انتون چیخوف کا شاہکار افسانہ : وارڈ نمبر 6


کتابوں کا تو وہ کیڑا تھا۔ اکثر کلب میں دیر تک بیٹھا اپنی چگی داڑھی کو اضطرابی کیفیت سے کھینچ کھینچ کر رسالوں کی ورق گردانی کیا کرتا تھا اور چہرے سے ظاہر ہوتا تھا کہ پڑھ نہیں رہا ہے بلکہ ذہن کو سوچنے کا ذرا بھی موقع دیے بغیر سارے مواد کو ہڑپکیے جا رہا ہے۔ دراصل مطالعہ اس کی مریضانہ لت بن کر رہ گیا تھا کیونکہ جو کچھ بھی اس کے ہاتھ لگ جاتا تھا اس پر یکساں ندیدے پن کے ساتھ ٹوٹ پڑتا تھا۔ کہا وہ گزشتہ سال کے اخبارات یا جنتری جیسا ہی غیر دلچسپ کیوں نہ ہو۔ گھر میں ہمیشہ لیٹ کر ہی مطالعہ کیا کرتا تھا۔

خزاں کی ایک صبح کو ایوان دمتیرچ اپنے کوٹ کا کالر کھڑا کیے ہوئے کیچڑ بھری گلیوں اور عقبی احاطوں سے گزرتا ہوا عدالت کے حکم کی تعمیل کے لئے کسی کے ہاں جا رہا تھا اس کا موڈ ہر صبح کے جیسا یعنی خراب تھا۔ ایک گلی میں اس کا سامنا چار مسلح سپاہیوں کی نگرانی میں جاتے ہوئے دو قیدیوں سے ہوا جن کے ہتھکڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ ایوان دمتیرچ ایسے مناظر کا عادی ہوچکا تھا اور یہ ہر بار اس کے دل میں ترس اور گھبراہٹ کے جذبات بیدار کر دیا کرتے تھے لیکن اس وقت وہ بلاسبب ہی بُری طرح متاثر ہوگیا۔ جانے کیوں اچانک اس کے دل میں خیال آیا کہ خود اسے بھی ہتھکڑی پہنا کر انہی قیدیوں کی طرح کیچڑدار سڑکوں سے قید خانے لے جایا جاسکتا ہے۔ حکم نامہ دے کر وہ گھر لوٹ رہا تھا تو راستے میں ڈاک خانے کے پاس اس کی ملاقات اپنی جان پہچان والے ایک پولیس انسپکٹر سے ہوگئی جو صاحب سلامت کے بعد چند قدموں تک اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ انسپکٹر کی اس حرکت سے جانے کیوں ایوان دمتیرچ کا ماتھا ٹھنک گیا۔ گھر پہنچنے کے بعد قیدیوں اور رائفلیں لئے ہوئے سپاہیوں کا تصور تمام دن اس کو پریشان کرتا رہا اور کسی عجیب و غریب ذہنی بے چینی نے نہ کچھ پڑھنے دیا نہ کچھ اور سوچنے۔ شام کو اس نے لیمپ نہ جلایا اور رات بھر اس اندیشے سے نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور رہی کہ اسے بھی گرفتار کرکے، ہتھکڑی پہنا کے قید خانے میں بند کیا جاسکتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اس سے کبھی کوئی جرم سرزد نہیں ہوا اور وہ ضمانت دے سکتا تھا کہ آئندہ بھی کبھی قتل، آتش زنی یا چوری کا مرتکب نہ ہوگا لیکن اس نے سوچا کیا یہ ممکن نہیں کہ بلا ارادہ، محض اتفاقاً ہی وہ کوئی جرم کر بیٹھے؟ اور پھر کیا مجرمانہ دھوکے یا انصاف تک کی کوتاہی جیسی باتوں کی کوئی کمی ہے؟ کیا یہ کہاوت کہ ”دارالمساکین اور زنداں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے“ صدیوں کے تجربات کا نچوڑ نہیں ہے؟ اور عدالتی کارروائیوں کی اس وقت جو حالت ہے اس میں انصاف کی کوتاہی سے زیادہ اور کاہے کا امکان ہے؟ ججوں، پولیس کٹر افسروں اور ڈاکٹروں جیسے لوگ جو انسانی درد و غم کو محض سرکاری نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ہی ساتھ اور عادتاً بھی اتنے بے حس اور بے رحم ہو جاتے ہیں کہ وہ اگر چاہیں بھی تو ان افراد کے سلسلے میں جن سے انہیں نپٹنا پڑتا ہے، رسمی کے سوا اور کوئی بھی رویہ نہیں اپنا سکتے۔ اس معاملے میں یہ لوگ اس کسان سے ذرا بھی مختلف نہیں ہوتے جو اپنے عقبی احاطے میں بھیڑوں اور بچھڑوں کو ذبح کرتا ہے اور خون کی طرف بھولے سے بھی متوجہ نہیں ہوتا۔ اور اس رسمی اور بے رحم رویے کے مستحکم ہو جانے کے بعد جج کو کسی بے گناہ کو اس کے تمام حقوق سے محروم کرنے اور قید بامشقت کی سزا دینے کے لئے بس ایک ہی چیز درکار ہوتی ہے۔ وقت! صرف اتنا وقت جس کے دوران وہ چند رسمی کارروائیاں پوری کی جاسکیں جن کے لئے جج کو تنخواہ ملتی ہے اور بس سارا قصہ ختم ہو جائے گا۔ انصاف اور تحفظ کی تلاش اور وہ بھی اس چھوٹے سے گندے قصبے میں جو قریب ترین ریلوے اسٹیشن سے دو سو ورسٹ کے فاصلے پر واقع ہے! اور کیا انصاف کے متعلق ان حالات میں سوچنا لغو بات نہیں ہے جبکہ ظلم و جبر کے ہر اقدام کو معاشرہ معقول اورمناسب تصور کرتا ہے اور کسی قیدی کی رہائی جیسے رحم دلی کے ہر اقدام پر غیرمطمئن اور انتقامانہ جذبات کا طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے؟

اگلی صبح کو ایوان دمیترچ بستر سے اٹھا تو خوف کے مارے جان نکلی جا رہی تھی، پیشانی پر ٹھنڈا پسینہ پھوٹ نکلا تھا اور اسے یقین تھا کہ کسی بھی لمحے گرفتار کر لیا جائے گا۔ گزشتہ دن کے اذیت دہ خیالات سے کسی طرح نجات ہی نہیں مل رہی تھی اس لئے اس نے سوچا کہ ان خیالات کی یقینا کوئی نہ کوئی حقیقی وجہ ہوگی۔ ظاہر تھا کہ یہ اندیشے اس کے دل میں کسی معقول وجہ کے بغیر تو نہیں پیدا ہوسکتے تھے۔ ایک پولیس والا اس کی کھڑکی کے سامنے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوا گزرا۔ اس کا مطلب کیا تھا؟ دو افراد اس کے گھر کے سامنے ٹھہر کر خاموشی سے کھڑے ہوگئے۔ آخر خاموش کیوں تھے؟

اور اس طرح ایوان دمتیرچ کے لئے روز و شب کے ذہنی کرب کا آغاز ہوا۔ جو بھی اس کی کھڑکیوں کے سامنے سے گزرتا یا احاطے میں داخل ہوتا اسے وہ مخبر یا سراغ رساں تصور کرتا۔ ضلع پولیس انسپکٹرکو ہر روز دوپہر کے وقت اپنی دو گھوڑوں والی بگھی میں سڑک سے گزرنے کی عادت تھی۔ وہ اپنی دیہی حویلی سے پولیس کے دفتر آیا کرتا تھا لیکن ایوان دمتیرچ کو لگتا کہ گھوڑوں کی رفتار بہت تیز ہے، پولیس افسر کے چہرے پر کوئی خاص کیفیت پائی جاتی ہے اور شاید وہ جلد از جلد دفتر پہنچ کر قصبے میں نہایت ہی خطرناک مجرم کے قیام کی اطلاع دینا چاہتا ہے۔ دروازے کی گھنٹی بجتی یا پھاٹک پر کوئی دستک دیتا تو ایوان دمیترچ چونک پڑتا، مکان مالکن سے کوئی ایسا شخص ملنے آتا جس سے وہ واقف نہیں ہوتا تھا تو وہ بوکھلا اٹھتا اور کسی پولیس والے کا سامنا ہو جاتا تو وہ پرسکون نظر آنے کے لئے مسکرانے اور سیٹیوں میں کوئی دھن بجانے لگتا تھا۔ اپنی گرفتاری کے خوف سے ساری رات جاگ کے کاٹ دیتا تھا لیکن زور زور سے خراٹے لیتا رہتا تاکہ مکان مالکن سوچے کہ وہ سو رہا ہے کیونکہ اس کے خیال میں بیداری سے یہ مطلب نکالا جاسکتا تھا کہ جرم کا احساس ستا رہا ہے اور یہ کھلا ہوا اشارہ ہوتا۔ حقائق اور عقل سلیم اسے یقین دلاتے تھے کہ اس کی یہ دہشت قاتلوں کے سوا گفتگو کا اور کوئی موضوع ہی نہ رہ گیا۔ ایوان دمتیرچ فکرمند ہوگیا کہ کہیں اسی کو قاتل نہ سمجھ لیا جائے اس لئے وہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ طاری کرکے سڑکوں پر گھومنے لگا اور جب بھی کوئی واقف کار مل جاتا تو اسے یقین دلانے لگتا کہ کمزور اور نہتے کی جان لینا بدترین جرم ہے۔ اس دوران اس کے چہرے پر ایک لمحے زردی چھا جاتی تو دوسرے لمحے سرخی۔ لیکن ایک بات کو دوسری کے پردے میں چھپانے کی اس مسلسل بھاگ دوڑنے جلد ہی اسے ہلکان کر دیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ جس حالت میں وہ ہے اس میں بہترین صورت یہ ہوگی کہ تہہ خانے میں چھپ جائے۔ چنانچہ اس نے ایک دن تہہ خانے میں گزارا، ایک رات اور اگلا دن بھی، مارے سردی کے سارا جسم اکڑ سا گیا اور وہ اندھیرا ہوتے ہی چوروں کی طرح دبے پاؤں اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ ساری رات اس نے کمرے کے وسط میں چپ چاپ کھڑے کھڑے، آوازوں پر کان لگائے لگائے کاٹ دی۔ صبح ہی صبح آتش دان بنانے والے کچھ افراد مکان مالکن کے پاس آئے۔ ایوان دمتیرچ کو ٹھیک ٹھیک معلوم تھا کہ یہ لوگ باورچی خانے کے آتش دان کی مرمت کرنے آئے ہیں لیکن خوف نے سرگوشی کی کہ ہو نہ ہو یہ پولیس والے ہی ہیں جنہوں نے بھیس بدل رکھا ہے۔ یہ خیال آتے ہی اسے نہ کوٹ پہننے کا ہوش رہا نہ ٹوپی، دبے پاؤں گھر سے نکلا اور انتہائی سراسیمگی کے عالم میں سڑک پر بھاگ کھڑا ہوا۔ بھونکتے ہوئے کتے اس کے پیچھے دوڑ پڑے، کسی شخص نے چلا کے اسے پکارا، ہوائیں اس کے کانوں میں سیٹیاں بجانے لگیں اور ایوان دمتیرچ کو لگا کہ دنیا کا سارا تشدد یکجا ہو کر اس کا تعاقب کر رہا ہے۔

