میجر عامر: فوج، سیاستدان اور افغان جہاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید کا دوسرا دن تھا اور دوستوں کے ساتھ گاؤں میں نشست اور گپ شپ جاری تھی۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ میجر ریٹائرڈ عامر لائن پر تھے۔ ”آپ کل ساتھیوں سمیت گیارہ بجے پنج پیر صوابی آجائیے۔ دوسرے مہمان بھی ہوں گے۔ بات چیت بھی ہو جائے گی اور لنچ بھی“ ۔

انکار کی مجال کہاں۔ افغان جہاد کے دوران تاریخی شہرت حاصل کرنے والے آئی ایس آئی کے عظیم اہلکار، جن کی ان گنت کہانیاں پڑھ سن رکھی تھیں، سے ملنے اور آمنے سامنے گفتگو کی آرزو پوری ہونے کا وقت آپہنچا تھا۔ دوست بھی یہی آرزو کب سے پالے منتظر تھے۔ وہ بھی خوش تھے۔ روانہ ہوئے مگر بوجوہ مقررہ وقت سے خاصے لیٹ پہنچ پائے جب ممتاز صحافی محمود جان بابر سمیت دیگر مہمان رخصت ہورہے تھے۔

میجر صاحب وقت کے پابند اور منظم زندگی کے خوگر مگر ہم کافی تاخیر سے پہنچے تھے۔ شرمندگی سی ہو رہی تھی۔ رسمی مگر گرم جوش علیک سلیک کے بعد مسکراتے ہوئے میجر صاحب مگر بولے۔ ”والد صاحب مرحوم سے جو عادتیں منتقل ہوئی ہیں ان میں وقت اور وعدے کی پابندی بھی شامل ہیں۔ خیر ہے کبھی کبھی بندہ کو دیر ہوجاتی ہے۔ بس اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔“

کھانا لگایا گیا۔ میجر صاحب مہمانوں کی خاطر تواضع میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ باربار خود چیزیں پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی بات چیت بھی جاری رہتی ہے۔

”دادا مرحوم نے جب والد مرحوم مولانا طاہر کو عالم بنانے کے لیے وقف کیا تو یہ پنج پیر صوابی بلکہ خطے کے پشتون زمیندار خاندانوں میں پہلے فرد تھے جنہوں نے حصول علم کا عزم کیا۔ والد صاحب دھن کے پکے تھے۔ مولانا عبیداللہ سندھی مرحوم انہیں ذہین اور بہادر پٹھان کہا کرتے تھے۔

”مولانا سندھی سے اجازت لے کر مکے سے یہاں آئے تو انہوں نے خالص توحید کی ترویج اور بدعتوں کی بیخ کنی کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ مخالفتیں، قید و بند، حملے اور سازشیں ان کے عزم و ہمت کو کمزور نہ کرسکیں۔ وہ حق وصداقت، تقویٰ اور استغناء کا نادر نمونہ تھے۔ بھٹو اور جنرل ضیاء الحق سمیت کئی حکمرانوں نے انہیں آنے کی دعوت دی لیکن وہ جاہ طلبی اور لالچ سے پاک تھے اور کہتے تھے علماء کو درباروں سے دور رہنا چاہیے۔ ہاں پیغام رسانوں سے کہتے ہمارا دستر خواں وسیع ہے۔ صدر صاحب خود آنا چاہیں تو دیدہ و دل فرش راہ ہوں گے اور شایان شان خدمت کی جائے گی۔

”ڈاکٹر اسرار مرحوم ان سے ملنے آئے تو ان کا ہاتھ چوم کر رو پڑے تھے۔ مولانا کوثر نیازی مرحوم نے انہیں اس خطے کا ابن تیمیہ قرار دیا تھا۔ وہ باطل کے لیے ننگی تلوار تھے۔ پوری عمر ترویج دین کرتے رہے اور ساتھ ہی پہلے ملک کی آزادی اورپھر آمریت کے خلاف دیوانہ وار لڑتے رہے۔ نہ ڈرے، نہ بکے اور نہ متزلزل ہوئے۔“

”ہم مذہب کی بنیاد پہ نہ ووٹ مانگتے ہیں نہ نوٹ۔ والد صاحب مرحوم کی تربیت کی وجہ سے لیکن سب علماء کی قدر کرتے ہیں۔ آج ہم جتنی بھی عزت، محبت اور سہولتوں سے بہرہ ور ہیں۔ یہ سب والد مرحوم کی برکتیں ہیں۔“

پوچھا گیا جمہوریت اور انقلابی جدوجہد میں آپ کس کے حامی ہیں۔ میجر عامر بولے۔ ”یہ ملک جمہوریت کے ذریعے بنا ہے اور جمہوریت ہی اس کی بقا اور امن کی ضامن ہے۔ اصلی سیاسی کارکن کبھی انتہاپسند اور دہشت گرد نہیں ہوگا۔ وہ شعور، صبر وحکمت اور رواداری کا پرچارک ہوتا ہے۔ برصغیر میں انگریز حکومت کے خلاف چند مذہبی رہنما پہلے پہل مسلح انقلابی جدوجہد کرتے رہے لیکن پھر وہ بھی پرامن جمہوری جدوجہد کی طرف آئے۔“

ایک دوست کا سوال تھا۔ سلامتی کے ادارے آئین و قانون کی رو سے سیاست نہیں کر سکتے لیکن عملی طور پر کئی دفعہ سیاست میں ملوث ہو چکے۔ آپ پر بھی آپریشن مڈنائیٹ جیکال کا الزام لگا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟

بولے۔ ”اگرچہ فوج پر تنقید کو جمہوریت اور انسانی آزادیوں سے پیار کا لازمی تقاضا سمجھا جاتا ہے اور فوج کو ہی آمریت کا ذمہ دارقرار دیا جاتا ہے مگر یہ نہ مبنی بر حقائق بات ہے نہ مبنی بر انصاف۔“

مضبوط فوج ملک کی بقا کی ضمانت ہے۔ فوج کے تمام افسران و اہلکار اپنے آئینی حلف میں سیاست سے دور رہنے اور حکومت کے آئینی احکام کو ماننے کا وعدہ کرتے ہیں۔ فوج کو سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا نقصان مجھ سے زیادہ کون جانتا ہے جو جنرل مشرف کے دور میں ڈیڑھ سال قید رہا۔ لیکن کیا یہ سیاستدان نہیں ہوتے جو انہیں اپنے غیرجمہوری طرزعمل، باہمی دشمنی، سازشوں، احتجاجی تحریکوں اور براہ راست فوجی مداخلت کی دعوت سے سازگار ماحول مہیا کردیتے ہیں؟ جب ان کا دل چاہے اوران کے سیاسی مفاد کا تقاضا ہو تو اپنے مخالفین کے خلاف فوج کو دعوت دیتے ہیں اور اس کی مدح سرائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھرجب مفاد پورا ہو جائے تو انہیں ووٹ کی عزت یاد آجاتی ہے۔ یہ ووٹ کی عزت انہیں تب کیوں یاد نہیں آتی جب اپنے سیاسی مخالفین کو قبل از وقت حکومت سے ہٹانے کے لیے اس کے ساتھ رات کی تاریکی میں چوری چھپے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ”

”بھائی آپ جنرل مشرف کے خلاف ایمرجنسی پلس لگانے پر بغاوت کا مقدمہ چلاتے ہیں مگر انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کی کابینہ کے وزیر قانون اور دیگر ساتھیوں کے خلاف بھی ایسا مقدمہ چلائیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے آپ فوج سے بغض رکھتے ہیں۔ آپ جنرل کے خلاف تو مقدمہ چلا لیتے ہیں لیکن اس کے برعکس اس جنرل کے وزیر قانون کو اپنی کابینہ میں بھی وزیرقانون بنادیتے ہیں۔ ایسا تضاد کیوں۔“

