بٹوا صرف میری جیب میں رہے گا

یادش بخیر! کل شہباز شریف بہت یاد آئے! اپنے وقت کے شیر شاہ سوری! آہ! اصل شیر شاہ سوری کو وہ دریا دل لکھاری نہ نصیب ہوئے جو تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے! شہباز شریف قسمت کے دھنی تھے۔ ع اقصائے چیں سے تابہ سوادِ طرابلس ان کی پنجاب سپیڈ کے چرچے ہوئے۔ تصویر یہ پیش کی گئی کہ پورا پنجاب ترقی کے آسمان پر چڑھ کر کہکشاؤں میں شامل ہو گیا ہے۔ یہاں تک دعویٰ کیا

Read more

شرم تم کو مگر نہیں آتی

آپ کا کیا خیال ہے پاکستان میں کثیف ترین جگہ کون سی ہے؟ ایک زمانے میں سنتے تھے کہ گوجرانوالہ ایشیا کا سب سے زیادہ گندا شہر ہے مگر آج معلومات کا جو خزانہ آپ کو حاصل ہونے لگا ہے، اس کے بعد گوجرانوالہ آپ کو پیرس لگے گا۔ کیا آپ خیبرپختونخوا کے کسی دور افتادہ گاؤں یا پنجاب کی کسی کچی بستی کا سوچ رہے ہیں؟ کیا کثیف ترین مقام سے آپ کے ذہن میں اندرون سندھ کی کوئی گوٹھ آ رہی ہے؟ نہیں! آپ غلط ہیں، آپ فریب خوردہ ہیں۔

میرے خیبرپختونخوا کے گاؤں، میرے پنجاب کے قریے، میرے سندھ کے گوٹھ صاف ستھرے ہیں، کچے صحنوں میں دلہنیں نانیاں دادیاں چاچیاں مائیں بہنیں صبح شام جھاڑو دیتی ہیں۔ ایک ایک کمرے سے گرد جھاڑی جاتی ہے۔ ایک ایک برتن مانجھ کر چمکایا جاتا ہے۔ مکان کچے سہی، دیواریں مٹی کی سہی، برتن معمولی قیمت کے سہی اجلا پن ضرور ہوتا ہے۔ یہ عورتیں صبح سے شام تک اپنے گھروں کو بہشت کا ٹکڑا بنانے میں لگی رہتی ہیں۔ دھریک اور نیاز بو کے پودے بہار دکھاتے ہیں۔

Read more

ایک تہلکہ ہر وقت درکار ہے

ایک مرحوم دوست ایک لکھاری کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ انہیں ہمیشہ ایک ممدوح چاہیے۔ ہمیں بھی بطور قوم ہمیشہ ایک تہلکہ درکار ہے۔ کبھی کبھی ذہن میں سوال کا بلبلہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم ایک نارمل قوم ہیں؟ ہمیں ہمیشہ ایک بیرونی سہارا درکار ہے۔ کبھی ہماری سوئی اس بات پر اٹک جاتی ہے کہ امریکہ ہمارے ساتھ دوستی کیوں نہیں نبھاتا؟ پھر امریکہ کی بے وفائیاں یاد کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ دھاڑیں مار مار کر

Read more

میں کن لوگوں کو انفرینڈ کرتا ہوں

اس میں کیا شک ہے کہ سوشل میڈیا جس مقدار اور جس رفتار سے سروں پر سوار ہوا ہے اس سے پناہ مانگنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک شترِ بے مہار! جو مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے گھر کے اندر، آپ کی خواب گاہ میں اور پھر آپ کے بستر پر آبراجمان ہوا ہے۔

مگر جہاں مہمیز لگی ہے، وہاں لگام بھی خوش قسمتی سے آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے، آپ یہ لگام کسی بھی وقت کھینچ کر سوشل میڈیا کے حملے کو بہت حد تک بے اثر کر سکتے ہیں۔

Read more

خطرناک ترین حملہ

رات بھر نیند نہ آئی۔ حملہ ہونے میں صرف دو دن رہ گئے تھے۔ دوسرا دن بھی اضطراب میں گزرا۔ شام ڈھلی تو کرب میں اضافہ ہو گیا۔ رات پھر پیچ و تاب میں بسر ہوئی۔ کل صبح اٹھا تو سب سے پہلے کیلنڈر دیکھا۔ امتِ مسلمہ پر خوف ناک حملہ ہونے میں چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت رہ گیا تھا۔ وہ تو اخبار کھول کر دیکھا تو جان میں جان آئی!اللہ! تیرا شکر ہے ہمارے علماء خبردار اور

Read more

شکنجہ جو کسا جانے والا ہے

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ وہی ہونے جا رہا ہے جو ہوتا آیا ہے۔ آئی ایم ایف نے واضح کر دیا ہے کہ قرضہ لینا ہے تو روپے کی قدر مزید گھٹائو۔ بجلی مہنگی کرو۔ گیس کے نرخ بڑھائو! کسی کو نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف ترقی پذیر ملکوں کے لئے بدترین ساہوکارہ ہے۔ یہ اندرونی معاملات میں کھلم کُھلا مداخلت کرتا ہے۔ ہاتھ پائوں باندھ دیتا ہے۔ اس کا پسندیدہ کلہاڑا جو یہ قرض خواہ ملک پر

Read more

خدا کا نام لیجیے وزیراعظم صاحب!

نہیں! جناب وزیراعظم! نہیں! آپ وہی کچھ کر رہے ہیں جو پہلوں نے کیا اور کچھ نتیجہ نہ نکلا۔ وہی پامال راستے‘ وہی گھسے پٹے نسخے‘ وہی افرادی پاٹ پوری جو ہر حکمران کے سامنے میز کے اردگرد بیٹھی نظر آئی۔ میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا ویٹی کن میں جا کر حرم مکی کی توسیع پر تبادلہ خیال۔ مودی سے ملت اسلامیہ کے لیے مشورے‘ بلیوں کے ذمے دودھ کی سلطنت کا انتظام‘ واہ‘ واہ‘ ارادے وزیراعظم

Read more

اب از خود نوٹس فرشتے ہی لیں گے

علیم خان کی گرفتاری’’توازن‘‘ برقرار رکھنے کے لیے ایک رسمی کارروائی ہے یا واقعی غیر جانب دارانہ احتساب کی طرف ایک بڑا قدم ہے؟ قومی اسمبلی کے سپیکر وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں یا دنیائے انصاف کی تاریخ میں ایک بلند مقام کے لیے کوشاں ہیں؟ تحریک انصاف کے جو وابستگان ٹکٹوں سے محروم ہوئے یا ٹکٹ لے کر ظفریاب نہ ہو سکے انہیں اب ادارے سونپے جا رہے ہیں۔ یہ خبر درست ہے یا محض افواہ ہے؟

Read more

واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب

دو فروری کے کالم میں اس کالم نگار نے لکھا تھا: ’’عجم کے ساتھ جنگ آزمائی سے پہلے امیرالمومنین عمر فاروقؓ حسرت سے کہا کرتے تھے کہ کاش آگ کا پہاڑ ہمارے اور ان کے درمیان ہوتا۔ وہ ادھر رہتے اور ہم اس طرف۔ تو کیا امیرالمومنینؓ عجم کی قوت سے خائف تھے نہیں! وہ جنگ کی ہولناکیوں سے اپنے عوام کو ہر ممکن حد تک بچانا چاہتے تھے۔‘‘ اس پر کمنٹ کیا گیا کہ ’’موصوف کا یہ تجزیہ حضرت

Read more

دیسی کیا ہے اور بدیسی کیا ہے؟

بھارت میں نیا سیاپا شروع ہوا ہے کہ بھارتی نیشنلزم کے بخار میں ہر شے کو بھارتی قرار دو۔ مرچ سے لے کر آلو تک، سموسے سے لے کر راجھستانی پگڑی تک ہر شے کی اصل بھارت کو قرار دو۔ مودی صاحب نے لڑکپن میں چائے کیا بیچی، اب چائے نوشی کو بھی بھارت کی ثقافتی بنیاد قرار دیا جارہا ہے۔ بھارت ہی کے معروف ثقافتی مورخ سہیل ہاشمی نے اس کا مدلل جواب دیا ہے۔ خوراک سے لے کر لباس تک، طرز تعمیر سے لے کر سجاوٹ اور ڈیکوریشن تک، ایک ایک شے کی اصل بتادی۔

آلو ہی کو لے لیجیے۔ سموسے کا یہ جزو لاینفک ہے۔ آلو کے کباب، آلو کی ٹکیاں، روزمرہ خوراک کا حصہ ہیں مگر ہندوستان میں آج سے چار سو سال پہلے آلو کا نام و نشان نہیں تھا۔ تاریخ، ادب، ثقافت، کسی کتاب میں آلو کا ذکر نہیں۔ سہیل ہاشمی کی تحقیق یہ ہے کہ آلو کا اصل وطن جنوبی امریکہ ہے۔ پرتگالی اسے جنوبی ہند میں لائے۔ اسی لیے ممبئی میں آج بھی اسے ٹباٹا کہتے ہیں جو پوٹیٹو کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ یوں آلو تو بھارت کی ثقافت سے نکل گیا۔

Read more

ماسیاں، بیگمات اور وارداتیں

 ”یہ عورت ’گھر کا کام کاج کرنے کے لئے‘ تم نے کہاں سے ڈھونڈی ہے؟ “ ”یہ گلی میں سے گزر رہی تھی مجھ سے اس نے کہا کہ کام چاہیے۔  آپ نے کہا ہوا تھا کہ ماسی درکار ہے ’میں اسی کو لے آئی ہوں۔  کچھ عرصہ بعد‘ شہروں میں بڑے ہونے والے بچے یہی سمجھیں گے کہ“ ماسی ”گھر کی نوکرانی کو کہتے ہیں۔  اُس وقت شاید انہیں کوئی بتانے والا ہی نہ ہو کہ ماسی ’پنجابی میں

Read more

کیا افغان بچوں کے ہاتھ میں بندوق ہی رہے گی؟

جی! بالکل درست فرمایا! ”طالبان فقط ایک مذہبی اور سیاسی گروہ نہیں ’پشتونوں کی قومی تحریک ہے۔ “ ہم جیسے ”ہماتڑ“ عشروں سے چیخ رہے ہیں کہ یہ پختون‘ غیر پختون کا مسئلہ ہے۔ خدا کا شکر ہے ؎ گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں یہاں اب مرے راز داں اور بھی ہیں احمد شاہ ابدالی نادر شاہ کا ملازم تھا۔ جرنیل بنا۔ نادر شاہ کے بعد اس نے 1747 ء میں افغان قبیلوں کو متحد کیا اور ”افغانستان“ کی بنیاد رکھی۔ یہ بنیادی طور پر پختون نیشن سٹیٹ تھی یعنی پشتون قومی ریاست!

