شہزادہ امریکہ میں سفیر مقرر ہوا تو سفارت کاری کی تاریخ میں تو کوئی معجزہ برپا نہ ہوا مگر خریداری کی دنیا میں انقلاب ضرور آ گیا۔
اٹھائیس برس کا نوجوان جو پائلٹ تھا امریکہ جیسے ملک میں سفیر مقرر ہوا۔ یہ وہ ملک ہے جس میں سفارت کاری کے لیے ان افراد کو تعینات کیا جاتا ہے جن کے سر کے بال اڑ چکے ہوتے ہیں۔ بھویں تک، سفارت کاری کے شعبے میں کام کرکے سفید ہو چکی ہوتی ہیں۔ جن کے بیسیوں سفیروں سے ذاتی تعلقات ہوتے ہیں، مگر آہ! اگر کوئی حکمران اعلیٰ کا بیٹا ہو تو پھر سارے معیار منسوخ ہو جاتے ہیں۔
شہزادے نے آتے ہی ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا محل خریدا جو واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں واقع ہے۔ اسی لاکھ ڈالر اس کے علاوہ خرچ کیے ۔ سفر کے لیے وہ 767 لگژری جیٹ استعمال کرتا ہے۔ والد گرامی کے اثاثوں کی قیمت سترہ ارب ڈالر ہے۔ شہزادے نے ایک سفر میں پانچ سو چھ ٹن سامان ساتھ رکھا۔ اس سامان میں دو مرسڈیز کاریں اور برقی سیڑھیوں کے دو سیٹ بھی شامل تھے۔
ہمارے مقدس ترین شہر کے ہوائی اڈے پر مسافر قطار میں کھڑے تھے۔ اپنے اپنے پاسپورٹ دکھا کر بورڈنگ کارڈ لے رہے تھے۔ ایک شخص دمکتی عبا پہن کر آتا ہے اور سیدھا کاؤنٹر پر جا کر سب سے پہلے بورڈنگ کارڈ لیتا ہے۔ ایک مسافر احتجاج کرتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ عبا والا فلاں خاندان سے ہے۔ خاموش ہو جاؤ ورنہ پانچ منٹ میں ایسی جگہ پہنچا دیے جاؤ گے جہاں کسی کوسراغ تک نہیں ملے گا۔
Read more