انتون چیخوف کا شاہکار افسانہ : وارڈ نمبر 6


وہ ہفتے میں دو بار اسپتال جاتا ہے جہاں جہاں مختلف وارڈوں میں گشت لگاتا اور باہری مریضوں کو دیکھتا ہے۔ اسے یہ دیکھ کر سخت غصہ آتا ہے کہ مانع عفونت ادویات بالکل ہیں ہی نہیں اور خون نکالنے کے لئے پیالیوں جیسے گلاسوں کی افراط ہے لیکن وہ کوئی نیا طریقہ اس ڈر سے رائج نہیں کرتا کہ اندریئی یفمیچ کہیں بُرا نہ مان جائے۔ اسے یقین ہے کہ اس کا ساتھی اندریئی یفمیچ بے ایمان ہے، شک کرتا ہے کہ اس نے کافی دولت جمع کر رکھی ہوگئی اور دل ہی دل میں اس پر بھی رشک کرتا ہے۔ وہ اندریئی یفمیچ کو ہٹا کے بڑی خوشی کے ساتھ اس کی جگہ لینے کو تیار ہے۔

بہار آچکی تھی، مارچ کے آخری ایام تھے اور شام کا وقت۔ برف زمین سے غائب ہوچکی تھی، اسپتال کے احاطے میں مینائیں چہچہا رہی تھیں اور ایسے میں ڈاکٹر اپنے پوسٹ ماسٹردوست کو رخصت کے لئے پھاٹک تک گیا۔ عین اسی وقت، یہودی موئے سیکاجو اپنی ایک عام گشت سے واپس آ رہا تھا، پھاٹک میں داخل ہوا۔ برہنہ، سر، ننگے پیروں میں جوتوں کے اوپر پہننے کے صرف ربڑ کے جوتے اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تھیلا جس میں بھیک کے طور پر ملی ہوئی چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔

”ایک کوپیک دے دو نا! “ اس نے سردی سے کانپتے ہوئے لیکن مسکراہٹ کے ساتھ ڈاکٹر سے کہا۔

اندریئی یفمیچ نے جسے انکار کرنا آتا ہی نہ تھا، اسے دس کوپیک کا سکہ دے دیا۔

”کتنا تکلیف دہ ہے! “ اس نے یہودی کی ننگی ٹانگوں اور ہڑیلے، کھردرے ٹخنوں کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ ”ایسے نم اور سرد موسم میں۔ “

وہ رحم اور کراہت کے ملے جلے جذبے کے تحت یہودی کا اس کے گنجے سر سے ٹخنوں تک جائزہ لیتا ہوا اس کے پیچھے پیچھے وارڈ نمبر 6 کے پاس تک آگیا۔ ڈاکٹر کے اندر قدم رکھتے ہی نیکیتا کوڑے کباڑ کے ڈھیر سے اچھل کے اترا اور سیدھا کھڑا ہوگیا۔

”شام بخیر، نیکیتا“ اس نے اپنی مخصوص نرم لہجے میں کہا۔

”کیوں نہ اس یہودی کو لانگ بوٹ یا کچھ اور دے دیا جائے۔ اسے سردی لگ سکتی ہے۔ “

”بہت اچھا، جناب عالی! میں سپرنٹنڈنٹ صاحب سے عرض کروں گا۔ “

”ہاں ضرور! میرا نام لے لینا۔ کہنا کہ میں نے یہی کہا ہے۔ “

گزرگاہ سے وارڈ کے اندر جانے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ایوان دمیترچ اپنے پلنگ پر کہنی کی ٹیک لگائے لیٹا ہوا غیر مانوس آواز کو بڑی تشویش کے ساتھ سن رہا تھا۔ دفعتاً اس نے ڈاکٹر کو پہچان لیا، غصے کے مارے تھرتھر کانپتا ہوا اچھل کے نیچے اترا اور دوڑ کے وارڈ کے وسط میں پہنچ گیا۔ چہرہ لال بھبوکا ہو رہا تھا اور آنکھیں جیسے باہر نکلی آ رہی تھیں۔

”ارے ڈاکٹر آ گیا! “ وہ چلایا اور قہقہہ مار کے ہنس پڑا۔ ”آخر کار آ ہی گیا! میں آپ صاحبان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ کتنی عنایت کی ڈاکٹر نے جو ہمیں دیکھنے آگیا! لعنت ہو بدمعاش پر! “ اس نے ایسی غضبناکی سے جو وارڈ میں پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی گئی تھی، فرش پر پاؤں پٹختے ہوئے زور دار چیخ ماری۔ ”مار ڈالو، کمبخت کو! نہیں نہیں، مار ڈالنا تو بہت ہی کم ہوگا! اسے پاخانے میں ڈال دو! “

اندریئی یفمیچ نے دروازے کے پاس پہنچ کر اندر جھانکتے ہوئے دھیرے سے پوچھا:

”کاہے کے لئے؟ “

ایوان دمیترچ قہر آلود نگاہوں کے ساتھ اس کی طرف بڑھا اور اپنے کانپتے جسم پر لبادے کو سمیٹتے ہوئے چلایا : ”کاہے کے لئے؟ چور کہیں کا! “ اس نے نفرت بھرے لہجے میں کہا اور ہونٹوں کو یوں سکوڑا جیسے تھوکنا چاہتا ہو۔ ”عطائی! جلاد! “

”آپ مشتعل نہ ہوں“ اندریئی یفمیچ نے معذرتی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔

”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ زندگی میں چوری کبھی نہیں کی اور جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے تو شاید آپ بہت زیادہ مبالغے سے کام لے رہے ہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں۔ ذرا پُرسکون ہونے کی کوشش کیجئے اور غصے گرمی کے بغیر بتائیے، آخر اتنی برہمی کا سبب کیا ہے؟ “

”اس لئے کہ آپ بیمار ہیں۔ “

”جی ہاں، میں بیمار ہوں۔ لیکن سینکڑوں ہی پاگل آزاد پھر رہے ہیں جس کا سبب صرف یہ ہے کہ آپ اپنی جہالت کی بناءپر ان میں اور صحت مند انسانوں میں کوئی تمیز نہیں کر پا رہے ہیں تو پھر آخر میں اور یہ بدبخت لوگ دوسروں کے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے قربانی کے دوسرے بہت سے بکروں کی طرح یہاں کیوں قید رہیں؟ خود آپ، آپ کا نائب، آپ کا انسپکٹر۔ اسپتال کی کمینوں کی یہ ٹولی ہم میں سے کسی کے بھی مقابلے میں اخلاقی طور پر انتہائی پست ہے۔ تو پھر آخر یہاں ہم کیوں ہیں، آپ کیوں نہیں؟ بھلا یہ کہاں کی معقولیت ہے؟ “

”اخلاقی اقدار اور معقولیت کا اس معاملے سے ذرا بھی تعلق نہیں۔ ہر شے کا انحصار محض اتفاق پر ہے۔ جو لوگ یہاں لائے جاتے ہیں، یہاں رہتے ہیں اور جو نہیں لائے جاتے وہ اپنی آزادی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ ہے سارا قصہ۔ اس حقیقت میں کہ آپ دماغی مریض ہیں اور میں ڈاکٹر، یہ اخلاقیات کا ہاتھ ہے نہ معقولیت کا، اتفاق کے سوا اور کسی شے کا بھی ہاتھ نہیں۔ “

”اس طرح کی بکواس میری سمجھ میں نہیں آتی۔ “ ایوان دمیترچ نے اپنے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے کھوکھلی آواز میں کہا۔

موئے سیئکا نے جس کی ڈاکٹر کی موجودگی میں تلاشی لینے کی نیکیتا کو ہمت نہیں پڑی تھی، اپنے روٹی کے ٹکڑے، کاغذ کے ٹکڑے اور ہڈیاں اپنے پلنگ پر پھیلا دیں اور اب بھی سردی سے کپکپاتے ہوئے یہودیوں کی زبان میں گانے جیسے انداز سے خود کلامی شروع کر دی۔ شاید وہ سوچ رہا تھا کہ کوئی دوکان کھول دی ہے۔

”مجھے یہاں سے چلے جانے دیجئے! “ ایوان دمیترچ نے بھرائی ہوئی آواز سے کہا۔

”یہ تو میں نہیں کرسکتا۔ “

”کیوں نہیں کرسکتے؟ آخر کیوں؟ “

”کیونکہ یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ اپنے آپ سے پوچھئے کہ میں آپ کو چھوڑ دوں تو فائدہ کیا ہوگا؟ فرض کیجئے کہ میں آپ کو جانے دیتا ہوں تب بھی تو قصبے کے لوگ اور پولیس والے پکڑ کے یہیں واپس لے آئیں گے۔ “

”ہاں ہاں، یہ سچ ہے۔ “ ایوان دمیترچ نے ماتھا سہلاتے ہوئے کہا۔ ”عجیب بھیانک چکر ہے! تو پھر کیا کروں؟ بتائیے نا، کیا کروں؟ “

اس کی آواز اور نوجوانوں جیسے چہرے نے جس سے اس کے منہ بنانے کے باوجود ذہانت ٹپکتی تھی، اندریئی یفمیچ کو متاثر کر دیا۔ وہ اس نوجوان سے تسلی کے دو لفظ کہنے اور اس کی پریشانی کم کرنے کے لئے بے چین ہو اٹھا۔ آخر اس نے ایوان دمیترچ کے پاس پلنگ پر بیٹھ کر چند لمحوں تک غور کرنے کے بعد کہا:

”آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے؟ بہترین صورت تو بس یہی ہوگی کہ آپ یہاں سے بھاگ کھڑے ہوں۔ لیکن افسوس کہ اس سے کچھ ہونے ہوانے کا نہیں۔ آپ کو پکڑ لیا جائے گا۔ جب معاشرہ مجرموں، دماغی مریضوں اور پریشان کرنے والے دوسرے افراد سے خود کو محفوظ رکھنے کا تہیہ کر لیتا ہے تو پھر اسے ایسا کرنے سے کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی۔ اب آپ کے لئے صرف ایک ہی راستہ کھلا رہ جاتا ہے۔ خود کو اس حقیقت سے ہم آہنگ کر لیجیے کہ یہاں آپ کی موجودگی ضروری ہے۔ “

”چونکہ قید خانوں اور پاگل خانوں جیسی جگہیں موجود ہیں اس لئے ایسے افراد بھی درکار ہیں جو انہیں بھر سکیں۔ آپ نہ ہوں گے تو میں ہوں گا، میں نہ ہوں گا تو کوئی اور ہوگا۔ انتظار کیجئے، مستقبل بعید میں جب نہ قید خانے ہوں گے نہ پاگل خانے تو آہنی سلاخ دار کھڑکیوں اور اسپتالی لبادوں کا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔ وہ زمانہ دیر سویر آکر ہی رہے گا۔ “

ایوان دمیترچ کے ہونٹوں پر نفرت بھری مسکراہٹ بکھر گئی۔

”آپ تو مذاق پر اتر آئے“ اس نے اپنی آنکھوں کو ذرا بھینچتے ہوئے کہا۔ ”خود آپ اور آپ کے اس معاون نیکیتا جیسے صاحبان کے لئے مستقبل کیا معنی رکھتا ہے؟ لیکن یقین کیجئے، جناب والا کہ بہتر زمانہ آئے گا ضرور! میرے خیالات ہوسکتا ہے کہ دقیانوسی ہوں، ہوسکتا ہے کہ آپ کو ہنسی آ جائے لیکن نئی زندگی کی صبح اپنی تمام آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگی، سچائی کا بول بالا ہوگا اورہم بھی اجالے کو دیکھیں گے! میں تو اسے نہ دیکھ سکوں گا، اس وقت تک دنیا سے کوچ کرچکا ہوں گا مگر دوسروں کے پڑ پوتے اسے دیکھیں گے۔ میں ان سب کا خلوص دل سے خیر مقدم کرتا ہوں اور خوش ہوں کہ ان کے دن پھر جائیں گے! آگے بڑھیئے! خدا آپ کا حامی و ناصر ہو، دوستو! “

ایوان دمتیرچ نے جس کی آنکھیں چمک اتھی تھیں، اٹھ کر کھڑکی کی طرف اپنے بازو پھیلا دیے اور ہیجانی لہجے میں اپنی بات جاری رکھی۔

”ان سلاخوں کے پیچھے سے میں آپ کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہا ہوں! سچائی زندہ باد! میں خوشی منا ہوں! “

”مجھے تو خوشی منانے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا“ اندریئی یفمیچ نے کہا جسے ایوان دمتیرچ کی یہ بے پایاں مسرت قدرے تصنع آمیز معلوم ہوئی پھر بھی اس کے لئے اس نے مریض کو پسند ہی کیا۔

”قید خانے اور پاگل خانے تو یقینا نہ ہوں گے اور سچائی کا جیسا کہ آپ کو کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے، بول بالا ہوگا لیکن کوئی بنیادی تبدیلی نہ ہوگی، قوانینِ قدرت بالکل ایسے ہی رہیں گے۔ لوگ آج ہی کی طرح کل بھی بیمار پڑیں گے، بوڑھے ہوں گے اور دنیا سے اٹھ جائیں گے۔ طلوعِ سحر آپ کی زندگی کو کتنی ہی آب و تاب کے ساتھ منور کیوں نہ کرے، انجام یہی ہوگا کہ آپ تابوت میں بند کرکے زمین کے تنگ گڑھے میں ڈال دیے جائیں گے۔ “

”اور حیاتِ ابدی کے متعلق کیا خیال ہے؟ “

”محض بکواس! “

”آپ اس میں یقین نہیں رکھتے لیکن میں تو رکھتا ہوں۔ دوستوئیفسکی یا شاید والٹیر کے کسی کردار نے کہا تھا کہ خدا نہ ہوتا تو انسانوں نے اسے ایجاد کر لیا ہوتا اور مجھے کامل یقین ہے کہ اگر حیاتِ ابدی جیسی کسی شے کا وجود نہیں ہے تو عظیم انسانی ذہن دیر سویر اسے ایجاد کر لے گا۔ “

”کیا خوب کہا! “ اندریئی یفمیچ خوش ہوکے مسکراتے ہوئے پکار اٹھا۔ ”کتنی اچھی بات ہے کہ آپ اعتقاد رکھتے ہیں۔ آپ کے جیسے اعتقاد والا آدمی قید خانے میں بھی خوش رہ سکتا ہے۔ کیا آپ نے کہیں تعلیم حاصل کرنے کی بھی زحمت کی تھی؟ “

”جی ہاں، میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا لیکن تعلیم مکمل نہ کرسکا۔ “

”آپ غور و فکر کرنے والے انسان ہیں۔ آپ توکیسے بھی کٹھن حالات میں کیوں نہ ہوں، اپنے افکار و خیالات کی دنیا میں سکون اور اطمینان حاصل کرسکتے ہیں۔ زندگی کے مکمل ادراک کے لئے آزاد اور گہری فکر اور ساتھ ہی ساتھ دنیا کی احمقانہ دوڑ دھوپ سے شدید نفرت۔ یہ ایسی نعمتیں ہیں جن سے بہتر ابھی تک کبھی بھی انسان کو میسر نہیں ہوئیں۔ اور آپ دنیا کی تمام سلاخ دار کھڑکیوں کے باوجود ان نعمتوں کو حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈیوگیس لکڑی کے پیپے میں رہتا تھا مگر بادشاہوں سے زیادہ خوش و خرم۔ “

”آپ کا ڈیوگیس گدھا تھا“ ایوان دمتیرچ نے بیزاری سے کہا۔ ”یہ آپ ڈیوگیس اور کسی نہ کسی شے کے ادراک کے بارے میں مجھ سے کیوں باتیں کر رہے ہیں؟ “ اس نے دفعتاً چراغ پا ہو کر تیزی سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ ”میں زندگی سے محبت کرتا ہوں، شدید محبت! میں مسلسل اذیت دیے جانے کے خبط کا شکار ہوں، پریشان کن خوف مجھے مسلسل تڑپاتے رہتے ہیں لیکن ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب زندگی کی تڑپ مجھے مغلوب کر دیتی ہے اور تب ڈر لگتا ہے کہ کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔ میں جینے کی آرزو رکھتا ہوں، کتنی شدید آرزو! “

اس نے اپنی ہیجانی حالت میں کمرے کو پار کیا اور آواز دھیمی کرتے ہوئے بولا:

”کبھی کبھی مجھے خوابوں میں بھوت نظر آتے ہیں۔ لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں، لوگوں کی آوازیں اور موسیقی میرے کانوں میں گونجنے لگتی ہیں اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی جنگل میں یا ساحل سمندر پر کھڑا ہوا ہوں اور میں زندگی کی چہل پہل کے لئے، فکروں کے لئے بے تاب ہو اٹھتا ہوں۔ مجھے بتائیے نا، وہاں کیا ہو رہا ہے؟ “ اچانک اس نے پوچھا۔

