جوزف مسیح کی زندگی کا ایک دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بے موسم کی بارش رات بھر سے ایک تار برس رہی تھی اور وہ دیر سے کھڑکی میں نصب آسمان کی وسعتوں میں دور کہیں بادلوں کے گرداب میں پھنسے ایک پرندے کی ناہموار پرواز پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔

جوزف چائے کی ٹرے لے کر آیا تو اس کا انہماک ٹوٹا۔

”شاید کوئی کبوتر ہے بیچارہ، اپنی چھتری سے اڑا ہوگا کہ بارش میں پھنس گیا۔ “ اس نے عورت کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے رائے زنی کی۔

جوزف نے رات کی بچی ہوئی روٹی کو بھگو کر گھی میں تل دیا تھا جس کے بعد وہ رات کے بچے سالن اور چائے کے ساتھ ایک لذیذ ناشتہ کرنے کے قابل ہو گئے تھے۔

”بڑے سگھڑ ہوگئے ہو، خیر سے۔ “ عورت نے روٹی کا ٹکڑا اس کے سامنے لہراتے ہوئے ہنس کر کہا۔

”ہونا پڑتا ہے بھاگاں۔ “ اس نے ایک فلسفیانہ شان سے آہ بھرتے ہوئے کہا، ”جب سر پر آ جائے تو سب کچھ ہونا پڑتا ہے۔ “

”البتہ تمہیں میری طرح چائے بنانی نہیں آئی۔ “

”ہاں! “ اس نے نوالے کو اپنے جیسے رنگ والی چائے میں ڈبوتے ہوئے کہا، ”پتی بس اتنی ہی تھی، دودھ کا ڈبہ بھی خالی ہوگیا ہے۔ “

” آج نہ جاؤ، موسم خراب ہے۔ “ بھاگاں نے بوجھل خاموشی کی طوالت میں کچھ کہنے کو بات چلائی۔

جوزف نے نوالہ چباتے ہوئے بے خیال نگاہوں سے دور چکراتے ہوئے کبوتر کو دیکھا اور پھر دن کا پہلا سگریٹ سلگا کر طمانیت بھراکش لیتے ہوئے دھوئیں کو پھیپھڑوں میں اتار دیا۔

”جانا تو پڑے گا۔ “ جوزف نے گھی میں سنی ہوئی انگلیاں گدی کے بالوں میں رگڑتے ہوئے جواب دیا، ”چھتری لے لوں گا۔ “

”ٹھیک ہے مگر تیز تیز نہ چلنا، بھیگے ہوئے موسم میں تمہاری سانس جلدی پھول جاتی ہے۔ اور ماسک دروازے کے ہینڈل کے ساتھ لٹک رہا ہے، اسے پہن لینا، کہیں جیب میں نہ ڈالے رکھنا۔ اور ہاں سب سے دور دور رہنا، اپنے پھیپھڑوں کا ناس تم نے پہلے ہی مارا ہوا ہے۔ “

”اچھا ڈاکٹر صاحبہ، ہور حکم؟ “ جوزف نے ہنس کر کہا۔
”آج کتنی تاریخ ہے؟ “
بھاگاں نے منتر پڑھنے کی طرح منمناتے ہوئے حساب لگایا۔
”آج ہمارے چھیمے کو گئے تین سال اور سات مہینے پورے ہوگئے ہیں۔ “

جوزف نے چھوٹی میز پر رکھی چھیمے کی مسکراتی ہوئی تصویر کو نظر بھر کر دیکھا۔ عین اسی لمحے بادلوں میں بجلی کا کوندا لپکا اور چھیمے کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

چھیما جس کا شناختی کارڈ میں نام سلیم شہزاد لکھا گیا تھا، ان کی واحد اولاد تھا جو زندگی کے پہلے پانچ برس پورے کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ اس سے پہلے ایک لڑکا اور دولڑکیاں ہوئیں لیکن بھاگاں کی اندرونی خرابی کے باعث تینوں بچے پیدائشی لاغر تھے اور اسی لاغر ہونے کی حالت میں سال سال، چھ چھ مہینے نکال پائے تھے۔ چھیما ان کی پکی عمر کی اولاد اور ان کی آخری امید تھا کیونکہ ڈاکٹر نے اس کے بعد انہیں منع کر دیا تھا۔

جب چھیما پیدا ہوا تو جوزف کارپوریشن میں پکی پنشن والی نوکری کرتا تھا اور بھاگاں گھر گھر جھاڑو پونچھا کرتی تھی۔ دونوں کماتے تھے، خرچے نہ ہونے کے برابر تھے سو اچھی گزر ہو رہی تھی۔ بس ایک جہنم کی سفیر تند ہوائیں تھیں جو ان کے ہر چراغ کو بجھانے پر تلی ہوئی تھیں۔ وہ کہ اوپر تلے کی تین موتوں سے دہلے ہوئے تھے، ان پر لازم تھا کہ وہ اسے سانس سانس گن کر پروان چڑھائیں۔ اگر وہ چھیمے کی ٹمٹماتی لو کو دونوں ہاتھوں کی آڑ نہ دیتے تو اس کے بعد ان کے لیے اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔

انہیں چھیمے کی خاطر پہلی قربانی اچھی کمائی کی دینا پڑی۔ بھاگاں کام چھوڑ کر گھر بیٹھ گئی اور جوزف نے بھی کارپوریشن کی نوکری چھوڑ دی جس کے دوران اسے چوبیس گھنٹے بلاوے کا منتظر رہنا پڑتا تھا۔ جوزف کو نوکری کی محتاجی یوں بھی نہ تھی کہ وہ موٹر وائنڈنگ اور بجلی کی گھریلو چیزوں کی مرمت کا کام جانتا تھا۔ ضروری تھا کہ ٹھیا گھر کے قریب ہی ہو تاکہ وہ کمائی بھی کرے اورجب چاہے گھر کا چکر بھی لگا سکے۔ بہت تلاش کرنے پر انہیں پکی ٹھٹھی میں دو کمروں کا ایک قدرے خستہ مکان کرائے پرمل گیا جس کی بیٹھک گلی میں کھلتی تھی۔ وہ دونوں یہاں اٹھ آئے۔ جوزف نے بیٹھک کو اپنا ٹھیا بنالیا اور زندگی کی گاڑی لشٹم پشٹم چلنے لگی۔

چھیما انچ انچ بڑھتا رہا اور وہ دونوں لمحہ لمحہ جوان ہوتے گئے۔

چھیما ایک طرح سے ان دونوں کا افسر تھا کہ لاشعور میں بیٹھے خوف کے باعث وہ اس سے دب کر رہنے پر مجبور تھے۔ وہ اسے سمجھانے کی کوشش تو کر سکتے تھے لیکن اس پر حکم نہ چلا سکتے تھے۔ چھیمے کو اپنی برتر حیثیت کا خوب علم تھا لہٰذا اس نے اس فیصلے کے اختیار کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھا تھا کہ کون سی بات ماننی ہے اور کون سی نہیں ماننی۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ چھیما کچھ پڑھ لکھ جائے۔ انہوں نے اسے سکول میں داخل کرایا بھی لیکن چھیمے کا اتھرا پن ماسٹر کی مار نہ سہ سکا۔ وہ اسے سمجھاتے ہی رہ گئے لیکن وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے پرائمری پاس کرنے سے پہلے ہی گلیوں کا رزق بن گیا۔

ادھر چھیمے نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، ادھر جوزف کی نئی ڈیوٹی شروع ہوگئی۔ اسے اپنا کام چھوڑ چھوڑ چھیمے کی ٹوہ لگانی پڑتی تھی اور اس پر نظریں جمائے سایہ بن کر پیچھے پیچھے چلنا پڑتا تھا۔ بس ایک ہی دھڑکا تھا کہ چھیما شراب، چرس یا جوئے کے دھندے میں نہ پڑجائے جو پکی ٹھٹھی میں بہت نارمل بات تھی۔ ایک روز جب اسے بھاگاں نے چائے کا مگ تھماتے ہوئے زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ اس کے واحد نشے کا بتایا تو اس کے سینے سے بوجھ ہٹ گیا۔

چھیمے کو پیسے اور آوارگی سے مطلب نہیں تھا۔ اس کا واحد خبط روزی تھی جس کے جذب نے اسے تاریک راہوں کا راہی ہونے سے بچالیا تھا۔ اگلے روز چھیمے نے باپ کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں جب روزی سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا اور دبے لفظوں میں روزی نہ ملنے کے نتائج سے بھی آگاہ کیا تو جوزف کا قہقہہ گلی کی نکڑ تک سنا گیا۔ چھیما حیران سا دیکھ رہا تھا کہ ایک طرف باپ ہنس ہنس کر دہرا ہورہا ہے اور دوسری طرف ماں بھی لجائی لجائی سی مسکرارہی ہے۔

باپ پنے کے ازلی خوف سے رہائی پائے جوزف نے ہنستے ہنستے اسے بھینچ لیا اورآنکھیں پونچھتے ہوئے بولا:

”جھلیا، تو عین اپنے ابے پر گیا ہے۔ یہ جو تمہاری ماں بیٹھی ہے نا بھاگاں، یہ بھی کسی زمانے میں میری روزی ہوا کرتی تھی۔ میں نے بھی اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھ کر اسے ایسے ہی مانگا تھا جیسے بچے پاپڑ لے کر دینے کی ضد کرتے ہیں۔ “

چھیمے نے اپنے تئیں ایک کٹھن مرحلے کو یوں آسانی سے سر ہوتے دیکھا تو ہونق سا انہیں تکنے لگا۔ تب ماں کو اس پر لاڈ آیا تو اس نے جھپٹ کر اسے گود میں بھرلیا۔ جوزف نے طمانیت بھرے لمحے میں جشن کا رنگ بھرنے کے لیے سگریٹ سلگایا اور آنکھیں موند کر ایک گہرا کش لیتے ہوئے کہنے لگا:

”ٹھیک ہے، روزی کہیں نہیں گئی پر اسے لانے کے لیے کمائی تو کرنا پڑے گی۔ آج سے آوارگی چھوڑ اور میرے ساتھ اڈے پر بیٹھنا شروع کردے۔ “

چھیما باپ کے کام کو پسند نہیں کرتا تھا کیونکہ اس میں بندھ کر بیٹھنا پڑتا تھا جبکہ وہ جب تک روز دس گلیاں ناپ نہ لیتا اسے چین نہ پڑتا تھا اور یہ کام صرف کارپویشن کی نوکری میں ہی ہو سکتا تھا۔ باپ کی چیخ پکار بیکار گئی۔ اس نے نوکری کے لیے درخواست دے دی جو منظور بھی ہوگئی۔ اب اس کے ہاتھ میں لمبی ڈانگ تھی اور علاقے بھر کے گٹر تھے جنہیں چالو رکھنا اس کی ذمہ داری تھی۔ اس دوران اس کی منگنی بھی ہوگئی۔ روزی بھی بہانے بہانے گھر کا چکر بھی لگانے لگی لیکن جب وہ کام سے لگا تو اس پر کھلا کہ اس سے سخت بے وقوفی سرزد ہوگئی ہے کہ گٹر میں اترنے سے باپ کے کام کی پابندی سو درجے بہتر اور عزت والی تھی۔ باپ کی ناراضی ایک طرف خود روزی کو بھی اس کا یہ روپ پسند نہ آیا تھا۔ اس نے فیصلہ تو کرنا ہی تھا لیکن تھوڑی تاخیر کر گیا اور یہی تاخیر ماں کا کلیجہ پھاڑنے کا باعث بن گئی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *