پائے لاگوں بانو آپا
ابا جیسے سچ کی راہ کے مسافر، بے لوث، بے غرض، بے حرص صحافی پر لگی تہمت کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی تھی اور ان کی اولاد کے لئے تو یہ بالکل بھی قابل قبول نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے آپا جی کو ابا پر کوئی غصہ رہا ہو یا ان سے کوئی شکایت ہو۔ ابا بھی تو ایک منہ پھٹ، سچے کھرے اور مکمل طور پہ مصلحت سے عاری شخص تھے۔
ایک بار کسی صحافی نے ابا سے اشفاق صاحب کے بارے میں رائے پوچھی تو فٹ سے کہہ دیا:
”اشفاق سگ دنیا ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر چراغاں ہو، قوالیاں گونجیں، عرس منایا جائے۔“
مجھے یاد ہے یہ سن کر اشفاق صاحب اور آپا کافی بد مزہ ہوئے تھے۔ ویسے بانو آپا تو سچ مچ اپنے شوہر کو کسی پیر کا درجہ دیتی تھیں۔ ان کی کتاب مرد ابریشم کا مطالعہ کر لیجیے جس میں انہوں نے اپنے پتی دیو کو حضرت شہاب صاحب کے ہم پلہ پیر بنانے کی پوری کوشش کی ہے۔ ایک پتی بھگت عورت سے یقیناً یہی توقع کی جا سکتی ہے۔ ایسی ناریاں پتی کے پریم میں ستی ہو جانے کو بھی اپنا سو بھا گیا سمجھتی ہیں۔ شاید ان کو اندر ہی اندر احمد بشیر کے اکھڑ پن اور میں نہ مانوں والے مزاج سے کوئی خار رہتی ہو۔
بانو آپا جانتی تھیں کہ احمد بشیر کی آزاد روح کو عقائد کے پنجرے میں قید کرنا ممکن نہ تھا۔ جب ان کی کتاب ”راہ رواں“ سامنے آئی تو ابا کی پیاری بیٹی بشریٰ نے تڑپ کے عکسی مفتی کو فون کیا اور سارا ماجرا کہہ ڈالا۔ عکسی جو آپا کو ماں سمجھتے تھے، یہ سب سن کر سٹپٹا گئے۔ جواب تو ان کے پاس بھی کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے آپا کو فون کر کے پوچھ گچھ کی، بانو آپا شاید اس کی توقع نہ رکھتی تھیں مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔
ان کے پاس ایک ہی جواب تھا:
”میرے ہاتھ جڑے ہوئے ہیں مجھے معاف کر دو، میری یاد داشت خراب ہے، میں بھول گئی تھی۔“
بشریٰ نے کہا: ”آنٹی جی آپ ہمیں ہی بھول جاتیں، ہماری اور ہمارے باپ کی یوں مٹی تو پلید نہ کرتیں۔“
”اب تم لوگ کیا چاہتے ہو؟“ آپا نے پوچھا
”ہم ان الزامات کی تردید چاہتے ہیں، وہ صفحات بھی کتاب سے نکلوائیں اور معذرت نامہ بھی لکھ کر دیں۔“
بشریٰ نے مطالبہ کرتے ہوئے جواب دیا۔ آپا مان گئیں اور کہا: ”نیلم کو میرے پاس بھیجو۔“
اگلے روز میں اپنی ایک کزن کے ہمراہ ”داستان سرائے“ جا پہنچی اور کتاب کے مندرجات کی فوٹو کاپی ان کے ہاتھ میں تھما دی، میں نے پرس سے کاغذ قلم نکالا اور کہا یہ لیجیے، انہوں نے عنوان دیا ”معذرت نامہ“ اور پھر لکھنا شروع کر دیا۔ تحریر کچھ یوں تھی:
”میں نے اپنی کتاب راہ رواں میں کئی باتیں غلط لکھی ہیں جو میری یادداشت کی بھول ہے۔ مثلاً میں نے تحریر کیا کہ احمد بشیر کو شہاب صاحب نے چار لاکھ روپے امداد دیے، یہ غلط ہے اور اس کی وجہ میری خراب یادداشت ہے۔
