’میری اہلیہ نے مجھے دس سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بنایا‘

وکٹوریہ زہان، یانا گریبوسکیا اور ڈینس کورولیو - بی بی سی نیوز، یوکرین اور رشیئن سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کی شکایات خواتین کی جانب سے آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک تہائی خواتین اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

اس کے مقابلے میں شاذ و نادر ہی ایسا واقعہ سننے کو ملتا ہے جس میں کسی مرد پر جسمانی یا جنسی حملہ کیا گیا ہوتا ہے۔

مردوں کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات اور ان کے بارے میں بات کرنا معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس کے شکار مردوں کو اکثر اپنی مشکلات اکیلے ہی جھیلنی پڑتی ہیں۔

یوکرین سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی سے اپنی کہانی سنائی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے چند ماہرین سے بھی اس موضوع پر بات کی کہ اگر کسی مرد کے ساتھ ایسا ہو رہا ہو تو وہ کیا کرے۔

پہلا واقعہ

مجھے نہیں معلوم میرے دوستوں کو اس بات کا شک ہوا تھا یا نہیں۔ باہر سے دیکھنے میں تو ہر چیز اچھی لگ رہی تھی۔ مسکراتے چہرے، دوست احباب، بہت سارا پیسہ، خوشیاں اور پر اعتمادی۔ ہم نے تو آدھی دنیا کا سفر بھی ساتھ کیا تھا۔

جب ہم سفر کر رہے ہوتے تھے تو مجھے اس سے ڈر محسوس نہیں ہوتا تھا۔ وہ مجھے دوسروں کے سامنے تکلیف نہیں دیتی تھی۔ مگر سب سے ضروری تھا کہ میں اس کے ساتھ اکیلے ہونے سے خود کو بچاؤں۔ مجھے اتنے طویل عرصے کے بعد اب جا کر احساس ہوا ہے کہ میری سابقہ بیوی نے مجھے دس سال تک ریپ کیا۔

میری زندگی میں پہلی عورت ارا ہی تھی۔ ہم دونوں کی ملاقات اس وقت ہوئی جب ہم 20، 22 برس کے تھے۔ اس نے ہی میری طرف محبت کا پیغام بھیجا تھا۔ میرے والدین نے کہا تھا کہ تم اگر کسی کے ساتھ تعلق قائم کرو گے تو تمہیں گھر چھوڑنا ہوگا۔ اس کا مطلب تھا کہ اگر میں کسی کے ساتھ ہوتا ہوں تو مجھے اپنے خاندان سے دور ہونا پڑے گا اور اپنے سر سے چھت کھونی پڑے گی۔ گویا ایک دن کے اندر میں اپنا سب کچھ کھو دوں گا۔ یہ میرے لیے بہت پریشان کن بات تھی۔ میں کسی کے ساتھ صرف اسی وقت تعلق قائم کر سکتا تھا جب میں مالی طور پر الگ رہنے کے قابل ہو جاؤں۔

احساسِ کمتری

اس سے بھی بڑھ کر مسئلہ تھا کہ میری ماں کو میری جسمانی ہیت پر شرمندگی تھی اور اس کی وجہ سے میں سخت احساس کمتری کا شکار تھا۔

میں نے پہلی بار جنسی تعلق ارا کے ساتھ ہی قائم کیا اور میں ایسا کرنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ میرے لیے باعث تسکین نہیں تھا بلکہ جارحانہ اور تکلیف دہ تھا۔ جب ہم نے پہلی بار ہم بستری کی تو وہ پانچ گھنٹہ تک جاری رہا اور اس کے ختم ہونے پر میرے پورے جسم میں تکلیف تھی۔

سیکس کا مقصد ہوتا ہے تسکین حاصل کرنا لیکن میرے لیے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ مجھے کوئی تجربہ بھی نہیں تھا اور مجھے لگا کہ یہ بس ایسے ہی ہوتا ہے تو میں نے بھی منع بھی نہیں کیا۔

لیکن پھر ایک وقت آیا جب میں نے منع کرنا شروع کیا، مگر وہ پھر بھی نہیں رکی۔ یہ وہ موقع تھا جب ہمارا تعلق ریپ میں بدل گیا۔

مجھے ایک بار کام کے سلسلے میں بیرون ملک جانا تھا۔ مجھے ارا کو کھونے کا خوف تھا تو میں نے اس سے کہا کہ میرے ساتھ چلو۔ میں نے تو یہ بھی کہا کہ ہم شادی کر لیتے ہیں۔ اس نے شروع میں تو منع کیا لیکن پھر میرے ساتھ چلنے پر راضی ہو گئی۔

اس وقت سارا معاملہ شروع ہوا۔

میں تھکن سے چور تھا اور آرام کرنا چاہتا تھا لیکن اس نے سیکس کا مطالبہ کیا۔ میں ایک بار راضی ہوا، دو بار ۔۔۔ وہ کہتی ‘مجھے اور چاہیے۔ مجھے اور طلب ہے، تمہیں کرنا ہوگا، میں کب سے انتظار کر رہی ہوں۔’ میں اس کو جواب میں کہتا کہ نہیں میں نہیں کر سکتا، مجھے آرام کرنا ہے، میں تھک گیا ہوں۔’

اس پر وہ مجھے مارتی اور میں اسے روکنے سے قاصر تھا۔ وہ میری جلد کو اپنے ناخن سے رگڑتی جب تک کے اس سے خون نہ نکل آتا۔ وہ مجھے مکے مارتی تھی، لیکن وہ کبھی میرے چہرے پر نشان نہیں چھوڑتی تھی۔ وہ صرف وہاں پر تشدد کرتی جو کپڑوں سے چھپ سکتا تھا۔ میں اسے روک نہیں سکا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ ایک عورت کو مارنا جارحیت ہے اور غلط ہے۔ میرے والدین نے میری ایسی تربیت نہیں کی تھی۔

میں خود کو کمزور محسوس کر رہا تھا اور اس کے چنگل سے نکلنے میں ناکام تھا۔ اس کو وہ سب مل رہا تھا جس کی اسے خواہش تھی اور وہ ہمیشہ مجھ پر حاوی ہوتی تھی۔ میں نے کوشش کی کہ اپنے لیے ہوٹل میں الگ کمرہ لوں لیکن میں وہاں کی مقامی زبان نہیں سمجھ سکتا تھا اور پھر میں پھنس گیا۔ میں کام مکمل ہونے کے بعد ہوٹل جاتے ہوئے خوفزدہ ہوتا تھا اور میں شاپنگ مال میں گھومتا رہتا جب کہ تک وہ بند نہ ہو جائیں۔ اس کے بعد میں شہر میں آوارہ گردی کرتا۔

وہ خزاں کا موسم تھا اور ٹھنڈ بڑھ رہی تھی اور بارش بھی ہو رہی تھی اور میں اپنے ساتھ گرم کپڑے بھی نہیں لایا تھا۔ ان تمام چیزوں کی وجہ سے پھر مجھے مثانے کی نالی میں انفیکشن ہو گیا اور بخار۔ لیکن اس کے باوجود ارا نہیں رکی۔ مجھے وہ سب کرنا تھا جو اس کا مطالبہ تھا۔ ہفتے کے آخری دن سب سے تکلیف دو ہوتے تھے۔ وہ ہفتے کے روز صبح شروع کرتی اور اتوار کی رات تک کرتی رہتی۔ میں نے گن گن کر دن گزارے کہ کب میں یوکرین لوٹوں گا۔ میں سمجھا کہ شاید اس سے ہمارا رشتہ ختم ہو جائے گا لیکن میں غلط تھا۔

میں نے چھوڑنے کی کوشش کی لیکن ہار گیا

میں اپنے والدین کے ساتھ رہنے واپس چلا گیا اور ایرا کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھنے چاہتا تھا، اس کے ساتھ رہنا تو دور کی بات تھی۔ لیکن میری سارے بندھن توڑ کر آزاد ہوجانے کی کوششیں کئی سال تک چلتی رہی۔ ہم لڑتے، میں اپنا فون بند کر دیتا اور اسے ہر جگہ بلاک کردیتا۔ میں چھپ جاتا لیکن وہ آکر بند دروازے کے دوسری طرف بیٹھ جاتی۔ وہ مجھے فون کرتی اور وعدہ کرتی کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اور میں ہر بار اس کے پاس واپس آجاتا۔ مجھے تنہا ہونے سے بہت ڈر لگتا تھا۔

میں نے شروع میں اسے چھوڑنے کی بہت کوشش کی، پھر کم، اور بالآخر میں نے کوشش کرنا بھی چھوڑ دیا۔ اس نے اصرار کیا کہ ہم شادی کر لیں، اور ہم نے شادی کر لی، حالانکہ میں اب یہ نہیں چاہتا۔ ایرا سب سے پر شک کرتی تھی: میرے دوست، میرے خاندان۔ میں جہاں بھی جاتا مجھے ہمیشہ اسے فون کرنا پڑتا۔ ‘مجھے ان کانفرنسز میں کیوں شرکت کرنا ہے؟’ ‘مجھے دوستوں سے کیوں ملنا ہے؟ مجھے ہر وقت اس کی پہنچ میں رہنا تھا۔ وہ میرے بغیر کہیں نہیں جا سکتی تھی۔ میں اس کے لیے کوئی کھیل تھا کہ مجھے ہر وقت اس کی تفریح کا سامان کرنا ہے۔