اسے روک کر گھر واپس لایا گیا اور مکان مالکن نے ڈاکٹر بلوایا۔ ڈاکٹر اندریئی یفیمچ نے جس کے متعلق آگے چل کر کچھ اور بتایا جائے گا، علاج کے طور پر ٹھنڈے پانی سے تر پٹیاں اور لارل کی پٹیوں کا عرق تجویز کیا، اداسی سے سر ہلایا اور مکان مالکن سے یہ کہہ کر چلا گیا کہ وہ دوبارہ نہ آئے گا اور یہ کہ لوگوں کو پاگل ہو جانے سے روکنے کی کوشش بے سود ہے۔ ایوان دمتیرچ کے پاس گزر بسر اور علاج کے مصارف برداشت کرنے کے لئے رقم نہ تھی اس لئے اسے اسپتال بھیج دیا گیا جہاں اسے جنسی بیماریوں کے مریضوں کے وارڈ میں جگہ مل گئی۔ وہ رات کو سوتا نہیں تھا، چڑچڑاپن دکھاتا اور دوسرے مریضوں کے آرام میں خلل ڈالتا تھا اس لئے جلد ہی اندریئی یفیمچ کے حکم سے اسے وارڈ نمبر 6 میں پہنچا دیا گیا۔

سال ہی بھر میں قصبے نے ایوان دمتیرچ کو فراموش کر دیا اور اس کی کتابیں جنہیں مکان مالکن نے سائبان تلے ایک برف گاڑی پر کوڑے کی طرح ڈھیر کر دیا تھا، پڑوسی لڑکے اٹھا لے گئے۔

ایوان دمتیرچ کا بایاں پڑوسی تو جیساکہ بتایا جاچکا ہے، وہی یہودی موئے سینکا ہے اور دائیں جانب ہے بالکل کورے، انتہائی مہمل چہرے والا ایک موٹا تازہ، چکنا چپڑا کسان، ایک کاہل، پیٹو اور گندہ جانور جو عرصہ ہوا بھول چکا ہے کہ سوچنا یا محسوس کرنا کس کو کہتے ہیں اور جس کے جسم سے دم گھونٹ دینے والی تیز بدبو پھوٹتی رہتی ہے۔

نیکیتا جس کے فرائض میں اس شخص کی دیکھ بھال کرنا بھی شامل ہے، اپنی ساری قوت کے ساتھ بڑے وحشیانہ انداز میں اس کی پٹائی کرتا اور اپنے مکوں میں چوٹ لگ جانے کی بھی پروا نہیں کرتا ہے۔ لیکن یہ بات کہ اس شخص کا یوں کچومر نکالا جاتا ہے، اتنی تکلیف دہ نہیں ہے۔ آدمی ایسی چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے۔ جتنی یہ کہ اپنی پٹائی پر یہ مخبوط الحواس درندہ کسی آواز اور اشارے سے یا پلک جھپکا کر بھی کوئی ردعمل نہیں ظاہر کرتا ہے، بس کسی وزنی پیپے کی طرح اِدھر اُدھر جھولتا رہتا ہے۔

وارڈ نمبر 6 کا پانچواں اور آخری باسی ایک مقامی آدمی ہے جو کبھی ڈاک خانے میں ڈاک چھانٹنے کا کام کیا کرتا تھا۔ دُبلا پتلا جسم، بھورے بھورے چھدرے بال اور نیک لیکن ذرا شرارتی سا چہرہ۔ ذہین آنکھوں میں اطمینان اور خوشی کی جھلک کہہ رہی ہے کہ اسے اپنا خیال رکھنا آتا ہے اور سینے میں کوئی بڑا اہم اور پُرمسرت راز چھپائے رہتا ہے، کسی کو ہوا بھی نہیں لگنے دیتا لیکن اس اندیشے سے نہیں کہ کوئی اسے چھین یا چرا لے گا بلکہ محض اپنے شرمیلے پن کی وجہ سے۔ کبھی کبھی وہ کھڑکی کے پاس جاتا ہے اور دوسروں کی طرف پیٹھکیے کیے کسی چیز کو اپنے سینے پر لٹکا کے اسے دیکھنے لگتا ہے۔ ان لمحات میں کوئی دوسرا اس کے پاس پہنچ جاتا ہے تو وہ جلدی سے اس چیز کو سینے سے ہٹا لیتا اور بُری طرح بوکھلا جاتا ہے۔ لیکن اس کے راز کو تاڑ لینا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