انشا اللہ اگلے ایڈیشن میں یہ ذکر نکال دوں گی۔ قارئین اور احمد بشیر کے خاندان سے خصوصی طور پر معافی کی طلبگار ہوں۔ اللہ نے چاہا تو آئندہ محتاط رہوں گی۔ ”بانو قدسیہ 2010 / 10 / 01
گو کہ اس میں انہوں نے لکھی گئی سب باتوں کا احاطہ نہیں کیا تھا مگر پھر بھی میں نے خاموشی سے وہ معذرت نامہ لے لیا۔ اب ان کو اور کیا کہتی؟ میں شرمندگی محسوس کر رہی تھی کہ آج اتنی بڑی ہستی میرے سامنے جواب دہ ہو رہی ہے مگر یہ ضروری تھا، سچ کو سامنے آنا ہی چاہیے تھا۔ وہ معذرت نامہ اتنے برس گزر جانے کے بعد آج بھی میرے پاس موجود ہے۔
”اب تم جاؤ۔“ بانو آپا نے مجھے کہا اور میں الٹے قدموں لوٹ آئی۔
چند روز بعد میں نے منو بھائی سے تمام ماجرا کہہ سنایا اور عرض کی کہ اس موضوع پر ایک کالم لکھ دیں تو اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا : ”رہنے دو، اس سے تو کتاب کی مزید پبلسٹی ہو گی۔“ یہ سن کر میں خاموش ہو گئی۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ راہ رواں میں بانو آپا نے پروین عاطف کے بارے میں لکھا کہ اپنے شوہر کی دوسری شادی سے دل برداشتہ ہو کر انہوں نے خود کشی کی کوشش کی تو وہ اور مفتی جی ان کو دیکھنے ہسپتال گئے تھے۔
جب میں نے پروین سے اس کی بابت پوچھا تو وہ تو دنگ رہ گئیں اور بڑی معصومیت سے کہا: ”ایسا تو کچھ نہیں ہوا۔“ حقیقت میں پروین بھی کچھ کم پریم اور پریتم پجارن نہیں تھیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک مضبوط، زیرک اور با ہمت احمد بشیرن بھی تھیں۔ وہ بھلا کیوں کسی سولہ سالہ نادان ناری کی طرح بے وفا محبوب کی محبت میں ایسا بے وقوفانہ قدم اٹھاتیں؟
نہ جانے بانو جی نے ایسا کیسے سوچ لیا تھا؟ ہم عورتیں زندگی کی کٹھنائیوں سے نبردآزما ہونے کا ہنر جانتی ہیں کہ زندگی کو جی کر بسر کرنا ہی عورت کا جوہر ہوتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے خاندان میں کبھی ایسی کوئی عورت نہیں ہوئی جو منہ کے بل جا گری ہو اور پھر اٹھ نہ سکی ہو۔
وہ داستان سرائے میں میری آخری حاضری تھی۔ اس کے بعد میں نے کبھی بھی اس خوبصورت، افسانوی اور یادوں کی خوشبو سے مہکتے گھر میں قدم نہیں رکھا۔ حالانکہ مفتی جی اپنی وفات سے پہلے ہمیں کہہ کر گئے تھے :
”میرے بعد بانو کے پاس چلے جایا کرنا، وہ میری ماں ہے، وہ مج ہے اہنوں چو لو (وہ بھینس ہے اسے دوہ لو) ۔“
مگر مفتی جی کے جانے کے بعد بانو آپا کے گھر جا دھمکنے والا ماحول کافی کم ہو گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملنے پر عجز کے وفور سے مالامال ان سینئر ادیبہ کی عقیدت اور محبت آج بھی ان کے مداحوں کے دلوں کے جزدان میں مہکتی ہے۔ کوئی انسان مکمل طور پر سیاہ یا سفید نہیں ہوتا اس میں سرمئی رنگ کی بھی جھلک ہوتی ہے اور یہ سب اسی سرمئی شیڈ کی کارستانی رہی ہو گی۔