سوویت یونین نے حملہ کیا تو 1979 ء میں دو سو بتیس سال بعد پختون غلبہ اختتام کو پہنچا۔ یہاں ایک سوال اٹھتاہے کہ اتنے طویل عرصہ تک ازبک ’تاجک‘ ترکمان اور ہزارہ اقلیتیں کیوں خاموش رہیں؟ ایک وجہ تو یہ تھی کہ حکومت پختونوں کی تھی مگر غلبہ فارسی ( دری) زبان کا تھا۔ کابل مجموعی طور پر فارسی سپیکنگ شہر رہا۔ غیر پختونوں کو اجنبیت کا احساس نہیں تھا۔ پھر سیاسی شعور بھی نہ تھا۔ تاہم ایسا بھی نہیں کہ سب اچھا تھا۔

Read more

سیاحت؟ کون سی سیاحت؟

یہ ان دنوں کی بات ہے جب سردیوں میں چترال جانے کے لئے لواری کی سرنگ کا ذریعہ نہیں تھا۔ چترال پہنچنے کے لئے لوگ افغانستان کا راستہ استعمال کرتے تھے۔ ایک وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ ہم چترال کے مقام گرم چشمہ کو وسط ایشیا سے ملا دیں گے۔ لوگوں نے سنا اور ہنسے۔ اس لئے کہ چترال تو خود باقی ملک سے کٹا ہوا تھا۔ یہی صورت حال آج یوں پیش آئی کہ وزیر اعظم نے سیاحت

Read more

خالی گھونسلہ سنڈروم

جان جوکھوں کی مہم ہے! مجھ معمر شخص کے لیے جان جوکھوں کی مہم!! آٹھ سالہ لڑکا غچہ دے کر اڑتے ہوئے غالیچے پر سوار ہوگیا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے غالیچہ، جس پر چھت تھی اور آگے کل لگی تھی اوپر اٹھا اڑنے لگا، پھر دور ہوتا ہوتا ایک نقطے کی صورت اختیار کر گیا۔ ابھی میں جیب میں رومال ٹٹول رہا تھا، ادھر وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ کڑک کی آواز تو نہیں آئی مگر کچھ ہوا ضرور ہوگا۔

Read more

پی ٹی اے کہاں ہے؟

اب اس روایتی اور مذہبی معاشرے میں اسی چیز کی کسر باقی تھی۔ سو پوری ہو گئی۔ جنسی ادویات کے اشتہار موبائل ٹیلی فونوں کے ذریعے ایس ایم ایس پر گھر گھر بھیجے جا رہے ہیں۔ ایک سرکاری ادارہ پی ٹی اے(پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی) صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لئے قائم ہے۔ بھاری مشاہروں پر اس میں بڑے بڑے افسر‘ بڑے بڑے ٹیکنو کریٹ تعینات ہیں۔ بھاری بجٹ ہے اور حالت یہ ہے کہ گھروں میں جنسی

Read more

نئی حکومت اور کرنے کے کام

مسئلہ بجٹ یا مِنی بجٹ کا نہیں! مسئلہ بنیادی پالیسیوں کا ہے،مسئلہ کامن سینس کا ہے! حکومتیں ملک کو اس طرح کیوں نہیں چلاتیں جس طرح کوئی بزنس مین اپنا کاروبار چلاتا ہے؟وہ بہترین افرادی قوت بھرتی کرتا ہے۔ پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والے ٹاپ کلاس لوگوں کو منیجر لگاتا ہے۔ ایچ آر کا کام سونپتا ہے اور اکائونٹس اور فنانس کی ذمہ داری دیتا ہے۔ مشاہدہ بتاتا ہے کہ باربرا ٹک مین کا نظریہ درست تھا۔ باربرا ٹک مین

Read more

خواب جھوٹے خواب تیرے خواب میرے خواب بھی

برطانیہ کے وزیراعظم نے لندن پولیس کے سربراہ سے درخواست کی۔ ’’میں ہائوس آف کامنز سے نکلتا ہوں تو ٹریفک کے ہنگامے کی وجہ سے اپنی سرکاری قیام گاہ ٹین ڈائوننگ سٹریٹ پہنچنے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ وہاں غیر ملکی مہمانوں کو وقت دیا ہوتا ہے۔ ان میں سربراہان مملکت بھی ہوتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ دس پندرہ منٹ کے لیے ٹریفک کو متبادل راستے پر منتقل کردیا جائے۔‘‘ ’’نہیں! حضور‘ ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ پولیس کے سربراہ

Read more

عمران خان عمر فاروق ؓ نہیں تو کیا لی بھی نہیں بن سکتے؟

یہ 1996ء تھا جدید سنگا پور کے معمار لی کوان پیو تین دہائیوں تک وزیر اعظم رہنے کے بعد محض سینئر وزیر کے طور پر کابینہ میں شامل تھے گوہ چوک ٹانگ وزیر اعظم تھے۔ لی کا بیٹا ڈپٹی وزیر اعظم تھا۔ لی اور ان کے فرزند ڈپٹی وزیر اعظم پر الزام لگا کہ انہوں نے جائیداد خریدی اور اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرتے ہوئے رعایت (ڈسکائونٹ) حاصل کیا۔ لی کا ردّ عمل اس الزام پر کیا تھا؟ لی

Read more

جمعرات کو قُل ہیں

اٹھو کہ اطلاع آ گئی ہے۔ یہ رنگین زرق برق لباس اتارو۔ سیاہ ماتمی کپڑے پہنو۔ بال بکھیر لو۔ پٹکا کمر سے باندھ لو۔ نوحہ گر کو بلائو۔ بین کرے اور ایسا بین کہ دل دہل جائیں۔ سننے والے چیخ اٹھیں۔ پرندے گر کر مر جائیں۔ جنگلوں میں جانور بھاگتے پھریں۔ چلو جنازہ گاہ کی طرف! وقت کم ہے۔ قدم تیز تیز اٹھائو۔ ایسا نہ ہو کہ تدفین ہو جائے۔ ہم مرنے والی کا چہرہ دیکھنے سے محروم رہ جائیں۔

Read more

اسلام آباد میں مساج سنٹر کھولیے۔۔۔؟

نجم حسین سید پنجابی زبان و ادب کے نامور ادیب ہیں۔ ان کی تصانیف دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہیں۔ یہ فقیر منش انسان سول سروس کے اعلیٰ عہدوں پرفائز تھا تو ویگن اور بس پر سفر کرتا تھا۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ پنجابی کو نجم حسین سید ہی نے سنوارا اور نکھارا۔ شہرت، پی آر اور سرکاری اعزازات سے بے نیاز سید صاحب ایک ڈرامے میں عجیب منظر پیش کرتے ہیں۔ ایک غریب، بے کس عورت تھانے

Read more

تاریخ کا مکروہ ترین سماجی انقلاب

دنیا کا بدترین معاشرتی انقلاب 1990ء کے بعد شروع ہوا۔ اب یہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے، تاریخ کا یہ بدترین، یہ مکروہ ترین، یہ غلیظ ترین، انقلاب کہاں سے پھوٹا؟ افریقہ کے جنگلوں سے؟ نیپال سے جہاں ایک بیوی کے کئی شوہر ہوتے ہیں؟ ایمیزن کے کناروں سے؟ مردم خور وحشیوں سے؟ نہیں! یہ مملکت خداداد پاکستان سے شروع ہوا۔ اس ملک سے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ جہاں پوری اسلامی

Read more

تم ایک دن کے لیے اپنا دل ہمیں دے دو

کچھ تو خوشگوار خبریں ہیں اور کچھ یاس پھیلانے والی۔ دونوں کا آپس میں مقابلہ ہے اور بقول ظفر اقبال ؎ در امید سے ہو کر نکلنے لگتا ہوں تو یاس روزن زنداں سے آنکھ مارتی ہے یاس صرف آنکھ نہیں مارتی، غنڈوں کی طرح زبردستی بھی کرتی ہے۔ تاہم اب کے امید کا پلڑا بھاری ہے۔ قائداعظم یونیورسٹی جو دارالحکومت کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، ایک عرصہ سے انصاف مانگ رہی تھی۔ یونیورسٹی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں سابق

Read more

کیا تلّون صرف شہنشاہ ہمایوں میں تھا؟

اگر کبھی آذر بائی جان جانے کا تفاق ہو تو گنجہ ضرورجائیے۔ مغربی آذر بائی جان کا یہ شہر عجیب قسمت لے کر آیا۔ دنیا کے دو مشہور شاعروں نے یہاں جنم لیا۔ اس شہر کا نام روسی عہد میں دو بار بدلا گیا۔ استعمار کا دور ختم ہوا تو اصل نام گنجہ واپس آ گیا۔ گنجہ نے دنیا کو جو دو عالمی شعرا دیے ان میں ایک مہستی گنجوی تھی جو ایک دبنگ روشن خیال خاتون تھی۔ یوں سمجھئے