میجر عامر کہتے رہے درست کہ جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے غیر قانونی طور پر حکومتیں سنبھالیں لیکن ان جنرلوں کو جونیئر ہونے کے باوجود کیا بالترتیب وزیر اعظم لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف جیسے سیاست دانوں نے ہی آرمی چیف نہیں بنایا تھا؟ یہ اس انتخاب کے وقت میرٹ اور سینیارٹی پر عمل کیوں نہیں کرتے۔ ”

”سول حکمران اتنے بھی کمزور نہیں رہے جتنا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ بھٹو مرحوم نے آرمی چیف جنرل گل حسن اور ائر فورس کے سربراہ کو اغوا کیا، جنرل یحیٰی کو جبری نظربند کیا۔ انہوں نے بارہ جرنیلوں کو جبری ریٹائر یا برطرف کر دیا۔ بلوچستان میں آپریشن بھٹو نے شروع کیا جو جنرل ضیاء نے ختم کروایا۔ ملک کے پہلے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر وہ بنے تھے۔ نواز شریف صاحب نے جنرل جہانگیر کرامت سے استعفی لیا۔ جنرل راحیل نے بلوچستان دورے میں وزیر اعظم نواز شریف کی گاڑی ڈرائیو کی تھی۔ ایڈمرل منصور الحق کو ہتھکڑی بھی پہنائی گئی۔“

”فوج اس ملک کا ایک اہم ادارہ، نظام کا اہم کل پرزہ اور سٹیک ہولڈر ہے۔ اس کے اہلکار محب وطن شہری ہیں۔ ملک کی سماجی و معاشی ترقی چاہتے ہیں۔ مگر جب سیاسی محاذ آرائی، احتجاج، بدعنوانی اور نا اہلی کی وجہ سے ملکی معیشت بیٹھنے لگے اور اندرونی و بیرونی خطرات کے مطابق دفاعی بجٹ کے لیے وسائل کی فراہمی مشکل نظر آنے لگے تو ایسے میں ان کی پریشانی کیا فطری نہیں؟ اگر فوج کے سربراہ یا ترجمان اپنے اندرونی تاثر اور پریشانی کو زبان دیں تو ا س میں برا کیا ہے؟ چین کی کمیونسٹ پارٹی، امریکہ کے پینٹاگون اور سی آئی اے اور روس کی پولٹ بیورو وغیرہ میں باوردی جنرل بیٹھے خارجہ و دفاعی پالیساں بنانے اور چلانے میں بنیادی کردار اداکرتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی وہاں فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف کسی حکمران کو بات کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حکمران تو قوم کا باپ ہوتا ہے۔ سب کی عزت کا محافظ ہوتا اور سب کا احترام کرتا ہے لیکن یہاں سیاسی طبقہ فوج سے کتنا بغض رکھتا ہے اور اس کے خلاف کیسی کیسی سازشیں کرتا رہا ہے مجھے معلوم ہے۔” انہوں نے اس ضمن میں کئی واقعات سنائے جن کا بیان کسی اور وقت۔ (محترم طاہر صاحب، بیان کا یہی حصہ تو ہم پڑھنا چاہتے تھے اور آپ نے اسے کلاسی فائی کر دیا۔ و مسعود)

”سیاستدان آتے ووٹ سے ہیں لیکن وہ بھی پھر آمر بن جاتے ہیں۔ تقریباً سب سیاسی و مذہبی پارٹیاں پارٹی سربراہوں کی فین کلب ہیں۔ آپ بتائیں کتنی پارٹیاں ہیں جن میں عہدے صاف شفاف انتخاب کے ذریعے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ پارٹی سربراہوں پر تنقید کرنے والے پارٹی سے نکالے یا نکو بنا لیے جاتے ہیں۔“

