جوزف مسیح کی زندگی کا ایک دن


اچانک اس کے علم میں لائے بغیر ایک خیال اس کے لاشعور میں جھلملایا۔ جو بات وہ نہیں جانتا تھا یہ تھی کہ بظاہر وہ نالے میں اپنے وجود کو ثابت کرنے اترا تھا لیکن نالے کی گہرائیوں میں پہنچ کر اس کی ڈیوٹی بدل گئی تھی۔ اب اسے جس چیلنج کا سامنا تھا وہ تھا اپنے بالمیکی چوہڑے ہونے کو اعتبار بخشنے کا کہ وہ صدیوں کا بیٹا تھا اور اسے صدیوں طویل عزت کی جنگ میں ایک ہیرو کا کردار ادا کرنے کے لیے چن لیا گیا تھا۔

اس بار اس نے ایک گہرا سانس لے کر پاؤں پاؤں آگے بڑھتے ہوئے دانستہ چھیمے کا نام پکارا کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ ہر بار جب وہ یہ نام لیتا تو اس کے منہ میں شیرینی گھل جاتی تھی۔

اسے فاصلے کا اندازہ تو نہیں تھا لیکن شاید وہ کافی دور نکل آیا تھا۔ ایک دو بار اسے لگا بھی کہ کوئی سانپ ایسی چیز اس کی پنڈلیوں سے مس ہوتی گزر گئی ہے لیکن وہ اس وقت صدیوں کا بیٹا تھا اور ہر خوف سے آزاد تھا۔ کچھ اور آگے جاکر جب پانی اس کے گھٹنوں سے نیچے تھا، کیچڑ دلدل جیسا نرم ہوگیا تھا اور وہ اسے اپنے وجود کا حصہ بنانے پر آمادہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے زور لگا کر اپنے پاؤں کیچڑ کی گرفت سے چھڑائے اور سرک کر کنارے پر ہوگیا جہاں زمین قدرے سخت تھی۔

اسے خیال گزرا کہ دونوں بچے یہیں کہیں دلدل میں نہ دھنس گئے ہوں۔ یہ خیال آتے ہی اس کا دل ڈوب گیا۔ اگر پانی کے زور سے بچے آگے نہ نکل پائے ہوں گے تو وہ اب تک اس دلدل کا رزق بن گئے ہوں گے۔ اس بھیانک امکان نے کچھ دیر کو اسے نالے کی دیوار کے ساتھ چپکائے رکھا۔ اس نے ٹارچ کی روشنی میں دور تک غور سے دیکھا لیکن وہاں کیچڑ میں دھنسا کوئی وجود تھا نہ ایسے آثار تھے کہ انہیں کیچڑ نے نگل لیا ہو۔

وہ کیچڑ پر نظریں جمائے آگے بڑھا تو اچانک اس کے پاؤں گہرائی میں پڑے اور وہ پانی میں غوطے کھانے لگا۔ یہاں بھی کوئی گڑھا تھا جہاں سے پانی چکرا کر گزر رہا تھا۔ کوشش کرکے وہ گھمن گھیری سے بچنے کے لیے کنارے کے ساتھ ساتھ تیرنے لگا۔ تیرتے ہوئے اچانک اس کا ماتھا کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ وہ بھنا کر رہ گیا اوراس کے منہ سے بے اختیار ماں کی گالی نکلی۔ اس نے غور کیا تو وہ گئے زمانوں کے کسی متروک پل کے لکڑی کے تختے تھے جو کیچڑ میں آڑے ترچھے گڑے ہوئے تھے۔ وہ ایک تختے کو تھام کر رک گیاکہ ذرا سانس بحال کرلے۔ اچانک اسے لگا کہ کوئی انسانی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ہے۔ یقیناً یہ اس کی اپنی آواز کی بازگشت نہیں تھی۔ اس نے اس بار زیادہ بلند آواز میں پکارا تو اس بار زیادہ واضح جواب سنائی دیا۔ کوئی تھا جو وہیں کہیں تھا۔

اس بار اس نے تیزی سے ہاتھ پاؤں چلانا شروع کردیے، ساتھ ہی شاوا شاوا کی آوازیں بھی منہ سے نکالنے لگا۔ اسے زیادہ دور نہیں جانا پڑا کہ ایک موٹی جڑ پر اس کا ہاتھ پڑا اور وہ اسے تھام کر رک گیا۔ اس نے ٹارچ کی روشنی سے معلوم کیا کہ یہ کسی بوڑھے برگد کی پھیلی ہوئی جڑیں تھیں جو نالے کی چوڑائی کے آر پار تھیں۔ ان گتھی اور الجھی ہوئی جڑوں نے نالے پر ایک پل سا بنادیا تھا مگر یہ قابل استعمال نہیں تھا کہ شاخیں زمین کی سطح سے کافی نیچے تھیں۔

” میں یہاں ہوں۔ “ اچانک کسی بچے کی دبی دبی آواز سنائی دی۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا، آواز بہت قریب سے آئی تھی۔

جوزف نے جڑوں کے اس الجھے ہوئے سلسلے میں ٹارچ کی روشنی گھمائی تو دیکھا ایک لڑکا جڑوں کے گنجل میں سمٹا ہوا بیٹھا تھا۔ جوزف ایک دم سے پرجوش ہوگیا۔ اس نے مزید نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ دوسرا لڑکا جو جسامت میں چھوٹا تھا ایک موٹی جڑ کو تھامے لٹک رہا تھا یوں کہ سر باہر اور دھڑ پانی کے اندر تھا۔ جوزف نے اسے ہلایا جلایا مگر کوئی حرکت نہ ہوئی۔ جوزف نے اندازہ لگایا کہ وہ زندہ تھا مگر مارے خوف کے بے ہوش ہوگیا تھا۔

یہ معجزہ ہی تھا کہ بے ہوشی میں بھی جڑ پر اس کے ہاتھ کی گرفت کمزور نہ ہوپائی تھی ورنہ وہ بہاؤ کے زور میں کہیں آگے نکل گیا ہوتا۔ جوزف کو دیکھتے ہی جڑوں کے اوپر بیٹھا لڑکا کچھ کہنے کی کوشش کرنے لگا مگر خوف کے مارے اس سے بات نہیں ہوپارہی تھی۔ جوزف کو سمجھ آئی کہ پانی کے بہاؤ کے باعث بڑا لڑکا کسی طرح سے جڑ کے اوپر چڑھنے میں کامیاب ہوگیا تھا جبکہ چھوٹا لڑکا اس کوشش میں دہشت کے مارے کامیاب نہ ہوسکا تھا۔ اس نے سارا ماجرا سمجھ کر بڑے لڑکے کی ہمت بندھائی اور اسے واپس آنے کا کہہ کر چھوٹے لڑکے کی گرفت بصد مشکل ڈھیلی کی اور اسے اپنی پشت پر جماکرپانی کے بہاؤ کی مخالف سمت تیرنے لگا۔

برسوں بعد اپنی موت سے ذرا پہلے اسے یاد کرنا تھا کہ کیسے کہانی نے اس کے ناتواں وجود کو ہیرو بننے کے لیے چن لیا تھا۔ اس روز جو ہوا وہ سب ناممکن تھاجو جانے کیسے ممکن ہوگیا تھا۔ اسے یاد کرنا تھا کہ جب اس نے ایک ایک کرکے دونوں لڑکے کنارے پر اتار دیے تو انہیں زندہ پا کر وہاں موجود لوگوں خاص طور پر حاجی اور ان لڑکوں کے باپوں کی خوشی کو بیان کے دائرے میں لانا ممکن نہیں تھا۔ وہ پچھاڑیں کھا رہے تھے اور رو رو کر ہنس رہے تھے۔ جوزف کو یہ بھی یاد تھا کہ ان لوگوں کے جانے کے بعد وہ رات کی تاریکی میں سنسان کنارے پر ایک فراموش کردہ وجود کی طرح پڑا تھا۔ البتہ وہ اپنی مٹھی میں ایک کرارے نوٹ کی چبھن محسوس کر سکتا تھا جو اس کی نیم بے ہوشی کے دوران کسی نے اس کی مٹھی میں ٹھونس دیا تھا۔

یہ تھا جوزف کی زندگی کا ایک دن جس کی نامعلوم طوالت کے بعد اس کی آنکھ کھلی تو وہ اپنی چارپائی پر پڑا تھا اور اس کا ایک بازو اس طرح پھیلا ہوا تھا جیسے اس نے مٹھی میں کوئی کرارا نوٹ دبا رکھا ہو۔

جوزف کو قدرے غیر واضح سا یاد رہا تھا کہ بھاگاں جو اس کی پائنتی لگی بیٹھی تھی سایہ سا اٹھی اور لاٹھی ٹیکتے باورچی خانے میں گئی۔ جب لوٹی تو اس کے ہاتھ میں چائے کا ایک خالی ڈبہ تھا۔ اس نے ڈبا اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی پر رکھا اور اس کے ساتھ لگ کر بیٹھتے ہوئے رسان سے کہنے لگی:

”جوزفا، پریشان کیوں ہوتا ہے۔ یہ دیکھو اس ڈبے میں بہت سے پیسے ہیں جو میں نے اپنے اور تمہارے کفن کے لیے جوڑ رکھے تھے۔ اب یہ پیسے ہمیں زندہ رکھنے کے کام آئیں گے۔ “

جوزف نے بے خیال نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ کہے گئی:

”ایسی کئی وبائیں آئیں اور گئیں، ہم کیوں مریں خیری سلا۔ ہم مر گئے تو ہمارے ساتھ چھیما بھی مرجائے گا۔ کیا تو ایسا ہونے دے گا؟ “

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5