میرا بیٹا آیان پاکستان میں آرٹسٹ ڈھونڈ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا بیٹا آیان کلاس تھری میں پڑھتا ہے۔ آرٹ اور میوزک کا شوق اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا ہے۔ آواز بھی سریلی پائی ہے اور رنگوں میں زندگی بھر دینے کی مہارت بھی رکھتا ہے۔ مجھے اس کے ان دونوں مشاغل کا صحیح علم لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن کلاسز میں ہوا۔ جب اس کو میں نے میوزک کلاسز میں گاتے اور آرٹ کلاس میں خوبصورت تصاویر بناتے دیکھا۔ گزشتہ روز کینوس پر رنگ بکھیرتے ہوئے اچانک مجھ سے پوچھنے لگا کہ پاکستان کا سب سے مشہور آرٹسٹ کون ہے۔

میں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، بیٹا صادقین تھے۔ کہنے لگا، ان کے بعد؟ میں نے کہا بیٹا عبدالرحمن چغتائی تھے۔ جھنجھلا کر کہنے لگا، اوہو نہیں، میں ہوچھ رہا ہوں۔ ۔ ۔ اب کون ہے؟ یقین کریں، کافی دیر سوچنے کے بعد بھی گل جی کے بعد کوئی نام نہیں بتا سکا۔ اور گل جی کو بچھڑے بھی اب کئی برس ہو گئے۔ آپ میں سے کوئی میری مدد کر سکتا ہے؟

یہاں بات کچھ مخصوص ناموں کی نہیں ہو رہی۔ یقیناً ہوں گے کچھ لوگ، جن کو فن مصوری میں مہارت حاصل ہو گی۔ مگر کوئی ایک بھی نام ایسا ہے جس کو صادقین، گل جی، عبدالرحمان چغتائی، شاکر علی یا اینا مولکا کی طرح عوامی مقبولیت حاصل ہو؟ مجسمہ سازی تو خیر ہمارے کلچر میں مذہبی وجوہات کی بنا پر کبھی پروان نہیں چڑھ سکی۔ البتہ فن خطاطی یا کیلی گرافی میں بڑے بڑے نام عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ صادقین، حنیف رامے، انور حسین نفیس رقم، عبدالمجید پروین رقم، جمیل مرزا اور دیگر کئی نام ہماری نسل کو یاد ہوں گے۔ مگر نئی نسل کا دامن اس باب میں بھی خالی ہے۔

مانا کہ کمپیوٹر کے آنے سے پوری دنیا میں ہی ہاتھوں کی کاریگری اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ مگر ہمارے ساتھ تو یہی سانحہ ہر میدان میں ہو چکا۔ ہمارا بچپن ملکہ ترنم نور جہاں، مہدی حسن، استاد نصرت فتح علی خان اور اقبال بانو، منی بیگم، غلام علی جیسی آوازوں کو ٹی وی، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر پر سنتے گزرا۔ پاپ سنگنگ کا دور آیا تو احمد رشدی کے بعد عالمگیر، محمد علی شہکی، نازیہ، زوہیب اور حسن جہانگیر آ گئے۔ کبھی صحرا سے ریشماں کی آواز ابھری تو کہیں پٹھانے خان نے مینڈا عشق وی توں کا راگ چھیڑ دیا۔

پھر میوزک بینڈز بننے شروع ہوئے تو وائیٹل سائینز، جنون، آواز، سٹرنگز جیسے بینڈز نے اپنا جادو جگایا۔ ہزار سالہ دور یعنی ملینیم بدلتے سمے ابرارالحق، شبنم مجید، حدیقہ کیانی، شازیہ منظور، جواد احمد، شہزاد رائے اور عاطف اسلم سمیت بہت سے سولو سنگرز بھی اپنا نام بنا چکے تھے۔ مگر اس کے بعد اکیسویں صدی شروع ہو گئی۔ اور یہاں بھی زوال شروع ہو گیا۔ اب اس دوسری دہائی میں کون سا نام لیں گے جس کو آپ پاکستانی میوزک کی پہچان قرار دے سکیں؟

شوبز کی سلور سکرین اور ٹیلی ویژن کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا۔ بہت کچھ لکھا جا رہا۔ ایک نوحہ ہے جو طارق عزیز کی طرح ہر چراغ بجھنے پر لکھا جاتا ہے۔ اکثر تو چلے گئے اور جو چراغ آخر شب ہیں، وہ بھی بجھتے چلے جا رہے۔ مگر شب ہے کہ طویل تر ہوئی جاتی ہے۔ سحر کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔ طالب جوہری کے الفاظ میں تضمین کروں تو گریہ تو بہت ہے، مگر محفل تمام ہونے کی بجائے ادھوری ہوتی جاتی رہی۔

وسعت اللہ خان نے علامہ طالب جوہری کے بارے میں کیا خوب لکھا کہ ان کا خلا کیسے پر ہو، وہ تو خلا بھی اپنے ساتھ لگے گئے۔ مگر یہ جملہ صرف ایک فن کا مرثیہ نہیں ہے۔ ہر میدان میں ہم ہیروز کو کھو رہے ہیں، اور وہ اپنے ساتھ اپنا خلا بھی لے کر جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مہربانی اور چینلز کی رنگا رنگ دنیا میں سلیبریٹیز تو شاید بہت مل جائیں۔ مگر ہیروز نظر نہیں آتے۔

پڑھے لکھے والدین جب کسی دوسرے خاندان پر اپنا تاثر جمانا چاہتے ہیں تو اپنا لائق اور قابل بچہ آگے کر دیتے ہیں۔ یہی حال اقوام کے ہیروز کا ہوتا ہے۔ دنیا کے سامنے آپ کے فن کار، کھلاڑی، مصور، سائنسدان، ادیب، محقق آپ کا روشن چہرہ ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے چہرے کی روشنی اور رونق ہی نہیں کھوئی۔ ہم تو بے چہرہ ہو گئے۔ ہم وہ بدنصیب ہیں ہیں جو میلے کے انٹری گیٹ پر رنگینیاں دیکھتے دیکھتے اپنا شناختی کارڈ گم کر بیٹھے۔ اور اب دوسروں سے ان کا آئی ڈی کارڈ ادھار لینے کے چکروں میں ہیں۔

ایک وقت تھا کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم کے ایک ایک کھلاڑی کا نام نا صرف پاکستان کے بچے بچے کو یاد تھا، بلکہ 1980 کی دہائی تک ہاکی کے عالمی ہیروز کی سب سے بڑی تعداد ہمارے ملک سے تھی۔ آج شاید کسی کو قومی کھیل کے کپتان کا نام بھی معلوم نا ہو۔ ہمیں وہ وقت بھی اچھے سے یاد ہے جب سکوائش کے کسی ٹورنامنٹ میں پاکستان کا مقابلہ پاکستان سے ہی ہوتا تھا۔ برٹش اوپن ہو یا ورلڈ اوپن، عوام کی دلچسپی محض اتنی ہوتی تھی کہ فائنل جیتنا تو ہم نے ہی ہے۔

اب تو بس یہ دیکھنا ہے کہ جہانگیر خان جیتے گا یا جان شیر خان۔ اور آج ہم پہلے راؤنڈ سے دوسرے راؤنڈ میں پہنچ جائیں تو ایک بڑی خبر بنتی ہے۔ ریسلنگ، باکسنگ، کشتی رانی وغیرہ میں بھی اکثر و بیشتر کوئی نا کوئی میڈل آ ہی جایا کرتا تھا۔ اب عالم یہ ہے کہ 28 سال ہوئے کہ 22 کروڑ کے اس ملک نے 1992 میں اولمپکس میں اپنا آخری میڈل جیتا تھا۔ ہاکی میں کانسی کا تمغہ۔