Read more

نہ بھائی!ہماری تو قدرت نہیں

سینے میں درد ہوا۔ مولانا محترم کو اسپتال لے جایا گیا۔ اینجو گرافی ہوئی۔ پھر اینجو پلاسٹی ہوئی۔ شریانوں میں سٹنٹ ڈالا گیا۔ الحمدللہ! علاج کارگر رہا۔ شفا اُس ذاتِ پاک نے دی جس کے قبضۂ قدرت میں صحت ہے۔ مگر اس شفا کے لیے وسیلہ کون بنے؟ وہ ماہر امراضِ قلب! جس نے پانچ برس لگا کر ایم بی بی ایس کیا۔ پھر مزید پانچ چھے برس لگا کر دل کے امراض میں تخصص کیا۔ کئی تربیتی مراحل سے

Read more

3019ء

پچھلے ایک ہزار برس میں جو کچھ ہوا حیران کن تھا۔ مگر اب کے ہزار برس پورے ہوئے تو جو نہ ہو سکا وہ زیادہ حیران کن تھا۔ ہزار برس کے عرصہ کو اہل فرنگ ملی نیم (Millennium) کہتے ہیں۔ کچھ سفید فام اسے ’’کلوائیرز‘‘ (Killoyears) کا نام بھی دیتے ہیں۔ سو سال گزریں تو ایک صدی بنتی ہے۔سو صدیاں بیت جائیں تو ایک ملی نیم پورا ہوتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا ؎ پل پل میں تاریخ

Read more

کُکڑا دَھمی دیا

ایک زمانہ گزر چکا ہے۔ ہم ایک اور زمانے میں اتر چکے! ایک اور زمانہ جو مختلف ہے۔ سنّاٹا ہے۔ گہرا سنّاٹا۔ رات لمبی ہے اور کالی! کہیں کہیں کوئی تارا نرم مدہم لَو دے رہا ہے۔ چاند کب کا رخصت ہو چکا ہے۔ دور سے آواز آتی ہے اندھیرے کھیتوں کے اوپر آہستہ آہستہ پر پھیلاتی۔ کُکڑا دھمی دیا کُویلے دِتی اَیی بانگ ماہیا ٹور بیٹھی تے میکوں پچھوں لگا ارمان اے پَو پھٹے کے مُرغ! تونے ناوقت اذان

Read more

تحریکِ انصاف کی حکومت اپنے پائوں پر کلہاڑی کیسے مار رہی ہے؟

جہلم شہر کی آبادی پونے دو لاکھ ہے‘ چکوال کی تقریباً دو لاکھ۔ اتنی ہی میر پور کی ہو گی۔ دینہ کی ساٹھ ہزار ہے۔ گوجر خان کی بھی ڈیڑھ لاکھ سے کیا کم ہو گی۔تحصیل کلر سیداں کی آبادی سوا دو لاکھ ہے۔ پھر کہوٹہ شہر اور تحصیل ہے۔ سوہاوہ ہے۔ مندرہ اور روات ہیں۔ یہ وہ قصبے ہیں جن کے نام ہمیں معلوم ہیں۔ ان سے مفصل وہ سینکڑوں قریے ہیں جو جہلم‘ چکوال ‘ گوجر خان ‘

Read more

قائد اعظم ثانی سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے

جتنی مخالفت محمد علی جناح کی ہوئی‘ کیا اُس زمانے میں کسی کی اس سے بڑھ کر بھی ہوئی؟ جن ہندوئوں نے کہا تھا کہ ہندوستان صرف اُن کی لاشوں پر تقسیم ہو سکے گا‘ اُن ہندوئوں کو آخر کیا چاہیے تھا اگر محمد علی جناح کے خلاف مالی بددیانتی کا کوئی ثبوت مل جاتا؟ ان کی تو لاٹری نکل آتی! برصغیر کے مسلمانوں کو وہ آسانی کے ساتھ قائل کر لیتے کہ یہ شخص دولت کا رسیا ہے اور

Read more

قائد اعظم ؒ

اس معاملے کو ایک اور زاویے سے دیکھیے برصغیر میں مسلمان آبادی تین حصوں میں منقسم ہے۔ مغرب میں پاکستان ہے۔ تقریباً بائیس کروڑ آبادی ہے۔ مشرقی کنارے پر بنگلہ دیش ہے۔ اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں 90فیصد مسلمان ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان اپنی تقدیر کے مالک خود ہیں۔ وہ دوسرے ملکوں میں سفیر تعینات ہوتے ہیں۔ مسلح افواج میں شامل ہیں۔بریگیڈیئر اور جرنیل بنتے ہیں۔ فوجوں کی کمان سنبھالتے ہیں۔ عدالتوں کی سربراہی کرتے ہیں۔ بنگلہ

Read more

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں۔ ۔ ۔

بخار تھا کہ ٹوٹنا تو کیا ’کم ہونے کا بھی نام نہ لیتا تھا۔ محلے کے ڈاکٹر نے کم مائگی کا اعتراف کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ ہسپتال لے جاؤ۔ اُس وقت دارالحکومت میں ایک ہی ہسپتال تھا۔ پولی کلینک۔ مگر یہ پولی کلینک کے سنہری دن تھے۔ شہر کی آبادی محدود تھی۔ ہسپتال کی انتظامیہ چُست تھی اور ذمہ دار۔ پولی کلینک کی راہداریاں تب بھی چھلک رہی ہوتی تھیں مگر آج کی طرح ”ٹریفک جام“ نہیں تھا! یہ 1976 ء یا 1977 ء تھا۔

پولی کلینک کے جس ڈاکٹر نے والد گرامی کا معائنہ کیا‘ سرخ سفید رنگ کا تھا! وجیہہ شخصیت۔ انداز مسحور کُن! ۔ ۔ ۔ اردو پر میانوالی کا لہجہ غالب! اُس نے ایک ہاتھ والد گرامی کے کندھے پر رکھا۔ دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے پہلے ہاتھ پر ایک یا دو بار ضرب لگائی۔ اور کہا پھیپھڑوں میں پانی ہے۔ نکالنا ہو گا۔ ہسپتال داخل کریں گے۔ علاج لمبا ہے۔ انشاء اللہ مریض ٹھیک ہو جائے گا۔ معائنے ’تشخیص اور گفتگو سمیت سارا معاملہ دو منٹ میں نمٹ گیا۔

Read more

اندھے عقاب کی اڑان

شام ڈھل رہی ہے۔ لائبریری میں کتابوں کی الماریوں کے درمیان بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوں۔ املی اور کھجور کے درخت گم سم کھڑے ہیں۔ لمبے ہوتے سائے اداسی میں ڈوبے ہوئے لگ رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے شام ڈھاکہ کے اوپر تاریکی نہیں، نا امیدی کی چادر تان رہی ہے۔ میرا بنگالی دوست آکر میرے پاس بیٹھتا ہے اس کے ہاتھ میں مغربی پاکستان سے شائع ہونے والا سرکاری اخبار پاکستان ٹائمز ہے۔ وہ اس کا اداریہ میرے

Read more

ایک قاصد … بھائی کی طرف بھی!!

’’پی ٹی آئی اور نون لیگ انتشار چاہتی ہیں۔‘‘ یکم جولائی 2018ء ’’زرداری اور نیازی اکٹھے ہوگئے۔ عوام کسی بھول میں نہ رہیں۔ نیب میں حاضریاں صرف نون لیگ کی اور زرداری پاک صاف۔‘‘ 5 جولائی 2018ء ’’پی پی پی، پی ٹی آئی اور نیب مل کر ہمارے خلاف سازشیں کر رہی ہیں۔ ہم گھبرانے والے نہیں۔‘‘ 8 جولائی 2018ء ’’تیر اور بلے کو شکست دے کر نوازشریف اور مریم کو آزادکرائیں گے۔‘‘ 19 جولائی 2018ء یہ ان بے شمار

Read more

وحشی بابے یہ طاعون زدہ چوہے

یہ واقعہ کسی جنگل میں پیش آیا نہ کسی وحشی قبیلے کے ہاں۔ یہ کسی دور افتادہ، گائوں میں بھی نہیں ہوا۔ فاٹا کے کسی دور دراز گوشے میں نہ دیامیر اور چلاس کے پہاڑوں میں نہ چترال کی وادی بمبریٹ میں۔ انٹرنیٹ پر جائیے۔ پوچھئے ٹیکسلا اور اسلام آباد کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ کمپیوٹر جواب دے گا ساڑھے چونتیس کلومیٹر، گاڑی پر کتنا وقت لگے گا؟ انٹرنیٹ یہ بھی بتائے گا، انچاس منٹ۔ یہ وہی ٹیکسلا ہے جو

Read more

شریعت خس و خار ہی کی چلے گی!!

جو قریوں اور بستیوں میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے وہ جانتے ہیں کہ گائوں میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کے لیے کوئی میونسپل کمیٹی ہوتی ہے نہ خاکروب۔ صدیوں سے پریکٹس چلی آ رہی ہے کہ عورتیں گھروں کا کوڑا کرکٹ اٹھا کر، گائوں سے ذرا باہر، کھیت میں ڈالتی جاتی ہیں۔ اس کوڑے میں جانوروں کا گوبر بھی شامل ہوتا ہے۔ ہوتے ہوتے یہ کوڑا ڈھیر کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اب کالے رنگ کے بھینس کی

Read more

اگر سنگ میل ہی راستے کا پتھر بن جائے تو؟؟

مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ ایک بار بیمار پڑے تو بہت سے لوگ عیادت کو آئے۔ ان میں ایک صاحب ایسے بھی تھے جنہوں نے یہ مشورہ نہیں دیا کہ فلاں ڈاکٹر کو ضرور دکھائیے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم دوسروں کے معاملات میں کس فراخ دلی سے دخل انداز ہوتے ہیں؟ بچے کوفلاں اسکول میں داخل کرائیے۔مکان فلاں آبادی میں تعمیر کیجئے۔ نقشہ فلاں معمار سے بنوائیے۔ اور اس طرح بنوائیے بیماری کے

Read more

کامیابی کی کنجی جوش نہیں ہوش ہے

سالہا سال سے بیساکھیوں پر چلنے والے سے اچانک بیساکھی لے لی جائے توگر پڑے گا۔ اسے بتدریج‘ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا۔ پاکستانی معیشت برسوں سے نہیں‘ عشروں سے بیساکھیوں پر کھڑی تھی۔ بیرونی قرضوں کی بیساکھیاں‘ اندرونی قرضے‘ اسحاق ڈار صاحب نے قومی بچت کے ادارے تک کو نچوڑ کر رکھ دیا۔ بیوائوں اور بوڑھوں کے لیے منافع کی شرح کم کرتے گئے۔ یہاں تک کہ پہلے سے تقریباً نصف رہ گئی۔ اقربا پروری کی بیساکھیاں‘ دوست

Read more

زلف عنبربار سے کژدم بکھیر اژدر نکال

’’ختم نبوت‘ ناموس رسالت پر کوئی سودے بازی نہیں کی جا سکتی اور دینی مدارس امتیازی سلوک برداشت نہیں کریں گے۔‘‘ ایک مذہبی رہنما کے اس تازہ ترین بیان پر غور کیجئے۔ کیا دونوں فقروں میں کوئی باہمی تعلق ہے؟ پہلا سوال ذہن میں یہ اٹھتا ہے کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت پر کس نے سودا بازی کی ہے؟ یا سودا بازی کی پیشکش کی ہے؟ نام بھی تو معلوم ہو؟ نعوذ بااللہ کیا ختم نبوت اور ناموس رسالت

Read more

خورشید ندیم: ایک خوش بیان کا تذکرہ

قاضی گل حسین صاحب کو دیکھا کبھی نہیں مگر بچپن اور لڑکپن کی وہ یادیں جنہوں نے ساری زندگی دامنِ دل نہ چھوڑا‘ قاضی صاحب کا نام ان یادوں کا ایک جزو رہا ہے۔ نہیں معلوم قاضی صاحب کی دوستی کا آغاز دادا جان کے ساتھ کب ہوا اور کیوں کر ہوا۔ اُس کچّے سن میں اتنا شعور ہی کہاں تھا کہ باتیں کرید کرید کر پوچھی جاتیں اور لکھ لی جاتیں۔ مگر دادا جان جب بھی اپنا لکھنے پڑھنے

Read more

ایجنسیاں کہاں ہیں؟ کیا واقعی بے خبر ہیں؟؟؟

گورنر ہائوس کی دیواریں گرا کر لوہے کی باڑ لگانے کا حکم سنا تو محمد تغلق یاد آ گیا۔ دارالحکومت دہلی سے ہزاروں میل دور، جنوبی ہند میں لے گیا۔ کچھ جاتے ہوئے لقمۂ اجل بنے۔ بعض کے صرف اعضا پہنچے۔ جب مقیم ہو چکے تو واپسی کا حکم صادر ہوا۔ ابراہام ایرالی نے Delhi Sultanate میں اس کی روح فرسا تفصیلات نقل کی ہیں۔ تو کیا وزیر اعظم کے ذہن میں یہ نکتہ تھا کہ یہ دیواریں انگریزی حاکمیت

Read more

اصلاحات کمیشن کا سربراہ کسی سیاستدان کو بنائیے ورنہ…

نوجوان شوکت علی یوسف زئی نے اگر ایسا کہا ہے تو غلط کہا ہے! خلاق عالم کا ایک نظام ہے۔ اس نظام میں مداخلت کی کوشش ہمیشہ ناکام ثابت ہوتی ہے۔ بڑ ہانکنا متین لوگوں کو زیب نہیں دیتا۔ اگر وہ متین ہوں تو۔ جنرل ضیاء الحق کا اقتدار پاکستان کے اطراف و اکناف پر یوں چھایا ہوا تھا جیسے سیاہ گھٹائیں برسات میں افق سے افق تک چھا جاتی ہیں۔ محسن کاکوروی نے کیا زندہ جاوید اشعار کہے ؎

Read more

مجھ پہ ہنستے تو ہیں پر دیکھنا روئیں گے رقیب

اکبر الٰہ آبادی نے شبلی نعمانی کو دعوت نامہ بھیجا تو لکھا: آتا نہیں مجھ کو قبلہ قبلی بس صاف کہوں کہ بھائی شبلی تکلیف اٹھائو آج کی رات کھانا یہیں پکائو آج کی رات حاضر ہے جو کچھ دال دلیہ سمجھو اس کو پلائو قلیہ اکبر کو قبلہ قبلی نہیں آتا تھا، ہمیں یہ سو دن کا حساب سمجھ میں نہیں آتا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے سو دن کی جو اڑائی تھی، اسی وقت باخبر لوگوں کو معلوم

Read more

قیصر کا حصہ قیصر کو اور پوپ کا پوپ کو

جناب احسن اقبال نے کرتارپور کوریڈور اقدام کو سراہا۔ یہ حمایت سیاسی پختگی کی علامت ہے۔ لگتا ہے اہل سیاست زیادہ بالغ نظر ہو رہے ہیں۔ ذہنی سطح بلند ہو رہی ہے۔ جن ملکوں میں جمہوری سفر کئی سو سال پہلے شروع ہوا، وہ اب اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ ’’اپنے‘‘ اور ’’پرائے‘‘ کے گرداب میں پڑے بغیر سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہہ سکتے ہیں۔ پارٹیوں کے اندر ’’اصلی‘‘ انتخابات ہوتے ہیں۔ ارکان کھل کر

Read more

آٹھ لاکھ روپے کی چربی

دل دہل گیا۔ جانے کیا ایمرجنسی تھی! ابھی گائوں جانے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ میں بھی انہی بدقسمت لوگوں میں سے ہوں جو گائوں واپس جا کر بسنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں مگر شہر ایک کمبل ہے جو چھوڑتا نہیں۔ ویسے فرق ہی کیا ہے‘ ایک طرف لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد اور دوسری طرف نیویارک‘ لندن‘ سڈنی جا کر بس جانے والوں میں۔ لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد والوں کی ساری زندگی اس منصوبہ بندی میں گزر جاتی ہے

Read more

عمر کٹ جائے آنے جانے میں

یہ الوداعی نظر تھی۔ مسجد نبویؐ کے بیرونی گیٹ نمبر5سے باہر نکل رہا تھا۔ پلٹ کر دیکھا، اس سفرِ زیارت کے دوران گنبدِ خضریٰ کا یہ آخری دیدار تھا۔ زمین نے پائوں جکڑ لیے۔ کئی بار ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر اپنے پیاروں کو الوداع کیا۔ مگر یہ کیفیت ہی اور تھی۔ چلنا شروع کیا۔ دو قدم چلا، پھر پلٹ کر دیکھا۔ وہیں کھڑا ہو گیا۔ ایک ایک کرن نور کی، جو گنبد سے نکل رہی تھی، آنکھوں میں

Read more

ملے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ

نہیں! بیورو کریسی ہشت پا نہیں! یہ آکٹوپس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ آکٹو پس کو مار سکتے ہیں۔ یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ بیورو کریسی پیرِتسمہ پا ہے ؎ ہشیار! کہ پیرِ تسمہ پا ہے یہ ضُعف سے کانپتا زمانہ بیورو کریسی تحریکِ انصاف کی گردن پر سوار ہے۔ ٹانگیں گلے میں حمائل کیے۔ رہائی ہو تو کیسے۔ رہائی ہو بھی نہیں سکتی۔ تحریکِ انصاف کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ فواد چوہدری، افتخار

Read more

ایک بار پھر بُلا لیجیے!

قطار طویل تھی اور صبر آزما! ہم انچوں کے حساب سے آگے بڑھ رہے تھے سب کچھ نہ کچھ زیر لب پڑھ رہے تھے۔ کچھ حمدو ثنا‘ کچھ درود شریف، کچھ کلام پاک کی تلاوت کرتے جا رہے تھے۔ پھر بائیں طرف جالیاں دکھائی دیں۔ زردی مائل سنہری جالیاں‘ دائیں جالی پر جلی حروف میں آیت لکھی تھی۔ ’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے زیادہ بلند نہ کرو اور نہ ان کی خدمت میں حاضری کے

Read more

قافلوں کے غبار میں مٹی کا ایک ذرّہ

نور کے قافلے رواں ہیں۔ ہزاروں لاکھوں قافلے۔ چہار دانگِ عالم سے! مشرق سے اور مغرب سے۔ شمال سے اور جنوب سے! ان قافلوں کے غبار کا ایک ذرّہ یہ کالم نگار بھی ہے۔ ایک حقیر ذرہ۔ ان قافلوں کے مسافروں کے جوتوں پر پڑا ہوا ایک ذرّہ۔ مگر کیا اس سے بڑا بھی کوئی اعزاز ہے؟ چودہ صدیوں سے یہ قافلے رواں ہیں۔ بطحا کی وادی میں اور مدینہ کے شہر میں پہنچتے ہیں۔ سبز گنبد کو دیکھتے ہیں۔

Read more

چوائس ہمارا اپنا ہے!

آپ اس طبقے کی طاقت اور دیدہ دلیری کا اندازہ لگائیے ۔کھرب پتی وفاقی وزیر کو وسیع و عریض فارم حاصل کر کے بھی چین نہ آیا۔ چنانچہ انہوں نے ساتھ پڑی ہوئی سرکاری زمین پر قبضہ کر لیا۔ پریس کا کہنا ہے کہ یہ قبضہ کئی کنال پر مشتمل ہے۔ جبکہ وزیر صاحب نے صرف پانچ یا چھ کنال پر قبضے کا اعتراف کیا ہے‘ غیر قانونی باڑ بھی لگائی۔ اب وہ مضحکہ خیز منطق ملاحظہ کیجئے جو اس

Read more

تین نحوستیں جو خم ٹھونک کر سامنے کھڑی ہیں

یہ جو گائے کا معاملہ ہوا ہے اور وفاقی وزیر اعظم سواتی کا اور آئی جی کے تبادلے کا اور مارپیٹ اور تھانے کچہری کا… تو اس سے ایک بار پھر وہ تین نحوستیں، لباس اتار کر، برہنہ حالت میں، قوم کے سامنے آ گئی ہیں جو ستر برس سے کالے بادلوں کی طرح چھائی ہوئی ہیں۔ پہلی نحوست یہ ہے کہ نوکر شاہی بالعموم اور پنجاب اور وفاق میں بالخصوص،عوام کے لیے اپنا دروازہ کھولتی ہے نہ فون سنتی

Read more

چھوٹے دن اور لمبی رات

کوئی تختِ حکومت پر ہو یا تختۂ دار پر رُت کسی کا انتظار نہیں کرتی۔ وقت بے نیاز ہے۔ اسے کیا پرواہ کہ ؎ کسی سے شام ڈھلے چھِن گیا تھا پایۂ تخت کسی نے صبح ہوئی اور تخت پایا تھا جاڑے کی آمد آمد ہے۔ ناصر کاظمی نے کہا تھا ؎ پھر جاڑے کی رُت آئی چھوٹے دن اور لمبی رات کبھی خلاقِ عالم کی صناعی پر غور کرو، بچھاتا ہے سنہری دھوپ سرما میں زمیں پر کڑکتی دوپہر

Read more

بھیڑیں!کالے رنگ کی بھیڑیں!

