ڈرٹی نیلی کی گیبریلا اور مردوں کی محبت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈرٹی نیلی سڈنی یونیورسٹی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس سے میری دوسری ملاقات ڈرٹی نیلی میں ہوئی تھی۔ ڈرٹی نیلی سڈنی کا مشہورآئرش پب ہے۔ آئرلینڈ کا ماحول، آئرش طرز پر بیٹھنے کا انتظام، آئرلینڈ کی مشہور سیاہ گنیز بیئر اور ساتھ میں آئرلینڈ کی ہی باغی اور لوک موسیقی۔ روز شام کے وقت یہاں کوئی نہ کوئی آئرلینڈ کے گانے سنایا جا رہا ہوتا ہے، آئرش لوک گانے اور آئرش باغی ترانے ان کا اپنا ایک مزا اور مزاج ہے۔ جام چڑھاتے ہوئے ”سلونچے“ کے نعرے کے ساتھ گلاس سے گلاس ٹکراتے ہوئے جب یہ گانے شروع ہوتے ہیں تو دل دھڑک دھڑک جاتا ہے۔ آئرلینڈ جگہ ہی ایسی ہے، ڈرٹی نیلی سڈنی کا چھوٹا سا آئرلینڈ ہے۔

میں آئرش نہیں تھا صرف آئرلینڈ میں دس بھرپور سال گزارے تھے، پہلے دن سے ہی میں آئرلینڈ کی خوبصورتی اور آئرش لوگوں کی روایتی محبت کا اسیر ہوگیا تھا۔ میرے آئرلینڈ پہنچنے کی کہانی بھی تھوڑی عجیب سی ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کرنے کے بعد میں نے سوچا کہ لندن سے مزید تعلیم حاصل کروں اور اگر لندن سے آگے امریکا جانے کا موقع مل گیا تو مزید وہاں پڑھوں گا، وہاں آباد ہو جاؤں گا۔ مگر ہوا یہ کہ مجھے انگلینڈ کا ویزا تو مل گیا مگرانگلینڈ جا کر پتا لگا کہ ماسٹرز کے لیے جتنی فیس کی ضرورت ہے وہ میرے پاس نہیں ہے۔

پاکستان سے تو بہت تھوڑی رقم لے کر آیا تھا لہٰذا میں نے غیرقانونی طور پر ایک پاکستانی قصاب کے دکان پر کام کرنا شروع کر دیا۔ عام طور پر غیر قانونی کام میں پیسے کم ملتے ہیں مگر بریکسٹن کے اس پاکستانی کی اسلامی دکان میں غیرقانونی طور پر کام کرنے کے باوجود مجھے مناسب پیسے مل رہے تھے۔ یہ مجھے بعد میں پتا چلا کہ اس دکان پر گوشت بھی صحیح معنوں میں حلال ہی ملتا تھا۔ انگلینڈ اور یورپ میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ دکان پر تو حلال لکھا ہوتا ہے کہ لیکن دکان سے حلال کے نام پر ہر قسم کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ گوشت مقامی بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور سے آتا ہے اور حلال دکان میں پیچھے کے دروازے سے داخل ہوتے ہی ذبیح بن جاتا ہے۔ مسلمانوں کا یہ دوغلاپن ایک عام سی بات ہے، پیسے کے لیے یہ سب کچھ کرلیتے ہیں بے چارے یہودیوں کو تو شیکسپیئر نے خواہ مخواہ بدنام کیا ہے۔ لیکن اس دکان کا مالک مسلمان بھی تھا اور اچھا انسان بھی، وہاں گوشت صحیح معنوں میں حلال تھا اور مجھے وہ پیسے بھی مناسب دیتے تھے۔

ان کا گوشت آئرلینڈ سے آتا تھا، آئرلینڈ میں کاسل بار شہر کے قریب کسی مسلمان نے حلال گوشت کا کارخانہ لگایا تھا جہاں جانور حلال طریقے سے ذبح ہوتے تھے اور ان کا گوشت ڈبوں میں بند کرکے لیبیا بھیجا جاتا تھا۔ وہاں پر کام صفائی اور ایمانداری سے ہوتا تھا۔ سنا تھا کہ اس کارخانے کو شروع کرنے میں لیبیا کی حکومت نے بھی مدد کی تھی۔ اسی کارخانے سے مختلف قسم کے ذبیح گوشت لندن بھی منگوایا جاتا تھا اور یہ لوگ اسے برطانیہ کی کچھ دکانوں میں بھیجا کرتے تھے۔ جب اس دکان کے مالک کو میرے مسائل کا پتا لگا تو انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ڈبلن کے ٹرنٹی کالج میں درخواست دوں اور اپنی تعلیم وہاں مکمل کروں۔