”آپ مجھے مبارکباد دیجئے نا“ کبھی کبھی وہ ایوان دمیترچ سے کہتاہے۔ ”مجھے دوسرے درجے کا ستارے والا استاساؤس تمغہ دیے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسرے درجے کا ستارے والا یہ تمغہ ویسے تو بس غیر ملکیوں ہی کو دیا جاتا ہے لیکن وہ لوگ کسی وجہ سے میرے معاملے میں کوئی رعایت کرنا چاہتے ہیں۔ “ پھر وہ مسکرا کر شانے اچکاتے ہوئے اضافہ کرتا ہے :

”میں نے تو اس کا تصور تک نہیں کیا تھا! “

”میں ان معاملات میں بالکل ہی کورا ہوں“ ایوان دمتیرچ تلخی سے جواب دیتا ہے۔

”لیکن آپ کو معلوم بھی ہے کہ دیر سویر مجھے کیا ملنے والا ہے؟ “ سابق ڈاک چھانٹنے والا عیاری کے ساتھ آنکھوں کو ذرا بھینچ کے بات جاری رکھتاہے۔ ”یقینا مجھے سوئیڈن کا“ قطب تارا ”دیا جائے گا۔ ایسے تمغے کے لئے تو انسان تھوڑی سی زحمت بھی گوارا کرسکتا ہے۔ سفید صلیب اور سیاہ ربن، کتنا خوبصورت ہوتا ہے! “

زندگی میں اتنی زیادہ یک رنگی کا ہے کو اور کہیں شاید ہی ہوگی جتنی اسپتال سے ملحق اس چھوٹی سی عمارت میں ہے۔ ہر روز صبح کو فالج کے مریض اور مٹلے کسان کو چھوڑ کر اور سب مریض برآمدے میں جا کے ایک زبردست کٹہرے میں منہ ہاتھ دھوتے اور اسپتالی لبادوں کے دامنوں سے انہیں پونچھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ خاص عمارت سے ٹین کے ڈونگوں میں نیکیتا کی لائی ہوئی چائے پیتے ہیں۔ دوپہر کو انہیں کھانے میں ترش کرم کلے کا شوربا اور جو کا دلیا ملتا ہے اور شام کو دن کا بچا ہوا وہی دلیا۔ دونوں وقت کے کھانے کے درمیانی وقفے میں یہ لوگ اپنے پلنگوں پر لیٹے رہتے ہیں، سوتے رہتے ہیں، کھڑکیوں سے باہر تکتے یا کمرے میں ٹہلتے رہتے ہیں اور یہ روز کا معمول ہے۔ سابق ڈاک چھانٹنے والا ہمیشہ بس اپنے انہی تمغوں ہی کی رٹ لگاتا رہتا ہے۔

وارڈ نمبر 6 میں کوئی نیا چہرہ شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر نئے دماغی مریضوں کی بھرتی کبھی کا بندکرچکا ہے اور پاگل خانے میں کسی کو دیکھنے کے لئے آنے کی فکر باہری دنیا کے ذرا کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے۔ دو مہینوں میں ایک بار حجام سیمیون لازارچ البتہ وارڈ میں قدم رکھتا ہے۔ وہ مریضوں کے بال کس طرح کاٹتا ہے، اس کام میں اس کی مدد نیکیتا کس ڈھنگ سے کرتا اور نشے میں دھت مسکراتے ہوئے حجام کو دیکھ کر مریضوں پر اچانک کیسا ہول طاری ہو جاتا ہے۔ اس سب کی تفصیل میں ہمارا نہ جانا ہی بہتر ہے۔

حجام کے سوا یہاں اور کوئی بھی اپنی صورت نہیں دکھاتا ہے۔ مریضوں کو روز اسی مصیبت کو جھیلنا پڑتا ہے جس کا نام نیکیتا ہے۔ ویسے اِدھر کچھ دنوں سے البتہ اسپتال میں ایک عجیب و غریب افواہ اڑانے لگی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وارڈ نمبر 6 میں ڈاکٹر پابندی سے جانے لگا ہے۔

واقعی کتنی عجیب و غریب ہے یہ افواہ بھی!

ڈاکٹر اندریئی یفمیچ راگین اپنے پیشے کے اعتبار سے خاصا ممتاز شخص ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی نوجوانی میں بہت مذہبی تھا، پادری بننے کے خواب دیکھا کرتا تھا اور اس سلسلے میں 1863 ءمیں ہائی اسکول پاس کرنے کے بعد کلیسائی اکیڈمی میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔ لیکن اس کے باپ نے جو ڈاکٹر آف سائنس اور سرجن تھا، آڑے ہاتھوں لیا، کہنے لگا:

”اِدھر تم پادری بنے اور اُدھر میں نے تم کو عاق کیا۔ “ مجھے نہیں معلوم کہ اس سب میں کتنی صداقت ہے لیکن اندریئی یفمیچ کو اکثر یہ کہتے ضرور سنا ہے کہ ڈاکٹر بننے یا سائنس کے کسی دوسرے میدان میں کام کرنے کی طرف اس کی طبیعت ذرا بھی مائل نہ تھی۔

حقیقت کچھ بھی رہی ہو بہرحال ڈاکٹری کی سند لینے کے بعد وہ پادری نہ بنا۔ اپنی دین داری کے لئے تو خیر وہ کبھی بھی مشہور نہ تھا اور اس میں کسی پادری کی صفات ڈاکٹری شروع کرنے کے زمانے میں بھی بس اتنی ہی تھیں جتنی کہ اب ہیں۔

اس کی وضع قطع بھدی اور اکھڑ کسانوں کی سی ہے چہرہ، داڑھی، سیدھے بال اور طاقتور بے ڈول جسم کسی سڑک کے کنارے والے ریستوران کے شکم سیر، ضدی اور سخت مزاج مالک کی یاد دلاتے ہیں۔ نیلی نیلی رگوں کے جال سے ڈھکا ہوا بدنما چہرہ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور سرخ ناک، قد لمبا ہے، شانے چوڑے چکلے اور ہاتھ پاؤں بہت بڑے بڑے، لگتا ہے کہ کسی بیل پر زور دار مکا رسید کر دے تو بیچارا ڈھیر ہو جائے۔ لیکن اس کی چال سے البتہ عجب نرمی اور احتیاط جھلکتی ہے، چوروں کی طرح دبے دبے قدم اٹھاتا ہے۔ تنگ گزر گاہ میں کسی کا سامنا ہو جاتا ہے تو ٹھہر کے راستہ دینے میں پہل ہمیشہ وہی کرتا اور ”معاف کیجئے گا! “ کہتا ہے لیکن بھاری آواز میں نہیں جیساکہ آپ توقع کر رہے ہوں گے بلکہ دھیمی اور نرم آواز میں۔ گردن پر چھوٹی سی رسولی ہونے کی بنا پر بہت سخت کالر استعمال نہیں کرسکتا اس لئے ہمیشہ ہی سنکے کپڑے کی یا سوتی نرم قمیضیں ہی پہنتا ہے۔ عام ڈاکٹروں جیسی خوش لباسی سے اسے دور کی بھی نسبت نہیں۔ ایک ہی سوٹ میں دس سال کاٹ دیتا ہے اور نیا سوٹ بھی جسے وہ عموماً یہودی والی بنے بنائے کپڑوں کی دُکان سے خریدتا ہے، اس کے جسم پر پہنچ کر اسی سابق سوٹ کی طرح پرانا اور ملگجا معلوم ہونے لگتا ہے۔ اسی ایک سوٹ کو پہنے پہنے وہ مریضوں کو دیکھتا ہے، کھانا کھاتا ہے اور دوستوں کے ہاں جاتا ہے پر اس کے پیچھے اس کی کنجوسی یا کسی اور بات کا نہیں صرف اپنی وضع قطع کی طرف سے یکسر لاپروائی کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10