لیڈروں کو ناکامی سے دوچار کرنے والوں کے دوسر اور تین ٹانگیں نہیں ہوتیں۔ وہ اسد عمر جیسے ہی ہوتے ہیں۔ رئوف کلاسرہ نے جو کچھ بتایا ہے اگر وہ سچ ہے تو وزیر اعظم پر لازم تھا کہ اب تک اسد عمر سے اس ’’بندہ پروری‘‘ کا سبب پوچھ چکے ہوتے ۔اگر غلط ہے تو اسد عمر کو رئوف کلاسرہ کے خلاف عدالت میں جانا چاہیے تھا۔ اور غلط کیسے ہو سکتا ہے؟ ہر شے ریکارڈ پر ہے؟ سوئٹزر

Read more

خوش خرامی یا برق رفتاری؟

لڑکا بگڑا ہوا تھا۔ برسوں کا بگڑا ہوا، کھیل کود کا عادی، پڑھائی سے متنفر، کبھی گھر سے بھاگ جاتا، کبھی مکتب سے، کبھی کسی لڑائی میں ملوث، کبھی کسی کو پیٹ کر آتا، کبھی آتا تو سر پر پٹی بندھی ہوئی۔ ماں باپ کا بخت اچھا تھا۔ استاد وہ ملا جو حکومت پر نہیں حکمت پر یقین رکھتا تھا۔ اُس نے لڑکے پر رعب جمایا نہ کوئی سزا دی۔ اصلاح کا آغاز اُس نے لڑکے سے شطرنج کی بازی

Read more

کیا اس زہر کا بھی کوئی علاج کرے گا؟

پانی جو جھیلوں‘ دریائوں اور سمندر میں تھا۔ گلی کوچوں میں آ گیا ہے۔ سیوریج کا غلیظ بدبودار پانی بھی اس میں شامل ہو گیا ہے۔ کوڑے کے ڈھیر پانی میں تحلیل ہو رہے ہیں۔ گھروں سے باہر آنے والا متعفن پانی اس میں مزید شامل ہو رہا ہے۔ہر لمحہْ ہر گھڑی! بدبو میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عفونت سنڈاس میں بدل رہی ہے۔ یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب سانس لینا محال ہو جائے گا! گندے

Read more

روشنی مقدر ہو چکی

موسموں کا الٹ پھیر مقرر کردیا گیا ہے۔ گرما رخصت ہورہا ہے۔ سب کو معلوم ہے آنے والے مہینے سرد، تند ہوائوں کے ہیں۔ جھکڑ چلیں گے۔ درختوں کے پتے گریں گے۔ زرد خشک پتے! زرد خشک پتوں کے ڈھیروں پر چلنے سے کھڑکھڑانے کی آوازیں آئیں گی۔ پھول نہیں کھلیں گے۔ یہ وہ موسم ہیں جب برفانی وسط ایشیا کے باشندے چرم کے موزے پہنتے ہیں اور گھٹنوں کو چھونے والے لمبے جوتے۔ مگر خزاں ہمیشہ نہیں رہتی۔ خلاق

Read more

جیسی حکومت ویسے عوام‘ جیسے عوام ویسی حکومت

کل تیرہ اکتوبر کا واقعہ ہے۔ اسلام آباد کے ایک مرکزی سیکٹر کا رہائشی علاقہ ہے۔ دونوں طرف مکان ہیں۔ درمیان میں سڑک ہے۔ صبح آٹھ بجے ایک مکان کی گھنٹی بجتی ہے۔ مکین باہر نکلتا ہے۔ پولیس کا اہلکار گیٹ پر کھڑا ہے۔ ’’یہ گاڑیاں ہٹائیے! رُوٹ لگنے لگا ہے۔‘‘ گاڑیاں سڑک پر کھڑی تھیں نہ فٹ پاتھ پر! فٹ پاتھ اور مکان کے درمیان‘ خالی جگہ تھی جو مکان کا حصہ تھی۔ گاڑیاں وہاں پارک تھیں۔ ’’گاڑیاں سڑک

Read more

شاہ خرچ شہزادہ، بادشاہ اور ٹرمپ

شہزادہ امریکہ میں سفیر مقرر ہوا تو سفارت کاری کی تاریخ میں تو کوئی معجزہ برپا نہ ہوا مگر خریداری کی دنیا میں انقلاب ضرور آ گیا۔
اٹھائیس برس کا نوجوان جو پائلٹ تھا امریکہ جیسے ملک میں سفیر مقرر ہوا۔ یہ وہ ملک ہے جس میں سفارت کاری کے لیے ان افراد کو تعینات کیا جاتا ہے جن کے سر کے بال اڑ چکے ہوتے ہیں۔ بھویں تک، سفارت کاری کے شعبے میں کام کرکے سفید ہو چکی ہوتی ہیں۔ جن کے بیسیوں سفیروں سے ذاتی تعلقات ہوتے ہیں، مگر آہ! اگر کوئی حکمران اعلیٰ کا بیٹا ہو تو پھر سارے معیار منسوخ ہو جاتے ہیں۔
شہزادے نے آتے ہی ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا محل خریدا جو واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں واقع ہے۔ اسی لاکھ ڈالر اس کے علاوہ خرچ کیے ۔ سفر کے لیے وہ 767 لگژری جیٹ استعمال کرتا ہے۔ والد گرامی کے اثاثوں کی قیمت سترہ ارب ڈالر ہے۔ شہزادے نے ایک سفر میں پانچ سو چھ ٹن سامان ساتھ رکھا۔ اس سامان میں دو مرسڈیز کاریں اور برقی سیڑھیوں کے دو سیٹ بھی شامل تھے۔

ہمارے مقدس ترین شہر کے ہوائی اڈے پر مسافر قطار میں کھڑے تھے۔ اپنے اپنے پاسپورٹ دکھا کر بورڈنگ کارڈ لے رہے تھے۔ ایک شخص دمکتی عبا پہن کر آتا ہے اور سیدھا کاؤنٹر پر جا کر سب سے پہلے بورڈنگ کارڈ لیتا ہے۔ ایک مسافر احتجاج کرتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ عبا والا فلاں خاندان سے ہے۔ خاموش ہو جاؤ ورنہ پانچ منٹ میں ایسی جگہ پہنچا دیے جاؤ گے جہاں کسی کوسراغ تک نہیں ملے گا۔

Read more

ایک فیشن سٹار کا آخری پیغام

کیوبا سے سبھی واقف ہیں۔ امریکی ریاست فلوریڈا کے جنوب میں واقع ملک، کیوبا، کیریبین جزائر کا حصہ ہے۔ یہاں اور ممالک بھی ہیں جو نسبتاً کم معروف ہیں۔ انہی میں ایک ملک ڈومینیکن ری پبلک ہے۔ ہسپانوی زبان بولنے والا یہ ملک کبھی ہسپانیہ کے قبضے میں رہا، کبھی اپنے پڑوسی ملک ہیٹی کے اور کبھی امریکہ کے! کیرزادہ روڈ۔ ری گوئز 1978ء میں یہیں پیدا ہوئی۔ پہلے ملازمت کرتی رہی۔ اس ملازمت کے دوران اس نے انٹرنیٹ پر

Read more

خوشیاں مناو اے اہل پاکستان!

شکیب جلالی نے کہا تھا: یہاں سے بار ہا گزرا مگر خبر نہ ہوئی کہ زیر سنگ خنک پانیوں کا چشمہ تھا کیا معلوم تھا کہ بہشت صرف چند فرسنگ کے فاصلے پر ہے اے اہل پاکستان! تمھارے درد کے دن ختم ہونے کو ہیں، یہ جو تم اپنے بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں، بیٹیوں کے فراق میں تڑپتے رہتے ہو، یہ جو تم ہفتے میں کئی بار اسکائپ پر اور وٹس ایپ پر اور فیس ٹائم پر اور میسنجر پر سمندر

Read more

جب باغ چھپروں پر گر پڑتا ہے!

اور اُن دو شخصوں کی مثال! ان میں سے ایک کے دو تاکستان تھے‘ انگوروں سے بھرے ہوئے۔ اردگرد کھجوروں کی باڑ! اور درمیان میں کھیتی! دونوں چمنستان بھر پور پھل دیتے ذرا سی کسر بھی نہیں چھوڑتے تھے۔ یہی نہیں! درمیان میں نہر بھی رواں تھی! پھل اُترا اور خوب اُترا! پھر اس نے دوسرے شخص کو جتایا کہ میرے پاس مال و متاع بھی خوب ہے اور افرادی قوت بھی! پھر وہ اپنے چمنستان میں اٹھلاتا ہوا داخل

Read more

ملازم ہیں ہم خاندانی یہاں

نوجوان آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھا رہا تھا۔ فلمیں یاد آ گئیں جن میں سلطان راہی یا مصطفی قریشی اسی انداز میں چلتے تھے۔ آہستہ آہستہ، گردن اوپر کر کے! صرف بازو آگے پیچھے، متکبرانہ انداز میں ہلانے کی کسر باقی تھی۔ آج لکھنا تو اُس زبردست ’’کامیابی‘‘ پر تھا جو عالمِ اسلام کے مقدس ترین ملک کو حال ہی میں نصیب ہوئی ہے مگر صبح صبح ٹیلی ویژن دیکھ کر یہ نیا سیاپا آڑے آ گیا! سو، سوچا کے

Read more

پنجاب کو سنبھالیے اس سے پہلے کہ چڑیاں چُگ جائیں کھیت

ریلوے کے وزیر نے اعلان کیا ہے کہ سی پیک معاہدے کے تحت‘ ریلوے منصوبوں کے حجم میں دو ارب ڈالر کی کمی کر دی گئی ہے۔ اب یہ حجم آٹھ ارب سے کم ہو کر چھ ارب رہ گیا ہے۔ اسے چار ارب تک لانے کا پروگرام ہیْ وجہ یہ ہے کہ بقول وزیر ریلوے قرضوں کی بڑھتی ہوئی شرح نقصان دہ ثابت ہو گی! تحریک انصاف کی حکومت جس طرح کچھ دیگر معاملات میں مذبذبین بین ذالک لا

Read more

کچھ سیاست سے ہٹ کر

دادی عالمِ اضطراب میں کبھی اِدھر جاتی کبھی اُدھر! بیرون ملک سے تعطیل پر آئے ہوئے چھ سالہ پوتے کے لیے دادا نے ٹیوٹر لگوا دیا تھا کہ اردو پڑھنے لکھنے کی کچھ مشق ہو جائے۔ ابھی بیس پچیس منٹ مشکل سے ہوئے تھے۔ بچے کا والد بھی وہیں بچے کے پاس بیٹھا تھا۔ مگر دادی کا خیال تھا کہ پوتا تھک گیا ہو گا۔ دادی جان کی خدمت میں عرض کیا کہ بچہ آرے سے پیڑ تو نہیں کاٹ

Read more

ماں، ہنڈیا اور بچہ

کوئی تو ہے جو عمران خان کی پالیسیوں کو دانستہ یا نادانستہ، ناکام کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ایئرپورٹ پر، ٹریفک کے محکمے میں، وزارت تعلیم میں، وزارت خزانہ میں، ہر جگہ کوئی نہ کوئی قینچی پکڑ کر پالیسی کی دستاویز کو کاٹ رہا ہے۔ کاٹے جا رہا ہے۔ وزیراعظم علم غیب رکھتا ہے نہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ اس کے وزیر اور مشیر اس حقیقت سے بے خبر لگتے ہیں کہ ان کے نیچے کون کیا کررہا

Read more

عمران خان کے تِلوں میں تیل ہے بھی یا نہیں؟

ہر آنے والا دن سوالیہ نشان بن کر طلوع ہو رہا ہے! عمران خان نے لوگوں کو ایک راستہ دکھایا ایک زینے پر چڑھایا۔ کچھ وعدے کیے، کچھ امیدیں بندھوائیں مگر ہر آنے والا دن سوچنے والوں کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب عوام پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ آپ نے انہیں صبح کے تارے کا وعدہ کیا۔ اب آپ انہیں بادلوں میں الجھانا چاہتے ہیں۔ نہیں! آپ انہیں تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ تنگ

Read more

سیاست کی دنیا کا جُوسف

کیا وجیہہ شخصیت عطا کی تھی قدرت نے! طویل قامت! بارعب چہرہ! مگر افسوس! بولتا تھا تو احساس ہوتا تھا کہ نہ ہی بولتا تو بھرم قائم رہتا! قدرت کے بھی نرالے کھیل ہیں ! کسی کو شخصیت ایسی دیتا ہے کہ بے بضاعت!موجود ہو تو موجودگی کا احساس ہی نہ ہو۔ نہ ہو تو کوئی کمی نہ نظر آئے! مگر بولے تو لوگ ہمہ تن گوش ہو جائیں۔ حیرت سے دہانے کُھل جائیں۔ لفظ سراپا تاثیر بن کر سینے

Read more

جب لاد چلے گا بنجارا

مکان بنتے دیکھا۔ کل میں نے بھی بنانا ہوگا۔ خوب دلچسپی لی۔ ایک ایک بات پوچھی۔ نقشہ کہاں سے بنوایا؟ ٹھیکہ کسے دیا؟ کمروں کا سائز کیا ہے؟ غسل خانے پر کیا خرچ آیا؟ ٹائلیں لگوائیں یا فرش ماربل کا رکھا؟ سیوریج کے پائپ کون سے برانڈ کے بہترین ہیں؟ نقشہ پاس کیسے ہوگا؟ فلاں راج کی شہرت کیسی ہے؟ ایک ایک تفصیل، سوئچ تک، کنڈی تالوں تک کی۔ شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ مجھے بھی بیٹے کی شادی

Read more

ڈی ایم جی کا بیل اور عمران خان

نہیں! ہرگز نہیں! عمران خان صاحب اگر اُن پامال شدہ راستوں پر چلتے رہے جن پر اُن کے پیشرو چلے اور ناکام ہوئے تو عمران خان بھی ناکام ہوں گے کیونکہ اللہ کی سنت یہی ہے۔ وہ جو سعدی نے کہا تھا، سوچ سمجھ کر کہا تھا     ؎ ترسم نہ رسی بکعبہ اے اعرابی کیں رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است ابے او بَدُّو! رُخ تیرا ترکستان کی طرف ہے۔کعبہ کیسے پہنچے گا! نواز شریف نے ایک

Read more

زمیں گردش میں ہے‘ اس پر مکاں رہتا نہیں ہے

بچہ جو ماں کی گود میں پڑا سسک رہا تھا۔ سات آٹھ سال کا لگ رہا تھا مگر تھا پندرہ سولہ سال کا۔ اس کے جسم نے نشوونما نہیں قبول کی تھی۔ اس کا ڈائیلیسز ہورہا تھا۔ یعنی گردے کام نہیں کر رہے تھے اور خون کی صفائی کا کام جو گردے کرتے ہیں‘ مشین کے ذریعے ہورہا تھا۔ ایک اور بیڈ پر ایک خاتون کا ڈائیلیسز ہورہا تھا۔ ایک مریض سے پوچھا کہ کتنے عرصہ سے ڈائیلیسز پر ہے۔

Read more

قادیانی مسئلہ اور عاطف میاں

ای جی براؤن 1862ء میں انگلستان میں پیدا ہوا۔ باپ انجینئر تھا۔ براؤن کو ترکی اور ترکی کے باشندوں میں دلچسپی تھی اس لیے اس نے مشرقی زبانیں پڑھنا شروع کر دیں۔ 1882ء میں اس نے قسطنطنیہ کا سفر کیا۔ پھر اس کی توجہ ایران اور فارسی کی طرف ہو گئی۔ 1893ء میں اس نے اپنی مشہور کتاب“ایک برس ایرانیوں کے ساتھ“ شائع کی۔ پھر وہ فارسی ادب میں غرق ہو گیا۔ عمرِ عزیز کے بائیس برس لگا کر اس

Read more

راجہ ظفر الحق صاحب کے نام کُھلا خط

رومی نے ہزار افسوس کے ساتھ بتایا تھا کہ شیخ ہاتھ میں چراغ لیے سارے شہر میں گھوما کہ میں شیطانوں اور عفریتوں سے دل برداشتہ ہو گیا ہوں اور اب مجھے کسی انسان کی آرزو ہے! ایک ہاتھ میں کیا‘ دونوں ہتھیلیوں پر چراغ رکھ کر پوری نون لیگ میں گھوم چکے سوائے آپ کے کوئی رجل رشید نہیں نظر آ رہا جس سے گلہ کریں‘ جس کا دامن پکڑ کر کھینچیں‘ جس سے فریاد کریں! آپ کا نام

Read more

سماجی شعور بازار میں دستیاب نہیں

دارالحکومت میں دو روز پیشتر بھیڑ بکریوں اور گایوں بھینسوں کا ایک انبوہ دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اس قوم کو قائد اعظم ٹھیک کر سکے نہ عمران خان کر سکتا ہے۔ مہاتیر آ جائے تب بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ چرچل سے لے کر ڈیگال تک اور اتاترک سے لے کر لی کوان یوتک سب قبروں سے اٹھ کر آ جائیں تب بھی بھیڑ بکریوں گایوں بھینسوں کا یہ ریوڑ انسانوں میں نہیں بدل سکتا!

