے بہت اچھے لگے تھے کیونکہ یہ میری اسکول کی ڈائری دیکھتے تھے۔ اسکول کا ہوم ورک بھی کرواتے تھے اور اسکول کے ٹیسٹ کی تیاری بھی کرواتے تھے۔ ان ٹیچر نے مجھے 5 مہینہ پڑھایا اور انہوں نے کہا کہ ”آپ میں کوئی کمی نہیں ہے آپ کو بس توجہ نہیں ملی ہے“ کچھ دنوں میں ٹیچر نے دوبارہ بولا کہ ”آپ کی میموری بھی بہت اچھی ہے بس آپ کو توجہ ٹھیک نہیں ملی ہے“ ۔

والدین کی لاپرواہی اور رویہ:۔

نویں کلاس میں آنے کے بعد میرے OCD کی واضح علامت شروع ہو چکی تھی میں دن میں گھنٹوں تک ہاتھ دھوتا تھا۔ میں روزانہ صابن کی بڑی والی ٹکیہ ختم کر دیتا تھا۔ میں کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا شروع کرتا تو تقریباً 45 منٹ تک ہاتھ دھوتا تھا اور جب تک ہاتھ نہیں دھوتا تھا تو کھانا نہیں کھاتا تھا اگر گھر والے صابن نہیں دیتے تو میں کھانا چھوڑ دیتا تھا اگر چمچے سے کھانے کی چیز ہوتی یا گلاس سے پینے کی کوئی چیز ہوتی اور میرا ہاتھ دھونے کا موڈ نہ ہوتا تو میں کسی کپڑے سے گلاس یا چمچے کو پکڑ کر چیز کھاتا یا پیتا تھا۔ بہت زیادہ ہاتھ دھونے کی وجہ سے میرے ہاتھ ایسے سفید ہو جاتے تھے جیسے ہاتھوں پر پاوڈر لگایا ہوا ہو۔

جب میں دسویں جماعت میں آیا تو میرے ہاتھ دھونے والی بات میرے ننھیال میں بھی پہنچ گئی تو انہوں نے مجھے کچھ دنوں کے لیے اپنے گھر پر بلا لیا جب میں ان کے گھر گیا تو اب ماحول بدلنے کی وجہ سے میرا دھیان بٹ گیا اور اسی لیے اب میرا ہاتھ دھونے کا جنون ختم ہو چکا تھا اب میں صرف 6 بار ہاتھ دھونے پر ہاتھوں کو صاف مان لیتا تھا میری ہاتھ دھونے کی عادت بے حد کم ہونے کے بعد میرے گھر والے پہلی بار مجھے ماہر نفسیات کے پاس لے کر گئے ان سے میں نے صرف 2 ماہ دوائی لی اور چھوڑ دیا۔

میٹرک کے بعد 14 اگست والے دن میرے اسکول کے کچھ کلاس فیلوز نے باہر کھانا کھانے کا پلان بنایا میں گھر پر بول کر چلا گیا کہ ”2 گھنٹے شاید لگیں گے مجھے واپس آنے میں“ ، میں وقت بتا کر گھر سے چلا گیا لیکن جانے کے بعد میں سمجھ گیا تھا کہ مجھے بہت دیر ہو جائے گی اور گھر والے پریشان ہوں گے لیکن میرے پاس موبائل نہیں تھا اور گھر کے موبائل کا نمبر مجھے یاد نہیں تھا۔ واپس آنے تک مجھے 5 گھنٹے ہو چکے تھے جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا تو گھر والوں نے مجھ سے دیر ہونے کی وجہ پوچھنے کے بجائے میرا گریبان پکڑا اور مجھے تھپڑ مار کر بولا کہ ”اتنی دیر تک باہر گھومے گا“ میری مما نے مجھے بہت باتیں سنائیں اور پھر میرا ایک کلاس فیلو جس کے ساتھ میں زیادہ رہتا تھا (وہ اس رات ہمارے ساتھ گھومنے باہر نہیں گیا تھا) اس کا نام لے کر بولا کہ ”ایسے لڑکوں کے ساتھ رہا کر نا، جو اپنے والدین کے فرمانبردار ہوتے ہیں“

میرا کوئی بھی اسکول کا دوست مخلص نہیں تھا۔ میرا کلاس فیلو جس کی تعریف میری مما کر رہی تھیں یہ میرے ساتھ بالکل بھی سچا نہیں تھا۔ میرا نقصان کروا کر خوش ہوتا تھا۔ اگر کوئی میرا مذاق بناتا تھا تو یہ اس بندے کے ساتھ مل جاتا ہے۔ یہ میری چھوٹی سی مدد کرنے سے بھی انکار کر دیتا تھا۔ میں اس کے ساتھ اکثر گھر سے باہر گھومنے جاتا تھا تو ہم لوگ رات کو 10 بجے تک گھر پر واپس پہنچ جاتے تھے۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد میں نے اس سے ملنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ الگ یونیورسٹی میں چلا گیا تھا اور میں الگ، وہ لڑکا جس کی تعریف میری مما نے کی تھی وہ اب یونیورسٹی میں کامریڈوں کے ساتھ مل کر لڑائی، جھگڑے کیا کرتا تھا۔ وہ یونیورسٹی کے پورے سمیسٹر میں مشکل سے ایک مہینہ یونیورسٹی جاتا تھا اور اس ایک مہینے میں بھی زیادہ تر صرف 2 گھنٹے کلاس لے کر واپس آ جاتا تھا۔ اس کی دوستی اب ایسے لڑکوں سے تھی جو چرس پیتے اور سیکس ورکرز کو بلایا کرتے تھے۔ وہ اب پورا پورا دن گھر سے باہر رہتا تھا اور رات کو 2 بجے تک گھر واپس آتا تھا۔ اسموکنگ بھی کرنے لگ گیا تھا۔ اس بات سے میں نے یہ جانا کہ ”میری مما کو تو لوگوں کی بھی پہچان نہیں ہے ان سے بہتر تو میں ہوں جس نے اس بندے کو ٹھیک وقت پر چھوڑ دیا تھا“ ۔

میں دسویں جماعت میں اپنے ایک کلاس فیلو سے ملنے جاتا تھا تو راستے میں ایک آدمی کی دکان پڑتی تھی ایک دن وہ آدمی میرا پیچھا کرنے لگا اور میرا پیچھا کرتے کرتے میرے گھر تک آ گیا میں نے یہ بات اپنے گھر والوں کو بتائی تو گھر والوں نے اس آدمی کو تو بولا لیکن انہوں نے مجھے بھی بہت سنائیں انہوں نے مجھے بولا کہ ”میں پورا دن لاوارثوں کی طرح گھومتا رہتا ہوں نا تو یہ تو ہونا ہی تھا“ ۔ میرے گھر والے بولنے لگے کہ ”ہم تمھیں موٹر سائیکل سیکھنے کا اسی لیے بولتے تھے کیونکہ موٹر سائیکل پر آدمی رفتار سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پر پہنچ جاتا ہے“ ۔

میرے گھر والے مجھے کچھ وقت سے موٹر سائیکل سیکھنے کا بول رہے تھے میں نے کوشش کی تھی لیکن مجھے ڈر لگتا تھا اور اسی لیے ابھی تک نہیں سیکھ پایا تھا تو میرے گھر والے اس بات پر بھی مجھ پر غصہ کرتے تھے۔ میں اپنے گھر والوں کو بولتا تھا کہ ایک تو مجھے موٹر سائیکل چلانے کا شوق نہیں ہے۔ دوسرا مجھ میں اعتماد نہیں ہے۔ تیسرا میں نے کبھی سائیکل بھی نہیں چلائی ہے تو شاید اسی لیے مجھے موٹر سائیکل بیلنس کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

میرے رشتہ دار مجھے موٹر سائیکل سکھانے لے کر جاتے تو مجھے 3 یا 4 دن گراؤنڈ میں پریکٹس کرواتے اور بولتے کہ ”سب لوگ ایسے ہی سیکھتے ہیں بس اب تم بھی روڈ پر چلایا کرو“ لیکن مجھ سے بائیک ابھی بھی بیلنس نہیں ہوتی تھی تو اسی لیے میں روڈ پر نہیں چلاتا تھا پھر میں نے خود فیصلہ کیا اور میں اپنے چھوٹے بھائی (جس کو بائیک چلانا آتی تھی) اس کو لے کر جانے لگا اور کئی دنوں تک گراؤنڈ میں ہی پریکٹس کی پھر جب مجھ سے بائیک بیلنس ہونے لگی تو میں نے خود اعتماد کے ساتھ بائیک روڈ پر چلانے کا فیصلہ کیا اور اس سے میں نے یہ سیکھا کہ ضروری نہیں ہے بہت سے بندے اگر ایک ہی طریقے سے کوئی چیز سیکھ رہے ہیں تو ہر بندہ اسی طریقے سے سیکھ سکے۔

(جاری ہے ) ۔

 

Facebook Comments HS