ہوا یہ کہ انہیں اپنے گوشت کے کاروبار کے سلسلے میں آئرلینڈ جانا پڑگیا۔ انہوں نے مجھے دعوت دی کہ میں ان کے ساتھ چلا چلوں اور ڈبلن میں پتا کروں کہ وہاں میری تعلیم کیسے ہو سکتی ہے میں ان کے ساتھ لیور پول کے راستے سے بلفاسٹ آیا اور بلفاسٹ سے ہم دونوں گاڑی چلاتے ہوئے ڈبلن پہنچے تھے۔ وہ اچھا زمانہ تھا۔ آئرلینڈ آتے ہوئے کوئی پاسپورٹ ویزا نہیں دیکھتا تھا۔ وہ مجھے ڈبلن چھوڑ کر خود کاسل بار چلے گئے تاکہ میں ڈبلن میں اپنے تعلیم کے سلسلے میں معلومات حاصل کروں اور داخلہ وغیرہ کے بارے میں مشورہ کروں، جس کے بعد مجھے ٹرین سے کاسل بار جانا تھا۔

ڈبلن میں مجھے سب کچھ مل گیا نہ جانے کیوں اور کیسے قسمت مہربان ہوگئی تھی بعض دفعہ اتفاقات زندگی بدل کر رکھ دیتے ہیں، ٹرنٹی کالج میں ایک اچھے سے پروفیسر سے ملاقات ہوگئی جنہوں نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی اور بتایا کہ یہاں فزکس کا شعبہ بہت اچھا ہے اورمجھے کافی کچھ پڑھنے سمجھنے کو ملے گا، اور ان ہی کے کہنے کے مطابق میں نے اپنے کاغذات کے ساتھ درخواست جمع کرا دی۔ اور شام ڈبلن سے ٹرین پکڑ کر کاسل بار پہنچا تھا۔ دو دن کا سل بار میں گزار کر واپس اپنے مالک کے ساتھ لندن آ گیا۔

ایک عجیب بات یہ بھی ہوئی کہ کاسل بار کے گوشت کے کارخانے کے مالکوں نے پتا نہیں کیوں مجھے پیشکش کر دی کہ اگر ڈبلن میں میرا داخلہ ہوگیا تو میرے تعلیمی اخراجات میں میری مدد کریں گے۔ شاید میری سفارش کی گئی ہو گی۔

زیادہ دن نہیں گزرے کہ میں ڈبلن پہنچ گیا تھا، جہاں مجھے داخلہ بھی مل گیا، پڑھنے کے لیے فیس کا انتظام بھی ہوگیا، رہنے کی مناسب سی جگہ بھی مل گئی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کی بڑی سی لائبریری میں جزوقتی کام بھی مل گیا۔ کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے کہ لندن میں نہ جانے میں کن ستاروں کے چکر میں پھنس گیا تھا اور ڈبلن میں سب کچھ بہت مختلف طریقوں سے ہوگیا، بعض دفعہ زندگی حیران کردیتی ہے اور کرتی رہتی ہے۔

مجھے بہت دنوں کے بعد پتا چلا تھا کہ میرا پروفیسر یہودی ہے اور ایک دن ڈبلن کے ایک پب میں شراب پیتے ہوئے باتوں باتوں میں کسی نے بتایا تھا کہ وہ ”گے“ ہے یعنی ہم جنس پرست، شادی نہیں کی ہے اور کسی مرد کے ساتھ رہتا ہے۔ مجھے عجیب سا لگا تھا اور ایک طرح سے گھن کا احساس ہوا تھا، ایسے کیسے ہو سکتا ہے۔ عجیب لوگ ہیں یہ؟ پاکستان میں لڑکوں کا جنسی استحصال تو ہوتا ہے مگر مرد مرد کے ساتھ رہتے نہیں ہیں۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ لوگ اس طرح سے زندگی گزارتے ہوں گے مگر وقت کے ساتھ ساتھ میں نے سمجھ لیا کہ یہ بھی زندگی کا ایک طریقہ ہے اس کی ذاتی زندگی سے میرا کیا واسطہ تھا وہ ایک اچھا استاد تھا فزکس کا ماہر اور میرا سپروائزر۔ میں نے سوچا تھا کہ زندگی کو مزید پیچیدہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ان کے جسم میں، دماغ میں، خیالات میں، اطوار میں اور روح کے اندر کوئی ایسی بات ہے جو مجھے خراب لگتی ہے تو ضروری نہیں ہے کہ ان کے لیے خراب ہو۔ انہیں بھی تو اوپر والے نے ہی بنایا ہے، وہ جانے اس کے بندے جانیں، مجھے کیا ہے؟

پانچ چھ سال ڈبلن میں خوب گزرے، چار سالوں میں میری پی ایچ ڈی مکمل ہوئی اور پھر مجھے یونیورسٹی میں ہی لیکچرر کی نوکری مل گئی۔ ڈبلن اور ٹرنٹی کالج نے مجھے بہت کچھ دیا۔ تعلیم، مناسب تنخواہ، زندگی کا نیا رخ اور بہت سارے ایسے استاد جنہوں نے بڑی ایمانداری سے تعلیم حاصل کرنے اور زندگی کو سمجھنے میں میری مدد کی، یہ اور بات ہے کہ میں ابھی تک تعلیم ہی حاصل کر رہا ہوں اور زندگی کا گورکھ دھندا سمجھ سے باہر ہے، ایک ایسا نصاب جو کبھی ختم نہیں ہوتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4

Leave a Reply