Read more

حفیظ جالندھری کی ایک نایاب نظم

26 اگست کے کالم میں بچوں کے لیے لکھی گئی شاعری کا تذکرہ ہوا۔ لاتعداد ای میلز موصول ہوئیں۔ ایک تو یہ پوچھا گیا کہ صوفی تبسم نے ٹوٹ بٹوٹ کے عنوان سے جو کتاب لکھی وہ کہاں سے ملے گی۔ دوسری فرمائش جو کثیر تعداد میں اندرون ملک اور بیرون ملک سے کی گئی یہ تھی کہ حفیظ جالندھری کی شہرہ آفاق نظم ”تُڑم تم تُڑم“ انہیں بھیجی جائے۔ ”ٹوٹ بٹوٹ“ کافی عرصہ آؤٹ آف پرنٹ رہی۔ خوش قسمتی

Read more

جناب وزیراعظم! آپ کس دھندے میں پڑ گئے

آٹھ گھنٹے کی بریفنگ! جی ایچ کیو کے افسروں سے آٹھ گھنٹے معاملات و مسائل کی تفصیل سننا۔ نوٹس لینا۔ سوالات کرنا۔ بحث کرنا۔ آٹھ گھنٹے! چار سو اسی منٹ! یہ عمران خان نے کیا کاروبار شروع کردیا ہے۔ آنے والے وزرائے اعظم کے لیے اتنا مشکل معیار چھوڑ کر گیا تو کیا ہوگا؟ کیا اب وزرائے اعظم کو محنت کرنا پڑے گی! بھائی لوگو! یہ منصب وزیراعظم کا اس لیے نہیں تھا کہ محنت مشقت کی جائے یہ تو

Read more

ہم وزیر اعظم کے خیر خواہ ہیں

اس واقعے کو معمہ بنانے کی آخر کیا ضرورت ہے! اگر یہ معمہ ہے تو اسے حل کرنے کے لیے کسی شرلک ہومز کو قبر سے اٹھ کر آنے کی ضرورت ہے نہ کسی راکٹ سائنس کی۔ ایک کنجی ہے اس کنجی کو دروازے پر لگائیے۔ معمہ حل ہو جائے گا۔ مگر اس کنجی سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترجمان بھی ڈر رہے ہیں اور سزا سنانے والے پولیس کے اعلیٰ حکام بھی!! ہر مسئلے کا ایک حل ہوتا ہے۔

Read more

چمن تک آ گئی دیوار زنداں! ہم نہ کہتے تھے؟

ایک معروف اینکر نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ’’فوری طور پر میڈیا کے احتساب کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو میدان صحافت میں موجود کالی بھیڑوں کے چہروں سے نقاب اٹھا دے۔ یہ کمیشن آغاز ہم اینکروں سے کرے ۔ پہلی فرصت میں میرا معاملہ اس کمیشن کے سپرد کیا جائے۔ یہ کمیشن میرا اور میرے تمام خاندان کے تمام افراد کے اکائونٹس اور اثاثوں کی تحقیقات کرے بلکہ

Read more

چارہ تو بکریوں کو بھی مل جاتا ہے

بازار کا نام یاد نہیں، مگر کوئٹہ میں ایک چھوٹی سی دکان تھی جہاں سے صوفی تبسم کی کتاب ”ٹوٹ بٹوٹ“ ہاتھ آئی۔ ان دنوں بچے چھوٹے تھے اور بچوں کا باپ جوان! جہالت اور کم فہمی کے باوجود ایک بات معلوم تھی اور اچھی طرح معلوم تھی کہ جو ماحول آگے نظر آ رہا ہے اس میں بچوں کو وہ کتابیں پڑھنے کو نہیں ملیں گی جو انہیں پڑھنی چاہئیں۔ انہیں سانتا کلاز کا تو بتایا جائے گا، اپنے

Read more

ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

اس رہائش گاہ میں چار کمرے تھے۔ ایک معزول بادشاہ کے استعمال میں تھا۔ دوسرا شہزادے اور اس کی بیگم کے لیے مخصوص کیا گیا۔ تیسرا ملکہ کے لیے تھا اور چوتھے میں چھوٹا شہزادہ اپنی ماں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ بالائی منزل پر ایک برآمدہ تھا۔ یہاں معزول بادشاہ اور اس کے دونوں بیٹے بیٹھ جاتے اور سمندر سے آنے والی ہوا سے لطف اندوز ہوتے۔ کبھی جہازوں کو آتا جاتا دیکھتے۔ دن کو دو سنتری پہرے پر

Read more

ڈاکٹر عشرت حسین ؟ نہیں وزیر اعظم عمران خان! نہیں!

کیا ڈاکٹر عشرت بیورو کریسی میں اصلاحات لا سکیں گے؟ کیا وہ اس کے اہل ہیں؟ تین عوامل ایسے ہیں جو انہیں ایک مخصوص دائرہ فکر سے نکلنے نہیں دیں گے یہ ان کی شخصیت کا حصہ بن چکے ہیں ۔اول وہ سول سروس کے ’’مشہور‘‘ زمانہ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ(ڈی ایم جی) سے ہیں اور اس بیچ سے ہیں جو کچھ زیادہ ہی مشہور ہوا۔ یعنی 1964ء بیچ ‘سابق صدر فاروق لغاری بھی اسی بیچ سے تھے ان کے نزدیک

Read more

سیاست میں انسانیت ڈھونڈنے کا ہنر

اکتا جاتے ہیں۔سیاست کے موضوع پر کالم پڑھ پڑھ کر؛ پڑھنے والوں کی ناک میں دم آ جاتا ہے۔ مان لیا، سیاسی موضوعات پر سب اپنے اپنے اسلوب سے لکھتے ہیں۔ کچھ کے اسالیب بہت مقبول ہیں مگر موضوع تو وہی رہتے ہیں۔ وہی عمران خان، وہی زرداری، وہ انگلی لہراتی ہوئی، وہی ہیٹ، وہی شہزادی، وہی اس کا بے وقعت میاں جس نے شناخت سسرال میں گم کردی۔ فنا فی السسرال ہو گیا۔ تاریخ میں نام اور مقام بنا

Read more

لُوٹا ہوا پِزا اور سوئمبر

جو اپنے خریدے گئے پزا کی حفاظت نہ کرسکا، وہ ملک کی حفاظت خاک کرے گا؟ اول تو عمران خان کو ایسی حرکت کرنا نہیں چاہیے تھی۔ خدا کے بندے! تم ایک بڑی پارٹی کے سربراہ ہو۔ تبدیلی کا نعرہ لگا رہے ہو۔ عوام نے تم پر اعتماد کیا ہے۔ ووٹ ڈالے ہیں۔ تم متوقع وزیراعظم ہو۔ دنیا بھر کی نظریں تم پر ہیں۔ ایک ایک نقل و حرکت کا جائزہ لیا جارہا ہے اور حالت تمہاری یہ ہے کہ

Read more

ایک ایک رمق۔ ایک ایک قطمیر کا علم سب کو ہے

نہیں! ایسانہیں! سب کچھ متکبر انسانوں کے اختیار میں نہیں! ایسا ہوتا تو کارخانہ عالم چل سکتا نہ جزا اور سزا کی ضرورت پیش آتی! مدت ہوئی بزرگوں سے سنا تھا کہ دیانت داروں کی نیک نامی فضائوں میں خوشبو کی طرح بکھیر دی جاتی ہے۔ کیا عجب اس پر فرشتے مامور ہوں! بدنیت ‘ مفاد پرست اور زر پوش لاکھ پردے تانیں‘بری شہرت کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیتی ہے۔ قدرت کا اپنا نظام ہے۔ نیکی چھپتی ہے

Read more

ہرن اور جنگلی درندے

دارالحکومت میں ایک چڑیا گھر ہے جسے مرغزار کہتے ہیں۔ اس چڑیا گھر کے کچھ بچے بھی ہیں، یعنی چھوٹے چھوٹے چڑیا گھر! جو شہر کی مختلف شاہراہوں کے کنارے، گرین ایریاز میں واقع ہیں۔ کسی میں پرندے ہیں، کسی میں دلکش مور اور کہیں خوبصورت معصوم ہرن۔ ان چھوٹے چڑیا گھروں میں سے ایک پر دو روز پہلے کسی جنگلی جانور نے شب خون مارا۔ پانچ ہرن ہلاک کردیئے اور چھٹے کو شدید زخمی۔ اہلکاروں کا خیال ہے کہ

Read more

نیلے پانیوں کا رخ کرے نہ کوئی بھی

کئی سال کے بعد رشید نے وطن کا پھیرا لگایا۔ آٹھ سالہ بچی ہمراہ تھی۔ بیگم نے دیکھا تو بے ساختہ کہا‘ بالکل اپنی ماں کی کاپی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد میرا بھائی آیا۔ بچی کو دیکھا اور فتویٰ دیا کہ ہو بہو اپنی دادی کی شکل ہے۔ شام کو ہمارا بیٹا دفتر سے واپس آیا کہنے لگا حمید انکل پر گئی ہے۔ اب ہماری بہو کی باری تھی اس کا خیال تھا کہ بچی میں باپ کی جھلک

Read more

یہاں تک کہ دجّال ظاہر ہو

شاعر کا نام یاد نہیں! شعر کا مفہوم یہ تھا کہ تیس برس کے زہد و ریاضت کو ایک نوخیز حسینہ کا حُسن بہا کر لے گیا۔ اعتزاز احسن پیپلز پارٹی میں(غالباً) سب سے زیادہ پڑھے لکھے سیاست دان ہیں۔ مقابلے کے امتحان میں، ملک بھر میں اوّل آئے ملازمت کرنے سے انکار کر دیا۔ وکالت شروع کی پھر وہ وقت بھی آیا کہ ملک کے گراں ترین وکیلوں میں شمار ہونے لگے۔ سیاست دان بنے۔ پیپلزپارٹی کے رکن ہوئے

Read more

تین کام جو عمران خان کو پہلے ہفتے میں کر دینے چاہئیں

معاشی گڑھے سے نکلنے کے لیے تو خیر عمران خان کو کچھ طویل المیعاد منصوبوں پر کام کرنا پڑے گا۔ جن میں سے تین اہم ہیں۔ اول: ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ، دوم: درآمدات کے بل میں کمی اور سوم: جن افراد نے گزشتہ عشروں میں قرضے معاف کرائے، (سابق سپیکر فہمیدہ مرزا جیسے با اثر سیاستدان بھی ان میں شامل ہیں) ان سے ان بھاری رقوم کی واپسی۔ مگر تین کام ایسے ہیں جو عمران خان کو

Read more

ابھی کہیں کہیں ہڈیوں پر گوشت باقی ہے

وفاقی حکومت کے سرکاری مکانوں کے محکمے نے عالم بے بدل، فاضل اجل، صدر مملکت جناب ممنون حسین کی خدمت میں ایک خط پیش کیا ہے۔ اس سرکاری کاغذ پر ان کے نام باتھ آئی لینڈ کراچی کا ایک مکان الاٹ کیا گیا ہے جس میں مکرم ومحترم ریٹائرمنٹ کے بعد بود و باش اختیار کریں گے۔ چونکہ ’’قانون کی رو سے صدر مملکت کو عہدے سے سبکدوش یا ریٹائر ہونے کے بعد یہ استحقاق حاصل ہے کہ انہیں سرکاری