ایرا کے پاس نوکری نہیں تھی، میں ہم دونوں کے لیے کماتا، کھانا پکاتا اور صفائی کرتا۔ ہم نے ایک بہت بڑا اپارٹمنٹ کرایہ پر لیا جس میں دو باتھ روم تھے۔ مجھے مین باتھ روم استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا اور مجھے ‘مہمان’ والا باتھ روم استعمال کرنا پڑتا تھا۔ ہر صبح مجھے نو یا 10 بجے تک اس کے اٹھنے تک انتظار کرنا پڑتا ورنہ میں اس کی نیند میں خلل ڈالنے کا مرتکب ہو جاتا۔

اس نے فیصلہ کیا کہ ہمیں مختلف کمروں میں سونا چاہیے اور میرے کمرے میں کوئی تالا نہیں ہو۔ میں کبھی تنہا نہیں ہوسکتا تھا۔

جب بھی مجھ سے ‘کوئی غلطی’ ہو جاتی تو مجھ پر چیختی اور مجھے مارتی پیٹتی۔ اور ایسا روزانہ یا کم از کم دو دن میں ایک بار تو ضرور ہوتا تھا۔

جو کچھ بھی ہوتا وہ اس کے لیے مجھے مورد الزام ٹھہراتی۔ میں سنتا رہتا کہ اسے کس طرح کے مرد کی ضرورت ہے، اسے کیا اور کس طرح کرنا چاہیے۔ میں لاچار تھا اور وہ جو بھی کہتی وہ کرتا تاکہ اس کے غصے سے بچا رہوں کیونکہ وہ کبھی بھی پھوٹ پڑتا تھا۔ مجھے سیڑھیوں سے نیچے جاکر کار میں بیٹھ کر اپنا رونا یاد ہے۔ وہ وہاں سے گزری اور اس نے مجھے دیکھ لیا۔ جب میں گھر واپس آیا تو اسے میرے لیے بہت افسوس ہے لیکن وہ خود کو روک نہیں سکی تھی۔ لہذا اگلے دن سب کچھ دوبارہ سے شروع ہوجاتا۔ اس سے قطع نظر کہ میں نے کیا کیا اور کتنا خوفزدہ محسوس کیا کچھ بھی نہیں بدلا۔

میں بھی کامل نہیں ہوں۔ اس سب سے بچنے کے لیےمیں دن میں 10، 12، 14 گھنٹے کام کرتا تھا یہاں تک کہ سنیچر اور اتوار کو بھی کام کرتا۔ یہ آسان تھا کیونکہ کچھ لوگ پیتے ہیں اور کچھ کام کرتے ہیں۔

تشدد کا نشانہ بننے والے اپنا استحصال کرنے والے کو کیوں نہیں چھوڑتے؟

  • جو لوگ ایسے خاندان میں پرورش پاتے ہیں جہاں تشدد ہوتا ہے وہ اپنے خاندان میں اپنے والدین کے طرز عمل کو دوبارہ پیش کرتے ہیں۔
  • تنہائی اور دقیانوسی تصورات کا خوف: ‘پڑوسی کیا کہیں گے؟’ یا ‘کیا ایک بچے کو دو والدین کے ساتھ بڑا ہونا چاہیے۔’
  • پہلا مرحلہ نفسیاتی بدسلوکی کا ہے جسے سمجھنا مشکل ہے۔ لہذا ، بدسلوکی کا شکار شخص آہستہ آہستہ اس کا عادی ہوجاتا ہے اور صورتحال کا اندازہ کرنے اور کے خلاف رد عمل ظاہر کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔
  • تشدد کے شکار شخص کو کہیں جانے کے لیے جگہ نہیں ہوتی، وہ استحصال کرنے والے پر معاشی طور پر م منحصر ہوتا ہے یا کسی کمزور حالت میں ہوتا ہے (جیسے حمل یا کم عمر بچوں کے ساتھ)۔
  • یہ جب حکام سے مدد مانگتے ہیں تو انھیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ ‘خانگی مسئلہ’ ہے اور اس لیے وہ چھوڑ دیتے ہیں۔

لا اسٹراڈا-یوکرین نیشنل ہاٹ لائن ڈپارٹمنٹ کی سربراہ الایونا کرایوولیاک اور صنفی بنیاد پر پیدا ہونے والے تشدد کی روک تھام اور ان کے تدارک سے متعلق اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی مشیر اولینا کوچیومروسوکا نے مندرجہ بالا اور دیگر وجوہات کا ذکر کیا ہے

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 13423 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp