مذہب ہر چند اعتراضات کا جائزہ

مذہب پر وہی اعتراض قابل اعتنا سمجھا جا سکتا ہے جو مذہب پر ہو نہ کہ اہل مذہب کی تعبیر و کردار پر۔ معترض اگر متعصب نہیں تو وہ بتائے گا کہ اس کے اعتراض کا محل مذہب ہے یا اہل مذہب کی تعبیر اور ان کا کردار، ورنہ خلط مبحث ہوگا اور سطحی ذہن کے لیے ایسی کنفیوژن کفایت کرتی ہے۔ اہل مذہب کی مذہب کے بارے میں تعبیرات، اطلاقات اور مذہبی نصوص کے مصداقات کی تعیین خارجی چیزیں

Read more

ابتدائی جماعت کے کم سن بچوں کو پڑھائی کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟

ہمارے ہاں بچوں کئی نفسیات سے عدم واقفیت اور بے اعتنائی ایک قومی مزاج کی حیثیت سے پائی جاتی ہے۔ یہی مسئلہ بچوں کو کتابوں اور خصوصا درسی کتب کے مطالعہ اور سکول کے کام سے عدم دلچسپی اور سے دوری کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔ ہمارے ہاں والدین کو معلوم نہیں ہوتا کہ بچوں کو پڑھائی کی عادت ڈالنے کا درست طریقہ کیا ہے۔ بچوں کا سکول، کتابوں اور سکول کے کام سے متعلق ابتدائی تاثر بہت اہم ہوتا

Read more

دین کو قومی فخر کا ذریعہ بنانے کا رجحان

دین خدا کی ہدایت بنا کر انسانوں کو دیا گیا تاکہ وہ اپنا تزکیہ کریں اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کریں تاکہ وہ بھی اپنا تزکیہ کریں اور سب آخرت کے امتحان میں کامیابی حاصل کریں۔ سب پیغمبروں کو، جنھیں ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے، یہی دین دے کر بھیجا گیا تھا۔ محمد رسو ل اللہ ﷺ آخری پیغمبر تھے۔ ان کی تعلیمات محفوظ کر دی گئیں۔ اب یہ انسانوں کو وہی یاد دہانی کراتی ہیں جس

Read more

پاکستان میں غیر مسلم عبادت گاہوں کی تعمیر اور ان پر قومی اخراجات کا مسئلہ

حجاز کو اللہ تعالی نے توحید کا مرکز بنا کر مقدس کیا، کعبہ خدائے واحدت کے گھر اور قبلے کے حیثیت سے تعمیر ہوا۔ وہاں جب شرک نے قبضہ کر لیا تو یہ قبضہ واگزار کرایا گیا اور مشرکانہ عبادت گاہوں اور آثار کو مٹا ڈالا گیا۔ حجاز کی یہ خصوصی حیثیت ہے کہ وہاں کوئی مشرکانہ عبادت گاہ قائم رہ سکتی ہے اور نہ تعمیر کی جا سکتی ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے کعبہ کو بیت اللہ ہونے کی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ نہ کعبہ کہیں اور تعمیر ہو سکتا ہے اور نہ حجاز جیسا تقدس کسی اور زمین کو دیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے صحابہ نے حجاز سے باہر کسی بت خانہ، کسی آتش کدہ کو نہیں گرایا اور نہ ایسی عبادت گاہوں کی نئی تعمیر کو روکا۔ البتہ اپنے مفتوحہ علاقوں میں جو نئے شہر بسائے، اس کے مالکانہ حقوق کی بنا پر اگر چاہتے تو غیر مسلم عبادت گاہ کی نئی تعمیر سے منع کر سکتے تھے۔ اس کے باوجود کوئی غیر اسلامی معبد وہاں تعمیر ہوا یا نہیں یہ تاریخی معلومات کا موضوع ہے جس پر تحقیق درکار ہے۔

Read more