Read more

استحصال اس مذہبی بلیک میلنگ کے لیے نرم ترین لفظ ہے

’’آپ نے علی ؓ کو نہیں دیکھا۔ دو بیٹے علیؓ کے آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں بھی علیؓ کا بیٹا ہوں…بھی علیؓ کا بیٹا ہے۔ ہمیں دیکھ لیا‘ آپ نے تو سمجھو علی کو دیکھ لیا۔ ہمارا ساتھ دو گے؟ ہاتھ اٹھاکے۔ ہمارا ساتھ دو گے؟ دیکھو میں علیؓ کا بیٹا ہوں۔ یہ علیؓ کا بیٹا ہے۔ یہ میرے بچے ہیں۔ آپ کے بھائی ہیں۔ ہمارا ساتھ دو گے؟ چھوٹا بڑا ووٹ دو گے؟ … پر مہر لگائو

Read more

مائی لارڈ! چیف جسٹس! انہیں زندان میں ڈالیے

سپتال جا کر ڈاکٹر کا پوچھتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ وارڈ میں ہیں۔ اور وہ وارڈ میں نہیں ہوتے۔ کسی دفتر میں متعلقہ اہلکار کا پوچھتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ نماز کے لیے گیا ہے یا کھانے کا وقفہ ہے۔ نماز اور کھانے کا یہ وقفہ کئی گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے۔ کسی ترقیاتی ادارے، بجلی، گیس یا ٹیلی فون کے دفتر جا کر متعلقہ انجینئر سے ملنا ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ سائٹ پر

Read more

حفظِ مراتب! نوجوانو! حفظِ مراتب

بہت دور، اوپر، بادلوں سے بہت پرے، ستاروں اور کہکشائوں کے اس طرف، لوح تقدیر پر لکھا جا چکا ہے کہ حکومت بدلی تب بھی کردار وہی رہیں گے۔ عمران خان وزیراعظم بنے یا کوئی اور، ہم غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہیں گے اور جو حکومتوں کی طرف داری کرتے رہے ہیں، ایک حکومت کی نہیں، ہر حکومت کی! وہ عمران خان کی حکومت کی بھی چوبداری کریں گے۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا ؎ جب حریت فکر کا

Read more

میاں نواز شریف سول بالادستی کی جنگ کیوں نہیں جیت سکتے

چلیے مان لیا آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ نادیدہ قوتوں نے دفاع اور خارجہ کے امور میں آپ کو آزادی نہیں دی تھی۔ مان لیا مداخلت ہوتی تھی۔ مان لیا کہ غیر ملکی سفیر اور امریکی افواج کے بڑے بڑے کمانڈر جی ایچ کیو میں آتے تھے۔ مگر جب آپ وزارت عظمیٰ کے تختِ طائوس پر بیٹھے تو آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ ایسا ہی ہوتا آیا ہے! آپ کے سامنے دو راستے

Read more

ہم بدبختوں کی قسمت میں الیکشن کے دن سونا ہی ہے

ہمایوں اختر خان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں۔ آپ نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی اور پارٹی کے منشور اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ بھر پور طریقے سے پارٹی کی انتخابی مہم چلانے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ملک کے مستقبل کیلئے موثر ترین جدوجہد کی ہے۔ عمران خان نے ہمایوں اختر کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت سے

Read more

میری مجوزہ ہائوسنگ سوسائٹی… پہلے آئیے،پہلے پائیے

سنا ہے دارالحکومت میں روات سے لے کر گوجر خان تک، شاہراہ کے اردگرد زمینیں خریدی جا چکی ہیں۔ آبادی کا دبائو بے تحاشا بڑھ رہا ہے۔ سرکاری ادارے، نیم سرکاری تنظیمیں نجی شعبہ، سب ہائوسنگ سوسائٹیاں ڈیویلپ کرنے میں لگے ہیں۔ زراعت کے لیے مخصوص رقبے رہائشی آبادیوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ جنگل کاٹے جا رہے ہیں۔ باغوں، سیر گاہوں اور پارکوں پر پراپرٹی ڈیلروں کی عقابی نظریں مرکوز ہیں۔ جھپٹتے ہیں اور پارک ختم ہو جاتے ہیں۔

Read more

عمران خان نے حکومت سازی کی ابتدا کر دی

ہم پاکستانی لاکھ کہتے رہیں کہ نواز شریف کو سول بالا دستی کے لیے کام کرنے پر سزا ملی ہے یا یہ ایک عالمی سازش ہے یا خود نواز شریف کے بقول‘ ستر سالہ تاریخ کا رخ موڑنے پر یہ سب کچھ ہوا ہے‘ عالمی میڈیا ہمارے اس موقف سے ہرگز اتفاق نہیں کرتا۔ عالمی میڈیا نے جب میاں صاحب کو دی جانے والی سزا کی خبر سنائی تو اس کی وجہ صرف اور صرف کرپشن ہی بتائی۔ نیو یارک

Read more

رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے عجز صدیوں کا

عرب بہار پاکستان میں پہنچی مگر دیر سے۔ یہ پاکستانی بہار ہے۔ مگر خدا نہ کرے(میرے منہ میں خاک) انجام مصر یا لیبیا جیسا ہو! انسان کچھ نہیں سیکھتا اس لیے ’’لفی خسر‘‘ کہا گیا۔ سیکھنا کیا ہے ایک صاحب اپنے سسر کے پاس بیٹھے تھے کسی نے پوچھا کہاں ہیں جواب دیا ان الانسان لفی خسر۔ کہ خسر کی خدمت میں حاضر ہیں! تاریخ سے انسان نے کیا سیکھا؟ کچھ نہیں! ذوالفقار علی بھٹو جیسے پڑھے لکھے‘ صاحب مطالعہ

Read more

یہ لنگڑی‘ یک چشم‘ اونٹنیاں!!

عجیب عرب تھا۔ تینوں بیٹوں کا ایک ہی نام رکھا۔ حجر۔ مرتے وقت وصیت بھی عجیب و غریب کی کہ حجر کو وراثت ملے گی اور حجر کو وراثت نہیں ملے گی اور حجر کو وراثت ملے گی۔ یعنی تین میں سے ایک بیٹے کو عاق کر گیا۔ کیسے معلوم ہو کہ کون سے دو حجر ہیں جنہیں حصہ ملے گا اور کون سا حجر ہے جسے کچھ نہیں ملے گا۔ یہ معمہ حل کرانے وہ شہر کی طرف چل

Read more

انتخابات: ڈھول ڈھمکا، بیویوں کی قدر افزائی یا سیاسی شعور

لاہور سے شہباز شریف بلا مقابلہ منتخب!بارش سے سڑکیں ان کے حق میں بیٹھ گئیں۔ الیکشن سے عین پہلے طوفانی بارشیں شہباز شریف کے خلاف خلائی مخلوق اور محکمہ زراعت کی سازش ہے۔ یقین جانیے اگر ایسی ایک بارش پشاور میں بھی ہو گئی تو پشاور کا حال لاہور سے کئی گنا بدتر ہو گا اور کراچی کا تو کچھ نہ پوچھیے۔ ری پبلکن کے ناکام تجربے کے بعد کبھی کسی دوسرے نام سے کوششیں نہیں کی گئی۔ تمام مقتدر

Read more

ہر شخص ایک عمر سے اگلی صفوں میں ہے

یہ دارالحکومت کی معتبر ترین مارکیٹ تھی۔ میں نے اور میرے دوست نے ریستوران میں چائے پی۔ پھر میرا دوست پھل خریدنے ساتھ والی دکان میں گیا۔ میں ہمراہ تھا۔ یہاں چونکہ غیر ملکی گاہک نسبتاً زیادہ تعداد میں آتے ہیں، اس لیے قیمتوں کا حساب کتاب دیسی سے زیادہ گورا تھا۔ ایک حد سے زیادہ متشرع بزرگ کائونٹر پر تشریف فرما تھے۔ میرے دوست نے قیمت ادا کی۔ بزرگ نے باقی پیسے واپس کیے اور فوراً دوسرے گاہک کی

Read more

ہیں اہل نظر کشور پنجاب سے بیزار

سیاسی کشیدگی عروج پر ہے مگر بھلا ہو جناب شہبازشریف کا کہ تفنن طبع کا سامان مہیا کرتے رہتے ہیں۔ ایک زمانے میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو میرا نام بدل دینا۔ یہ دعویٰ ان کی تضحیک کا مستقل عنوان بن گیا۔ لوڈشیڈنگ ختم ہوئی نہ نام ہی بدل پایا۔ مگر سلام ہے ان کی مستقل مزاجی کو کہ کراچی جا کر پھر چھ ماہ والے سوئے ہوئے شیر کو جگایا۔

Read more

تیرے سب خاندان پر عاشق

’’امید کرتا ہوں چوہدری نثار پارٹی کا حصہ بن کر الیکشن لڑیں گے ہر چیز ممکن ہوتی ہے۔ بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ یہ چیز کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے وہ پارٹی کی طرف ہی سے الیکشن لڑیں۔ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگ ٹکٹ حاصل نہ کر سکے لیکن انہوں نے پارٹی پلیٹ فارم ہی سے الیکشن لڑا۔ ہماری خواہش بھی ہے کہ وہ پارٹی کے پلیٹ فارم ہی

Read more

….سعودی خواتین کی ڈرائیونگ اور تبدیلی کا سفر

24اور 25جون کی درمیانی رات بارہ بجے سعودی معاشرے میں ایک انقلاب آیا۔ بہت بڑا انقلاب۔ بہت بڑی تبدیلی، خواتین کو گاڑی ڈرائیو کرنے کی اجازت عملی طور پر مل گئی۔ کچھ پرجوش خواتین نے اُسی وقت گاڑیاں نکالیں اور شاہراہوں پر نکل گئیں۔ یہ خواتین جب دوسرے ملکوں میں قیام پذیر تھیں تو گاڑی چلانا سیکھ گئیں۔ پھر وہیں سے ڈرائیونگ لائسنس بنوا لیے۔ اُن لائسنسوں کی بنیاد پر ان کے لائسنس سعودی عرب میں بن گئے۔ دوسری عورتوں

Read more