میڈم نورجہاں کی زندگی پر ایک نظر: اللہ وسائی کو محض 18 برس کی عمر میں ’ملکہ ترنم‘ کا خطاب کس نے دیا؟

انڈیا اور پاکستان کی فلمی صنعت کی بہت سی شخصیات کو ان کے چاہنے والوں نے ایسے خطابات سے نوازا ہے جو ان کی شخصیت کے ساتھ مخصوص ہو گئے ہیں اور جب وہ خطاب زبان پر آتا ہے ذہن پر اس شخصیت کا نام دستک دینے لگتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم ‘پری چہرہ’ کہیں تو ذہن میں نسیم بانو کا نام ابھرتا ہے۔ ‘ملکۂ موسیقی’ کے ساتھ روشن آرا بیگم کا نام مخصوص ہے۔

‘عوامی اداکار’ کہیں تو ذہن میں علاؤالدین کا نام آتا ہے۔ ‘آہو چشم’ کا خطاب راگنی کی یاد دلاتا ہے، ‘دختر صحرا’ ریشماں کہلاتی ہیں اور ‘ملکۂ جذبات’ نیر سلطانہ، ‘شہنشاہ غزل’ مہدی حسن کو کہا جاتا ہے تو ‘چاکلیٹی ہیرو’ وحید مراد کہلاتے ہیں۔

Read more