ادب اور معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادب ہمیشہ سے ہی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ پڑھے لکھے ان پڑھ سب کی زندگی کا، یہ بڑے بوڑھوں کی کہانیاں ہوں، شعرا کی شاعری ہو، ناول نگار کی داستان ہو، مضمون نگار کا مضمون ہو، پردے کے پیچھے کا اسٹیج ہو، پردہ سکرین ہو، یا پھر آج کا میڈیا، ہر حال میں معاشرہ کا خیال ساز و کردار ساز رہا ہے۔ اپنی کردارنگاری، رومانویت، مکالمہ بازی اور باقی ادبی لوازمات کے ساتھ یہ اپنے پڑھنے اور دیکھنے والوں کو اپنے کرداروں کے ساتھ منسلک کر لیتا ہے، اور ان کے ذریعے سے دکھائی جانی والی اقدار، اخلاق، رویے، معیار، نظریات الغرض ہر چیز عوام و خواص میں مقبول و معروف ہو جاتی ہے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ( فلم، ٹی وی ) کی آمد کے بعد اس کی ضرب اور کاری ہو گئی ہے۔

اس کو اگر ایک اور لحاظ سے دیکھا جائے تو انسان ایک معاشرتی جانور ہے، اپنے اردگرد ہونے والی ہر چیز کا اثر لیتا ہے، چاہے وہ غلط ہو یا صحیح، اور آج کل میڈیا بذات خود ایک معاشرہ بن چکا ہے، میڈیا جو کچھ دکھائے گا دیکھنے والے کو ضرور متاثر کرے گا۔

اس کی ایک بہت بڑی مثال لفظ جٹ ہے، ایک دور تھا جب پاکستانی ( غیر جاٹ ذات کے لوگ ) اس لفظ کو اپنے لیے گالی سمجھتے تھے، جبکہ جاٹ حضرات خود بھی کوئی فخر سے نہیں بتاتے تھے کہ وہ جاٹ ہیں۔

لیکن جب سے انڈین پنجابی فلموں میں خوبرو، لوگوں کے دل پسند ماڈرن ٹائپ کے ہیرو، ہیروئن پھنساتے، اسٹائل مارتے، بات بات پر خود کو جٹ کہ کر تعارف کرواتے نظر آنے لگے ہیں تب سے جاٹ تو جاٹ، راجپوت بھی فخر سے اپنے آپ کو جٹ کہنے لگے ہیں۔

اور یہ بھی صرف انڈین پنجابی فلموں کی مرہون منت ہے کہ سینکڑوں سال پرانا پنجابی کلچر نا صرف پنجاب میں بلکہ این آر آئی پنجابیوں میں بھی ابھی تک مستحکم ہے۔

دوسری بڑی مثال انڈین فلموں کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں میں ہیرو کا بدلتا معیار، اگر ہم اسی اور نوے کی دہائی کی بات کریں تو ہیرو کا جو امیج پاکستانی نوجوانو کے سامنے تھا وہ ہیرو مظلوم کے لیے مسیحا، محبت میں وحدانیت اور شادی سے پہلے محبوبہ کو چھونے سے محبت کے میلے ہو جانے کا قائل، ماں کی ساڑھی اور چھوٹے بہن بھائیوں کے کل کے لیے اپنا آج قربان کرنے والا، تب دیکھنے والوں کا بھی یہی مسلک رہا لیکن اکیسیویں صدی کے پہلے عشرے کے آواخر سے لے کر اب تک جو ایک نیا ہیرو ہمارے سامنے آیا ہے اس کے تحت آپ تب تک ہیرو جیسے نہیں بن سکتے جب تک آپ حد کے ہڈ حرام نا ہوں، غلیظ گالیاں آپ کا تکیہ کلام نا ہو، دوستوں کے سامنے والدین کو برا بھلا کہنا ا آپ کا شعار نا ہو، پانچ چھ لڑکیوں سے افئیرز نا ہوں، زندگی سے حددرجہ مایوس نا ہوں، اور خاص طور پر استاد کا گستاخ نا ہوں، اگر یہ خوبیاں آپ میں نہیں ہیں تو آپ ہیرو نہیں بلکہ دوسرے درجے کا کریکٹر رول ادا کر رہے ہیں، جو ہر حال میں ہیرو سے کم تر ہوتا ہے۔

مولا جٹ کے بعد پاکستانی فلم انڈسٹری میں پنجابی فلموں میں گنڈاسہ اور ماردھاڑ کا ایک واہیات دور شروع ہوا جس دوران بدمعاشوں، ڈکیتوں اور اشتہاریوں کو ہیرو بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا اور اس کے نتیجے میں پاکستانی معاشرے میں بھی قتل و غارت اور جرائم کا ایک کلچر نکل پڑا جب چھوٹی چھوٹی باتوں پڑ قتل کرنا ایک معمولی سی بات سمجھی جانے لگی، یہ کلچر اتنا مشہور ہوا کہ گاؤں قصبوں کے بچوں کا ایک ہی سپنا ہوتا تھا ”بڑے ہو کر اشتہاری بننا“ ، کیوں کہ ان کا ہیرو ایک اشتہاری ہو ہوتا تھا جس سے سب ڈرتے تھے اور جس پورے گاؤں کی مٹیاریں مرتی تھیں۔

نا صرف معاشرتی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی کسی بھی معاشرے کو محرک کرنے یا غفلت کی نیند سلانے میں وہاں کے ادب کا بہت ہاتھ رہا ہے، جیسا کہ

انقلاب روس میں اینٹن چیکوف اور میکسم گورکی کی تحریروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے، اسی طرح امریکا میں غلامی کے خاتمے میں ایبولیشنسٹ ادبا کے کردار کو کون بھول سکتا ہے۔ مشہور ایبولیشنسٹ رائیٹر ہیریٹ بیچر جب ابراہم لنکن سے ملی تو امریکی صدر نے کہا ”تو تم ہو وہ ننھی سی خاتون جس نے اتنی بڑی جنگ چھیڑ دی“ ، انقلاب فرانس کا تو پودا لگانے والے ہی وہاں کے انٹیلیکچؤلز تھے۔

مندرجہ بالا امثال سے ثابت ہوا کہ جو بھی چیز ادب کے لبادے میں لپیٹ کر لوگوں کو دی جائے گی وہ اپنا اثر ضرور چھوڑتی ہے، اب اسی چیز کو مدنظر رکھ کر پاکستانی ادبی میڈیا کو دیکھا جائے کہ وہ کس قسم کا مواد دکھا رہا ہے جو لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے لیے بس ایک نظر پچھلے دس پندرہ سالوں میں پاکستان میں ٹی وی پر دکھائے جانے والے ڈراموں پر ڈالی جائے تو صاف پتا چل جاتا ہے کہ پاک میڈیا کس چیز کو معاشرے میں معروف و مقبول بنا رہا ہے اور کیسے ہماری معاشرتی و خاندانی اقدار اور مقدس رشتوں کے وقار کو ملیامیٹ کر رہا ہے۔

آپ پچھلے کچھ سالوں میں دکھائے جانے والے پاکستانی ڈراموں کا جائزہ لیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ غیر ازدواجی تعلقات کو ڈراموں میں جو غیر معمولی اہمیت اور جگہ دی جا رہی ہے اور جس طرح سے غیر ازدواجی تعلقات کو مثبت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی میڈیا ایسے ناجائز تعلقات کو معاشرے میں معروف اور جائز بنانا چاہتا ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً ہر ڈرامے میں مختلف حالات پیدا کر کے پاکستانی خاندانی نظام کی ضمانت مقدس رشتوں سے عوام کو بدظن کیا جا رہا ہے، مثال کے طور پر کبھی میاں بیوی کی ناچاقیوں کو موضوع بنایا جاتا ہے جس میں شوہر کو ہمیشہ ظالم دکھایا جاتا ہے، تو کئی پر ساس کو ایک انتہائی سفاک اور گھٹیا عورت کے روپ میں بہو پر ظلم کرتے دکھایا جاتا ہے، کسی کہانی میں بیٹا اپنی چند دن کی دل لگی کے لیے ماں باپ کی سالوں کی محبت اور ارمان کو پیروں تلے روند دیتا ہے تو کسی داستان میں بیٹی ایک جابر باپ کے خلاف بغاوت کر کے بڑی شان سے ”سر بازار“ بیٹھ جاتی ہے۔

چھوٹی چھوٹی بات پر شوہر کو ظالم اور سفاک ثابت کر کے طلاق لینا تو پاکستانی ڈراموں میں معمولی سی بات سمجھی جاتی ہے۔ بعض ڈراموں میں تو سیدھا سیدھا ایسی اقدار کو نشانہ بنایا گیا ہے جو سماجی ممنوعات ( سوشل ٹیبو ) میں شامل ہوتی ہیں، جیسا کہ ایک سسر کا اپنی بہو پر ڈورے ڈالنا، ایک بہن کا اپنے بہنوئی کے لیے پاگل پن، کسی لڑکی کا بیک وقت پانچ پانچ مردوں کے ساتھ افئیر، ایک مالک کا اپنے نوکر کی بیوی کے لیے دیوانہ ہونا وغیرہ وغیرہ۔

ایسا غیر اخلاقی مواد دکھانے کے حق میں دلیل دی جاتی ہے کہ ادب ہمیشہ معاشرے کا عکاس ہوتا ہے اس لیے ہر وہ چیز جو معاشرے میں ہو رہی ادب وہ لکھ اور دکھا سکتا تو ٹھیک ہے دکھائے لیکن جو چیز معاشرے میں منفی سمجھی جاتی ہے اس کو مثبت انداز میں پیش کرنا کہاں کی عکاسی ہے۔

کوئی بھی معاشرہ اپنی معاشرتی اقدار کے بنا اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا یہ غیر تحریری اقدار، تحریری قانون کی مانند کسی بھی معاشرے میں اچھائی اور برائی کا معیار سمجھی جاتی ہیں۔ یہ معاشرے کی اخلاقی زندگی کی بنیادیں ہوتی ہیں ان کو بدلنا ایسے ہی ہے جیسے اپنے معاشرے کی خود بنیاد کھود ڈالنا اور ہمارا ادبی میڈیا یہ فریضہ بخوبی سر انجام دے رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply