انتون چیخوف کا شاہکار افسانہ : وارڈ نمبر 6

ایوان دمیترچ اپنے پلنگ پر گزشتہ شام ہی کی جیسی حالت میں کنپٹیوں کو ہاتھوں سے جکڑے گھٹنے سکوڑے لیٹا ہوا تھا۔ منہ دیوار کی طرف تھا۔
”کہیے، کیا حال ہے، میرے دوست؟ “ اندریئی یفمیچ نے کہا۔
”آپ سو تو نہیں رہے ہیں؟ “
”اول تو میں آپ کا دوست نہیں ہوں“ ایوان دمیترچ تکیے سے منہ ہٹائے بغیر بڑبڑایا، ”اور دوسرے یہ کہ خود کو ہلکان نہ کیجئے، آپ میرے منہ سے ایک لفظ بھی نہ اگلوا سکیں گے۔ “
”عجب بات ہے۔ “ اندریئی یفمیچ نے کچھ خجل ہو کر کہا۔ ”کل ہم دونوں کتنی عمدہ باتیں کر رہے تھے مگر آپ نے اچانک بُرا مان کر گفتگو ختم کر دی۔ یا تو میں نے اپنے خیالات کا اظہار بھونڈے پن سے کیا ہوگا یا پھر میرے منہ سے کوئی ایسی بات نکل گئی ہوگی جو آپ کے یقین کامل کے منافی تھی۔ “
”آپ کے خیال میں اس بہانے کو میں سچ مان لوں گا؟ “ ایوان دمیترچ نے بیٹھ کر ڈاکٹر کو ایسی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا جو بیک وقت مذاق بھی اڑا رہی تھیں اور تشویش کی بھی آئینہ دار تھیں۔ اس کے پپوٹے سرخ ہو رہے تھے۔ ”بہتر ہوگا کہ اپنی یہ جاسوسی اور پوچھ گچھ کہیں اور جا کے کیجئے، مجھ سے کچھ ملنے ملانے کا نہیں۔ میں سمجھ چکا ہوں کہ کل آپ یہاں کیوں آئے تھے۔ “
”عجب بات ہے! “ ڈاکٹر دھیرے سے ہنس پڑا۔ ”تو آپ کا خیال ہے کہ میں کوئی مخبر ہوں؟ “
”جی ہاں، بالکل۔ یا تو مخبر ہیں یا ایسے ڈاکٹر جسے مجھ پر نگاہ رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے۔ دونوں میں کوئی فرق تھوڑی ہے۔ “
”آپ، معاف کیجئے گا۔ آپ عجیب و غریب شخص ہیں! “
ڈاکٹر نے پلنگ کے قریب ایک اسٹول پر بیٹھ کر سرزنش کے انداز میں سر ہلایا۔
”اچھی بات ہے، فرضکیے لیتے ہیں کہ آپ کا خیال درست ہے“ اس نے کہنا شروع کیا۔ ”فرضکیے لیتے ہیں کہ میں جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں، آپ سے کچھ معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ پولیس پر آپ کے راز منکشف کر دوں۔ آپ گرفتار کرلئے جائیں گے، مقدمہ چلے گا۔ لیکن کیا آپ سوچتے ہیں کہ عدالت یا قید خانہ آپ کے لئے بدتر ثابت ہوگا؟ اور اگر آپ جلاوطن کر دیے جائیں یا قید بامشقت کی سزا ملے تو کیا آپ کے خیال میں وہاں کا ماحول اس وارڈ کے ماحول سے بھی زیادہ خراب ہوگا؟ مجھے تو اس کا یقین نہیں۔ تو پھر آپ کو ڈر کاہے کا؟ “
ان الفاظ نے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ایوان دمیترچ کو متاثر کیا اور وہ کچھ پرسکون نظر آنے لگا۔
ذرا دیر قبل ہی چار بجے تھے اور یہ وہ وقت تھا جب اندریئی یفیمچ عموماً اپنے کمروں میں ٹہلا کرتا تھا اور وار یا اس سے پوچھتی تھی کہ کیا وہ بیئر پینا پسند کرے گا۔ ہوائیں ٹھہری ہوئی تھیں اور شام کی فضا منور۔
”میں کھانے کے بعد ٹہل رہا تھا کہ اتنے میں خیال آیا کیوں نہ چل کے آپ سے ملاقات کر آؤں“ ڈاکٹر نے کہا۔ ”صحیحمعنوں میں موسم بہار کا دن ہے۔ “
”یہ کون سا مہینہ ہے؟ مارچ؟ “
”جی ہاں، مارچ کے آخری ایام۔ “
”باہر بہت کیچڑ ہے کیا؟ “
”بہت تو نہیں ہے۔ باغ کے راستے خشک ہوچکے ہیں۔ “
”ایسے دن میں تو کتنا اچھا لگے گا اگر بگھی پر سوار ہو کر قصبے کے باہر سیر کروں۔ “ ایوان دمیترچ نے اپنے سرخ حلقوں کی آنکھوں کو یوں ملتے ہوئے کہا جیسے ابھی ابھی گہری نیند سے بیدار ہوا ہو، ”اور گھر کے گرم اور آرام دہ مطالعے کے کمرے کو واپس لوٹوں۔ میں تو بھول ہی چکا ہوں کہ انسانوں کی طرح زندگی بسر کرنا کس کو کہتے ہیں۔ یہ بڑی غلیظ جگہ ہے! ناقابلِ برداشت حد تک غلیظ! “
وہ گزشتہ روز کے ہیجان سے کمزور اور نڈھال ہو رہا تھا اور الفاظ بڑی بے دلی کے ساتھ اس کے منہ سے نکلتے معلوم ہو رہے تھے۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں اور چہرہ سر کے شدید درد کی گواہی دے رہا تھا۔
”مطالعے کے گرم اور آرام دہ کمرے اور اس وارڈ میں کوئی فرق تھوڑی ہے۔ “ اندریئی یفیمچ نے کہا۔
”انسانوں کو سکون اور اطمینان کی تلاش باہری دنیا میں نہیں بلکہ اپنی باطنی دنیا میں کرنی چاہیے۔ “
”کیا مطلب ہے؟ “
”معمولی آدمی نیکی یا بدی کو باہری چیزوں مثلاً بگھی یا مطالعے کے کمرے میں تلاش کرتا ہے جبکہ سوچ بچار کرنے والا آدمی خود اپنی ذات کے اندر۔ “
”اپنے اس فلسفے کی تبلیغ جا کے یونان میں کیجئے جہاں ہمیشہ گرمی پڑتی ہے اور فضا میں سنترے کے پھولوں کی مہک بسی رہتی ہے۔ اس قسم کی بات ہماری آب و ہوا میں موزوں نہیں ہے۔ ڈیوگیس کے متعلق میں نے کس سے باتیں کی تھیں؟ آپ سے؟ “
”جی ہاں، کل۔ “
ڈیوگیس کو مطالعے کے لئے کسی بھی گرم کمرے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہاں ویسے ہی گرمی پڑتی تھی۔ وہ اپنے پیپے میں پڑا جھولتا اور زیتون کے پھل اور سنترے کھاتا رہ سکتا تھا۔ اگر وہ روس میں ہوتا تو دسمبر تو جانے دیجئے مئی کے مہینے میں ہی کسی سے درخواست کرتا کہ بھائی اپنے گھر میں جگہ دے دو۔ سردی کے مارے بیچارے کا سارا جسم ٹھٹھرنے لگتا۔
”ہرگز نہیں۔ سردی کو بھی کسی دوسرے درد کی طرح نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ “ مارکوس آور یلئیس نے کہا تھا:
”درد دراصل درد کا زور دار تصور ہی ہوتا ہے۔ آپ اپنی قوت ارادی سے اس تصور کو بدل سکتے ہیں۔ اسے بھلا دیجئے، تکلیف کی شکایت کرنا بند کر دیجئے اور درد ختم ہو جائے گا۔ “ اور اس کا خیال درست تھا۔ کوئی عاقل یا صرف غورو خوض کا عادی شخص بھی پہچانا ہی اپنے اسی وصف سے جاتا ہے کہ وہ تکلیف کو خاک بھی خاطر نہیں لاتا۔ وہ تو ہمیشہ مطمئن رہتا ہے، کوئی شے اسے متحیر نہیں کرسکتی۔
”تب تو ضرور میں احمق ہوں کیونکہ میں تکالیف محسوس کرتا ہوں، غیر مطمئن رہتا ہوں اور انسانی کمینگی پر مسلسل محوِ حیرت۔ “
”یہ آپ کی بھول ہے۔ اگر آپ بار بار معاملات کی تہہ تک جانے کی کوشش کریں تو دیکھیں گے کہ ہمیں ہیجان میں مبتلا کرنے والی خارجی چیزیں دراصل کتنی حقیر ہوتی ہیں۔ آپ کو تو زندگی کے ادراک کی جدوجہد کرنی چاہیے جو واحد نعمت ہے۔ “
”ادراک۔ “ ایوان دمیترچ نے کانپتے ہوئے کہا۔ ”خارجی، داخلی۔ معاف کیجئے گا، اس قسم کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں۔ “ اس نے کھڑے ہو کر ڈاکٹرکو برہمی سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”کہ خدا نے مجھے گرم لہو اور اعصاب کے ساتھ پیدا کیا تھا۔ جی ہاں، جناب! نامیاتی میسج میں اگر کوئی حیاتی صلاحیت ہے تو اسے ہیجانات پر ردِعمل ظاہر کرنا چاہیے اور مجھ پر یقینا ردعمل ہوتا ہے! میں درد پر نالہ و فریاد کے ذریعے، کمینگی پر شدید غصے کے ذریعے اور بدمعاشی پر نفرت کے ذریعے ردعمل ظاہر کرتا ہوں۔ اور میرے خیال میں اسی کا نام ہے زندگی! کوئی جاندار جتنی پست سطح کا ہوتا ہے اتنی ہی اس کی حس اور ہیجانات پر اس کے ردعمل کمزور ہوتے ہیں اور جتنی بلند سطح کا ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ حقیقت کے سلسلے میں اس کا ردعمل حساس اور تند و تیز ہوتا ہے۔ آخر آپ کو اتنی سی بات بھی کیوں نہیں معلوم؟ ڈاکٹر ہو کے ایسی ابتدائی باتوں سے بھی بے خبری! کسی شخص کے تکالیف کو حقیر سمجھنے، ہمیشہ مطمئن رہنے اور کبھی متحیر نہ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حالت کو پہنچ چکا ہو“ اور ایوان دمیترچ نے یہ کہتے ہوئے موٹے کان کی طرف اشارہ کیا ”یا پھر یہ کہ تکالیف نے اسے پتھر بنا دیا ہو، بالکل بے حس کر دیا ہو، یعنی یہ کہ وہ جی ہی نہ رہا ہو۔ معاف کیجئے گا“ اس نے جھلاہٹ کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی، ”نہ میں عاقل ہوں نہ فلسفی، ان معاملات میں بالکل کورا ہوں۔ میں دلائل پیش کرنے کی حالت میں نہیں ہوں۔ “
”لیکن آپ بڑے سلیقے سے دلائل پیش کرتے ہیں۔ “
”رواقیت پسند جن کی تعلیمات کو آپ مضحکہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، بلاشک خاصے ممتاز افراد تھے لیکن ان کا فلسفہ ان دو ہزار برسوں میں بالکل جامد و ساکت رہا ہے۔ دو قدم بھی آگے نہیں بڑھا اور بڑھ بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ ناقابلِ عمل اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ تھوڑے سے افراد میں جو اپنی زندگیاں مطالعے اور مختلف تعلیمات سے محظوظ ہونے میں صرف کیا کرتے تھے، ضرور مقبول تھا لیکن اکثریت اسے کبھی بھی سمجھ نہ سکی۔ کوئی فلسفہ جو دولت و آسائش سے بے اعتنائی اور تکالیف اور موت کو حقیر سمجھنے کی تعلیم دیتا ہو، اکثریت کے لئے قطعاً ناقابلِ فہم ہوتا ہے۔ کیونکہ اکثریت کو نہ کبھی دولت میسر ہوتی ہے نہ آسائش۔ ان لوگوں کے لئے تو تکالیف کو حقیر سمجھنے کے مترادف ہوگا کیونکہ انسان کا سارا وجود ہی بھوک، سردی، ذلت، نقصان اور موت کے ایسے خوف پر جیساکہ ہیملٹ پر طاری تھا، مشتمل ہوتا ہے۔ زندگی وبال جان اور گھناؤنی ہوسکتی ہے لیکن کبھی کسی نے زندگی سے نفرت نہیں کی۔ اس لئے میں ایک بار پھر کہنا چاہتا ہوں کہ رواقیت پسندوں کی تعلیمات کا کوئی مستقبل نہیں اور عہد عتیق سے دورِ حاضر تک جن چیزوں میں ارتقائی کیفیت دیکھی گئی ہے وہ صرف یہ ہیں :
” جدوجہد کرنے کی قوت، درد و غم کا احساس اور ہیجانات پر ردعمل کی صلاحیت۔ “
ایوان دمیترچ دفعتاً اپنے استدلال کی کڑی کے کھو جانے سے خاموش ہو کر پریشانی سے ماتھا سہلانے لگا۔
”میں کوئی بڑی اہم بات کہنے جا رہا تھا پر ذہن سے نکل گئی“ اس نے کہا۔
”میں کاہے کے بارے میں بات کر رہا تھا؟ ارے ہاں! میں یہ کہنا چاہتا تھا: ایک رواقیت پسند نے اپنے دوست کو آزاد کرانے کے لئے خود کو فروخت کر دیا اور غلام بن گیا تو آپ نے دیکھا ناکہ اس رواقیت پسند نے ہیجان پید اکرنے والی ایک بات پر ردعمل ظاہر کیا کیونکہ کسی دوسرے کے لئے خود اپنی ہستی کو مٹا دینے یا فیاضانہ کارنامہ انجام دینے کے لئے انسان کے سینے میں درد مند دل کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ کبھی مجھے جو کچھ آتاتھا سب کا سب اس قید خانے میں گنوا بیٹھا ورنہ دوسری مثالیں بھی دے دیتا۔ جی چاہے تو حضرت عیسیٰ ہی کی مثال لے لیجیے۔ وہ حقائق پر اپنے ردعمل کا اظہار رو کر، مسکرا کر، سوگ منا کر، آپے سے باہر ہو کر اور غم زدہ ہو کر کیا کرتے تھے۔ وہ تکالیف پر مسکراتے نہیں تھے، موت سے نفرت نہیں کرتے تھے بلکہ گستمنی باغ میں بیٹھے بیٹھے دعائیں مانگتے تھے کہ مصائب دور ہو جائیں۔ “ یہ کہہ کر ایوان دمیترچ ہنس پڑا اور بیٹھ گیا۔
”اچھا فرضکیے لیتے ہیں کہ انسان کو سکون اور اطمینان اپنے وجود کے باہر نہیں بلکہ اندر تلاش کرنا چاہیے۔ “ اس نے کہا۔ ”فرضکیے لیتے ہیں کہ تکالیف سے نفرت کرنا اور کسی بھی بات پر متحیر نہ ہونا درست ہے۔ لیکن اس نظریے کی تبلیغ کا آپ کو کیا حق ہے؟ آپ عاقل ہیں کیا، فلسفی ہیں کیا؟ “
”نہیں، میں فلسفی تو نہیں ہوں لیکن اس نظریے کی تبلیغ ہر شخص کو کرنی چاہیے کیونکہ یہ معقول ہے۔ “
”اوہ، لیکن میں تو یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آخر آپ خودکو ادراک، تکالیف سے نفرت اور ایسی ہی دوسری باتوں کا استاد کیسے تصور کرتے ہیں؟ کبھی تکلیف جھیلی بھی ہے؟ وہم و گمان میں بھی ہے کہ تکلیف کس کو کہتے ہیں؟ اور یہ پوچھنے کے لئے معافی چاہتا ہوں کہ کبھی بچپن میں کوڑے بھی کھائے ہیں؟ “
”نہیں، میرے والدین جسمانی سزا کے مخالف تھے۔ “
”اور میرے والد بڑی بے رحمی سے مجھ پر کوڑے برسایا کرتے تھے۔ وہ ایک افسر تھے، غصے میں بالکل بھوت ہو جایا کرتے تھے، لمبی سی ناک تھی، پیلی پیلی گردن اور بواسیر کا مرض۔ خیر ان کا ذکر جانے دیجئے، بات تو آپ کی ہو رہی تھی۔ مارنا تو دور کی بات، زندگی بھر آپ کو کسی نے چھنگلیا تک نہیں لگائی، کسی نے ڈرایا دھمکایا نہیں، ظلم جبر نہیں کیا۔ طاقت کا یہ حال ہے کہ بالکل پہلوان ہو رہے ہیں۔ اپنے والد کے سائے میں پلے بڑھے، ان کے پیسوں سے تعلیم حاصل کی اور پھر برائے نام کام والی نوکری مل گئی۔ بیس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے کہ آپ ایک گرم اورمنور گھر میں مفت ٹھاٹھ کر رہے ہیں، نوکرانی رکھ چھوڑی ہے اور پورا حق حاصل ہے کہ آپ کا جی جب چاہے تب کام کریں اور نہ چاہے تو بالکل نہ کریں۔ مزاجاً آپ کاہل اور مجہول ہیں اس لئے زندگی کو کچھ ایسے ڈھرے پر لگا لیا ہے کہ کسی قسم کی پریشانی یا غیر ضروری دوڑ دھوپ سے سابقہ ہی نہ پڑے۔ اپنی ساری ذمے داریاں اپنے نائب اور دوسرے بدمعاشوں کے سپرد کر دی ہیں اور خود گھرکے پُرسکون اور گرم ماحول سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، پیسے بچا رہے ہیں، مطالعہ کر رہے ہیں، بھانت بھانت کے اعلا و ارفع بکواس سے ذہن کی ضیافت کا سامان فراہم کر رہے ہیں اور (ایوان دمیترچ نے تیزی سے ڈاکٹرکی سرخ ناک پر نظر ڈالی) مے نوشی کر رہے ہیں۔ مختصریہ کہ آپ نے زندگی کو نہ دیکھا ہے نہ اس کے متعلق کچھ جانتے ہیں اور حقیقت کے بارے میں آپ کی ساری معلومات بس نظریاتی ہی ہیں۔ آپ تکالیف کو حقیر تصور کرتے ہیں، کسی بات پر متحیر نہیں ہوتے تو اس کا سبب بہت آسان سا ہے : آپ کا یہ سارا کھوکھلا پن، زندگی، تکالیف اور موت سے خارجی اور داخلی نفرت، ادراک، حقیقی نعمتیں۔ یہ سارا فلسفہ کسی دوسرے فلسفے کی بہ نسبت روسی کاہل کے لئے زیادہ موزوں ہے۔ مثال کے طور پر آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی کسان اپنی بیوی کو زدو کوب کر رہا ہے۔ مداخلت کی کیا ضرورت؟ مارتا ہے تو مارنے دیجئے، دیر سویر ان دونوں ہی کو دنیا سے اٹھ جانا ہے اور پھر یہ کہ وہ اپنی اس حرکت سے خود اپنا ہی اخلاق بگاڑ رہا ہے، بیوی کا تھوڑی۔ شراب کی لت بے شک احمقانہ اور ناشائستہ ہے لیکن پینے والے اور نہ پینے والے مرتے تو دونوں ہی ہیں۔ کوئی عورت آپ کے پاس دانت کے درد کی شکایت لے کر آتی ہے۔ اچھا، درد ہو رہا ہے تو کیا ہوا؟ درد ہے کیا، محض درد کا تصور اور پھر ہم یہ توقع تو نہیں کرسکتے کہ زندگی میں کبھی بیمار ہی نہ پڑیں گے، مرنا تو ہم سبھی کو ہے اس لئے اے عورت، جا اپنی راہ لے اور مجھے سکون کے ساتھ سوچنے اور مے نوشی کرنے دے۔ کوئی نوجوان آپ کے پاس مشورے کے لئے آتا ہے، جاننا چاہتا ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے، زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔ کوئی دوسرا شخص جواب دینے سے قبل ذرا دیر غور کرے گا لیکن آپ کا جواب تیار رہتا ہے۔ ادراک کی کوشش کرو یا جیساکہ آپ اس بات کو کہتے ہیں، حقیقی نعمت کے حصول کی۔ لیکن آخر یہ پراسرار“ حقیقی نعمت ”ہے کیا؟ ظاہر ہے کہ اس کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں۔ ہم ان آہنی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں، مارے پیٹے جاتے ہیں، پڑے پڑے گل سڑ رہے ہیں مگر یہ سب بہت ہی شاندار اور معقول ہے کیونکہ اس وارڈ اور مطالعے کے گرم کمرے میں کوئی فرق نہیں۔ واقعی بڑے کام کا ہے یہ پاک و صاف ہے اور آپ خود کو صحیح معنوں میں عاقل و فرزانہ تصور کرتے ہیں۔ نہیں، جناب عالی! یہ قطعاً کوئی فلسفہ نہیں، کوئی فکر نہیں، کوئی وسیع الخیالی نہیں۔ یہ تو بس کاہلی ہے، تقدیر پرستی ہے، ذہنی بے حسی ہے۔ جی ہاں، واقعی! “ ایوان دمیترچ ایک بار پھر بڑی تندی و تیزی سے چلایا۔ ”آپ تکالیف کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن اگر آپ کی چھنگلیاں دروازے میں دب جائے تو شاید آپ پوری قوت سے چیخ اٹھیں! “
”اور شاید نہ چیخوں“ اندریئی یفمیچ نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
”ہونہہ، نہ چیخیں گے! اگر اچانک آپ پر فالج گر پڑے یا کوئی بے وقوف یا کوئی لچا بدمعاش اپنے عہدے اور معاشرتی مرتبے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر سب کے سامنے آپ کی پگڑی اچھالے اور آپ جانتے ہوں کہ وہ سزا سے بچ جائے گا تب آپ کی سمجھ میں آ جائے گا کہ لوگوں کو ادراک اور حقیقی نعمتوں کے لئے کوشاں ہونے کا مشورہ دینا کیا معنی رکھتا ہے۔ “
”بڑی جدت ہے آپ کے اس خیال میں“ اندریئی یفمیچ نے ہاتھوں کو ملتے اور خوشی سے ہنستے ہوئے کہا۔ ”میں آپ کی تعظیم کرنے سے متعلق رجحان پر عش عش کرتا ہوں اور ابھی ابھی آپ نے میرے کردار کا جس ذہانت کے ساتھ نقشہ کھینچا ہے اس کاکیا کہنا! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ سے باتیں کرنا سب سے بڑی مسرت ہے۔ خیر، میں آپ کی سن چکا، اب از راہ نوازش میری سنیئے۔ “
ان دونوں کی گفتگو کوئی گھنٹے بھر تک جاری رہی اور اس نے اندریئی یفمیچ کو یقینا بہت زیادہ متاثر کیا کیونکہ اب ہر روز وہ وارڈ نمبر 6 کے چکر لگانے لگا۔ کبھی وہ صبح کو جاتا، کبھی ڈنر کے بعد اور اکثر ایوان دمیترچ سے اس کی گفتگو اتنا طول کھینچتی کہ اندھیرا ہو جاتا۔ پہلے تو ایوان دمیترچ اپنے اور اس کے درمیان ایک طرح کی دیوار سی حائل رکھتا، شک کرتا کہ اس کے دل میں کچھ کھوٹ ہے اور کھلم کھلا کہتا رہتا تھا کہ وہ اسے ناپسند کرتا ہے مگر جلد ہی وہ اندریئی یفمیچ کی صحبت کا عادی ہوگیا اور اپنے سخت لہجے کو نرم طنزیہ لہجے میں بدل دیا۔
جلد ہی سارے اسپتال میں افواہ پھیل گئی کہ ڈاکٹر اندریئی یفمیچ پابندی کے ساتھ وارڈ نمبر 6 میں جانے لگا ہے۔ اس کے نائب نیکیتا اور نرسوں میں سے کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ آخر اس وارڈ میں کیوں جاتا ہے وہاں گھنٹوں کیا کرتا ہے، موضوع گفتگوکیا ہوتا ہے اور کبھی نسخہ کیوں نہیں لکھتا۔ اس کا طرز عمل کچھ عجیب سا لگتا تھا۔ میخائل آویریانچ جب اس سے ملنے آتا تھا تو اکثر وہ گھر سے باہر ہوتا تھا اور واریا کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کیا کرے کیونکہ ڈاکٹر اب نہ صرف یہ کہ پابندی کے ساتھ بیئر نہیں پیتا تھا بلکہ بعض اوقات دن کے کھانے میں بھی تاخیر کر دیتا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