”سیاسی، مذہبی و سماجی رہنما ہوں یا کارکنان، ان میں تین بنیادی خصلتیں۔ شعور، صبر وحکمت اور رواداری لازمی ہونی چاہئیں ورنہ وہ جمہوریت کے بجائے آمریت اور فساد کا ذریعہ ہی بنتے ہیں۔ کیا ہمارے سیاستدان ان تمام صفات کے حامل ثابت ہوئے ہیں؟“

”جہاں تک بات مجھ پر بے نظیر بھٹو مرحومہ کی حکومت کے خلاف سازش کے الزام کی ہے۔ تحقیقات میں مجھے الزام سے بری کیا گیا۔ اس وقت کی فوجی قیادت نے مجھے بتایا کہ آپ بے گناہ تھے مگر سیاسی حکومت کی طرف سے آپ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ یعنی مجھے سول ملٹری تعلقات کی بہتری کے لیے قربان کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مسلسل جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے میں سیاسی طبقہ کسی طور بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔“

میجر عامر روس کے خلاف افغان جہاد کے عینی شاہد اور کردار ہیں۔ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر کہتے ہیں پاکستان کی بقا کی جنگ تھی جس میں اللہ کی مدد شامل حال رہی۔ ہمارے سوالیہ نظروں کو بھانپتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے لیے اس جنگ کے 25 فوائد ایک ایک کرکے گنوائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کئی واقعات بھی سنائے۔ مثلاً 1986 میں جب روسی پائلٹ چترال میں پکڑے گئے تو ان کے جیبوں میں قرآن پاک کے نسخے تھے۔ اس کی وجہ پوچھی گئی تو وہ بولے ہمیں بتایا گیا کہ یہ نسخے جیب میں ہوں تو پھرسٹنگر میزائل جہاز کو مار گرا نہیں سکتا۔

”جنرل ضیاء نے رپورٹ دیکھی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آئے اور کہا کہ مجھے یقین تو تھا کہ روسی یہاں سے شکست کھا کر جائیں گے لیکن اس کا نہیں پتا تھا کہ اتنی جلد اسلام اور قرآن کی حقانیت پر دہریے بھی یقین کرنے لگٓیں گے“ ۔

مثلاً وہ بولے انہی دنوں ایک بار روس کی پولٹ بیورو کے اہم اجلاس کی روداد ہم نے انٹلی جنس ذرائع سے حاصل کی۔ اجلاس میں افغانستان میں روسی افواج اور مجاہدین کی کارکردگی زیربحث تھی۔ روسی صدر گورباچوف بھی موجود تھے۔ اجلاس کے دوران کسی بات پر شرکا اشتعال میں آگئے تو اس دوران گورباچوف اور دیگر ارکان کے منہ سے افغانستان میں فوجی مداخلت کا فیصلہ کرنے والوں سابقہ رہنماؤں کی خوب ”خاٌطر تواضع“ کی گئی۔ اس واقعے پر میں نے انٹلی جنس رپورٹ ان دو اخذکردہ نتائج کے ساتھ بھیج دی کہ روسی سپاہ کے حوصلے پست ہوچکے ہیں اور اب روسی فوجوں کی افغانستان سے انخلا اور واپسی زیادہ دور نہیں۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل نے میرے نتائج سے اتفاق نہیں کیا۔ تاہم میری رپورٹ اور نتائج جنرل ضیاء کے پاس گئے تو انہوں نے انہوں نے مجھے بلایا اور میری تعریف کی۔

مثلاً انہوں نے بتایا کہ کیسے ایک بار کسی اہم افغان اہلکار کو پلانٹ کرنے کی بات چلی تو انہوں نے اس سلسلے میں اپنے چیف سے وعدہ کیا اور کام شروع کر دیا۔ وہ بتاتے رہے کہ کیسے اس دوران انہوں نے مسلسل کوشش کرکے خاد کے اسلام آباد میں پختون چیف کی پختون غیرت اور ماؤں بہنوں کی عزت کی حفاظت کا جذبہ ابھارا۔

میجر عامر بولے ”اپنے اکلوتے شیرخوار بیٹے کو اسلام آباد کے مضافات میں ایک خفیہ جگہ اس کے پاس، یہ یقین دلانے کے لیے کہ میں اپنی بات اور پیشکش میں سچا ہوں، لے گیا۔ اس نے کہا آپ اور میں اکیلے ہیں۔ آپ مجھ سے بدن میں کمزور ہیں۔ آپ کو ڈر نہیں لگا کہ ایک انٹلی جنس اہلکار سے اپنے اکلوتے بچے سمیت ملنے آئے، آپ کی تو جان بھی جا سکتی ہے۔ میجر عامر بولے اس پر میں نے کہا اس صورت میں ہم اللہ کی راہ میں شہید ہوجائیں گے اور یہ ہر مومن کی دلی آرزو ہے۔

اس پر اس نے میرے بیٹے کا ہاتھ پکڑا، اس پر میرا ہاتھ رکھا اور میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا یہ ایک پختون کا وعدہ ہے آج کے بعد افغانستان کی آزادی کے لیے میں اس ننھے مجاہد کے ساتھ ہوں۔ یہ افغان جہاد میں ایک اہم کامیابی کا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد اس نے واقعی اپنے وعدے کا پاس رکھا اور قیمتی معلومات شیئر کرتا رہا۔“

میجر عامر پاکستان کو مملکت خداداد کہتے ہیں۔ ”مشکلات، مسائل اور سازشوں کے باوجود یہ پہلا مسلم ایٹمی طاقت بنا۔ یہاں قدرتی وسائل اور محنتی افرادی قوت کی بھرمار ہے۔ یہ ایک مضبوط فوج رکھتا ہے۔ پاکستانی علمی کام اور صدقات میں دنیا بھر کی پانچ بڑی اقوام میں شامل ہیں۔ انڈیا پاکستان کو تنہا کرنا چاہتا تھا مگر خود تنہا ہو گیا۔ مودی نے پاکستان کا کام آسان کر دیا۔ اس لیے میں اس کے روشن مستقبل کے حوالے سے پرامید ہوں۔ ”

کہتے ہیں چند پختون پاکستان کے خلاف افغانستان کی زبان بولتے رہتے ہیں لیکن ان میں کوئی نہیں جو وہاں حقیقت میں شفٹ ہونا چاہتا ہے یا اس کا پاسپورٹ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

”پختونوں کو معلوم ہے ان کے قبائلی اور میدانی اضلاع افغان حکمران عبدالرحمن نے چند لاکھ روپوں کے عوض برطانیہ سرکار پہ فروخت کر دیئے تھے اور 1893 میں ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت افغانستان ان سے دست بردار ہوگیا تھا۔ اس معاہدے کی 1930 تک کئی بارمختلف افغان حکومتوں نے تصدیق و توثیق کی۔ اب یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے۔ پختون پاکستان کے ساتھ وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے مفت کے سپاہی ہیں۔ یہ یہاں ملک بھر میں پھیلے تجارت کر رہے ہیں۔

کراچی کے علاوہ جس میں بہت زیادہ پختون کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں، لاہور اور پنڈی میں بھی بیس سے پچیس لاکھ پختون کاروبار اورجائیدادوں کے مالک ہیں۔ یہی مثال ملک کے ہر صوبے کے تقریباً ہر بڑے شہرکا ہے۔ پختون ہر جگہ یہاں ترقی کر رہے ہیں اور خوش ہیں۔ افغانستان کے ساتھ شامل ہوکر انہیں کیا ملے گا۔ کچھ نہیں۔ اس لیے وہ قوم پرستوں کی افغانستان کے ساتھ جا ملنے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہونے دیں گے۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •