معاشرتی رویوں کا عکاس سوشل میڈیا

ایک وقت تھا جب کسی موضوع یا واقعہ کے بارے میں معاشرے کی اکثریتی یا اجتماعی رائے جاننا ایک مشقت طلب کام تھا۔ آپ کو مختلف پیشے، طبقات اور عمر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے رابطہ کرنا پڑنا تھا اور ان کی آراء کو الگ الگ پرکھنے کے بعد ایک حتمی نتیجہ مرتب کرنا پڑتا تھا مگر آج کے دور میں سائنسی ترقی نے جہاں اور بہت سے کاموں میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں انٹرنیٹ نے مختلف معاشرتی

Read more

عورت مارچ پر دو انتہاپسند گروہوں کی چپقلش

گزشتہ چند برسوں کی طرح اس بار بھی عورت مارچ کے موقع پر دو روایتی حریفوں کے درمیان گھمسان کا رن دیکھنے میں آیا۔ یہاں دو حریفوں سے مراد مرد و زن نہیں بلکہ شدت پسندانہ سوچ رکھنے والے وہ دو گروہ ہیں جن کے مطابق دنیا کی بقاء کا دار و مدار عورت مارچ کی کامیابی یا ناکامی پر ہے۔

پہلا گروہ تو اس شدت پسندانہ سوچ کے حامل افراد پر مشتمل ہے جن کا دین عورت مارچ کے انعقاد سے ہی خطرے میں آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اپنے حقوق کے لئے باہر نکلنے اور آواز اٹھانے والی تمام خواتین کا بنیادی مقصد معاشرے میں بے حیائی پھیلانا ہوتا ہے۔ اس گروہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسلام عورت کو مکمل تحفظ اور آزادی فراہم کرتا ہے ، ایسے میں آواز اٹھانے والی خواتین کے مطالبات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

Read more

تقریر جمیل کے آفٹر شاک

آج کل سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا، ہر طرف بس مولانا طارق جمیل صاحب کے ہی چرچے ہیں۔ میڈیا پر کی گئی ان کی کچھ مبینہ متنازع گفتگو سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہے اور وہ اپنے اختلافات کا اظہار کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ اس لئے مولانا صاحب کے حامیوں کو صبر سے کام لیتے ہوئے اس اختلاف رائے کو برداشت کرنا ہوگا اور شخصیت پرستی سے نکل کر اس بات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا

Read more