مجھے کراچی میں تین ہفتے ہوچکے ہیں۔ اس دفعہ قریب دو سال کے بعد میں نے کراچی میں قدم رکھا ہے۔ بلتستان یونیورسٹی اِسکردو سے جب میں چلا تھا تو میرے دماغ میں دو اہم اُمور گردش کررہے تھے :
اول: یہ کہ میں اپنی کتاب بعنوان: ”نگاہ اِنتخاب: سماج کے عامیانہ اُسلوب کا تحلیلی جائزہ“ شائع کرواسکوں اور یہ کتاب میری اب تک کی علمی و تحقیقی محنت کی ایک جھلک ہے۔ اِس کتاب میں، میں نے اپنی زندگی کے بعض راز بھی طشت از بام کیے ہیں۔ جبکہ سماجیات کی کئی گُھتیاں سُلجھانے کی سعی بھی کی ہے۔ بین السطُور کتاب طباعت کے مراحل طے کر رہی ہے۔ 329 صفحات پر مشتمل یہ کتاب میں نے اپنے والدین سے منسوب کی ہے جبکہ اظہارِ تشکر میں اپنے بھائیوں، پی ایچ ڈی مقالہ (یہ کتاب پی ایچ ڈی مقالہ کے مسوّدہ پر مشتمل نہیں ہے ) کے نگراں سمیت دوستوں کی ایک طویل فہرست مرتب کی ہے تاکہ اُن تمام بہی خواہوں کے حضور چند ستائشی کلمات پیش کرسکوں۔
اب تک مذکورہ کتاب کو چھپ کر آنا چاہیے تھا لیکن بعض نامساعد حالات کی وجہ سے تاخیر ہوئی اور وہ حالات میرے لئے بالکل بھی غیر
Read more