”باہری دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ “

”آپ ہمارے قصبے کے متعلق جاننا چاہتے ہیں یا عام دنیا کے متعلق؟ “

”پہلے قصبے کے متعلق بتائیے پھر دنیا کے عام حالات۔ “

”بہت خوب۔ قصبے کے شب و روز وبال جان ہیں۔ ایک بھی شخص تو ایسا نہیں جس سے باتیں کرنے یا جس کی باتیں سننے کو جی چاہے۔ نئی صورتیں تک نظر نہیں آتیں۔ ویسے ایک نوجوان ڈاکٹر خوبوتوف البتہ ابھی حال میں آئے ہیں۔ “

”ہاں، وہ میرے سامنے ہی آیا تھا۔ گنوار ہے نا؟ “

”ہاں، کوئی خاص مہذب آدمی نہیں ہیں۔ عجب مضحکہ خیز صورتِ حال ہے۔ جو کچھ سننے میں آتا ہے اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے مرکزی علاقے جمود کا شکار نہیں ہیں ہیں، دانش ورانہ سرگرمیاں جاری ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں کھرے افراد ضرور ہوں گے مگر وہ لوگ جنہیں ہمارے ہاں بھیجتے ہیں وہ بس کھوتے ہی سے ہوتے ہیں۔ بدبخت قصبہ! “

”واقعی بدبخت! “ ایوان دمتیرچ نے ٹھنڈی سانس بھری اور ہنس پڑا۔

”اور دنیا کا کیا حال ہے؟ اخباروں رسالوں میں کیا کیا چھپ رہا ہے؟ “

وارڈ میں اندھیرا پھیل چکا تھا۔ ڈاکٹر اٹھا اور اس نے کھڑے کھڑے روسی اور غیر ملکی اخباروں کی خبریں اور جدید فکر کے رجحانات سے متعلق کچھ باتیں بتائیں۔ ایوان دمتیرچ نے بیچ بیچ میں ایک آدھ سوال پوچھتے ہوئے یہ سب کچھ بڑے غور سے سنا اور پھر اچانک جیسے کوئی بھیانک بات یاد آگئی ہو، دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما اور ڈاکٹر کی طرف پیٹھ کرکے پلنگ پر لیٹ گیا۔

”کیا کچھ طبیعت خراب ہوگئی؟ “ اندریئی یفمیچ نے پوچھا۔

”اب آپ مجھ سے ایک لفظ بھی نہ اگلوا سکیں گے! “ ایوان دمیترچ نے درشتی سے کہا۔ ”مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے! “

”کیوں، کیا بات ہے؟ “

”میں کہہ رہا ہوں، مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے! کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں؟ “

اندریئی یفمیچ نے شانے اچکاتے ہوئے ٹھنڈی سانس بھری اور وارڈ سے چلا آیا۔ باہر نکلنے سے قبل اس نے گزر گاہ میں کہا:

”ارے نیکیتا، بہتر ہوگا کہ یہاں کچھ صفائی کر دی جائے۔ کیسی بدبو پھیلی ہوئی ہے! “

”بہت اچھا، جناب عالی! “

”اچھا نوجوان ہے“

”اچھا نوجوان ہے“ اندریئی یفمیچ نے گھر جاتے وقت راستے میں سوچا۔ ”اتنے برسوں کے بعد یہ پہلا شخص ملا ہے جس سے میں باتیں کرسکتا ہوں۔ بڑی سوجھ بوجھ کے ساتھ باتیں کرتا ہے اور اسے صرف انہی چیزوں سے دلچسپی ہے جو قابلِ توجہ ہیں۔ “

اس روز رات کو مطالعے کے دوران اور بعد میں بستر پر بھی وہ ایوان دمیترچ ہی کے بارے میں سوچتا رہا اور اگلی صبح کو بیدار ہونے پر اسے یاد آیا کہ ایک ذہین اور دلچسپ شخص سے اس کی شناسائی ہوگئی ہے اور اس نے موقع پاتے ہی اس سے ملاقات کے لئے دوبارہ جانے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10