دھرتی کے حقیقی سپوت یا لٹیرے کون

کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر ایک خاص حلقے کی طرف سے گاہے گاہے یہ بحث چھیڑ دی جاتی ہے کہ اس دھرتی کا اصل سپوت کون ہے اور لٹیرا کون تھا۔ آج میں تحریر نہیں لکھوں گا بلکہ کچھ سوالات کے جوابات چاہوں گا۔

بتائیں کیا ہندو راجے اور مہاراجے اپنی عیش و عشرت کا سامان جمع رکھنے کے لیے اس مٹی کے اصل وارث غریب کسانوں پہ ظلم کے پہاڑ نہیں توڑتے تھے؟

بتائیں کیا مسلم فاتحین سے پہلے برہمن راج نے ظلم اور سفاکیت سے اس خطے کے انسان کو انسان رہنے دیا تھا؟

Read more

الحاد جدید کا توڑ

ہمارے مسلم معاشروں بالخصوص یونیورسٹیز، میڈیکل کالجز اور ایلیٹ کلاس میں Under the surface تیزی سے پھیلنے والا الحاد اور تشکیک (اگناسٹکسزم) اپنی کوئی بھی علمی یا فکری بنیاد نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ سب کسی سماجی برائی، غلط معاشرتی رویے یا کسی منفی واقعہ کے ردعمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ملحد ہیں۔ ان کی کوئی بھی ٹھوس بنیادیں نہیں، ان کے تمام تر دلائل انتہائی سطحی سوچ کے حامل اور مذہبی منافرت کا عکس ہوتے ہیں۔ لہذا آج

Read more

ہم اپنے ملکوں میں ہی بیگانے کیوں؟

آج ہم اسلامسٹس اپنے ہی ملکوں اور سرزمینوں میں جہاں صدیوں سے ہم رہتے آ رہے ہیں پچھلے تین سو سال سے عموماً اور پچھلے ایک سو سال سے خصوصاً اپنے دشمنوں سے پے در پے شکستیں کھا رہے ہیں۔ اگر بالفرض کوئی فتوحات ملی بھی ہیں تو اس کے لیے قربانیاں دینے والے تو اسلام پسند تھے لیکن ثمر انگریزوں کے تیار کردہ کٹھ پتلیوں کی جھولی میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ڈال دیا گیا۔ یوں بیسویں صدی کی

Read more

سب سے پہلے کون؟

میں دیکھ رہا ہوں کہ آج کل دوبارہ سوشل میڈیا پر ایک بحث کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ”سب سے پہلے اسلام“ یا ”سب سے پہلے پاکستان“ ان میں سے محب وطن لوگوں کا کیا نعرہ ہونا چاہییے۔ تو نہ چاہتے ہوئے بھی آج مجھے اس پر ذرا کھل کر بات کرنا پڑ رہی ہے۔میرے نزدیک پاکستان کی مثال ایک ”مقدس درخت“ کی ہے۔

Read more

شکریہ کیوی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن

ہم سے ہزار کوس دور نیوزی لینڈ ایک ایسا خطہ جو ہماری دسترس سے کہیں دور رہا۔ تاریخ میں آج تک کسی بھی مسلم حکمران یا داعی نے اس طرف نہیں دیکھا، نہ ہی کبھی کوئی باقاعدہ دعوتی مشن اس طرف روانہ کیا گیا۔ 1850 ء میں جب برصغیر میں اسلامی حکومت پر زوال آیا تب ایک انڈین گجراتی مسلم فیملی نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں آ بسی۔ اس کے بعد کچھ دیگر ممالک کے مسلمان مہاجرین اس

Read more

عورت کی آزادی اور نظریاتی جنگ کے قیدی

”ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم غوری کے قلم سے فیمن ازم کا شکار بہنوں کے لئے کچھ درد بھرے جملے“

کل 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اس پر اظہار رائے کر رہا ہے۔ کچھ لوگ اس پر چٹکلے چھوڑ رہے ہیں، کچھ اس پر اپنی غیرت جتا کر پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہماری ہی مسلمان بہنوں کو لتاڑ رہے ہیں اور کچھ ”لٹھ برادر“ اس کے رد میں ”تحفظ حقوق مرداں“ کی تحریک چلانے کا اعلان کر رہے ہیں۔

لیکن ہم ہمیشہ کی طرح معاملہ فہمی سے عاری فقط جذباتی ہی واقع ہوئے ہیں۔ ہم اس بات کو سمجھ نہیں پارہے کہ جب تک کسی مرض کی جڑ تک پہنچ کر اس کا علاج نہیں کیا جاتا تب تلک ہم اس سے چھٹکارہ نہیں پا سکتے۔

Read more

”لبرل ازم ایک فیشن“

ہمارے یہاں خالص چیزوں کا فقدان اک قحط کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ چاہے وہ جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے اشیائے خوردونوش ہوں یا روحانی ضروریات پوری کرنے کے لیے عقائد و نظریات ہوں۔ ہر چیز ملاوٹ سے اک ایسی ملغوبہ شکل اختیار کر چکی ہے جو ہمارے اذہان کو کند کر کے ہماری ذہنی نشوونما کے دروازے بند کر چکی ہے۔ آج کل ہم اپنے یونیورسٹی فیلوز یا ایلیٹ کلاس کے لوگوں سے کسی Religious matter پر

Read more