سنگِ سیاہ: بلوغت میں داخل ہوتے نوجوانوں کے لیے خصوصی تحریر
” سر اگر ہم اینیمیٹڈ کردار بنائیں جو ہماری ویب سائٹ کا تعارف کروائے اور ہماری ڈیلز کی تفصیل بتائے“ انیسہ کا آئیڈیا سن کر زبیر صاحب اور ظفر صاحب دونوں کے چہرے سے لگا کہ انہیں اچھوتا آئیڈیا لگا ہے۔
”ہمم۔ سب سے آئیڈیاز لے کر ہم فائنل کر لیتے ہیں کہ کونسا آئیڈیا ہمیں سستا بھی پڑے گا اور خریداروں کو اٹریکٹ کرے گا۔ “ زبیر صاحب نے ایک ایک کر کے سب ہی سے آئیڈیاز لیے مگر سب کے آئیڈیاز ہی کہیں نا کہیں پہلے استعمال ہوچکے تھے یا پھر بہت مہنگے تھے۔ صرف انیسہ کا آئیڈیا رہ گیا جو ابھی تک استعمال نہیں ہوا تھا کہیں مگر اس کے خرچے کا اندازہ ظفر صاحب کو بھی نہیں تھا۔
”سر انیمیٹڈ کردار بنانا مشکل نہیں اس کے تو سافٹ وئیر مل جائیں گے مگر مسئلہ ہوگا اس کردار کی ڈٹیل بنانا جو کوئی فنکارانہ ذہن والا ہی کرسکتا ہے۔ “
ادارے کے کمپیوٹر ایکسپرٹ فیروز نے اپنی رائے دی۔ ادارے کی ویب سائٹ کا ڈیزائن اسی نے بنایا تھا اور باقی ٹیکنیکل چیزیں دیکھنا بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی تھی۔
”فیروز اگر آپ کریکٹر ڈیویلپ کر سکتے ہیں تو پھر اس کے لیے اسٹوریز اور ڈٹیل تو ہم ٹیم ورک سے شروع کرسکتے ہیں پھر جو یہ ذمہ داری اچھی طرح نبھا سکے گا اسے آپ کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ “
کافی دنوں کی بحث کے بعد انیسہ ہی کا آئیڈیا آگے بھی پسند کیا گیا۔ اور وہ تھا ’ایک شرارتی بلی کا کریکٹر‘ جو شروع میں بچوں کی پراڈکٹس کے لیے استعمال کیا جاتا۔ اور خریداروں کا ریسپونس دیکھ کر مزید پراڈکٹس میں استعمال کیا جاتا۔
انیسہ کا زیادہ وقت اب کمپیوٹر ڈپارٹمنٹ میں گزرتا۔ اس کی آواز بھی انیسہ نے ہی رکارڈ کروائی۔ فائنلی جو کردار سامنے آیا وہ ایک گول مٹول سے بھورے رنگ کے بلی کے بچے کا تھا ٹیم کے مشورے سے اس کا نام ”اے زی“ ہی رکھا گیا جو انیسہ کے نام کا مخفف تھا۔ پہلے دن کریکٹر ویب سائٹ پہ استعمال ہوا تو روز کے مقابلے میں 20 % زیادہ وزٹ ہوئے۔ اور پھر جیسے جیسے دن گزر رہے تھے اس کردار کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ ساتھ ہی کمپنی کے پرافٹ میں بھی۔ لوگ صرف اس کریکٹر کو زیادہ سے زیادہ دیکھنے ویب سائٹ پہ آتے اور اس کے مزاحیہ مشوروں سے خوش ہوکر کئی چیزیں خرید لیتے۔ ادارے کو اس کی مقبولیت کا اندازہ صحیح سے تب ہوا جب اے زی کے متعلق آرٹیکلز مختلف بلاگز اور اخباروں میں نظر آنے لگے۔ لوگ جاننا چاہتے تھے کہ اس کے پیچھے کس کی آواز اور دماغ ہے۔ بچے اے زی کی تصویر کی شرٹس بنوانے لگے اور یہ ”دکان والے ڈاٹ کام“ کا اپنا الگ برانڈ بن گیا جس میں بیگس، تھرماس، جیومیٹری باکسز غرض کہ جس جس چیز پہ اے زی کی تصویر کا پرنٹ ممکن تھا وہ ملنے لگی۔ اور ایک دن ادارے کے دروازے پہ ایک نیوز رپورٹر پہنچ ہی گئی۔ ظفر صاحب نے انیسہ کو آفس میں بلایا اور وہ حسب معمول جل تو جلال تو کا ورد کرتی آفس میں پہنچی۔ مگر جب اسے پتا چلا کہ یہ رپورٹر اے زی سے انٹرویو لینے آئی ہے تو اس کے ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہوگئے۔ اکیلے کمرے میں بیٹھ کر صرف آڈیو رکارڈنگ کروانا الگ بات تھی مگر کیمرے کے سامنے انٹرویو دینا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ ایسے میں آفس کے تمام کولیگس نے اسے کافی حوصلہ دیا۔ شام میں اس نے ٹی وی کھولا تو نیوز کاسٹر کہتی سنائی دی
” ملیے اے زی کی آواز کے پیچھے چھپی روشن آنکھوں اور سانولی سلونی رنگت والی حسینہ سے“
یہ انٹرویو اس کے کامیابی کے طویل سفر کا پہلا سنگ میل ثابت ہوا۔ اسے کئی ریڈیو پروگرام اے زی کے طور پہ کرنے کی آفرز آگئیں۔ شروع میں وہ کافی جھجھکی مگر اس کی ساری ٹیم خاص طور پہ فیروز نے اس کی ہمت بڑھانے میں اس کا بہت ساتھ دیا۔ اے زی کو بنانے میں اس کا سب سے زیادہ واسطہ فیروز سے ہی رہتا تھا۔ نا صرف وہ اسے اینیمیشن سمجھنے میں مدد دیتا تھا بلکہ ہلکی پھلکی اینیمیشن بنانی سکھا بھی دی تھی۔ ان کی آپس میں کافی بننے لگی تھی۔ فیروز کے ہی کہنے پہ اس نے اپنا ماسٹرز پورا کر کے ایم فل میں بھی ایڈمیشن لے لیا۔
ہاتھ میں کچھ پیسے آئے تو اس کی ڈریسنگ بھی خود ہی بدل گئی وہ کپڑے جو وہ پہلے صرف دیکھ کے رہ جاتی تھی اب پہن سکتی تھی۔ اس کی کزنز کہتیں کہ شکر ہے اب تمہیں پہننے اوڑھنے کا سلیقہ تو آگیا۔ اور وہ سن کے مسکرا دیتی کیوں کہ سلیقہ تو یہی تھا بس لینے کی گنجائش نہیں تھی۔ وہی کزنز جو پہلے مذاق اڑاتی تھیں اب تقریب میں اس کے ساتھ تصویریں لے کے ”ہیش ٹیگ اے زی“ لکھ کے فیس بک اور انسٹا گرام پہ لگاتیں کہ لوگوں کو پتا چلے اے زی ان کی کزن ہے۔ کبھی کبھی انیسہ کو خود ہی حیرت بھی ہوتی جب اپنی الماری میں رکھے کپڑے دیکھتی جس میں اب شوخ اور ہلکا ہر رنگ ہی موجود تھا۔ مگر پھر بھی اس کے ہر لباس کی تعریف ہوتی تھی۔ حالانکہ اب بھی وہ بہت مہنگے کپڑے لینے سے گریز کرتی تھی مگر یہ پروا نہیں کرتی تھی کہ کس رنگ میں وہ کیسی لگے گی جو اچھا لگتا لے لیتی تھی۔ اب تو کچھ کزنز اسے اپنی بھابھی بنانے کے لیے بھی تیار تھیں۔ اور اتنی عقل تو انیسہ میں تھی کہ وقت کے ساتھ بدلتے رویوں کی بنیاد پہ مضبوط رشتے نہیں بن سکتے۔ ایسی ہر آفر پہ وہ بہت اطمینان سے امی سے منع کروادیتی اسے اس کی شہرت کے پیچھے بھاگنے والے نہیں چاہیے اس کے لیے بس وہ ایک کافی تھا جس نے تب جب وہ کسی کے لیے اہم نہیں تھی اسے اہم ہونے کا احساس دلایا تھا۔ فیروز جیسے قدم قدم پہ اس کے ساتھ رہا تھا اسے ایسا ہی ہمسفر چاہیے تھا جو اس کی کامیابیوں کا بھی ساتھی ہو۔ وہ اب اپنی زندگی سے مطمئن تھی۔ بہت زیادہ مطمئن۔


It is a good inspiring story for young generation.