1992 ہی وہ سال تھا جس میں ہم نے کرکٹ کا مشہور زمانہ عالمی کپ بھی جیتا تھا۔ اس زمانے میں کرکٹ ٹیم کے سٹارز پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان تھے۔ یہاں تک کہ اوپنر سے لے کر 12 ویں کھلاڑی تک پوری ٹیم کے نام ہم سب کو یاد ہوتے تھے۔ اب کسی ٹین ایجر سے پوچھ لیجیے، 3، 4 سے زیادہ نام نہیں بتا پائے گا۔ فضل محمود، ظہیر عباس، عمران خان، میانداد، وسیم، وقار، سعید انور، انضمام کو تو چھوڑئیے، اب تو شاہد آفریدی جیسا بھی کھلاڑی کوئی نہیں۔

علم و ادب ہو یا طنز و مزاح، شاعری ہو یا ناول نگاری۔ سب بڑے نام چلے گئے۔ جو زندہ ہیں وہ خاموشی سے زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ بھلا کیوں کر مارننگ شو میں ہر تیسرے ہفتے مہندی رچانے کو تیار ہوں گے۔ ضیا محی الدین کس دل سے کوئز شو میں مسلمانوں سے تکے لگوا کر لے، لے۔ لے، لے کی صدا بلند کریں گے۔ حسینہ معین، امجد اسلام امجد، اصغر ندیم سید ایکسٹرا میریٹل افئیرز کے بغیر جو ڈرامہ لکھیں گے اسے کوئی چینل بھلا کیوں چلائے گا۔

مزاح نگاری میں نا کوئی یوسفی ہے نا پطرس۔ نا انور مسعود جیسا کوئی آ رہا ہے نا جیدی جیسا۔ ہمارا بچپن تو حکیم سعید، مسعود احمد برکاتی، اشتیاق احمد جیسوں کے ساتھ گزرا۔ نوجوانی میں محی الدین نواب، شکیل عادل زادہ، احمد اقبال جیسے ناموں کا فکشن پڑھا۔ عمران سیریز کے سحر کا شکار ہوئے۔ صالحین دوستوں کے لیے نسیم حجازی کا سہارا موجود تھا۔ اب کچھ نہیں بچا۔ 21 ویں صدی نے میرے بچوں کو ہیری پوٹر تو دے دیا مگر انسپکٹر جمشید چھین لیا۔

اب لکھنے والے ہم جیسے ہیں۔ اور رہے پڑھنے والے، تو وہ کب کے صفحہ ہستی سے نا پید ہوئے۔ وہ وقت زیادہ پرانا نہیں ہوا جب رکشے والے سے لے کر تندور والے تک کے پاس ہم نے جاسوسی ڈائجسٹ اور سب رنگ کے شمارے دیکھے ہیں۔ آج ایسے پڑھنے والے پورے ملک میں تلاش کرنے نکلیں تو شاید درجن بھر بھی نا ملیں۔

اہل مذہب میں بھی اصل زر تو کب کا اٹھ گیا۔ اب کھرچن ہے۔ سو وہ بھی چراغ سحری ہے۔ بر صغیر کے مسلمانوں نے جو اہل علم و دانش، جو ہیرے انگریز کی غلامی میں پیدا کیے، ان کا عشر عشیر بھی آزادی کے بعد سامنے نہیں آ سکا۔ اور اب تو بس چل چلاؤ ہے۔ دین کا علم یا تو فیس بک سے ملتا ہے یا آم کھائے گا آم جیسے پروگراموں سے۔ جو سنجیدہ اہل علم بچے ہیں وہ عمر کے آخری حصے میں ہیں۔ ان کے بعد ایک مہیب خلا ہے

کبھی وقت ملے تو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان سوالوں کے جواب سوچیے گا ضرور۔ پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا آرٹسٹ کون ہے؟ اس دہائی نے کون سا بڑا سنگر، ایکٹر، میوزیشن، عالم دین، اینکر پرسن، اناؤنسر، کھلاڑی، شاعر یا ادیب قوم کو دیا؟

اگر آپ کو بھی میری طرح جواب نا ملے تو سمجھ لیجیے ہم اپنا شناختی کارڈ کھو چکے اور شناختی علامت ”بائیں رخسار پر زخم کا نشان“ کے سوا ہماری کوئی پہچان باقی نہیں رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply