دوزخی: عصمت چغتائی کے قلم سے اپنے بھائی عظیم بیگ چغتائی کا خاکہ

جب تک کالج سر پر سوار رہا پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی نہ ملی جو ادب کی طرف توجہ کی جاتی اور کالج سے نکل کر بس دل میں یہی بات بیٹھ گئی کہ ہر چیز جو دو سال پہلے لکھی گئی بوسیدہ، بد مذاق اور جھوٹی ہے۔ نیا ادب صرف آج اور کل میں ملے گا۔ اس نئے ادب نے اس قدر گڑبڑا یا کہ نہ جانے کتنی کتابیں صرف نام دیکھ کر ہی واہیات سمجھ کر پھینک دیں

Read more

پہلی لڑکی – عصمت چغتائی کا رومانی افسانہ

اوپر اپنے کمرے میں مریم سسکیوں سے رو رہی تھی انیس ان کی انگلیاں چوم کر سمجھا رہے تھے۔ ”ڈارلنگ بے بی، دنیا داری تو نباہنا ہی پڑے گی ویسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تم میری ہو اور میری رہو گی“۔

”مجھے ڈر لگتا ہے انیس“۔
”اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے ہنی“۔
”اسے پتا چل گیا تو؟ “ اس نے گھٹی ہوئی آواز میں کہا۔

”بڑا گاؤدی سا ہے، اسے کیا پتا چلے گا؟ دیکھا نہیں تم نے کس بری طرح گھوررہا تھا تمہیں؟ “
”گدھا کہیں کا! “ مریم غصے سے کانپ اٹھی۔

Read more