سنگِ سیاہ: بلوغت میں داخل ہوتے نوجوانوں کے لیے خصوصی تحریر
”دیکھیں مس ضرورت تو ہے مگر بڑی کلاسز کے لیے ضرورت ہے۔ وہ بھی سائنس کے سبجیکٹس کے ٹیچرز کی۔ “
”سر میرا گریجویشن باٹنی میں ہے۔ “
” دیکھیں مس سمجھنے کی کوشش کریں۔ بڑی کلاس ہے ان کلاسوں کے بچے آپ جیسی دبلی پتلی لڑکیوں سے نہیں سنبھلتے۔ اس کے لیے ہمیں میل ٹیچرز چاہیے ہوتے ہیں۔ “
”باہر تو نہیں لکھا کہ صرف مرد اساتذہ کی ضرورت ہے۔ اور آپ کو بغیر انٹرویو کیسے پتا چل گیا کہ میں بڑی کلاس کے بچوں کو نہیں سنبھال پاوں گی۔ “
” بی بی آپ فضول میں غصہ کررہی ہیں۔ بڑی کلاس کے لیے ہمیں جس سبجیکٹ کمانڈ کی ضرورت ہوتی ہے لڑکیوں میں وہ نہیں ہوتی۔ لڑکیاں عموما چھوٹی کلاسوں کو سنبھال سکتی ہیں۔ ان میں سے بھی کوئی کلاس زیادہ شور کرے تو رو دھو کر کلاس چھوڑ کے آجاتی ہیں۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ہم روز روز یہ سب دیکھیں اس لیے بڑی کلاسز کے لیے میل ٹیچرز رکھنے پڑتے ہیں۔ چھوٹی کلاسز کے لیے بھی فی میل ٹیچرز ہم دیکھ بھال کے رکھتے ہیں کسی کو بھی کلاس میں ٹیچر بنا کے نہیں کھڑا کیا جاسکتا۔ ٹیچر کی ایک پرسنیلٹی ہوتی ہے۔ “
انیسہ نے ایک نظر بیٹھے مرد اساتذہ پہ ڈالی جس میں ہر طرح کی شکل و صورت اور حلیے کے حضرات موجود تھے۔
” اچھا تو یہ پرسنیلٹی کا معیار صرف فی میل ( خاتون) ٹیچر کے لیے ہے؟ “ انیسہ کو شدید غصہ آرہا تھا کہ اس کی صلاحیت پرکھے بغیر بار بار اسے رد کیا جارہا تھا۔
”محترمہ آپ بحث مت کیجیے ہمیں بھی اسٹوڈنٹس کے والدین کو منہ دینا ہوتا ہے میل(مرد) ٹیچرز کی جب سبجیکٹ کمانڈ ہوتی ہے تو پرسنیلٹی کوئی نہیں دیکھتا۔ جبکہ فی میل ٹیچر کی ڈریسنگ شکل و صورت ہر چیز پہ غور کیا جاتا ہے۔ آگے آپ اگر سمجھ دار ہیں تو خود سمجھ جائیں اور ہمیں کام کرنے دیں۔ “ انہوں نے گارڈ کو اشارہ کیا اور گارڈ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انیسہ تھکے تھکے قدموں سے واپس ہوگئی۔
اسکولوں کی جاب سے مایوس ہوکر اس نے دوسرے اداروں کی جابز بھی دیکھنی شروع کردیں۔ پہلے پہل تو امی نے انٹرویو میں ساتھ جانے سے صاف انکار کردیا۔ مگر اسکولوں کا حال وہ اس کے ساتھ دیکھ ہی رہی تھیں سو مجبورا ساتھ دینا پڑا۔ مگر آفسز کا ریسپونس بھی تقریبا ملتا جلتا ہی تھا۔ لڑکیوں کے لیے جابز محدود ہی تھیں یا تو پرسنل سیکریٹری یا فرنٹ ڈیسک ایڈمن یا پھر سیلز گرل جو گلی گلی جا کر پراڈکٹ بیچ سکے۔ ہر جاب کے لیے ظاہری شکل پہ پہلے زور دیا جاتا۔ گریجویٹ ہو کر بھی وہ خواتین کے لیے انٹر کی میرٹ پہ آنے والی جابز بھی دیکھنے لگی۔ اور جب وہ مایوس ہو کر جاب کی تلاش چھوڑنے ہی والی تھی تو اتفاقا وہ اس آن لائن بزنس کمپنی کے چھوٹے سے دفتر پہنچ گئی۔ ”دکان والے ڈاٹ کام“ نام کے اس ادارے کا کام مختلف پراڈکٹس کی آن لائن تشہیر اور کسٹمرز کا سیلرز سے رابطہ کروانا تھا۔ یہ فون یا فیس بک پیج پہ آرڈر بک کرتے اور آن لائن ہی سیلر تک اس کی تفصیل پہنچا دیتے۔ ادارہ نیا تھا اس لیے انہیں بڑی بڑی ڈگری یافتہ افراد سے زیادہ محنتی افراد چاہیے تھے۔ شاید اسی لیے اس کا سیلیکشن ہو گیا۔ کیونکہ اس کے ذمے آرڈرز کی انٹری کرنا تھا اور آنے والے سب امیدواروں میں سے سب سے بہتر وہی یہ کام کر کے دکھا سکی تھی۔ انہوں نے شروعاتی طور پہ اسے دس ہزار آفر کیے جو اس کے لیے کافی مناسب تھے۔
مینیجر ظفرصاحب کچھ سخت تھے۔ انہیں ذرا بھی غلطی برداشت نہیں ہوتی تھی جبکہ ان کے سپروائزر، زبیر صاحب جو کہ ایچ آر ہیڈ بھی سمجھے جاتے تھے ویسے تو مینیجر سے زیادہ پروفیشنلی کام کرنے کے عادی تھے مگر ٹیم میں سے جس کو کام میں مدد کی ضرورت ہوتی تھی وہ ہر طرح سے مدد بھی کردیتے۔ بقول ان کے جب تک ہم اپنا تجربہ انہیں نہیں سکھائیں گے تب تک ان سے سینئیرز کی طرح پروفیشنل کام کی توقع کرنا بے وقوفی ہے۔ ظفر صاحب اور زبیر صاحب سمیت زیادہ تر لوگ جوان یا نوجوان تھے۔ ان دونوں باسز نے کافی عرصے دوسری آن لائن کمپنیز پہ محنت کر کے انہیں کامیابیاں دلوائیں اور پھر انہی کو نکال کے الگ کر دیا گیا۔ دو تیں ٹھوکریں کھا کر انہوں نے اپنی کمپنی کھولی تھی جو کچھ ان کی جمع پونجی، کچھ مارکیٹ میں نیک نامی اور کچھ قرضے کی بنیاد پہ شروع ہوئی تھی۔
انیسہ کی زندگی کچھ لگی بندھی ہوگئی تھی۔ اس نے سوشیولوجی میں پرائیویٹ ماسٹرز میں ایڈمیشن لے لیا۔ اور ہمیشہ سے دل میں چھپی خواہش پہ عمل کرنے کا موقع مل گیا، اپنے لیے خود کچھ خریدنے کی خواہش۔ بہت سوچ سمجھ کر دو تین مہینے پیسے بچا کر کچھ اچھے معیار کی کاسمیٹکس خریدیں۔ چند ہلکے رنگ کے کپڑے لیے۔ پہلے دن وہ کاسمیٹکس لگا کر ہلکے کافی اور بلیک رنگ کے سوٹ میں دفتر جانے کے لیے تیار ہوئی تو اپنا آپ پہلی بار اچھا لگا۔ رنگت بہت صاف تو نہیں مگر بہت بوجھل بھی نہیں لگ رہی تھی۔ اسے امید تھی کہ لوگ نوٹ تو کریں گے۔ گھر سے باہر نکلی تو اپنا آپ کسی طرح دار ماڈل جیسا لگنے لگا۔ اسے لگا سب کی توجہ اس پہ ہوگی۔ مگر ہمیشہ کی طرح اس کی خام خیالی ہی رہی، کسی نے کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ وہی روٹین کا کام ہوا۔ ظفر صاحب سے تھوڑی سی جھاڑ پڑی۔ زبیر صاحب سے تھوڑی مدد لی۔ وہی لنچ میں ساتھی کولیگز سے ادھر ادھر کی باتیں۔ اس کے ساتھ تین ہی لڑکیاں تھیں اور سب کا حلیہ اس کی طرح سادہ ہی ہوتا تھا۔ ایک ذرا گوری تھی باقی دو کا تھوڑا سانولا رنگ تھا مگر لگتا تھا انہیں ایک دوسرے کے رنگ سے کچھ لینا دینا نہیں۔ زیادہ عجیب مردوں کا رویہ تھا ظفر صاحب اور زبیر صاحب کے علاوہ چار مرد اور تھے۔ انہیں کسی لڑکی کی اداوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا وہ سب ایک دوسرے سے بالکل ایسے بات کرتے جیسے انہیں فکر ہی نہیں کون لڑکا ہے کون لڑکی۔ بس کام سے مطلب رہتا تھا۔ ویسے اسے یہ رویہ اچھا لگتا تھا مگر آج یہی رویہ برا لگ رہا تھا۔ کوئی تو نوٹ کرتا کہ وہ پہلے سے کچھ بہتر لگ رہی ہے۔ چھٹی کا وقت آتے آتے اس کا موڈ بہت آف ہوگیا۔ اور غضب یہ ہوا کہ آرڈر کی انٹری میں کچھ گڑبڑ بھی ہوگئی اور وہ گڑبڑ ظفر صاحب کی نظر میں بھی آگئی۔ اس کی ٹیبل کا انٹر کام بجا اور ظفر صاحب کی سخت آواز کانوں میں ٹکرائی۔
”مس انیسہ ذاکر میرے کمرے میں آئیں ذرا۔ “ اور لہجہ سنتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آنے کو تیار ہوگئے
وہ کمرے میں داخل ہوئی اور ظفر صاحب کے تاثرات سے اندازہ ہوگیا کہ اس کی ٹھیک ٹھاک خاطر مدارات ہونے والی ہے۔ انہوں نے لیپ ٹاپ اس کے سامنے کر کے غلطی کی نشاندہی بھی کر دی۔
”محترمہ آپ آج کل نیند میں رہتی ہیں کیا؟ دو جگہ آپ نے پراڈکٹ کا غلط کوڈ اینٹر کیا ہے۔ کسٹمر کے پاس غلط پراڈکٹ جائے گی تو آرڈر تو کینسل ہوگا ہی ادارے کا نام الگ خراب ہوگا۔ آپ کو اندازہ ہے کہ ہم کتنی مشکلوں سے نام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب فورا جائیں آرڈر کی انٹری صحیح کریں اور سیلر کو مطلع کریں کہ پچھلی معلومات غلط تھی۔ جہاں جہاں انٹری کی کریکشن کرنی ہے ٹھنڈے دماغ سے تسلی سے کریں تب تک آپ یہیں بیٹھی ہیں۔ “
اس کا آسان مطلب یہ تھا کہ اس کی چھٹی اب کم از کم گھنٹے کے بعد ہوگی۔ اپنی ٹیبل پہ واپس آکر کام کرنے کی بجائے اس نے رونا شروع کردیا۔ ڈانٹ کا دکھ نہیں تھا اس کی تو وہ عادی ہوگئی تھی۔ اپنی قسمت پہ رونا تھا جو بدل کے ہی نہیں دے رہی تھی۔ اس کی ٹیبل زبیر صاحب کے روم کے باہر چھوٹے برآمدے میں تھی باقی تو کسی کو پتا نہیں چلا البتہ جب زبیر صاحب گھر جانے کے لیے نکلے تو انہیں خاموشی سے روتی انیسہ نظر آئی۔
”مس انیسہ سب ٹھیک ہے؟ “ زبیر صاحب کی آواز پہ ایک دم اسے اندازہ ہوا کہ وہ آفس میں بیٹھی ہے۔
”جی؟ جی سر۔ “ وہ ایک دم آنسو پونچھ کے سیدھی ہوگئی۔ مگر شاید زبیر صاحب کو اندازہ ہوگیا کہ اسے اس وقت کسی ایسے کی ضرورت ہے جو بنا پرکھے صرف اس کی بات سن سکے۔ وہ ٹیبل کے دوسری طرف رکھی کرسی پہ بیٹھ گئے۔
” مس انیسہ پانی پئیں اور مجھے بتائیں کیا مسئلہ ہے۔ ہوسکا تو میں حل کرنے میں مدد کروں گا۔ “
”سر مجھے لگ رہا تھا کہ آج میں اچھی لگ رہی ہوں۔ “
”ہاں تو؟ یہ رونے کی بات ہے؟ “
” مگر تعریف تو کسی نے نہیں کی۔ بلکہ ظفر صاحب سے ڈانٹ زیادہ پڑ گئی۔ “
زبیر صاحب ہلکے سے مسکرائے۔
”تو اچھا لگنے سے غلطیاں آٹو کریکٹ (خودبخود ٹھیک) ہوجاتی ہیں کیا؟ “
” نہیں وہ۔ “ وہ کچھ الجھ گئی۔ کہہ تو دیا تھا مگر اب اسے احساس ہوا کہ جو اس کے لیے اہم بات ہے دوسروں کے لیے احمقانہ ہوگی۔ اگر کوئی لڑکی اس کے سامنے اس لیے روئے کہ اس کی کسی نے تعریف نہیں کی تو وہ بھی مذاق ہی اڑائے گی۔
” سر پتا نہیں کیوں اللہ تعالی نے مجھے کوئی خصوصیت ہی نہیں دی۔ خاندان میں سب سے غریب ہمارا گھرانا ہے ساتھ ہی شکل بھی اچھی نہیں۔ کلاس میں بھی بس اوسط درجے کی اسٹوڈنٹ تھی۔ میں جتنے جتن کرلوں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ میں وہی عام کی عام ہی رہتی ہوں۔ “
”ہمم۔ دیکھیں انیسہ۔ ہمیشہ کوشش کرنا کافی نہیں ہوتا۔ وہ لطیفہ سنا ہے ک چار مزدور الماری زینے پہ لے جارہے تھے جب بہت دیر ہوگئی تو ایک بولا کہ اففو کیا مصیبت ہے یہ اوپر کیوں نہیں جارہی تو دوسرا بولا اچھا ہمیں اوپر جانا تھا میں تو اسے نیچے لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ “ کافی گھسا پٹا لطیفہ تھا مگر انیسہ کو ایک دم ہنسی آگئی۔
” زندگی بھی اسی لطیفے جیسی ہوتی ہے ہم زور تو لگا رہے ہوں مگر غلط سمت میں، تو کامیابی نہیں ملتی۔ “ زبیر صاحب نے بات مکمل کی۔
”تو کیا کرنا چاہیے“
”حقیقت پسند بن کے سوچیں کہ کیا کچھ آپ بدل سکتی ہیں اور کیا بدلنا آپ کے ہاتھ میں نہیں۔ “
”ہمم“ اس نے سمجھ کے سر ہلایا۔ پھر پتا نہیں کیا دماغ میں آیا تو بولی
”سر کم از کم آپ ہی تھوڑی تعریف کر دیتے اب۔ “
” جھوٹ سننا پسند ہے تو دو جملے بول دینے سے میرا کیا جائے گا۔ مسئلہ آپ کی شکل کا نہیں ہے مسئلہ یہ ہے کہ میرا یا آفس کے کسی بندے کا اس سے تعلق ہی نہیں کہ دوسرے بندے کی شکل کیسی ہے۔ مگر یہ آپ نے کبھی نوٹ نہیں کیا کہ میں اور ظفر آپ کے کیے ہوئے کام پہ سب سے زیادہ مطمئن ہوتے ہیں۔ تعریف بھی آپ کی ہی ہوتی ہے۔ بس آپ کو اپنی کسی اور صلاحیت کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں۔ “
زبیر صاحب تھوڑا رکے
”اچھا ابھی تو چھٹی کریں گھر جاکر آرام سے غور کیجیے گا۔ “
”ظفر صاحب نے کریکشن دی ہے۔ “ انیسہ نے منہ بسور کے کہا۔
”اچھا ٹھیک ہے۔ آپ جلدی ہی نپٹا لیں گی۔ ابھی میں اور ظفر بھی ادھر ہی ہیں۔ خیر ہے آرام سے کرلیں۔ “ زبیر صاحب اٹھ کے چلے گئے مگر اس کے لیے واقعی سوچنے کی نئی سمت دے گئے۔
گھر آکر ایک بات جس پہ وہ واقعی سوچنے پہ مجبور ہوگئی وہ صرف یہ تھی کہ کیا بدلنا اس کے ہاتھ میں ہے اور کیا نہیں۔ مگر کیسے یہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ بس اتنا ہوا کہ اس نے آفس میں اچھا لگنے بلکہ گورا لگنے کے لیے پریشان ہونا چھوڑ دیا۔ اس کا سارا دھیان کام پہ ہوتا اور اسے خود محسوس ہوا کہ وہ اب کام زیادہ بہتر کرنے لگی ہے۔ ظفر صاحب اور زبیر صاحب کا آن لائن بزنس بہت تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ ایک سال کے اندر انہوں نے برابر کا ایک آفس بھی اپنے آفس میں ملا لیا تھا۔ اب ان سب کے پاس کام کرنے کی بہتر جگہ بن گئی تھی۔ تنخواہیں بھی بڑھ گئی تھیں۔ ساتھ ہی آن لائن مارکیٹنگ کے لیے انہوں نے اچھوتے آئیڈیاز سوچنے شروع کردیئے۔ ایسے کسی نئے آئیڈیا پہ کام ہوتا تو پوری اسٹاف میٹنگ بلوائی جاتی۔
ایسی ہی ایک میٹنگ تھی جس میں یہ زیر بحث تھا کہ مارکیٹنگ کے لیے کیا اچھوتا انداز اپنایا جائے کہ ہماری کمپنی لوگوں کو متوجہ کرسکے اور بڑی بڑی آن لائن کمپنیز کے درمیان اپنی جگہ بنا سکے۔ کئی خیال پیش کیے گئے مگر تھوڑی بہت بحث کے بعد رد ہوجاتے۔ بہت دیر مغز ماری کے بعد زبیر صاحب نے کہا
”جو اب تک چپ بیٹھے تھے وہ ایک ایک کر کے اپنے آئیڈیاز بتائیں احمقانہ ہی کیوں نا ہوں۔
جی فیصل! آپ سے شروع کرتے ہیں ”انہوں نے بالکل برابر میں بیٹھے ہوئے فیصل نامی کولیگ کو مخاطب کیا۔
”سر ہم زیادہ ڈسکاونٹ دے سکتے ہیں“
”ہمم ٹھیک ہے یہ آپشن ہوسکتا ہے لکھ لو۔ “ ظفر صاحب اور زبیر صاحب نے سر ہلایا پھر فیصل کے برابر میں بیٹھے بندے کو ابرو کا اشارہ کیا کہ اب وہ بتائے۔
”ہم ڈیل کے ساتھ ایک سرپرائز گفٹس دے سکتے ہیں“ یہ بھی لکھ لیا گیا۔
اب اس سے آگے انیسہ بیٹھی تھی زبیر صاحب نے اسے اشارہ کیا۔ بولنے کی بجائے وہ کنفیوز ہو کے مسکرا دی۔
”سر میں کیا بتاوں“
”جو بھی ذہن میں آئے جو آپ کے خیال میں کسی آن لائن کمپنی نے طریقہ استعمال نہیں کیا۔ “
”سر آپ لوگ مذاق اڑائیں گے۔ “
”ہاں اڑائیں گے تو مگر بتانا بھی پڑے گا۔ “ ظفر صاحب نے ہلکے پھلکے انداز میں مذاقا کہا۔ ان کا موڈ کبھی کبھی ہی اچھا ہوتا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


It is a good inspiring story for young generation.